Saturday, 20 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 12

اس هفته 75

اس ماه 214

ٹوٹل 21510

 تحریر : عین الحیات

امام موسی کاظم علیہ السلام ۷ صفر ۱۲۸ھ مکہ اور مدینہ کے درمیان ابوا نامی علاقہ میں پیدا ہوئے آپ کے والد ماجد امام جعفر صادق علیہ السلام اور والدہ ماجدہ جناب حمیدہ ہیں ۔ اسم گرامی موسی اور کنیت ابوالحسن ، ابو ابراہیم ، ابو علی اور ابو اسماعیل تھی اور آپ کے القاب عبد صالح ، نفس زکیہ ، زین المجتہدین ، صابر ، امین ، زاہد اور صالح تھے ۔ آپ کا سب سے مشہور لقب کاظم ہے ۔ ۲۵ رجب ۱۸۳ھ کو بغداد میں سندی ابن شاہ ملک کے قید خانہ میں شہید ہوئے اور قریش کے قبرستان میں دفن ہوئے جو کاظمین کے نام سے مشہور ہے ۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک ۵۵ سال تھی ۔ آپ نے ۲۰ سال سے اپنے والد کے ساتھ زندگی بسر کی اور ۳۵ سال منصب امامت پر فائز رہے[i]۔

 

امام موسی کاظم علیہ السلام نے ماحول فراہم نہ ہونے کی وجہ سے خلفاء وقت کے ساتھ کسی قسم کا ٹکراو نہیں رکھا وہ عبادت اور اپنی زندگی کے دوسرے امور کی دیکھ بال میں مصروف رہنے کے علاوہ اپنا زیادہ وقت دینی علوم کی ترویج ، لوگوں کی ہدایت ، شاگردوں اور راویان حدیث کی تعلیم و تربیت میں صرف کرتے تھے ۔ لیکن اس کے باوجود آپ کے زمانے کے خلفاء اور حکام آپ کی علمی شخصیت اور سماج میں آپ کے عزت و احترام سے خوفزدہ اور ہمیشہ آپ اور آپ کے شیعوں کی طرف سے ہوشیار رہتے تھے ان کے نقل و حرکت پر نظر رکھتے تھے ۔اور ان کی زندگی میں مختلف قسم کے مشکلات کھڑی کرتے تھے ۔کئی مرتبہ آپ کو مدینہ سے بغداد بلایا گیا اور کئی مرتبہ آپ کے قتل کا ارادہ بھی کیا گیا ۔لیکن مصلحت پروردگار کہ ایسا نہیں کر سکے اور امام علیہ السلام صحیح و سالم دوبارہ واپس مدینہ لوٹے ۔ آخر کار اپنے بعض رشتہ داروں کی شکایت پر ہارون الرشید کے ذریعے آپ کو مدینہ سے بغداد بلایا گیا ۔ اور ایک طویل مدت تک بصرہ اور بغداد کے قید خانہ میں قید رکھا گیا ۔آپ کا آخری قید خانہ بغداد میں سندی ابن شاہک کا قید خانہ تھا اس قید خانہ میں آپ کے ساتھ بہت سخت برتاو کیا جاتا تھا ۔ایک دن اسی قید خانے میں ہارون الرشید کے حکم سے سندی ابن شاہک نے آپ کو زہر دیا چند روز کے بعد آپ کی شہادت واقع ہو گئی ۔ آپ کا جسد اطہر بغداد کے پاس قریش کے قبرستان میں دفن کیا گیا [ii]۔

 تحریر:محمد حسین شریفی  

کوئی بھی تحریک وفادار ، فداکار اور اس تحریک کے اغراض و مقاصد پر دل کی گہرائیوں سے ایمان رکھنے والے بہترین ساتھیوں کی مدد کے بغیر کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی ۔

اگرچہ اصحاب امام حسین ؑ تعداد میں زیادہ نہیں تھے لیکن بہترین خصوصیات اور اخلاقی فضائل کے لحاظ سے اپنی مثال آپ تھے۔ اصحاب امام حسین حفاظ قرآن، قاریان کتاب ، عارفان امام وقت ، وفادارن اہلبیت ؑ اور حامیان حق تھے ۔

 

تحرير: محمد حسين شريفي

قال رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم: (الحسن و الحسین عليهما السلام امامان قاما او قعدا)۔

ممکن ہے کہ بعض لوگوں کے ذہن میں یہ سوال ہو کہ کیا وجہ ہے کہ امام حسن ؑ مجتبی نے قیام نہیں فرمایا اور معاویہ کے ساتھ صلح کی, جبکہ امام حسین ؑ نے معاویہ کے بیٹے یزید کےخلاف قیام فرمایا اور جنگ کی ؟ اس سوال کا جواب دینے کیلئے ضروری ہےکہ پہلے ہم تین موضوعات  کا تحقیقی جائزہ لیں:              

١     ۔ امام حسن و امام حسین عليهما السلا م کے زمانے کے سیاسی حالات ۔ ۲ ۔ معاویہ  اور یزید میں روحی اور فکری لحاظ سے فرق۔

۳ ۔امام حسن ؑ اور امام حسین ؑ کے اصحاب کی خصوصیات ۔

 

 تحریر :محمدنذیر

تمہید: ہر انسان اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں نشیب و فراز سے دوچار ہوتا ہے، وہ مختلف قسم کی مشکلات اور دشواریوں کا سامنا کرتا ہے۔ عام طور پر لوگ مشکلات کے سامنے ہارمان کر اپنے آپ کو حالات کے بہاؤ کے حوالے کر دیتے ہیں۔ لیکن انسانوں کے درمیان کچھ اس طرح کے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو معاشرے میں موجود سخت ترین حالات اور کٹھن سے کٹھن لمحات میں بھی پائداری کا ثبوت  دیتے ہوئے ایک ذرّےبھی اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹتے ، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے بھیجے ہوئے نمائندوں کی صحیح طرح سے معرفت حاصل کی اور اپنی زندگی  امامت اور ولایت کی اطاعت میں گزاری ۔ ائمہ اطہار  ؑ کو اپنی زندگی میں نمونہ اور آیڈیل قرار دیا ۔ ایثار و وفا کے پیکر، حیدر کرار ؑ کی تمنا ، ام البنین (س) کی آس ، حسنینؑ کے قوت بازو ، زینب و ام کلثوم (علیہما السلام) کی ڈھارس ، قمر بنی ہاشم حضرت ابوالفضل العباس ؑ کا شمار انہی افراد میں ہوتا ہے

تحریر: محمدنذیر اطلسی

تمهید:    

    حضرت عباس علیہ السلام کی ذات بابرکت، فضائل اوربرکات کاوہ موج زن سمندر ہے کہ ایک  یا چند مقالوں سے اس  عظیم شخصیت کے کسی ایک پہلو پر بھی سیر حاصل بحث نہیں کی جاسکتی، لیکن عربی کےاس معروف موکلہ«مالا یدرک کله لا یترک کلہکله» کومدنظررکھتےہوۓ  اس مقالہ میں کوشش کی گئی ہے کہ حضرت عباس علمدار کی ایک اہم ترین صفت( وفاء) کےذیل میں کچھ مطالب بیان کریں ، البتہ یہ اعتراف کرتے ہوے کہ حضرت عباس (ع) کی زندگی تحلیل کرنا ایک معمولی کام نہیں ، اور مجھ جیسے بے بضاعت کے بس میں نہیں کہ ایک سیر حاصل بحث کر سکوں فقط اس امیدکے ساتھ  کہ میرا نام بھی محبان خاندان عترت و طہارت کی فهرست میں شامل ہوجاے آنحضرت (ع)کے فضائل و کمالات کے کچھ موتی اپنے پڑھنے والوں کی خدمت میں پیش کیے دیتا ہوں اورنیز اپنے اس مقالے کو یوم جانباز(غازیوں کادن) کی مناسبت سے اسلام کےتمام غازیوں کےنام منسوب کرتا ہوں۔