Monday, 17 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 7

کل 9

اس هفته 7

اس ماه 180

ٹوٹل 22021

تحریر:غلام حسین میر

مقدمہ:

مہدویت کی اہم ترین اصولی بحثوں میں سے ایک بحث زمانہ غیبت میں حضرت مہدی (عج) کے شیعوں کی ذمہ داریاں ہےیہ بحث عملی پہلو رکھتی ہے۔ ان فرائض پر عمل کرنے کی صورت میں اسلامی معاشرہ میں ایک عظیم تحول و تبدل ایجاد کیا جا سکتا ہے ۔لوگوں کی گمراہی اور جاہلیت کی موت سے نجات کا سبب  بھی ہو سکتا ہے اسی وجہ سے اس کی اہمیت ہے کہ بعض دانشوروں نے اس سلسلہ میں بحث و تالیفات کا ارادہ  و اہتمام کیا اور اس کے متعلق متعدد کتابیں تحریر کیں حتی اہل سنت حضرات اگرچہ ولادت حضرت مہدی(عج) اور اس زمانہ میں ان کے زندہ ہونے پر اعتقاد نہیں رکھتے اور ان کا عقیدہ محض یہ ہے کہ مہدی موعود آخری زمانہ میں اپنے ظہور سے پہلے پیدا ہوں گے بغیر اس کے کہ اُن کےلیے کو ئی غیبت ہو جیساکہ شیعہ امامی معتقد ہیں ،لیکن عین اسی حالت میں ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ اہل سنت کے نزدیک معتبر منابع  میں بہت سی حدیثیں موجود ہیں کہ جن میں مسلمانوں کے فرائض و وظائف موجود حضرت مہدی ؑکے ظہورسے قبل بیان ہوئے ہیں لہذا یہ وظائف تمام مسلمانوں کے لئے بیان ہوئے ہیں نہ فقط کسی خاص مذہب کے لیے۔

تحریر : محمد اعجاز نگری

   
اللہ تعالی ارشاد فرمارہا ہے ((وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ))  ؛
مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا اور یقینا جو لوگ میری عبادت سے اکڑتے ہیں وہ عنقریب ذلت کے ساتھ جھنم میں داخل ہوں گے )) اور  اللہ تعالی اپنے بندے کی اتنی ہی پروا کرتا ہے جتنی وہ دعا کرتا ہے اور اس کو قبول کرتا ہے (( قل ما یعبؤا بکم ربی لولا دعاؤکم ))  ؛ (( پیغمبر ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمھاری دعائیں نہ ہوتیں تو پروردگار تمھاری پروا بھی نہ کرتا )) تو جو اللہ سے منہ موڑتا ہے تو خداوند عالم  بھی اس کی پروا نہیں کرتا اور نہ ہی اللہ کے نزدیک اس کی کوئی قدر و قیمت ہے ۔

بلاشبہ کائنات کا ہر ذرہ اللہ تعالي نے کسي نہ کسي مقصد سے ہي پيدا کيا ہے

بلاشبہ کائنات کا ہر ذرہ اللہ تعالي نے کسي نہ کسي مقصد سے ہي پيدا کيا ہے،بلا مقصد کي تخليق سے اللہ کي شان بالا تر ہے ،تخليق انسان کا مقصد حقيقي اللہ تعالي نے يوں بيان فرمايا ہے :

 ”‌اور ميں نے جنات اور انسانوں کو محض اس ليے پيدا کيا ہے کہ وہ صرف ميري عبادت کريں-”‌ (سورة الذاريات56)

  اپني عبادت کا طريقہ سکھانے کے ليے اللہ تعالي نے ہر امت ميں رسول بھيجے:

”‌ہم نے ہرامت ميں رسول بھيجے کہ صرف اللہ کي عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو”‌  (سورة النحل 36)

 جهالت یا دشمنی کی وجه سے شیعوں کے خلاف دشمنوں کی طرف سے هونے والا ایک زبردست الزام اور پروپیگنڑا خاک پر سجده کرنے کا مسئله هے- جبکه اگر اس مسئله کے بارے میں ، حقیقت پسندانه، انصاف پر مبنی اور هر قسم کے تعصب سے بالاتر تحقیق کی جائے، تو اس کا نتیجه بالکل اس کے برعکس نکلے گا جس کا شیعوں پر الزام لگایا جاتا هے، کیونکه شیعه خاک پر سجده کرتے هیں ، نه خاک کے لئے- سجده دو قسم کا هوتا هے، ایک کسی چیز کے لئے سجده اور دوسرا کسی چیز پر سجده-

بیشک سجده کی پهلی قسم شرک کی حالات میں سے ایک حالت هے اور شیعه اس قسم کے سجده کو حرام جانتے هیں، کیونکه اس قسم کا سجده غیر خدا کے لئے هوتا هے اور اس کو ثابت کرنے کے لئے زیاده برهان و دلیل کی ضرورت نهیں هے- اس سلسله میں هم آپ کو شیعه علماء کے فتاویٰ کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دیتے هیں-