Thursday, 18 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 10

اس هفته 51

اس ماه 190

ٹوٹل 21486

 تحریر : محمد اعجاز نگری
حج فروع دین میں سے ایک اہم فریضہ ہے جو شخص مستطیع ہوجاتا ہے اس پر پوری عمر میں ایک مرتبہ حج بجا لانا واجب ہے اور حج کے موسم میں، حاجی جتنے مواقف کا سیر کرتا ہے وہ سب شیخ الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اعمال اور آپ کے پر اسرار سفر کی یاد تازہ کرناہے ۔

چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس سفر میں بہت سارے اسرار کوحقائق پوشیدہ ہیں  جیسا کہ عرفان ابراہیم ، ایثار ابراہیم، اخلاص ابراہیم اگر اس سفر کا اندرونی  پہلو ہے تو  قیام ابراہیم ، ظالموں اور ستمگروں کے خلاف لڑنا اور دین الہی کی نصرت کرنا وغیرہ اس سفر کا بیرونی پہلو ہے  جیسا کہ اللہ نے فرمایا: جَعَلَاللَّهُالْكَعْبَةَالْبَيْتَالْحَرَامَقِيَامالنَّاس[i]

یعنی خدا نے  کعبہ کوجو اس کا محترم گھر ہے لوگوں کے قیام کا سبب قرار دیا
امت مسلمہ کو بھی حج کے اندرونی اور بیرونی پہلو  اور اسی طرح اجتماعی پہلووں پر توجہ کرتے ہوئے  اپنی فردی اور معاشرتی زندگی میں اس سیرت پر عمل  کرنا نہایت ضروری ہے
جیسا کہ بت شکن زمان امام خمینی[رہ] نے فرمایا تھا:  دسیوں لاکھ مسلمان ہر سال مکہ جاتے ہیں اور رسول اللہ، حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل اور جناب حاجرہ کے نقش قدم پر اپنے قدم رکھتے ہیں لیکن کوئی نہیں جو اپنے آپ سے پوچھے کہ ابراہیم و محمد علیہما اسلام کون تھے  انہوں نے کیا کیا ، ان کا مقصد کیا تھا  اور انہوں نے ہم سے کیا  تقاضا کیا ؟[ii]
 اور یہ عظیم عمل جس کی آواز پر لبیک ، جس کی محبت ، جس کی کشش حضرت آدم کو چالیس حج کرنے پر مجبور کرتی ہے، آدم ابو البشر سے خاتم النبیین[ص] تک  تمام انبیاء کرام ، حج کے لئے بیت اللہ مکہ معظمہ جاتے رہے ۔
جس کی کشش اور محبت امام حسن علیہ السلام کو بیس مرتبہ مدینہ منورہ سے پیدل چل کر مکہ معظمہ تک اس عظیم اجتماع میں شرکت  کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام پچیس پا پیادہ  حج کرتے ہیں  تین مرتبہ تو اپنا کل اساسہ راہ خدا میں قربان کرکے حج ادا کیا ۔
امام صادق  علیہ السلام نے فرمایا : جب تک خانہ  کعبہ قائم ہے دین خدا باقی ہے [iii] کیونکہ حجاسلام  کی طاقت کا مظہر
درس اتحاد بین المسلمین اور دشمنان اسلام کی سازشوں کی نا کامی کا نام، روح کی تطہیر اور خود سازی کا ذریعہ ،حق کے ظہور و حضور کا جلوہ ، ولایت محمد وآل محمد[ع] کے پانے کا وسیلہ، گناہوں سے تطہیر کا ذریعہ ، نئی زندگی کا آغاز، عالم اسلام کی مذہبی ، سیاسی، اقتصادی، تعلیمی اور قومی  مشکلات کو ایک دوسرے  کے ساتھ مل کر حل کرنے کا ذریعہ ،اور ایک  عالمی اجتماعی سمینار ہے  اور اس عالمی سمینار میں شرکت کرنا ہر فرد پر واجب ہے  جو شرعی لحاظ سے مستطیع ہوجائے


حج کی عظمت اور ثواب :
جب  حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حج کے اعمال بجا لائے تو جناب جبرئیل امین علیہ السلام آپ پر نازل ہوئے  تو  حضرت موسیٰ[ع] نے فرمایا:اے جبرئیل اس شخص کے  لئے کیا ثواب مقرر ہوا ہے  جو صدق نیت سے  اور پاک مال سے اس گھر کاحج بجالائے، جبرئیل امین علیہ السلام کچھ کہے بغیر اللہ کی طرف پلٹے تو اللہ نے وحی نازل کی  اور فرمایا اس سے کہو کہ میں ایسے شخص کو ملکوت اعلیٰ میں پیغمبروں، صدیقوں، شہداء اور صالحین  کاہم نشین بنا دوںگا اور یہی بہترین رفقاء ہیں[iv]
امام علی علیہ السلام نے فرمایا: حج و عمرہ انجام دینے والا شخص  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونے والوں میں شمار ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری ہے کہ اپنی بارگاہ میں آنے والے کا اکرام کرے اور اسے اپنی مغفرت و بخشش میں شامل کرے[v]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :مقبول حج کا  ثواب ، جنت کے سوا کچھ نہیں ہے[vi] جیسا کہ اس نکتے کی طرف اشارہ ہوا ظاہری مناسک حج کے کچھ اسرار اور حقائق بھی ہیں  مندرجہ ذیل بعض اسرار کا تذکرہ ہوتاہے

 
احرام کا فلسفہ :
سلے ہوئے کپڑوں کو جسم سے اتارنا ، گناہ کے جامہ کو اتارنے کے برابر ہے اس لئے کہ جب حاجی سابقہ سلا ہوا لباس اتار کر احرام کے لئے غسل کرنا چاہتا ہے تو اسے یہ نیت کرنی چاہئے کہ میں گناہوں اور خدا کی نا فرمانیوں کا لباس اتار کر غسل کے ذریعے پاکو پاکیزہ ہو کر اب اطاعت خدا اور اس کی فرامنبرداری کا لباس زیب تن کرنے والا ہوں۔ جب سلا ہوالباس اتارا جائے تو یہ نیت کی جائے کہ میں نے نفاق، ریاکاری، اور شکوکو شبہات کا لباس اتار دیا ،غسل کرتے وقت یہ نیت کی جائےکہ میں نے اپنی غلطیوںاور گناہوں کا غسل کیا ہے اور اب کبھی بھی گناہوں کامرتکب نہیں ہوں گا

احرام باندھنے اور پھر دو سفید کپڑوں میں احرام کو مقید کے بارے میں چند ایک وجوہات و اسراربیان کئے گئے ہیں

۱۔عزت صرف تقویٰ میں  ، اسلام اتحاد اور وحدت کا سبق دیتا ہے۔ یعنی اللہ تعالی کی بارگاہ میں ہر امیر غریب برابر ہے لہذایہاں پر بادشاہ ، امیر ،  اچھے منصب والا شخص، قبیلے کا بڑا فرد ، اچھے لباس پہننے والا وغیرہ اپنی برتری کا ثبوت نہ دے بلکہ اللہ تعالی کے نزدیک  وہ صاحب عزت ہے جو زیادہ متقی ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرماتاہے[ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم][vii]

۲۔بیمارویوں سے بچاو:

سفید احرام باندھنے کا ایک فلسفہ یہ بھی ہے کہ دنیا کے اکثر عظیم اجتماعات میں اکثر و بیشتر وبائی امراض پھیل جاتے ہیں کیوں کہ ان اجتماعات میں شرکاءمختلف ممالک اور مناطق سے تعلق رکھتے ہیں  جن میں مختلف رنگوں پر مشتمل لباس اور ملک اور علاقے کے خاص آداب و رسوم بھی ہوا کرتے ہیں جن کی وجہ  سے مختلف بیماریاں پھیلتی ہیں لیکن اس حج کے عالمی اسلامی اجتماع کی یہ عظمت ہے کہ اس میں کبھی بھی کوئی وبائی بیماری پھیلنے کی خبر نہیں ملی۔اور شاید احرام کے سفید ہونے کی وجہ یہ بھی ہو کہ سفید لباس موذی جراثیموں کو اپنے سے دور رکھنے کاباعث بنتاہے اور آج کے ترقی یافتہ دور میں ڈاکڑوں اور نرسوں کے یونیفارم اور مریضوں کے بستروں کی چادروں کے لئے بھی سفید رنگ کو ہی منتخب کیا گیاہے

اس کے علاوہ سفید رنگ امن و سلامتی کا نشان بھی ہے لہذا محرم کے لئے جنگ و جدال ، لڑائی جھگڑا کرنااور مسلح ہو  کر چلنا حرام ہے [viii]

 
۳۔ قیامت کی یاد آوری:

 

احرام میں سفید جامے پہننے کا ایک فلسفہ  یہ بھی ہےکہ انسان پر ایک ایسا دن بھی آئے گا جس میں وہ نہ سلے ہوئے لباس میں اس دن داخل ہوگا اور وہ دن موت کا دن ہے  جس میں صرف کفن پہن کر جائے گا ۔ اسی طرح  قیامت کے بعض اسرار حج کے مناسک  تجلی پاِینگے اور اس سے یہ درس بھی  ملتا ہے کہ انسان چاہے جیسے بھی ہوں لیکن وہ خدا سے ملاقات کرتے وقت ایک ہی حالت میں ہونگے

 
۴۔ احرام ،انکساری اور خضوع کا لباس:

 

روایت کے مطابق لباس احرام اللہ تعالٰیٰ کے سامنے خضوع اور انکساری کے سبب بنتے ہیں کیوں کہ ان میں انسان کواللہ تعالیٰ سے دور کرنے والی زینت اور آرائش موجود نہں۔ جیسا کہ امام صادق علیہ السلام نےاحرام پہننے کے بارے میں فرمایا: تم سچائی، پاکیزگی ،خشوع ، خضوع کے لباس پہنو

 
۵۔ احرام ، احترام کے لباس:

 

سر زمین مکہ ، حرم الہی اور نزول وحی کی سر زمین ہے اور اس میں داخل ہونےکے خاص آداب ہیں ان میں سے ایک [احرام] ہے اس جہت سے احرام ، احترام اور تکریم کے لباس کے لباس ہیں چنانچہ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: [ وجب الاحرام لعلہ الحرم] یعنیحرم الہی کی تکریم اور احترام کے لئے احرام واجب ہوا ہے

 
تلبیہ کا فلسفہ:

 

احرام باندھنے کے بعد حاجی پر واجب ہے  کہ وہ تلبیہ کہےاور یہ تلبیہ اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس پکار کا بھی جواب ہے جس کا خدا نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان الفاظ میں حکم فرمایا تھا:وَ إِذْ بَوَّأْنَا لِابْرَاهِيمَ مَكاَنَ الْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِكْ بىِ شَيًْا وَ طَهِّرْ بَيْتىِ‏َ لِلطَّائفِينَ وَ الْقَائمِينَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُو

وَ أَذِّن فىِ النَّاسِ بِالحَْجّ‏ِ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَ عَلىَ‏ كُلّ‏ِ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِن كلُ‏ِّ فَجّ‏ٍ عَمِيق‏[ix]

ترجمہ : جب جناب ابراہیم علیہ السلام خانہ کعبہ کو تعمیر فرما چکے تو اللہ کا حکم ہوا :اے ابراہیم میرے گھر کو طواف کرنے والوں،قیام کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے پاک و صاف رکھو اور لوگوں کے درمیان حج کااعلان کر دو کہ لوگ ہر طرف سے پا پیادہ یا سوار ہو کر دور اور نزدیک سے تیری آواز پر لبیک کہتے ہوئے خانہ خدا ، کعبہ کی زیارت کے لئے اس کے گرد جمع ہوں اور ہر ممکن طریقے سے جح سے فائدہ حاصل کریں

یہ بات واضح ہو گئی کہ حج بیت اللہ زمانہ ابراہیمی مین بھی تھا لہذا جو بھی حاجی بیت اللہ کی زیارت اور حج کے قصد سے مکہ معظمہ جاتا ہے وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اعلان کے جواب میں حکم خدا کے سامنے لبیک کہنے جاتا ہے اور اپنے سابقہ گناہوں سے تائب ہو کر احرام باندھ لیتا ہے تو پھر حکم ہوتا ہے خدا کے جواب میں اپنی حاضری کا ثبوت ان کلمات کی ادائیگی کی صورت میں بلند آوازسے بار بار کہے  کہ : لبیک اللھم لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک لبیک

یعنی: میں حاضر ہوا اے مرے اللہ میں حاضر ہوا تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں بتحقیق سب تعریفیں اور نعمتیں تیری ہی ہیں اور حکومت و ملک بھی تیرا ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے میں حاضر ہوا تلبیہ کا عمل جو خدا کے سامنے اپنی حاضری کا ثبوت ہے وہاں پر خدا کی توحید کا اعلان، اور اس کی نعمات پر شکر و سپاس کا ذریعہ بھی ہے اور حاجی اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ اے اللہ میں تیرے دربار کا میں حاضر ہورہا ہوںاور صرف تیری ذات کو ہی لبیک کہنے آیا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ بھی تیرے ہی حکم پر لبیک کہوں گا

سلیمان بن جعفر نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے تلبیہ کا فلسفہ پوچھا تو امام علیہ السلام نے فرمایا :جب لوگ محرم ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آواز دیتا ہے کہ اے مرے بندوں اور کنیزومیں تم لوگوں کو جہنم کی آگ سے ضرور اپنی امان میں رکھوں گا جس طرح تم لوگ میرے لئے احرام باندھتے ہو اس وقت وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے جواب میں لبیک اللھم لبیک۔۔۔۔۔۔ کہتے ہیں

 
فلسفہ حلق یا تقصیر:

 

ظاہری طور پر [ تقصیر ]اگر چہ ایک آسان کام نظر آتا ہےاور ممکن ہے اس کا ظاہری فلسفہ پاکیزگی اور نظافت ہو لیکن اس عمل کے لئے بھی کچھ فلسفہ اور اسرار بیان کئے گئے ہیں

۱۔ اعمال حج کے ابتداء ہی سے حاجی نے باعث فخر لباس اور زینت کو ترک  کرکے رب ذو الجلال کے ہر حکم کو لبیک کہتے ہوئےمناسک کو تقریباً اختتام تک پہچایا ہوا ہے  لیکن اب تک اس کو زینت بخشنے والی دو چیزیں [بال و ناخن]باقی ہیں جس کی وجہ سے حاجی غرور و تکبر کا احساس کر رہا ہو تا ہے جو خالق کی عظمت سے غافل ہو نے کا موجب بنتا ہے اور اب اپنے اندر موجود تکبر اور غرور کو انکساری اور ناتوانی  میں بدل دیتا ہے

 
۲۔ حلق باعث کسب فیض الہی اور تطہیر روح:

 

بعض عرفاء کہتے ہیں کہ انسان کے بال ، انسانی شعور کے حجاب بنتے ہیں  جس طرح ظاہری طور پرسر کے بال، سر کو چھپاتے ہیں اور انسان ایک ظلمانی اور تاریکی حالت کے ساتھ خدا کی بارگاہ میں داخل ہو جاتا ہے اور حج کے اعمال انجام دینے کے بعد  یہ حاجی اللہ تعالیٰ کا مہمان بن جاتا ہے اور یہ ظلمانی حالت نورانی حالت میں تبدیل ہو جاتی ہے

امام جعفر صادق علیہ السلام  نے فرمایا : حلق کے ذریعے سے ظاہری اور باطنی عیوب کو منڈواو۔[x]

امام سجاد علیہ السلام نے بھی حاجی سے پوچھا: جب تم سر کو منڈوا رہے تھے اس وقت کیا یہ نیت کی ہے کہ میں اس عمل کے ذریعے  گناہوں کی آلودگی اور لوگوں کی حق ماری سے پاک ہوجاوں اور ولادت کی طرح سب گناہوں اور نا فرمانیوں سے پاک ہوجاو اور ان کی طرف پلٹنا نہیں ہے

 
فلسفہ وقوف در عرفات:

 

عرفات کو عرفات کیوں کہا گیا ؟ امام جعفر صادق علیہ السلام نے حضرت آدم علیہ السلام کے سر زمین عرفات میں فرشتوں کے ساتھ اترنے کا ماجرا بیان کرتے ہوئے فرمایا: جبرئیل نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا:جب سورج غروب کرے گا سات مرتبہ اپنی گناہوں کا اعتراف کرنا اور سات مرتبہ توبہ اور طلب عفو کرنا اور آدم ابو البشر نے یہ کام بجا لایا اس لئے عرفات نام رکھا گیا چوں کہ حضرت آدم نے اپنی گناہوں کا اعتراف کیا اور آدم کی اولاد کے لئے سنت بنی[xi]

 
وقوف کا فلسفہ:

 

۱۔ خود شناسی :  اس سر زمین پر وقوف کرکے انسان اپنے بارے میں سوچے کہ کہاں سے آیا ہے اور کدھر جانا ہے اور کس حالت میں جانا چاہئے

۲۔ خدا شناسی : خود شناسی کے بعد وقوف کا مہم  ترین فلسفہ حقیقت اور خدا کو پہچاننا ہے  امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: سر زمین عرفات میں اپنی گناہوں کا اعتراف کرواور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے عہد کی تجدید کرو [xii]

۳۔ توبہ کی قبولی: امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا:ایک یہودی گروہ رسول اکرم [صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]کی خدمت میں حاضر ہو کر ان میں  سے ایک دانشمند ترین فرد نے مختلف سوالات کئے ان میں سے ایک سوال سر زمین عرفات کے بارے میں تھا

حضور نے فرمایا: عصر وہ وقت ہے جس میں حضرت آدم علیہ السلام نا فرمانی کے مرتکب ہوئے اس لئے  اللہ تعالیٰ نے میری امت پر اس کے نزدیک بہترین جگہ پر وقوف ، تضرع اور دعاکو واجب قرار دیا اور اس کے مقابلے میں جنت کی ضمانت دی ہے وقوف عرفات اپنے اختتام کو پہنچنے کا وقت وہی ہے جس میں حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی جانب سے کلمات دریافت کئےاور ان کو بیان کرنے سے اللہ تعالیٰ نے آدم کی توبہ قبول کی چوں کہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے

پھر رسول پاک نے فرمایا: قسم اس ذات کی جس نے مجھے انذار اور تبشیر کے لئے حق پر مبعوث کیا اللہ تعالیٰ کے لئے آسمان میں رحمت، توبہ،۔۔۔وغیرہ کے نام سے کچھ دروازے ہیں جو بھی عرفات میں ٹھہرجائے گا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان دروازوں کے محاسن اور فائدوں سے بہر وند ہوگا

اور اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کو اہل عرفات پر نازل فرماتا ہےاور ان کے عرفات سے چلے جانے پراللہ کے فرشتے گواہی دیتے ہیں کہ وہ لوگ جہنم کی آگ سے آزاد ہو چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جنت کو ان لوگوں کے لئے واجب کیا ہے اور فرشتہ آسمان سے آواز دے گاتشریف لے جاو تم لوگوں کے گناہ بخش دئیے گئے ہیں تم نے مجھے خوش کیا اور میں تم سے راضی ہو گیا

۴۔ قیامت کی یاد آوری: عرفات انسان کو قیامت کا منظر یاد دلاتا ہے چوں کہ اس سر زمین پر جمع ہوئے لوگ بیوی، بچے، گھر،خاندان، سہولیات  سے دور ان کے لباس صرف دو جامے، ان کے گھرصرف ایسے خیمے ہیں جن میں کوئی سہولت نہیں تو یقینی ہے یہ منظر اور حالت انسانکو ایسے دن کی یاد دلاتی ہے جس میں انسان سرو پا برہنہ، قیامت کے میدان میں اٹھایا جائے گا اور اس کے عمل کے علاوہ کوئی بھی اس کا ساتھ نہیں دے گا

محدث بزرگ فیض کاشانی علیہ الرحمۃ نے فرمایا ہے: مشاعر مقدسہ میں انسانوں کے ہجوم ، مختلف زبانوں میں آوازوں کا اٹھنا، اور ہر فرقے کا اپنے اماموں کی پیروی کرتے ہوئےادائے مناسک کے لئے آنا جانا اور اپنے طریقے پر عمل کرنا دیکھ کر عالم محشر میں امتوں کو اپنے پیغمبروں اور اماموں کے ساتھ جمع ہونے کی یاد کرو کہ ہر امت اپنے رسول کی اقتداء کرتی ہے اور اس کی شفاعت کی امیدوار ہے اور اس عظیم اور وسیع میدان میں حیران ہے کہ اس کی شفاعت اللہ کی بارگاہ میں ہوگی یا نہیں؟

اس عالم کو یاد کر کے اللہ کی بارگاہ میں فریاد اور تضرع کرو تاکہ نجات پانے والوں میں شمار ہو جاو[xiii]

 
مشعر الحرام میں وقوف:

 

مشعر الحرام کی رات [دسویں ذی الحجہ کی رات] بہت کچھ سیکھنے کی رات ہے ۔ جسیے بیداری، ہوشیاری ، عبادت، بندگی،اطمینان ، تقویٰ، رازو نیاز دعا اور تضرع ان سب کو اس سر زمین پر سیکھنا چاہئے اور اس وقوف کے بہت اسرار و فلسفے ہیں

 
گناہوں سے پاک ہونا:

 

امام علی علیہ السلام نے اس وقوف کے فلسفے کے بارے میں فرمایا: چوں کہ اللہ تعالیٰ نے زائرین کو حرم میں داخل ہونے کی اجازت تو دی ہے لیکن دوسرے دروازے پر ان کو روکے رکھا ہےتاکہ زیادہ فریاد و زاری کریں تاکہ ان کو قربانی کرنے کی اجازت دے اور قربانی کے بعد ان گناہوں سے پاک ہو جائیں جو زائریں اور خدا کے درمیان حجاب بنے ہوئے تھے اور اس پاکیزگی کے ساتھ خانہ خدا کی زیارت کریں [xiv]

 
رمی جمرات:

 

۱۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے توسط سے شیطان کو نکالنا

امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:امام علی علیہ السلام نے جمرات کو کنکریاں مارنے کے بارے میں فرمایا: جب جبرئیل امین علیہ السلام  حضرت ابراہیم علیہ السلام کو عبادت کرنے کی جگہوں کی نشاندہی کی تو ابلیس آپ پر نمایاں ہوا جبرئیل نے حکم دیا کہ شیطان کو بھگا دے آپ نے شیطانسات پتھر مار کر بھگا دیا۔ شیطان جمرہ اولیٰ کے نزدیک پنہاں ہوااور جمرہ وسطیٰ کے پاس سے نکل گیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سار پتھر مار کر ادھر سے بھی بھگا دیا شیطان اسی دوسری جگہ زمین کے اندر غائب ہو گیا اور جمرہ سوم [عقبیٰ] کے پاس آشکار ہو گیا پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نےسات پتھر سے شیاطان کو مارااور وہی سے زمین کے اندر چلا گیا [xv]

 
قربانی کرنا:

 

قربانی کے بارے میں بہت سارے اسرار اور فلسفے بیان کئے گئے ہیں یہاں پر صرف بعض کی طرف اشارہ کیا جائے گا:

 

۱۔ اللہ تعالیٰ کی مغفرت کو حاصل کرنا:

 

ابو بصیر کہتا ہے : امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا: قربانی کا فلسفہ کیا ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: جونہی قربانی خون کا پہلا قطرہ زمین پر جا گرے اس کے مالک کو بخشا جاتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ جوشخص تقویٰ اختیار کرتا ہے اور غیب پر ایمان رکھتا ہے اخلاص اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے قربانی کرتا ہے ۔ اللہ فرماتاہے : قربانی کے گوشت اور خون سے اللہ تعالیٰ کو کچھ نہیں پہنچتا ہے لیکن جو چیز اللہ کو پہنچتی ہے وہ تم لوگوں کا تقویٰ ہے  پھر آپ نے فرمایا: دیکھو اللہ تعالیٰ نے کیسے ہابیل کی قربانی قبول اور قابیل کی قربانی کو رد کر دیا [xvi]

 

۲۔ اللہ کا قرب اور جہنم سے رہائی حاصل کرنا:

 

مرحوم فیض فرماتے ہیں : جان لو کہ قربانی اللہ تعالیٰ کے تقرب اور اس کے حکم کی تکمیل کا سبب بنتی ہے قربانی کو صحیح طور پر کرنے کی کوشش کرو اور اللہ پر امید کرو کہ وہ قربانی کے ہر ایک حصے کے بدلے تمہارے وجود کے ہر ایک حصے کو جہنم کی آگ سے نجات عطا کرے گا اور اسی طرح وعدہ کیا ہے  اور جس قدر قربانی بڑی اور اس کے اعضاء مکمل ہوں گےاتنا ہی تمہارے جسم کے اعضاءاچھی طرح اور بہتر طریقے سے جہنم کی آگ سے بچ جائینگے[xvii]

اپنی قربانیوں کو بے عیب اور اچھی انتخاب کرو کیوں کہ یہی صراط سے گزرنے کے لئے تمہاری سواری کے مانند ہیں

 

۳۔ ھوائے نفس کا قتل:

 

امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: اپنی قربانی کو ذبح کرتے وقت ، حاجی تقویٰ کی حقیقت سے متمسک ہوتے ہوئے قصد کرے کہ وہ لالچ کا گلا کاٹ رہا ہےاور ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی پیروی کر رہا ہے کہ آپ نے اپنے فرزند اور دل کے ٹکڑے اور سکون کو قتل کرتے ہوئے آنے والی نسلوں کے لئے اخلاص کے ساتھ بندگی اور تقرب الیٰ اللہ کی سنت کی بنیاد قائم کی.

 
فلسفہ استلام حجر الاسود:

 

استلام سے مراد اسے مس کرنا یا چومنا ہے ۔ راوی نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے استلام کا فلسفہ پوچھا تو حضرت نے فرمایا: بندوں کا اللہ تعالیٰ سے تجدید عہد کرنا اسی استلام میں ہے

اللہ تعالیٰ نے عالم ذر میں حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد کو بلا کر ان سے خطاب کیا { الست بربکم }[xviii] کیا  میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟ {قالوابلیٰ} سب نے کہا کیوں نہیں{تو ہم سب کو پالنے والا ہے}

معصومین علیہم السلام سے منقول ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم ابو البشر کی اولاد سے اپنی ربوبیت پر عہد لیا تو حجر الاسود کو بھی بلایا اور اسے حکم کیا کہ آدم کی اولاد کے عہد کو یاد رکھے۔ اور حجر الاسود کا ستلام حقیقت میں تجدید بیعت ہےجو بھی اس کا استلام کرے گا قیامت کے دن گواہی دے گا کہ اس مومن نے عہد شکنی کئے بغیر تجدید عہد کیا ہے [xix]

اور استلام حجرآج کے دور میں جس لوگوں نے رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیعت کو درک نہیں کیا یہ ان کی آنحضرت {ص}کے ساتھ بیعت ہے

 
فلسفہ طواف:

 

بعض روایات میں منقول ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ: میں زمین پر اپنا خلیفہ بنانا چاہتا ہوں {انی جاعل فی الارض خلیفۃ} تو فرشتوں نے کہا : کیا تو ایسے کو خلیفہ بنائے گا جو زمین پر فساد برپا کرے گا؟  اللہ تعالیٰ کو یہ جواب دینے کے بعد متوجہ ہو گئے کہ انہوں نے اچھا جواب نہیں دیا اور لغزش کا ارتکاب ہو گئے اور ایسے جواب کی ندامت سے عرش الہی سے پناہ لی اور طواف کرتے ہوئے مغفرت طلب کرنے لگے اللہ تعالیٰ کو یہ طواف اور عبادت پسند آئی اس لئے خدا نے چاہا کہ اس کے بندے بھی اسی طرح کی عبادت کریں لہذا آسمان میں عرش کے نیچے ایک گھر بنایا جس کا نام {الضراح} رکھا اورایک گھر بنایاجس کا نام {کعبہ } رکھا اور حضرت آدم سے فرمایا: وہ اس بیت کا طواف کریں حضرت آدم نے طواف کیااس طرح حضرت آدم کی توبہ قبول ہوگئی اور یہ عمل حضرت آدم کی اولاد کے لئے سنت بن گیا[xx]

ایک اور روایت منقول ہے کہ جب فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کو مناسب جواب نہیں دیا تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنے نور سے سات ہزار سال تک محروم رکھا اور فرشتوں نے سات ہزار سال تک عرش کے گرد طواف کرتے ہوئے طلب مغفرت کی تو پھر ان کی توبہ قبول ہو گئ۔۔

اللہ تعالیٰ نے عبادت کے لئے عرش کے نیچے چوتھے آسمان پر{بیت المعمور} اور اس کے نیچے زمین پر {بیت الحرام}قرار دیا تاکہ آدم کی اولاد کے لئےایک عبادتگاہ ہو اور اسی طرح ایک ہزار سال کے مقابلے میں ایک طواف واجب ہو گیا فرشتوں نے سات ہزار سال طواف کیاتو آدم علیہ السلام کی اولاد کے لئے سات مرتبہ واجب کیا گیا [xxi]

 
سعی بین صفا و مروہ کا فلسفہ:

 

امام جعفرصادق علیہ  السلام نے فرمایا:

جب حضرت ابراہیم  علیہ السلام نے بچپنے میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کو مکہ میں چھوڑا تو وہ پیاسے ہو گئے اور اس وقت صفا و مروہ کے درمیان ایک درخت تھا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ماں{ہاجرہ} علیہاالسلام صفا پر کھڑی ہو کر آواز دینے لگیں کیا اس وادی میں کوئی مونس ہے ؟آپ کو کسی نے جواب نہیں دیا یہاں  تک کہ مروہ پہنچ گئیں پھر آوازدینے لگیں کیا اس وادی میں کوئی مونس ہے؟پھر کسی نے جواب نہیں دیاپھر صفا کی طرف پلٹ گئیں یہاں تک کہ یہ عمل سات مرتبہ تکرار ہوااور اللہ تعالیٰ نے اس عمل کو سنت قرار دیا [xxii]

اس کے علاوہ دوسری روایات میں منقول ہے کہ اس سر زمین پر ابلیس حضرت آبراہیم علیہ اسلام پر ظاہر ہوا اتنے میں جبرئیل امین علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ وہ ابلیس پر سختی کر کے اپنے سے دور بھگادے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی ایساہی کیا ۔ یعنی تیزی سے ابلیس کے پیچھے چلے گئے اور ابلیس بھاگ گیا اس کے بعد صفا و مروہ کے درمیان چکر لگانا سنت بن گیا [xxiii]

پس حاجی کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کےاس عمل کو دہراتے ہوئےشیطان کو اپنے دل سے دور بھگانا چاہیے اور سعی کے ذریعے اپنی ہوا و ہوس سے فرار ہونا چاہیے

البتہ صفاو مروہ کے بارے میں امام جعفر صادق علیہ السلام ست منقول ہے کہ {صفا} کہنے کا سبب یہ ہے کہ مصطفیٰ اور منتخب اور چناہواشخص حضرت آدم علیہ السلام تھے جس نے صفا کی پہاڑی پر ھبوط کیا اور کوہ مروہ پر حضرت حوا[علیہا السلام] اتر آئیں چوں کہ حوّا {علیہاالسلام] خاتون تھیں اسلئے نام مروہ رکھاگیا[xxiv]

امام سجاد علیہ السلام نے سعی بین صفا و مروہ کے فلسفہ کے بارے میں فرمایا: یعنی اے اللہ میں خوف اور امید کی درمیانی حالت میں ہوں مجھے صرف خوف ہے نہ پوری امید ۔اور مومن کو ہمیشہ اپنےکئے ہوئے اعمال سے خوف اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید وار ہونا چاہئے جس کے نتیجے میں حاجی ظاہری طور پر آب زمزم اور باطنی طور آب حیات تک رسائی حاصل کرتا ہے ۔ اور صفا ومروہ کے درمیان یہ سعی ہمیں درس دیتی ہے کہ نا امیدیوں سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ماں ھاجرہ{علیہاالسلام] }ایک بے آب صحرا میں کوشش اور تلاش کرنے لگیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی جگہ سے سیراب کیا کہ جہاں سے وہ تصور بھی نہیں کرسکتی تھیں۔

جتنے مناسک اور اعمال ، سر زمین وحی پر انجام دئے جاتے ہیں سب کے لئے بہت سارے اسرار اور فلسفے بیان کئے گئے ہیں حاجیوں کا ان اسرار سے آگاہ ہونا ان کے حج کے مکمل ہونے کا سبب بنے گا۔

[i]- سورہ مائدہ ۹۷

[ii] - صحیفہ نور، امام خمینی[رہ] ج ۲۰ ص ۲۸۸

[iii] - اصول کافی، کلینی ۴ ص ۲۷۱۰

[iv] - من لا ہحضرہ الفقیہ ، محمد بن علی بن بابویہ ،ج ۲ ص۲۳۵

[v] - بحار الانوار ، علامہ مجلسی، ج ۹۶،ص ۸

[vi] - شرح اصول کافی ، صدرالدین شیرازی ج ۱ ص۵۹۹

[vii]۔ حجرات/ ۱۳

[viii] - احکام حج ، ڈاکٹڑ علامہ محمد حسین ،صفحہ ۳۱

[ix]۔ سورہ حج ۲۶/ ۲۷

[x] - مصابح الشریعۃ ص ۴۹

[xi] - وسائل الشیعہ ،ج ۸ ص ۱۶۱

[xii] - مصابح الشریعہ۔ ۱۶۸

 

[xiii] - المھجۃ البیضاء، فیض کاشانی ج۲ ص ۲۰۳

[xiv] - گنجینہ معارف  شیعہ امامیہ / ترجمہ کتاب کنزالفوائد والتعجب ۔ج ۲ ص۸۵

[xv] - بحار الانوار ،ج ۱۲ ص ۱۰

[xvi] -علل الشرائع،ج ۲ ص ۴۳۷

[xvii] - المحجۃ البیضاء، ج ۲ ص ۲۰۴

[xviii]سورہ اعراف /۱۷۲

[xix]علل الشرائع/ صدوق ،ج ۲ ص ۴۲۵

[xx]علل الشرائع/صدوق۔ ج۲ ص ۴۰۶

[xxi] -علل الشرائع/صدوق ،ج ۲ص ۴۰۷

[xxii] -علل الشرائع /صدوق،ج۲ص ۴۳۳

[xxiii] -علل الشرائع /صدوق،ج ۲ص ۴۳۳

[xxiv]ماقبل