Saturday, 20 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 12

اس هفته 75

اس ماه 214

ٹوٹل 21510

 تحریر : محمد اعجاز نگری
حج فروع دین میں سے ایک اہم فریضہ ہے جو شخص مستطیع ہوجاتا ہے اس پر پوری عمر میں ایک مرتبہ حج بجا لانا واجب ہے اور حج کے موسم میں، حاجی جتنے مواقف کا سیر کرتا ہے وہ سب شیخ الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اعمال اور آپ کے پر اسرار سفر کی یاد تازہ کرناہے ۔

چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس سفر میں بہت سارے اسرار کوحقائق پوشیدہ ہیں  جیسا کہ عرفان ابراہیم ، ایثار ابراہیم، اخلاص ابراہیم اگر اس سفر کا اندرونی  پہلو ہے تو  قیام ابراہیم ، ظالموں اور ستمگروں کے خلاف لڑنا اور دین الہی کی نصرت کرنا وغیرہ اس سفر کا بیرونی پہلو ہے  جیسا کہ اللہ نے فرمایا: جَعَلَاللَّهُالْكَعْبَةَالْبَيْتَالْحَرَامَقِيَامالنَّاس[i]

 

 جب یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ کوئی بھی فعل بغیر علت کے نہیں ہوتا تو پھر اس دنیا کے خالق کی معرفت اور اس کو پہچاننے کے لئے بھی کوئی نہ کوئی علت اور سبب ہونا چاہئے، چنانچہ فلاسفہ اور دانشوروں نے خدا شناسی کے لئے تین بنیادی وجہیں اور علتیں بیان کی ہیں،جن پر قرآن کریم نے واضح طور پر روشنی ڈالی ہے:

١۔ عقلی علت ۔    ٢۔ فطری علت ۔   ٣۔ عاطفی علت ۔

 

تحریر : محمداعجاز نگری

خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے: "وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونىِ أَسْتَجِبْ لَكمُ ‏ْإِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبرُِونَ عَنْ عِبَادَتىِ سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِين"‏ اورتمہارےپروردگارکاارشادہےکہ مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا اور یقیناجولوگ میری عبادت سے اکڑتے ہیں وہ عنقریب ذلّت کےساتھ جہنم میں داخل ہوں گے.

 دعا کا لغوی معنىٰ  پکارنا اور آواز دینا ہے اصطلاح میں اللہ تعالیٰ کو پکارنا اور بارگاہ الٰہی سے کسی اچھی یا بری شئ کا اپنے یا دوسرے کیلئے درخواست کرنے کو کہتے ہیں۔دوسرے الفاظ میں دعا یعنی بندے کا خدا سے اپنی حاجتیں طلب کرنا ۔

 

تحریر : نذر حافی

 This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

زندگی سے محبت اور موت سے فرار ہر جاندار کی فطرت ہے۔یہی وجہ ہے کہ دین اسلام نے انسان کو جہاں جینے کے آداب بتائے وہیں  مرنے کے ڈھنگ بھی سکھائے ۔جس طرح اسلام یہ نہیں چاہتا کہ کوئی شخص  بے مقصد زندگی گزارے اسی طرح اسلام یہ بھی نہیں چاہتا کہ کوئی شخص بے مقصد موت کے منہ میں چلاجائے۔

اسلام کے نزدیک انسان کی موت اور زندگی سے بڑھ کر اس کے اہداف مہم ہیں۔چنانچہ جب کچھ لوگوں نے امام حسینؑ کو زندگی بچانے کا مشورہ دیا تو آپ نے ان کے مشوروں پر اپنے اہداف کو ترجیح دی۔کسی نے کہا یا ابن  رسول اللہ ﷺ آپ بیعت کرلیں اور اس جھگڑے سے جان چھڑائیں،کسی نے کہا  عام راستے سے سفر نہ کریں اور کسی مخفی راستے کا انتخاب کریں،کسی کا کہنا تھا کہ مکےّ کو ہی اپنا مسکن بنالیں اور حرم کے کبوتر بن جائیں۔۔۔لیکن امام حسینؑ  کی نگاہ میں زندگی بچانے کی نہیں بلکہ اہم اہداف کی خاطر صرف کرنے کی چیز تھی۔بالکل ایسے ہی  جیسے عقلا کے نزدیک دولت جمع کرنے کی نہیں بلکہ حسب ضرورت استعمال کرنے کی شئے ہے۔چنانچہ آپ نے ۶۱ھ میں  زندگی کو بچانے کے بجائے اپنے اہداف پر خرچ کردیا۔

تحریر:غلام حسین میر

مقدمہ:

مہدویت کی اہم ترین اصولی بحثوں میں سے ایک بحث زمانہ غیبت میں حضرت مہدی (عج) کے شیعوں کی ذمہ داریاں ہےیہ بحث عملی پہلو رکھتی ہے۔ ان فرائض پر عمل کرنے کی صورت میں اسلامی معاشرہ میں ایک عظیم تحول و تبدل ایجاد کیا جا سکتا ہے ۔لوگوں کی گمراہی اور جاہلیت کی موت سے نجات کا سبب  بھی ہو سکتا ہے اسی وجہ سے اس کی اہمیت ہے کہ بعض دانشوروں نے اس سلسلہ میں بحث و تالیفات کا ارادہ  و اہتمام کیا اور اس کے متعلق متعدد کتابیں تحریر کیں حتی اہل سنت حضرات اگرچہ ولادت حضرت مہدی(عج) اور اس زمانہ میں ان کے زندہ ہونے پر اعتقاد نہیں رکھتے اور ان کا عقیدہ محض یہ ہے کہ مہدی موعود آخری زمانہ میں اپنے ظہور سے پہلے پیدا ہوں گے بغیر اس کے کہ اُن کےلیے کو ئی غیبت ہو جیساکہ شیعہ امامی معتقد ہیں ،لیکن عین اسی حالت میں ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ اہل سنت کے نزدیک معتبر منابع  میں بہت سی حدیثیں موجود ہیں کہ جن میں مسلمانوں کے فرائض و وظائف موجود حضرت مہدی ؑکے ظہورسے قبل بیان ہوئے ہیں لہذا یہ وظائف تمام مسلمانوں کے لئے بیان ہوئے ہیں نہ فقط کسی خاص مذہب کے لیے۔