Tuesday, 19 March 2019

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 15

کل 32

اس هفته 47

اس ماه 343

ٹوٹل 25983

 معرفت نفس یا خودشناسی جو کہ اسلامی اخلاق کی تعلیمات میں ایک خاص اہمیت کا حامل موضوع ہے  جو چیز  اس گفتگو کی اہمیت کو بڑھا دیتی ہے وہ یہ کہ خودشناسی کا مقصد ، تہذیب  و تزکیہ نفس ، خداشناسی اور خودسازی ہے۔ اسی لئے بہت سی روایات میں خودشناسی کو بہترین معرفت اور غفلت سے دوری کا سبب قرار دیا  گیا ہے ؛ چونکہ خودشناسی ، تہذیب نفس اور خداشناسی کا مقدمہ ہے اس لئے علم اخلاق کے علماء  اسے اخلاق کا اصلی رکن مانتے ہیں ۔  اور دوسری طرف اللہ تعالی نے انسانوں کو اپنی پہچان اور بندگی کیلئے پیدا کیا ہے تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ ہر صورت میں خدا کی معرفت پیدا کرنے اور اس کی دی ہوئی نعمتوں کی شکرگزاری کیلئے کچھ  ایسے نمونے اور مواقع فراہم ہوں جن کے ذریعے اپنا اور اللہ تعالی کا حق ادا ہوسکے ، ان نمونوں میں سے ایک اعتکاف ہے ۔

 

البتہ یہ بات  واضح ہے کہ  اعتکاف کے اس  عبادی عمل کو گذشتہ انبیاءؑ و اولیاءؑ نے انجام دیا ہے اور خصوصا  پیغمبر اکرمﷺ اور معصومینؑ کی سیرت میں یہ  اہم عملی عبادتوں میں سے  ایک ہے کہ جس کے بارے میں قرآن مجید کی آیات دلالت کرتی ہیں  اور فریقین کی کتابوں میں بہت سی روایات بھی ملتی ہیں ۔ پیغمبر اکرمﷺ کا خصوصا ماہ مبارک رمضان میں اہتمام  کرنے کے بارے  تواتر کے ساتھ روایات کا  موجود ہونا ، انسان کے عبادتی پہلو میں تربیت کے خاص آثار کی طرف اشارہ کرتی ہیں  اور اس میں  انسان ساز تربیت کے پہلو پائے جاتے ہیں ۔

اس بناء پر اعتکاف اپنے تمام تر آثار اور پہلوؤں کےساتھ  خودسازی کا مقدمہ ہے ۔ اس پیش گفتار کے مد نظر ہم اعتکاف کے تربیتی آثار سے متعلق  کچھ گفتگو کریں گے کہ یہ انسان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں کہاں تک مؤثر واقع ہوتے ہیں ۔

 

اعتکاف کی  قرآن  کریم میں  اتنی اہمیت  بیان کی گئی ہے کہ  اسے خدا کے  گھر میں طواف کرنے والوں کے درجے کے برابر مقام دیا گیا ہے اور رکوع و سجود کرنے والوں کے مساوی قرار دیا گیا ہے ۔ پیغمبروںؑ میں سے   دو  عظیم ہستیوں ( حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام) کو یہ حکم ملتا ہے کہ خانہ کعبہ اور اس کے اطراف کو بتوں سے پاک کریں تاکہ طواف کرنے والے ، اعتکاف میں بیٹھنے والے اور رکوع و سجود کرنے والے اچھی طرح عبادت کرسکیں ۔ سورہ بقرہ کی آیت ۱۲۵ میں ارشاد   ہوتا ہے :  ۩  وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَنْ طَهِّرَا بَيْتِىَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ ۩

اب ہم یہاں اعتکاف کے کچھ اہم آثار و فوائد  بیان کرتے ہیں  کہ جن میں سے بعض آیات و روایات  کی روشنی میں ذکر ہوئے ہیں ، بعض  اعتکاف کے احکام و شرائط اور آداب سے استفادہ ہوتے ہیں اور بعض  ،علماء و بزرگوں کے حالات سے جو خدا کی اس ضیافت سے تجربہ حاصل کرچکےہیں  ۔ 

 

اعتکاف کے تربیتی آثار و فوائد :

اعتکاف عربی زبان میں کسی چیز کی طرف اس کا احترام کرتے ہوئے آنے کو کہا جاتا ہے  ۔   اور شرعی  و فقہی اصطلاح  میں تین دن یا اس سے زیادہ کسی جامع مسجد میں اپنے مخصوص شرائط کے ساتھ قصد   قربت و عبادت کی نیت سے ٹھہرنے کو کہتے ہیں   ۔

اگر اعتکاف کےتربیتی  آثار کو کلی طور پر دیکھا جائے تو   وہ  انسان کی فردی  اور اجتماعی زندگی کیلئے فائدہ مند  ہیں ۔  اب اس اعتبارسے اعتکاف کے اہم آثار کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔

 

الف۔  اعتکاف کے فردی آثار و فوائد :

اعتکاف کے لئے بہت سے  فردی  آثار   ذکر ہوئے ہیں ۔  ان میں سے کچھ یہ  ہیں:

 

۱۔ مہمانی خدا :

اللہ تعالی نے  مسجد کو  صرف اپنی عبادت کیلئے  مخصوص کیا ہے ۔ مسجد کو تطہیر کی جگہ قرار دیا ہے ۔ اس لحاظ سے یہ مکان  خدا کے نزدیک بڑی عظمت رکھتا ہے ۔  اعتکاف کی عبادت  بھی مسجد  میں  ہی انجام دی جاتی ہے ۔ اس اعتبار سے   معتکف خدا کا مہمان ہوتا ہے۔ جیسا کہ  امام صادق ؑ فرماتے ہیں : جو شخص خدا کے گھر میں ہو وہ خدا  کا مہمان ہوتا ہے ۔ مہمان کی عزت کرنا اس کی فضیلت میں شمار ہوتا ہے اور خدا سے افضل کون اس مہمان نوازی کا لائق ہے  ۔ اس بناء پر معتکف مسجد میں خدا کا مہمان ہے اور عزت و اکرام کا  لائق ہے ۔

 

۲۔ تقرب الہی :

اللہ تعالی نے انسانوں کو عبادتوں کی جو تکالیف دی ہیں ان سب کا مقصد اللہ تعالی کے قریب ہونا ہے ۔ ان میں سے بعض ایسی ہیں کہ جو زمان و مکان کے لحاظ سے جلدی اور زیادہ  ہی قرب خداوندی کا  باعث بنتی ہیں ۔ ان میں سے ایک اعتکاف ہے کہ جس کے آداب و شرائط کی طرف نگاہ کی جائے کہ جس کا ماہ مبارک رمضان جیسا زمانہ ہو ، جامع مسجد جیسا مکان یعنی خدا کا اپنا گھرہو، روزےکی حالت سے ہو ، نماز و دعا و ذکرہو ، کتاب خدا کی تلاوت کی بہار  ہو ۔ اگر ایک جملہ میں یوں کہا جائے کہ ان تمام عبادتوں کا نچوڑ اعتکاف  کرنے والے انسان کو تقرب الہی کیسے نصیب نہیں ہوسکتاہے ؟۔ معراج والی حدیث میں خداوند  متعال اپنے حبیب سے سوال کرتا ہے : اے احمد ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ بندہ کس وقت مجھ سے قریب ہوتا ہے ؟ جواب میں خود فرماتا ہے : بھوک یا سجدہ کی حالت میں ۔ اسی حدیث کی ایک اور جگہ پوچھتا ہے : کیا آپ بھوک ، خاموشی  اور خلوت کے آثار سے آگاہ ہو ؟ پھر جواب میں فرماتا ہے : ان کے آثار میں سے ایک یہ ہے کہ وہ میرے قریب ہوتا ہے ۔ اس بناء پر بھوک ، سجدہ ، خاموشی اور خلوت وغیرہ سب اعتکاف کی حالت میں جمع ہیں ، بندہ انہیں کے ذریعے خدائے سبحان کے قریب ہوتا ہے ۔

 

۳۔ خدا کی خوشنودی :

پیغمبر اکرم ﷺ فرماتے ہیں  : ( جو شخص خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اعتکاف کرے گا تو خداوند متعال اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندق کا فاصلہ ڈالتا ہے جو ہر ایک  زمین و آسمان کے برابر دور ہونگے )   ۔

 

۴۔  روح بندگی میں ارتقاء :

یہ پہلو اعتکاف کے اہم ترین اثرات میں سے ہے اور اعتکاف کا اصل مقصد بھی یہی ہے کہ اعتکاف میں نماز ، دعا ، ذکر و تلاوت قرآن وغیرہ کے ذریعے  بندگی کی روح  میں  اضافہ  ہوجائے ۔

 

۵۔  روح  کی پاکیزگی  اور  گناہوں سے دوری کا  سبب :

اعتکاف کے   اہم مقاصد  میں سے ایک روح کی پاکیزگی ہے کہ جسے تہذیب نفس یا تزکیہ نفس کہا جاتا ہے ۔ یہ وہ اثر ہے کہ جس کی اہمیت کے بارے قرآن و روایات میں بہت ہی تاکید ہوئی ہے ۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے اعتکاف ایک بہترین فرصت اور موقع ہے ۔

 

۶۔ توبه‏ کی قبولیت :

تمام انسان جس مقام و منزلت پر بھی فائز ہوں معمولا ان کی زندگی میں کچھ خطائیں اور غلطیاں سرزد ہوتی ہیں اسلئے اپنے پروردگار کے حضور توبہ کی ضرورت ہے ۔ اس معنی میں کہ انسان اپنی زندگی میں ہمیشہ خدا کی طرف رجوع کرے اور اپنے گذشتہ گناہوں اور غلطیوں پر واقعی پشیمان ہو اور اپنے کو خدا کا مقصر بندہ فرض کرے ۔ قرآن مجید میں توبہ کی کیفیت اور مقدار دونوں کے بارے میں ذکر ہوا ہے۔ مقدار کے بارے ارشاد ہوتا ہے :  «توبوا الى اللَّه جمیعاً»  (اور صاحبانِ ایمان تم سب اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتے رہو) اور کیفیت کے بارے ارشاد ہوتا ہے : «توبوا الى اللَّه توبة نصوحاً»  (اے ایمان والو خلوص دل کے ساتھ توبہ کرو)۔ امام علی ؑ سے پوچھا گیا کہ توبہ نصوح سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : دل سے پشیمان ہونا ، زبان سےاستغفار اور ترک گناہ کا قصد کرنا: « وَ قِيلَ لَهُ مَا التَّوْبَةُ النَّصُوحُ‏ فَقَالَ ع نَدَمٌ بِالْقَلْبِ وَ اسْتِغْفَارٌ بِاللِّسَانِ وَ الْقَصْدُ عَلَى أَنْ لَا يَعُود » ۔ اس بناء پر اپنے پروردگار کے حضور توبہ اور اپنی غلطیوں اور خطاؤوں  پر واقعی پشیمان ہونے اور ان کی بخشش کیلئے اعتکاف ایک بہترین جگہ ہے جہاں توبہ کی قبولیت کیلئے جامع مسجد جیسا مکان ، روزہ کی حالت، دعا اور تلاوت قرآن سے معطر فضا ، تسبیح و تہلیل و استغفار کے نغمے، عشق و محبت کے آنسو ، تقوے کا لباس ، متقی افراد کی محفل   وغیرہ ہو تو یہ ان افراد کے گروہ میں شامل ہے جن کی توبہ یقینا قبول ہوتی ہے۔

 

 ۷۔ معنویات سے محبت :

انسان کے  اعتکاف کی مدت میں صرف ظاہری عبادات کا اعمال بجا لانا مقصود نہیں ہے بلکہ یہاں عشق و محبت اور حضور کی بات ہورہی ہے کیونکہ معتکف اپنے کو معبود کے سامنے احساس کررہا  ہوتاہے۔ اس مقصد تک پہنچنے کیلئے ظاہری عبادات سے سہارا لینا پڑے گا تاکہ ان کے ذریعے حقیقی و باطنی معرفت و محبت حاصل ہوجائے۔

امام صادقؑ سے روایت ہوئی ہے کہ : قرآن کی تلاوت کرنے والا تین چیزوں کا محتاج ہے :  خاشع دل ، فارغ جسم اور خالی مکان ؛ کیونکہ جب اس کا دل خاشع ہوجائے تو شیطان اس سے دور ہوتا ہے اور جب جسم دنیوی کاموں سے  فارغ  رہے تو تلاوت قرآن کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور جب کسی خالی مکان میں اکیلا ہوگا تو اس کا باطن خدا سے مانوس ہوجاتا ہے  ۔ اب یہ حالات اس معتکف انسان کو نصیب ہوتے ہیں جو مسجد جیسا خالی مکان میں بیٹھا ہے اور خشوع کے ساتھ قرآن کی تلاوت میں مشغول ہو  ۔  

 

۸۔ مضبوط ارادہ  :

کوئی بھی انسان اپنے روزمرہ کاموں کو بغیر ارادےکے انجام نہیں دیتا ہے ۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ امور کی انجام دہی میں کسی کا ارادہ مضبوط ہوتا ہے اور وہ   ہر  کام کو  آخر تک پہنچادیتا ہے  مگر بعض ایسے بھی ہیں کہ جو درمیان میں اپنے ارادے سے ہٹ جاتے ہیں اور شک و تردید کا شکار ہوتے ہیں ۔ اعتکاف کے یقینی آثارمیں سے  ایک یہ ہے کہ انسان کو ارادے کی قوت میسر ہوتی ہے ؛ اس لئے کہ اعتکاف کے دوران  بہت سی عبادتوں کو انجام دیتا ہے اور نماز و روزہ وغیرہ سے مدد لیتا ہے جن کی وجہ سے مضبوط ارادے کو قوت ملتی ہے ۔ اس کے علاوہ  اس مدت میں بہت سے چیزوں سے پرہیز کرتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ آیندہ کے کاموں اور واجبات کو انجام اور محرمات سے دوری کیلئے ایک قسم کی مشق ہے ۔

 

۹۔ غفلت سے دوری :

اعتکاف ایک ایسی عبادت ہے کہ جو  ذکر خدا سے لبریز ہے اور یہی ذکر ،غفلت سے دوری اور بیداری کا نام ہے  ۔

 

۱۰۔ نفس سے جہاد :

اللہ تعالی نے انسان کے اندر نفس امارہ  کو قرار دیا ہے جو ہمیشہ برائی کی طرف دعوت دیتا ہے جیسا کہ قرآن میں ذکر ہواہے :( إِنَّ النَّفْسَ لأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ)     اور ساتھ ہی اچھائی اور برائی کی تمیز کے  الہام سےبھی نوازاہے  (فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا) ۔اگر انسان اس کے باوجود جبکہ ہدایت کے تمام راستے دکھائے جاچکے ہیں  ، صحیح راستے کو اپناتے ہوئے  اپنی ہوائے نفس کی مخالفت کرنے    اور اس پر  غالب آجائےتو   خدا وند متعال کے نزدیک یہ انسان  کامیاب ہے (قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا)  اور اس کی منزل بہشت ہے (وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى ، فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى)   ۔ لیکن اگر اس کی پیروی کی تو وہ زیان کاروں میں سے  ہوگا :( وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا)  ۔ پس نفس، انسان کا سخت ترین دشمن ہے اور شیطان کے وسوسوں سے الہام لیتے ہوئے ہمیشہ عقل کے ساتھ جنگ کی حالت میں رہتا ہے ۔  اس جیسے خطرناک دشمن کو زیر کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے ؛ کیونکہ اس سے جہاد کرنا  ایک دو دفعہ ، یا ایک دو دن ، یا ایک دوسال کی بات نہیں ہے بلکہ تمام عمر اور مرنے دم تک  ہمیشہ برسر پیکار رہنا ہے اور ہر طریقے سے مسلط رہنے کی کوشش کرنا ہے ؛  اسی لئے   پیغمبر اکرم ﷺ نےنفس سے جہاد کو جہاد اکبر سے تعبیر فرمایا ہے ۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے : ( وَمَن جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ )   (اور جس نے بھی جہاد کیا ہے اس نے اپنے فائدہ میں  جہاد کیا ہے)۔

حضرت علی ؑ فرماتے ہیں : « جَاهِدْ نَفْسَكَ‏ عَلَى‏ طَاعَةِ اللَّهِ‏ مُجَاهَدَةَ الْعَدُوِّ عَدُوَّهُ‏ وَ غَالِبْهَا مُغَالَبَةَ الضِّدِّ ضِدَّهُ‏ فَإِنَ‏ أَقْوَى‏ النَّاسِ‏ مَنْ‏ قَوِيَ‏ عَلَى‏ نَفْسِه‏ »  ) یعنی نفس سے جہاد کے ذریعے اسے اطاعت خداوندی پر اس طرح پیش آؤ جس طرح ایک دشمن دوسرے سے پیش آتا ہے اور اس طرح غالب آجاؤ جس طرح ایک مخالف  اپنے مقابل پہ آتا ہے کیونکہ لوگوں میں سے طاقتور شخص وہ ہے جو اپنے نفس کو شکست دے)۔   لہذا   انسان کو چاہیئے کہ اپنے چھپے ہوئے  اور باطنی  دشمن کو پہچانے  اور مقابلے کے لئے   راہ حل تلاش کرے، بغیر پلاننگ اور سوچ و فکر کے  اس کو شکست دینا ناممکن ہے ۔ قرآن کریم  کی آیات اور روایات میں بہت سے راہ حل بیان ہوئے ہیں ۔ نفس کو شکست دینے  اور کنٹرول کرنے والی چیزوں میں سے ایک بہترین  راستہ اور ذریعہ اعتکاف ہے اور اعتکاف جیسی عبادت ہی کے ذریعے اس کو شکست دی جاسکتی ہے ؛ کیونکہ اعتکاف  ہوائے نفس کے مخالف   اور اس کے اوپر  کنٹرول  کرنے والی چیزوں پر عمل کا نام ہے جبکہ  نفس   چاہتا ہے ہمیشہ آزاد رہے  ۔  ہوائے نفس کی مخالف چیزوں میں سے ایک  روزہ ہے  جو کہ   معتکف اعتکاف کے تمام  ایام میں روزےسے ہوتا ہے   ۔   اس کے علاوہ  اعتکاف کے دوران نماز ، دعا ، تلاوت قرآن ، واجبات پر عمل ، محرمات اور گناہ سے پرہیز  وغیرہ وغیرہ  یہ سب نفس سے جہاد کہلاتے ہیں ۔  اب  نفس سے جہاد کے متعلق  بہت سے  آثار اور فوائد  بیان  ہوئے ہیں ، جن   کو اختصار کی خاطر بیان نہیں کرسکے ۔ 

 

۱۱۔ محاسبہ نفس

انسان  اپنی دنیوی کاموں اور  روزمرہ معاملات کے معاملے میں  بہت ہی محتاط رہتا ہے اور  ہمیشہ اپنی حساب و کتاب کی جانچ پڑتال کرتا ہے کہ آج  کیا کمایا اور کیا کھویا  اور نفع و نقصان کتنا ہوا؟ دنیا کے اس سرگرم بازار میں یہ انسان بھول جاتا ہے  کہ ایک اور  عالم ( آخرت) بھی ہے   جبکہ وہاں  کا سرمایہ  ، نفع و نقصان  اسی دنیا سے وابستہ ہے ۔اسلئے  ضروری ہے کہ وہ اپنے روزانہ کاموں    پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ  دن یا رات کو کوئی وقت خلوت کرے  اور اس دوران اپنے نفس سے  آخرت کے کاموں کے بارے میں حساب لینا شروع کرے کہ اب تک میں نے کن کن  اعمال کو انجام دیا ہے  ؟ آخرت کے گھر کو آباد کرنے کی طرف کوئی قدم بڑھایا ہے یا برباد ی کی طرف؟  اورچند دن  خلوت میں بیٹھے اپنے نفس سے حساب لیتے ہوئے آخرت کے کاموں کی طرف    توجہ دینے کا نام اعتکاف ہے  ۔

 

۱۲۔ گناہوں کی مغفرت :

انسان بہرحال گناہکار اور خطاکار ہے ۔ اگر خدانخواستہ اپنی کی ہوئی غلطیوں پر پشیمانی کا اظہار نہ کرے اور ان کی بخشش کی طرف کوئی قدم نہ اٹھائے تو یقینی بات ہے کہ آہستہ آہستہ گناہ کا  بوجھ زیادہ ہوتا جائے گا یہاں تک کہ کوئی چیز اس کو جہنم سے دور کرنے میں کام نہیں آئے گی اور وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا ۔ لیکن پروردگار عالم نے گنہکاروں کے لئے  طلب مغفرت کے دروازے کھول رکھے ہیں ۔ اگر کوئی چاہتا ہے کہ اس کے تمام گناہ معاف ہوں اور مغفرت الہی شامل حال ہو اور نیک لوگوں میں شمار ہوجائے تو وہ اعتکاف کی حالت میں ایمان و یقین کے ساتھ  اپنا محاسبہ کرے  تاکہ تمام  گناہوں کی مغفرت ہوجائے۔ پیغمبر اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ( مَنْ اِعْتَکَفَ ایماناً وَاحْتِساباً غُفِرَ لَهُ ما تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ)  ترجمہ : جو شخص ایمان رکھتے ہوئے محاسبہ (و مراقبہ ) کی خاطر اعتکاف کرے گا تو اس کے گذشتہ تمام گناہ بخش دیئے جائینگے ۔

 

۱۳۔  بہشت کا حصول :

اللہ تعالی نے انسان کو دنیا کیلئے خلق نہیں کیا ہے بلکہ اس کی ابدی اور ہمیشہ رہنے والی جگہ بہشت  کو قرار دیا ہے ۔ اب یہ اس کے اپنے اعمال پر منحصر ہے کہ اس کی جایگاہ بہشت ہوگی یا جہنم ۔ اس بناء پر اعتکاف کے آثار میں سے ایک یہ ہے کہ بہشت میں جانے کی راہ ہموار ہوتی ہے ؛ کیونکہ اعتکاف کے ایام میں ان تمام عبادتوں کو بجا لارہا ہے جن میں خدا کی خوشنودی حاصل ہے ۔

 

 ۱۴۔  جہنم سے دوری  :

پیغمبر اکرمﷺ فرماتے ہیں : (  مَنِ اعْتَكَفَ يَوْماً ابْتِغاءَ وَجْهِ اللهِ عَزَّوَجَلَّ جَعَلَ بَيْنَهُ وَ بَيْنَ النّارِ ثَلاثَةَ خَنادِقَ اَبْعَدَ مِمّا بَيْنَ الْخافِقَيْنِ)  ( جو شخص خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اعتکاف کرے تو  اللہ تعالی بندہ اور جہنم کے درمیان تین خندق کا فاصلہ ڈالتا ہے جو ہر ایک  زمین و آسمان کے برابر دور ہونگے) ۔  اس روایت میں اعتکاف  کے مقصد سے دو  اثر  نکلتے ہیں  :  خدا کی خوشنودی    اور  جہنم سے دوری  ؛ اس لئے  دو  دفعہ ذکر کیا ہے ۔

 

۱۵۔  اعتکاف  دوحج اور دو عمرے کے برابر :

پیغمبر اکرم ﷺ  ایک روایت  میں فرماتے ہیں : (اِعْتِکافُ عَشْرٍ فی شَهْرِ رَمَضانَ تَعْدِلُ حَجَّتَیْنِ وَعُمْرَتَیْنِ)  ترجمہ : ماہ رمضان کے ایک عشرہ میں اعتکاف کرنا (خواہ  وہ پہلے عشرہ میں ہو یا دوسرے میں یاتیسرے عشرہ میں) دو حج اور دو عمروں کے برابر ہے ۔

 

۱۶۔  اعتکاف کا بے نہایت    ثواب :

خداوند متعال نے اعمال کے درجات کے اعتبار سے ان کے ثواب میں بھی درجات رکھا ہے ۔ انہی اعمال  میں سے ایک اعتکاف بھی ہے ۔ ایک روایت میں  ملتا ہے : ( اَلْمُعْتَکِفُ یَعْکِفُ الذُّنُوبَ وَیَجْری لَهُ مِنَ الْاجْر کَاَجْرِ عامِلِ الْحَسَناتِ کُلِّها ) ترجمہ :  جب اعتکاف کرنے والا شخص گناہوں سے  اجتناب کرتا ہے تو  خداوند متعال اسے تمام نیکیاں انجام دینے والے شخص کے ثواب کے برابر عطا فرماتا ہے۔

 

 ۱۷ ۔ اخلاقیات پر عمل کرنے کا عزم  :

اگر انسان کی تربیت کے اوپر توجہ نہ دی جائے تو آہستہ آہستہ  وہ بہت سی اخلاقی رذایل کا  آماجگاہ بن جاتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ روح کی طہارت اور تزکیہ نفس کی طرف خاص توجہ دی جائے اور اچھی صفات پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ یہ اندرونی تبدیلی اس وقت تک حاصل نہیں ہوتی ہے جب تک کچھ وقت کسی جگہ خلوت نہ کرے ۔ اس اعتبار سے اعتکاف ایک بہترین موقع ہے کہ انسان کو یہ فرصت ملتی ہے کہ اپنی خامیوں ، غلطیوں اور برے اوصاف کی نشاندہی اور ازالہ کا عزم پر جزم کرے اور اچھے صفات پیدا کرنے کی طرف توجہ دے ۔اعتکاف کے اہداف میں سے ایک یہ ہے کہ اخلاقیات پر زور دے اور اچھے صفات کا مالک ہوکہ ان میں سے ایک جامع  صفت تواضع کی ہے۔

 

۱۸ ۔ عنایت خاص :

مرحوم سید نعمت اللہ جزائری ؒ کی کتاب انوار النعمانیہ  میں یہ داستان مرقوم ہے :  یہ عالم بزرگوار ، قحطی اور خشکسالی میں اپنے گھر میں موجود غذائیں   فقیروں اور غریبوں کے درمیان تقسیم کرتے اور اپنے  بچوں کےلئے دوسروں کے برابر حصہ رکھتے تھے ۔ یہاں تک کہ ایک سال  یہی  صورتحال پیدا ہوئی اور   بیوی  اعتراض کرنے لگی کہ اپنے  بال بچوں کو چھوڑ کر دوسروں کا خیال کررہے ہو ۔ سید  کوئی جواب      دیئے بغیر اعتکاف کی نیت سے کوفہ کی مسجد میں  چلے جاتے ہیں ۔ اعتکاف کے دوسرے دن ، ایک آدمی چند حیوانوں کے اوپر مختلف غذائیں لے کر سید کے گھر آتا ہے  اور یہ کہہ کے واپس چلاجاتا ہے  کہ ان کو  اس گھر کے صاحب نے بھیجا ہے ۔ جب سید اعتکاف سے  گھر واپس آتے ہیں  ، بیوی کہتی ہے : وہ جو  عرب شخص کے ساتھ کھانا بھیجا تھا وہ بہت لذیذ تھا۔ سید نے خدا کا شکر بجالایا  جبکہ  اس چیز سے بے خبر تھے  ۔ یہ امام عصر ( عج )کی خاص عنایت کی داستان   کا  ایک واقعہ  ہے جو اعتکاف کرنے والوں کی طرف  خاص نظر  اور خیال رکھتے ہیں۔  

 

ب) اعتکاف کے  اجتماعی  آثار

اعتکاف ایک عمومی عبادت ہے جو کسی ایک خاص طبقے سے مخصوص نہیں ہے ۔ اس عمل کو انجام دینے والوں میں سب سے پہلے انبیاء و اولیاء الہی ہیں کہ جن کے راستے پر چلتے ہوئے ان کے پیروکاروں نے بھی اس سنت حسنہ پر عمل کیا ہے ۔ اجتماعی کاموں میں ممکن ہے کہ انسان  معنویت کے بغیر بہت سے مقامات پر غفلت کا شکار ہو اور خدا کو فراموش کرجائے ۔ خدا سے دوری کے نتیجے میں ظلم و ستم کے راستے پر گامزن ہو اور فساد و تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے ۔ اب اس مہلک بیماری ( غفلت) سے بچنے کیلئے اعتکاف ایک بہترین وسیلہ ہے کہ جس میں انسان کو یہ فرصت ملتی ہے کہ اپنے کئے ہوئے اعمال کا محاسبہ کرے اور ذکر خدا ، نماز ، دعا ، قرآن کی تلاوت ، فردی و اجتماعی کاموں کے غور و فکر کے ذریعے اپنےمستقبل کو روشن کرے اور جہنم کی آگ سے نجات کا باعث بنے اور دوسروں کیلئے بھی کام آئے ۔ ہم یہاں اعتکاف کے چند اجتماعی اہم آثار کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو بہت ہی اہمیت کے حامل ہیں ۔

 

۱۔   اعتکاف ایک اجتماعی عبادت :

اس مقام پر  صرف دو روایات کی طرف اشارہ کرتے ہیں :

 پہلی روایت :

میمون بن مہران کہتا ہے : ایک شخص اپنی کسی مالی مشکل کے حل کیلئے امام حسن مجتبی ؑ کے  پاس تشریف لائے جبکہ امام ؑ اعتکاف میں تھے ، آپ ؑ اس کی حاجت روائی کیلئے اعتکاف سے باہر نکلے ۔ میں نے جب اعتکاف سے باہر نکلنے کے بارے میں پوچھا تو امام ؑ جواب میں فرماتے ہیں : جو کوئی کسی مسلمان بھائی  کی حاجت کو پورا کرنے کیلئے کوشش کرے تو گویا اس نے ۹ ہزار سال خدا کی اس طرح عبادت کی ہے کہ دن روزے سے ہو اور رات نماز میں گزاری ہو  ۔ اس تاریخی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے حوائج  پورے کرنے کی کوشش کرنا اسلامی معاشرے میں اتنا زیادہ اہم ہے کہ معتکف کو اجازت دی جاتی ہے کہ  اعتکاف کی حالت کو برقرار رکھتے ہوئے مسجد سے باہر  نکلے اور مشکل حل ہونے کے بعد  اپنی منزل پر  واپس آجائے ۔ اس اعتبار سے یہ اعتکاف اور فردی عبادت پر بھی مقدم ہے ۔دوسری روایت : ابوحمزہ ثمالی کی وہ روایت جو امام سجاد ؑ سے بیان ہوئی ہے اس مطلب کی تائید کرتی ہے آپ ؑ فرماتے ہیں : خدا کی قسم ، خدا کے نزدیک کسی مومن کی حاجت روائی کرنا مسجد الحرام میں اعتکاف کی حالت میں دو مہینہ روزہ رکھنے سے زیادہ بہتر ہے  ۔

 

۲۔ گناہ  اور فساد میں کمی :

معاشرے کے اندر جرائم  کے ماہرین  کا  نظریہ یہ ہے کہ معنوی مسائل کی ترویج سے گناہ و فساد کم ہونے کا باعث بنتے ہیں ۔ اگر اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اعتکاف ایک بہترین موقع ہے کیونکہ انسان غور وفکر کے ذریعے گناہ و فساد کی حقیقت (سرانجام و عاقبت ) کو درک کرتا ہے اور قریب جانے سے پرہیز کرتا ہے ۔ اس بناء پر اعتکاف میں وہ افراد جو اپنے معبود کے جوار میں کچھ مدت ٹھہرے ہوئے ہیں ، یہ جان لیں کہ خدا نے اپنے گھر کو  توبہ  اور تطہیر کی جگہ قرار دی ہے  لہذا جو بھی اس  مسجد میں اسی کام کا اہتمام کرے گا تو خدا  اسے دوست رکھتا ہے  ۔     

 

۳۔ بہترین دوستوں سے آشنائی :

اعتکاف کے فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ اس مدت میں مختلف بہترین دوستوں سے آشنائی حاصل ہوتی ہے  اور دوستانہ ماحول کا موقع فراہم ہوتا ہے تاکہ مؤمنین اپنے درمیان تعلقات بڑھائیں اورایک دوسرے کے حالات سے باخبر ہوں اور اخوت اسلامی کے آثار سے بہرہ مند ہوں ۔ شاید اعتکاف کو جامع مسجد میں انجام دینے کی ایک وجہ اور سبب  یہی ہو ۔

 

۴۔ نماز جماعت میں شرکت کی توفیق :

یہ بات یقینی ہے کہ اعتکاف جامع مسجد میں ہونے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ انسان اپنے پانچ وقت نماز کیلئے نمازجماعت میں شرکت کرنے کی توفیق پیدا کرتا ہے ۔ 

 

نتیجہ  اعتكاف

انسان جب کسی عبادت کو خلوص اور پوری توجہ کے ساتھ انجام دیتا ہے تو اس کے نتیجے میں اپنے دل میں ایک قسم کی نورانیت کا احساس کرتا ہے جس کی وجہ سے اچھائیوں کی طرف شوق بڑھتی ہے اور برائیوں سے نفرت کرنے لگتا ہے ، اپنے کو نیکیوں کے نزدیک پاتا ہے ، روح کو حق قبول کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں ہوتی ہے اور  اعضاء و جوارح میں خضوع و خشوع  کے آثار نمودار ہونے لگتے ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ ہر عبادت کی الگ الگ تاثیر ہے لیکن تمام عبادتوں کا مشترک اثر یہ ہے کہ انسان کی روح خضوع و خشوع  اور تزکیہ نفس کی تربیت ہوجائے ۔  اعتکاف   یعنی خداوند متعال کا اپنے  خاص مقرب بندوں کیلئے ایک قسم کا  ہدیہ اور تحفہ ہے  اور اپنے بندے کے ساتھ  جب ایک مدت تک دیدار کا مشتاق ہو تا ہے تو  جامع مسجد  میں میقات کی غرض   سے اعتکاف کی دعوت دیتا ہے ۔ اعتکاف اپنے تمام تر احکامات ، شرائط ، آداب  ، فلسفہ و حکمت اور آثار کے لحاظ سے  دیکھا جائے   تو انسان کی انفرادی  زندگی اور  معاشرے کیلئے  اپنے اندر معنوی  خزانوں  سے مالامال  نظر آتاہے  ۔

 

آخر میں امام علی ؑ ؑ کی ایک روایت کی طرف  اشارہ کرتے ہیں   کہ  جس میں اعتکاف کے  احکام ، شرائط و آداب کو   بیان فرمایا ہے  : ( يَلْزَمُ‏ الْمُعْتَكِفُ‏ الْمَسْجِدَ وَ يَلْزَمُ‏ ذِكْرَ اللَّهِ‏ وَ تِلَاوَةَ الْقُرْآنِ وَ الصَّلَاةَ وَ لَا يَتَحَدَّثُ بِأَحَادِيثِ الدُّنْيَا وَ لَا يُنْشِدُ الشِّعْرَ وَ لَا يَبِيعُ وَ لَا يَشْتَرِي وَ لَا يَحْضُرُ جِنَازَةً وَ لَا يَعُودُ مَرِيضاً وَ لَا يَدْخُلُ بَيْتاً وَ لَا يَخْلُو مَعَ امْرَأَةٍ وَ لَا يَتَكَلَّمُ بِرَفَثٍ وَ لَا يُمَارِي أَحَداً وَ مَا كَفَّ عَنِ الْكَلَامِ مَعَ النَّاسِ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ ) ۔ ترجمہ : اعتکاف کرنے والے کے لئے مسجد میں رہنا ضروری ہے  اور  ذکر خدا  ، تلاوت قرآن  اور نماز میں مشغول رہے  ، دنیوی باتوں سے پرہیز کرے ، اشعار نہ پڑھے ، خرید و فروش ( کاروبار) نہ کرے ، تشیع جنازہ میں  حاضر نہ ہوجائے ، بیمار کی عیادت نہ کرے ، نہ کسی کے گھر میں داخل ہوں ،  نہ کسی خاتوں سے خلوت کرے ، نہ  جنسی مسائل کی باتیں کرے ،     نہ اپنی برتری  کی باتیں کرے  اور لوگوں سے جتنا ہوسکے  باتیں کم کرنے  کی کوشش کرے تو یہ  اس کیلئے بہتر ہے ۔

 

ہم اعتکاف کے کچھ تربیتی آثار و فوائد  کو    مندرجہ ذیل چند جملوں  میں خلاصہ کے طور پر بیان کرتے ہیں :

اعتکاف  اپنے پروردگار کے حضور، عبادت و بندگی کا نام ہے ۔

اعتکاف اپنے پروردگار کے حضور، میقات کی دعوت کا نام ہے ۔

اعتکاف  اپنے پروردگار کے حضور ،راز و نیاز کا نام ہے ۔

اعتکاف  اپنے پروردگار کے حضور ،محبت و عشق کی اظہار کا نام ہے ۔

اعتکاف  اپنے پروردگار کے حضور، بہترین دوستوں سے آشنائی کا نام ہے ۔

اعتکاف  اپنے پروردگار کے حضور، غلطیوں کی اعتراف کا نام ہے ۔

اعتکاف اپنے پروردگار کے حضور، گناہوں کی بخشش کا نام ہے ۔

اعتکاف  اپنے پروردگار کے حضور ،عجز و انکساری کا نام ہے ۔

اعتکاف  اپنے پروردگار کے حضور، شکربجالانے کا نام ہے ۔

اعتکاف اپنے پروردگار کے حضور،  نفس سے جہاد  کا نام ہے ۔

اعتکاف  اپنے پروردگار کے حضور ، محاسبہ نفس کا نام ہے ۔

اعتکاف  اپنے پروردگار کے حضور،  تزکیہ نفس کا نام ہے ۔

اعتکاف  اپنے پروردگار کے حضور، روح بندگی کی طاقت بڑھانے کا نام ہے ۔

اعتکاف  اپنے پروردگار کے حضور، غور و فکر کا نام ہے ۔

اعتکاف  اپنے پروردگار کے حضور، فردی و اجتماعی مشکلات کے حل کرنےکا نام ہے۔

اعتکاف  اپنے پروردگار کے حضور،نزدیک ہونے  کا نام ہے ۔

اعتکاف  اپنے پروردگار کے حضور،غیرخداسے دوری کا نام ہے ۔

اعتکاف  اپنے پروردگار کے احکام  پر پابندی کا نام ہے ۔

 

منابع :

۱۔ دعائم الاسلام

۲۔ قرآن کریم

۳۔ جوادی آملی ، اسرار عبادات

۴۔ وسایل الشیعہ

۴۔ متقی هندی، کنز العمّال

۵۔ شرح آقا جمال خوانساری بر غررالحكم و دررالکلم

۶۔ تفسیر نورالثقلین

۷۔ بحارالانوار

۸۔ مصباح الشریعه

۹۔ جواهر الكلام

۱۰۔