Monday, 17 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 7

کل 9

اس هفته 7

اس ماه 180

ٹوٹل 22021

تحریر : نذر حافی

 This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

زندگی سے محبت اور موت سے فرار ہر جاندار کی فطرت ہے۔یہی وجہ ہے کہ دین اسلام نے انسان کو جہاں جینے کے آداب بتائے وہیں  مرنے کے ڈھنگ بھی سکھائے ۔جس طرح اسلام یہ نہیں چاہتا کہ کوئی شخص  بے مقصد زندگی گزارے اسی طرح اسلام یہ بھی نہیں چاہتا کہ کوئی شخص بے مقصد موت کے منہ میں چلاجائے۔

اسلام کے نزدیک انسان کی موت اور زندگی سے بڑھ کر اس کے اہداف مہم ہیں۔چنانچہ جب کچھ لوگوں نے امام حسینؑ کو زندگی بچانے کا مشورہ دیا تو آپ نے ان کے مشوروں پر اپنے اہداف کو ترجیح دی۔کسی نے کہا یا ابن  رسول اللہ ﷺ آپ بیعت کرلیں اور اس جھگڑے سے جان چھڑائیں،کسی نے کہا  عام راستے سے سفر نہ کریں اور کسی مخفی راستے کا انتخاب کریں،کسی کا کہنا تھا کہ مکےّ کو ہی اپنا مسکن بنالیں اور حرم کے کبوتر بن جائیں۔۔۔لیکن امام حسینؑ  کی نگاہ میں زندگی بچانے کی نہیں بلکہ اہم اہداف کی خاطر صرف کرنے کی چیز تھی۔بالکل ایسے ہی  جیسے عقلا کے نزدیک دولت جمع کرنے کی نہیں بلکہ حسب ضرورت استعمال کرنے کی شئے ہے۔چنانچہ آپ نے ۶۱ھ میں  زندگی کو بچانے کے بجائے اپنے اہداف پر خرچ کردیا۔

 

آپ نے دوراستوں میں سے ایک راستے کا انتخاب کیا،اس ایک راستے کا جو بظاہر موت کا راستہ تھا اورآپ نے اس راستے کا انتخاب یہ کہہ کرکیا کہ موت تو خوشبختی  ہے اور ظالموں کے ساتھ زندگی ذلت و رسوائی [1]۔

 

کربلا کے میدان میں جب آلِ رسول ﷺ کے خیموں پر موت کے سائے چھا گئے تو ایک مرتبہ امام حسین ؑ نے اپنے بھتیجے قاسم ابن حسنؑ سے سوال کیا: بیٹا موت کو کیساپاتے ہوئے؟ شہزادے نے برجستہ جواب دیا: چچا ،احلی من العسل "[2] موت  میرے لئے شہد سے زیادہ شیریں ہے۔ جی ہاں اگر انسان کو اپناہدف موت کے ذریعے پورا ہوتاہوا دکھائی دے تو موت اسے شہد سے زیادہ شیریں لگتی ہے۔۱۰ محرم الحرام ۶۱ ہجری کو جب کربلاوالوں نے اپنے اہداف کو اپنی موت کے ساتھ پوراہوتے دیکھا تو انہوں نے مسکرا کر موت کو گلے سے لگالیا جبکہ  دنیا  والےموت کے ڈر سے سہمے رہے۔

 

کربلا والوں نے آئندہ نسلوں کے لئے لق و دق صحرا کے خشک ذروں پر اپنے خون سے یہ پیغام لکھ دیا  کہ انسان کے اہداف کے سامنے زندگی اور محبت دونوں ہی مساوی ہیں۔اگر زندہ رہ کر ہدف بچ سکتاہوتو حسن ابن علیؑ کی طرح جنگ سے ہاتھ کھینچ لینا چاہیے اور اگر ہدف کو بچانے کی لئے جان دینی پڑ جائےتوحسین ابن علی ؑ کی مانندتلواروں کی دھاروں پر جان کو نثار کردینا چاہیے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ ۶۱ہجری میں امام حسین ؑ کے ہمراہ زندگی کو چھوڑ کر موت کے راستے پرچل نکلنے والے صرف بہتر افرادتھے۔

کتب تاریخ کے تجزئیے سے یہ بھی اندازہ ہوتاہے کہ سوائے کربلاوالوں کے اس دور کےلوگوں کی اکثریت موت سے ڈر گئی تھی اوریہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ موت کا خوف انسان کو ہر دور میں رہاہے اور ہمیشہ رہے گا۔

 

موت جو کہ  ایک اٹل حقیقت ہے۔ ایک ایسی ٹھوس حقیقت کہ نہ ہی تو انسان اس سے محبت کرتاہے اور نہ ہی اس سے فرار کرسکتاہے۔موت سے وہ بھی ڈرتے ہیں جوکسی سے نہیں ڈرتے اور جو  آخرت اور معاد پر یقین نہیں رکھتے اور وہ بھی ڈرتے ہیں جو برزخ اور قیامت کے معتقد ہیں۔موت کبھی کبھار خود بخود واقع ہوجاتی ہے جسے علمی دنیا میں طبیعی موت کہتے ہیں اور کبھی کبھار کسی حادثے،ٹکراو یا تصادم کے نتیجے میں ہوتی ہے جسے اخترامی موت کہتے ہیں۔

 

انسانی معاشرے میں عام طورپر افراد کی موت دو طرح کی ہے ،ایک وہ ہے کہ جسے دیکھ کر انسان ڈر جاتاہے اور دوسری وہ ہے کہ جسے دیکھ کر انسان کا ڈر اتر جاتاہے۔ پہلی موت جسے دیکھ کر انسان ڈرتاہے وہ قذافی،صدام اور ضیاالحق جیسےظالموں اور فاسقوں کی ہے اور دوسری موت کہ جس دیکھ کر انسان  سے موت کا خوف اترجاتاہے وہ  شہدا،مظلوموں اور اللہ کے مقربین کی ہے۔

 

حضرت امام تقی (ع) سے پوچھا گیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں میں ایسے بھی ہیں جو موت سے ڈرتے ہیں ؟امامؑ نے فرمایا کہ موت سے ڈرنے والے موت کی حقیقت سے بے خبر ہیں اور اگر انہیں موت کی حقیقت کا علم ہوجائے اوروہ اللہ کے نیک بندوں میں سے بھی ہوں  اور انہیں یہ معلوم ہوجائے کہ ان کے لئے آخرت اس دنیا سے بہتر ہے تو وہ  موت سے محبت کرنے لگیں گے۔

پھر آپ نے فرمایا کہ اے بندہ خدا کیا تو نے کبھی سوچا ہے کہ ایک پاگل یا بچہ کیوں دوائی کھانے سے بھاگتے ہیں؟

پھر آپ نے خود ہی وجہ بتائی کہ وہ اس لئے بھاگتے ہیں چونکہ دوائی کے فائدے کو نہیں جانتے اور نہ ہی سمجھتے ہیں۔

پھر امامؑ نے فرمایااس خدا کی قسم جس نے حضرت محمدﷺ کو نبی مبعوث کیا ،جو شخص بھی موت کی تیاری کرلے موت اس کے لئے اس شفا بخش دوائی سے زیادہ مفید ہے،اگر نیک لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ مرنے کے بعد انہیں کیاکیا نعمتیں ملنے والی ہیں تو عقلمند اور دور اندیش لوگ بیماریوں سے نجات اور مشکلات سے چھٹکارے  اور اپنی سلامتی کے لئے،موت کی آرزو کرتے اور موت کی تمنا کرتے۔[3]

 

اسی طرح کسی نے پیغمبراکرم{ص} سے پوچھا: میں کیوں موت کو پسند نہیں کرتا ؟ آنحضرت{ص} نے جواب میں فرمایا: کیا مال و دولت رکھتے ہو؟  اس نے عرض کیا : جی ہاں۔

 

آپﷺ نے فرمایا: کیا اس مال و دولت میں سے کسی چیز کو اپنے سے پہلے بھیجا ہے(یعنی آخرت کے لئے خرچ کیاہے)؟ اس نےکہا نہیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا:بس  اسی لیے موت کو پسند نہیں کرتے ہو۔

ایک اور موقع پر سرور دوعالم ﷺ نے فرمایا ہے کہ موت، مومن کے لیے تحفہ ہے۔

 

ایک مرتبہ کسی نےحضرت ابوذر غفاری سے پوچھا کہ ہمیں کیوں موت سے ڈرلگتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ تم اس لئے موت سے ڈرتے ہو چونکہ تم نے اپنی دنیا آباد کی ہے اور اپنی آخرت کو ویران کیا ہے۔ عقلی بات ہے کہ تم آباد جگہ سے ویران جگہ کی طرف منتقل ہونا پسند نہیں کروگے۔

 

مذکورہ بالا بحث سے بخوبی روشن ہوجاتا ہے کہ موت کوئی بری شئے نہیں ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔موت سے ڈر کی مختلف وجوہات ہیں جن میں سےاہم ترین موت کی حقیقت سے عدم آگاہی اوردنیا سے محبت ہے۔

 

اگر انسان غوروفکر کرے تو بآسانی اس نتیجے پر پہنچ جاتاہے کہ اگر موت کو ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف منتقل ہونے کے معنوں میں لیاجائے تو ایسی موت مسلمان و کافر دونوں کے لئے مفید اور اچھی ہے۔مسلمان کے لئےاس لئے مفید ہے کہ وہ اس دنیا کی مشکلات سے نجات حاصل کر کے ابدی نعمتوں اوردائمی سکون کو پاتاہے جبکہ کافر کے لئے موت اس لئے اچھی ہے کہ  وہ اس کے وسیلے سے دنیا کی جھوٹی خواہشات اور اللہ کی نافرمانی سے نجات پاتاہے۔

 

البتہ موت کا ایک اور معنی بھی ہے  اور وہ یہ ہے کہ انسان کا سلسلہ رشد وکمال منقطع ہوجائے۔انسان کا سلسلہ رشد وکمال مادی بھی ہے اور معنوی بھی۔

قرآن مجید نے جہاں کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ثُمَّ إِلَیْنَا تُرْجَعُونَ[4] کہا ہے وہیں یہ بھی کہا ہے کہ

وَ لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاء عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ ۞فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللّهُ مِن فَضْلِهِ وَ يَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُواْ بِهِم مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلاَّ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لاَ هُمْ يَحْزَنُونَ ۞[5]

 

جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے انہیں مردہ خیال نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس رزق پارہے ہیں۔

اللہ نے اپنے فضل سے انہیں جو کچھ عطا فرمایا ہے اس سے وہ خوش ہیں اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے او ر ابھی ان سے ملے نہیں ہیں ان کے بارے میں خوشیاں منارہے ہیں کہ ان کے لئے بھی نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

 

اگر ہم مذکورہ بالا آیات میں تدبّر کریں تو یہ مفہوم سامنے آتاہے کہ جولوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوجائیں اور بظاہر مر جائیں  انہیں مردہ خیال نہ کرو۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے بغیر اللہ کے دین کی خدمت کریں وہ مردہ ہیں۔مطلب یہ ہے کہ جو زندہ ہیں وہ تو زندہ ہیں اور جو قتل ہوگئے ہیں انہیں بھی مردہ  گمان نہ کرو۔

یہی وجہ ہے کہ خدا نے جہاں اللہ کی راہ میں قتل ہوجانے والوں کو اجر کی بشارت دی ہے وہیں زندہ بچ جانے والوں کو بھی اجر عظیم کی خوشخبری دی ہے۔

 

ملاحظہ کریں اسی سورہ کی   چندباقی آیات:۔

 

يستبشرون بنعمة من الله وفضل وأن الله لا يضيع أجر المؤمنين ( ۱۷۱ ) الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما أصابهم القرح للذين أحسنوا منهم واتقوا أجر عظيم ( ۱۷۲ )

 

۱۷۱.انہیں اللہ کی نعمت اور اس کے فضل کی بشارت مل رہی ہے اور وہ مطمئن ہیں کہ اللہ مؤمنوں کے اجر کو ضائع نہیں کر ے گا .

۱۷۲.جن لوگو ں نے زخم کھانے کے بعد اللہ او ر اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہا(۲۰۴) ان میں سے جو نیک کردار اور متقی ہیں ان کے لئے بڑا اجر ہے ۔

 

 اس بات کو ہم ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایک شخص نے لوگوں سے وعدہ کیا کہ اگر تم فلاں راستے سے سمندری سفر کروگئے تو تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور فائدہ ہی فائدہ ہوگاالبتہ سفر کی صعوبتیں اور مشکلات برداشت کرنی پڑیں گی۔کچھ لوگ کشتی میں سوار ہوگئے اور تھوڑی دیر کے بعدطوفان آیا کشتی الٹ پلٹ گئی اور کچھ لوگ ڈوب گئے۔

 

جب ملاح نے کشتی کو سنبھال لیا تو وہی قافلہ سالار پھر سے بولا کہ اے لوگو یہ جو ابھی طوفان میں ڈوب گئے ہیں اور بظاہر مر گئے ہیں خبردار انہیں مردہ خیال نہ کرو بلکہ یہ تو زیرآب ایک راستے سے دوسری طرف  ایک جزیرے پر چلے گئے ہیں۔

 

قافلہ سالار جب یہ کہہ رہاہے کہ یہ جولوگ اس راستے میں ڈوب کر بظاہر مر گئے ہیں وہ در اصل مرے نہیں بلکہ زندہ ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم جو ڈوبے نہیں ہو تم مر گئے ہو۔بلکہ قافلہ سالار کا مقصد یہ ہے کہ تم تو ہوہی زندہ البتہ جو بظاہر ڈوب گئے ہیں وہ بھی زندہ ہیں اور ان سے جو وعدے کئے گئے تھے وہ پورے کئے جائیں گے۔یعنی اسلام کی رو سے صاحبان ایمان اللہ  کی راہ میں اخترامی موت سے مارے جائیں یا طبیعی موت سے وہ مرتے نہیں ہیں یعنی ان کا سلسلہ رشدو تکامل قائم رہتاہے۔

 

وہ چیز جو انسان کے وجود میں رشدوتکامل کو قائم رکھتی ہے اسے دین کی زبان میں” فی سبیل اللہ” کہتے ہیں۔اگر انسان  فی سبیل اللہ پر قائم رہے تو اس کا رشدوکمال ہمیشہ باقی رہتاہے۔اس کا ثبوت قرآن مجید کی وہ آیات مجید بھی ہیں جن میں خدا نے گزشتہ انبیا پر سلام بھیجاہے۔

 

مثلا :۔

سلام علی نوح فی العالمین (صافات/۷۹)

سلام علی ابراهیم (صافات/۱۰۹)

سلام علی موسی و هارون (صافات/۱۴۰)

اس کے علاوہ پیغمبروں پر اجتماعی سلام بھی خدا نے بھیجا ہے ،جیسے:

 سلام علي المرسلين صافات 181

اگر انبیا مرچکے ہوتے تو ان پر سلام بھیجنا ایک عبث کام ہے۔جو کہ خدا سے بعید ہے۔

 

پس ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اصل جوہرِ حیات اور آب ِ بقا مر جانے یا باقی رہنے میں پوشیدہ نہیں بلکہ فی سبیل اللہ میں پوشیدہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ امام حسین ؑ اپنے ہمراہ جس قافلے کو لے کر نکلے تھے، اس قافلے کے جولوگ مارے گئے وہ بھی امر ہوگئے اور جو باقی رہے انہوں نے بھی شجاعت و استقامت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔

 

آج ایک مرتبہ پھر پوری دنیا میں کفر و ضلالت کا دور دورہ ہے،مساجد میں دھماکے ہورہے ہیں،ٹارگٹ کلنگ ہورہی ہے،ہمارے حکمران عالمی استعمار کی پوچا کررہے ہیں،یتیموں اور بیواوں کے بین عرش الہی کو ہلارہے ہیں ،جیلوں میں بے گناہ قیدی سسک رہے ہیں،مزارات مقدسہ کی زیارت کرنے والوں کو قتل کیاجارہاہے،منی میں حاجیوں کو ہراساں کیاجارہاہے ،اسلام کے نام پرجنسی جہاد کا ڈھنڈوارا پیٹاجارہاہے اور کھلے عام دین اسلام کو مسخ کیا جارہاہے لیکن اس کے باوجود۔۔۔

 ہمارادل۔۔۔ اس زندگی سے بیزار نہیں

اور۔۔۔

ہم ظالموں کے ساتھ۔۔۔ہنسی خوشی  جی رہے ہیں ۔۔۔

شاید اس کی ایک وجہ ۔۔۔

یہ بھی ہو کہ ہمارے سامنے کربلا والوں کے اہداف نہیں اور ہمارے پاس کربلاوالوں کی آنکھیں نہیں۔

آج ہم ۔۔۔زندگی اور موت کو۔۔۔ کربلا والوں کی آنکھوں سے۔۔۔ نہیں دیکھ رہے۔

(حوالہ دے کر استفاد بلامانع ہے)

  منابع :.................................................................................

 

[1] تاریخ دمشق، ج۱۴، ص۲۱۸

[2] لہوف

[3] اربعین الاولیائ از اصغر تاجیک ورامینی

[4] سوره عنکبوت – آیه 57

[5] سوره آل عمران ؛ آبات ۱۶۹ -

[۶]تاریخ اسلام مهدی پیشوایی

[۷]تاریخ کربلاسید علی اکبر خدایی

[۸]حماسه حسینی شهید مطهری