Wednesday, 19 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 12

کل 35

اس هفته 61

اس ماه 234

ٹوٹل 22075

  • تمهید

اسوه ، ماڈل ، آئیڈیل ، نمونه اور اس کے  مشابه دوسرے ایسے الفاظ هیں جو اکثر و بیشتر زبانوں میں عام وخاص کے لبوں پر جاری هوتے هیں ،کیونکہ نمونه  قبول کرنا انسانی طبیعت کا  خاصہ ہے ۔ لیکن سبھی ان  الفاظ کو ایک خاص معنی اور معیار میں استعمال نہیں کرتے ہیں۔ کوئی اپنا آئیڈیل ایک معروف کھلاڑی یا فنکار کو قرار دیتا ہے اور اپنے حلیئے اور حرکات و سکنات کو  انہیں  پر منطبق کرنےکی کوشش میں رہتا ہے۔  بعض نمونہ جانچنے کے میدان میں پہلے گروہ سے سبقت لیتے ہوۓ، کسی معروف اور بلند پایہ سیاستدان،  قانونداں،  عالم دین  یا سماجی شخصیت  کو اپنے لۓ نمونہ زندگی قرار دیتے ہیں اور اسی تلاش میں رہتے ہیں کہ ان کی عادتیں  اور طور طریقے انہیں نمونوں کے تحت ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں مذکورہ نمونے یا انہیں کی طرح دوسرے آئیڈیل جو آج بالخصوص  غیر دینی ماحول میں عام طور  پرنسل نو اپناتی ہے کچھ کم نہیں ہیں۔

خلاصہ

اس مقالہ میں غیر مسلمان دانشوروں کی طرف سے پیغمبر ﷺ کی ازدواجی زندگی کے بارے میں لگائے گئی الزامات کے جوابات دینے کی کوشش کی گئی ہے  ۔جن لوگوں کے اعتراضات نقل کئے گئے ہیں  ،ان میں سے مشہور یہ ہیں : گیستالوبن ، مونتگمری  واٹ ،  اور ابوت نبیا ہیں ۔ ان کے اعتراضات کو رد کرنے کے لئے اسلام سے پہلے قوموں کے اندر رائج متعدد شادیوں کا رواج اورپیغمبر اکرم ﷺ کی مکی اور مدنی دور کی ازدواجی زندگی کو بیان کرتے ہوئے ایک سے زیادہ شادیوں کے مقصد کو چند نمونہ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ کلیدی کلمات : پیغمبر اکرم ﷺ ، ازدواج ، اعتراضات ، مستشرقین ۔

 

مقدمہ :

پیغمبر اکرم ﷺ  آخری  الہٰی نمایندہ اور آخری  رسول ہونے کی  حیثیت سے قیامت تک کے لوگوں کے لیے نمونہ عمل نیز آپ  کے اقوال ، افعال اور تقریر سنت ہونے کے سبب انسانیت کےلئے مشعل راہ ہیں۔ اسلام سے  پہلے بھی آنحضرت ﷺ  اس دور کے سماج میں مورد اعتماد اور ان کی زندگی لغز شوں سے پاک رہی ہے۔ آپﷺ کیلئے  (صادق)  اور(  امین)  جیسے القاب بلا  تفریق جزیرہ عرب کے لوگوں کی زبانوں پر وارد  ہوا کرتے تھے ؛ اسی لیے اعلان  رسالت کے بعد بھی آپ ﷺکی انفرادی یا  اجتماعی زندگی کے حوالے سے حتی ان  کے دشمن بھی کبھی کوئی نقص نہیں پاسکے۔ لیکن برسوں بعد اسلام  کو  ختم کرنے کو اپنا مقصد  اور عظیم ہدف بنایا ۔ اس کے حصول کیلئے انہوں نے جھوٹ ، ریب ، دھوکہ اور بہتان تراشی کے کسی حیلے کو کراہت کی نظر سے نہیں دیکھا ۔

ظہورِ اسلام سے قبل اقوامِ عالم کی جو حالت تھی، اس کے بارے تاریخ کے اوراق سے پوچھو تو یہ سامنے آتا ہے کہ قبل از بعثت نبوی ۖ انسانی گردنوں میں طرح طرح کے پھندے، قسم قسم کی بیڑیاں پڑی ہوئی تھیں؟ نسلِ انسانی اس وقت رنگ رنگ کی جکڑ بندیوں میں جکڑی ہوئی تھی، ان کے بوجھ کیوجہ سے انکی کمریں دو تہہ ہوئی جاتی تھیں اور انسانی کاندھوں پر ایسے بوجھ لدے ہوئے تھے، جنہوں نے ان کی زندگیوں کو تلخ ترین بنا ڈالا تھا، ہاں ایسا ہی تھا، اس وقت کی صدہا اقسام کی مذہبی و قانونی جکڑ بندیاں ایک لعنت بن کر نسلِ انسانی و نوعِ بشری کے ساتھ چپک گئی تھیں اور انسانوں کے ساتھ انسانیت کا بھی خون ہو رہا تھا، ایسے ماحول و معاشرے میں توحید خالص کی طرف سے "وما ارسلنک اِلا رحمة لِلعالمِین" کا ظہور اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ رحمة للعالمین، تمام نوعِ انسانی کے لئے رحمت بن کر ظاہر ہوئے۔

 

 تمہید :

امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت کے بارے میں مختلف ملل و مذاہب کے مصنفین اور دانشمندوں نے گفتگو کی ہے اور بہت ساری کتابیں لکھی ہیں جن میں سے ہر ایک کتاب حضرت علیؑ کی زندگی کے ایک چھوٹے سے حصے کو بیان کرتی ہے اور ان کی زندگی کا ہر پہلو تمام نوع انسانی بلا تفریق رنگ و نسل، مذہب و مکتب، قوم و ملت، شرق و غرب زندگی کے تمام مراحل، شعبے اور ادوار کے لئے مشعل راہ ہے۔ آج علماء و دانشور اپنی علمی پیاس بجھانے اپنے ہادی سے درس ہدایت کی تلاش میں ہیں۔ زاہد، متقی، عابد امام المتقین کی تلاش میں ہیں۔ انسانی حقوق سے لے کر اس کائنات میں موجود ہر ذی حق کے حق تک یا عائلی حقوق سے لےکر عالمی طبقاتی و غیر طبقاتی حقوق تک سب فطری طور پر ایک ایسے ہی فطری رہنماء کی تلاش میں ہیں۔ سیاستدان اپنی سیاست، دیندار اپنے دینی مسائل، تاجر اپنی تجارت کے معاملات میں، محقق اپنی تحقیق کے مراحل میں، فطرت سلیم جیسے کامل ترین رہنماء کی تلاش میں ہیں۔ مختلف مکاتب و مسالک، مذاہب و ادیان کے علماء و دانشوروں نے حضرت علی علیہ السلام کو ان تمام انسانوں کے لئے نمونہ قرار دیا ہے۔ ہم اپنے اس مختصر مقالے میں حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں چند ایک غیر مسلم دانشوروں کے افکار و نظریات کو مختصر طور پہ بیان کرتے ہیں۔

 تحریر : عین الحیات

امام موسی کاظم علیہ السلام ۷ صفر ۱۲۸ھ مکہ اور مدینہ کے درمیان ابوا نامی علاقہ میں پیدا ہوئے آپ کے والد ماجد امام جعفر صادق علیہ السلام اور والدہ ماجدہ جناب حمیدہ ہیں ۔ اسم گرامی موسی اور کنیت ابوالحسن ، ابو ابراہیم ، ابو علی اور ابو اسماعیل تھی اور آپ کے القاب عبد صالح ، نفس زکیہ ، زین المجتہدین ، صابر ، امین ، زاہد اور صالح تھے ۔ آپ کا سب سے مشہور لقب کاظم ہے ۔ ۲۵ رجب ۱۸۳ھ کو بغداد میں سندی ابن شاہ ملک کے قید خانہ میں شہید ہوئے اور قریش کے قبرستان میں دفن ہوئے جو کاظمین کے نام سے مشہور ہے ۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک ۵۵ سال تھی ۔ آپ نے ۲۰ سال سے اپنے والد کے ساتھ زندگی بسر کی اور ۳۵ سال منصب امامت پر فائز رہے[i]۔

 

امام موسی کاظم علیہ السلام نے ماحول فراہم نہ ہونے کی وجہ سے خلفاء وقت کے ساتھ کسی قسم کا ٹکراو نہیں رکھا وہ عبادت اور اپنی زندگی کے دوسرے امور کی دیکھ بال میں مصروف رہنے کے علاوہ اپنا زیادہ وقت دینی علوم کی ترویج ، لوگوں کی ہدایت ، شاگردوں اور راویان حدیث کی تعلیم و تربیت میں صرف کرتے تھے ۔ لیکن اس کے باوجود آپ کے زمانے کے خلفاء اور حکام آپ کی علمی شخصیت اور سماج میں آپ کے عزت و احترام سے خوفزدہ اور ہمیشہ آپ اور آپ کے شیعوں کی طرف سے ہوشیار رہتے تھے ان کے نقل و حرکت پر نظر رکھتے تھے ۔اور ان کی زندگی میں مختلف قسم کے مشکلات کھڑی کرتے تھے ۔کئی مرتبہ آپ کو مدینہ سے بغداد بلایا گیا اور کئی مرتبہ آپ کے قتل کا ارادہ بھی کیا گیا ۔لیکن مصلحت پروردگار کہ ایسا نہیں کر سکے اور امام علیہ السلام صحیح و سالم دوبارہ واپس مدینہ لوٹے ۔ آخر کار اپنے بعض رشتہ داروں کی شکایت پر ہارون الرشید کے ذریعے آپ کو مدینہ سے بغداد بلایا گیا ۔ اور ایک طویل مدت تک بصرہ اور بغداد کے قید خانہ میں قید رکھا گیا ۔آپ کا آخری قید خانہ بغداد میں سندی ابن شاہک کا قید خانہ تھا اس قید خانہ میں آپ کے ساتھ بہت سخت برتاو کیا جاتا تھا ۔ایک دن اسی قید خانے میں ہارون الرشید کے حکم سے سندی ابن شاہک نے آپ کو زہر دیا چند روز کے بعد آپ کی شہادت واقع ہو گئی ۔ آپ کا جسد اطہر بغداد کے پاس قریش کے قبرستان میں دفن کیا گیا [ii]۔