Wednesday, 21 November 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 8

اس هفته 20

اس ماه 154

ٹوٹل 21753

  

تحریر:ایم-اے-حیدر

 

تمہید :

 (لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُواْ الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُواْ) 

  قرآن کریم یہودیوں اور مشرکین کو اہل ایمان کا بدترین دشمن قرار دیتا ہے اور عملی طور پر بھی ہر عصر میں ثابت ہو چکا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہونے والی ہر سازش میں یہودی شریک رہے ہیں۔ان سطور میں عالمی سامراج کے اسرائیل کے تحفظ اور حمایت میں کئےجانے والے اقدامات اور عزائم کے طرف اشارہ کیا جائے گا۔

 

  مقبوضہ فلسطین کا تاریخی پس منظر:

  مقبوضہ فلسطین کو آج سامراجی طاقتیں اسرائیل کے نام سے دنیا میں منوانا چاہتی ہیں۔اسرائیل کو 1948ءمیں عالمی استکباری طاقتیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے وجود میں لائیں ، اسرائیل کے وجود میں آنے اور فلسطینی قوم کی بر بادی کی داستان  اور عالمی استعماری طاقتوں کی سازشوں کو اچھی طرح جاننے کے لئے ہمیں اس سرزمین کی گذشتہ تاریخ کا سرسری جائزہ لینا ہوگا۔

 

  ظہور اسلام سے پہلے عیسائی اور یہودی اقوام سرزمین فلسطین میں آباد تھے لیکن اسلام کے عالمگیر نور نے دنیا کے دیگر خطّوں کی طرح اس سرزمین کی بھی قسمت بدل دی اور رفتہ رفتہ اس خطّے کے لوگ مسلمان ہونے لگے یہاں تک کہ پہلی جنگ عظیم سے پہلے ، سرزمین فلسطین میں یہودی اور عیسائی ، مذہبی اقلیتوں میں بدل گئے اور یہودی اس علاقہ کے چھ فیصد جبکہ عیسائی اس سے بھی قلیل آبادی کی صورت میں رہ گئے ، لیکن چونکہ مشرق وسطی اپنے جغرافیائی اور سیاسی اہمیت کے علاوہ دنیا کے تیل کے عظیم ذخائر سے مالا مال ہے اس لئے عالمی استعماری طاقتوں نے اپنے وسیعتر مفادات کے تحفظ کی خاطر اسرائیل کو وجود میں لانے کا فیصلہ کیا۔ممکن ہے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو کہ استعماری طاقتوں نے اپنے مفادات کے تحفظ کی یہ ذمہ داری کیوں کسی عرب ملک یا قوم کے سپرد نہیں کی اور علاقے میں پولیس مین کا کردار ادا کرنے کے لئے اسرائیل یا یہودیوں کو کیوں انتخاب کیا؟اس سوال کا مکمل تحلیلی جواب دینا اگر چہ اس مقالے کے دائرہ کار سے باہر ہے لیکن بطوراختصار کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ عربوں اور یہودیوں میں ہر لحاظ سے اختلاف اور تضاد پایا جاتا ہے اور علاقے کے تیل کے ذخائر اور دیگر سیاسی اور جغرافیائی مفادات کے مالک عرب ہیں، لہذا عرب مخالف، یہودی ریاست کے قیام کو استعمارنے  اپنے مفادات کے حصول کے لئے ضروری قرار دیا اور پوری دنیا سے یہودیوں کو اس علاقے میں جمع کرکے مقامی مسلمان فلسطینی قوم کو یہاں سے بے گھر کیا گیا، استعماری طاقتوں نے اسرائیل کو وجود میں لانے کے مسببات کے طور پر "ھولو کاسٹ" جیسے افسانوں کا بھی سہارا لیا تا کہ عالمی سطح پر اسرائیل کے وجود میں آنے کا جواز فراہم کیا جاسکے۔ اسرائیل کی ناجائز ریاست بننے کی ابتداء ہی ایک زندہ اسلامی قوم یعنی فلسطین پر ظلم و بربریت سے ہوئی لہذا شروع ہی سے سامراج کو اندازہ تھا کہ اسرائیل کے وجود کو ہمیشہ خطرہ رہے گا۔ لہذا طول تاریخ میں سامراج اور اسلام دشمن طاقتیں مختلف طریقوں اور حربوں سے اس ناجائز ریاست کو بچانے کے  درپے تھیں ۔ سامراجی طاقتوں کے اسرائیل کو بچانے کے مختلف حربوں کا ذیل میں ، اختصار کے ساتھ ،جائزہ لیا جائے گا۔

 

  1۔ اسرائیل کو ناجائز طاقت کے ذریعے مستحکم کرنا:

جیسا کہ استعماری طاقتوں کا طریقہ رہا ہے کہ وہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے طاقت کا سہارا لیتے ہیں اور طاقت اور فوجی حکمت عملی کے ذریعے قوموں کا استحصال کرتے ہیں۔ اور اپنی اہداف تک رسائی کے لئے خون کی نہریں بہانے سے بھی دریغ نہیں کرتے ۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ذرائع ابلاغ میں اپنے ظلم اور غیر انسانی اقدامات کو آزادی اور جمہوریت کا نام دیتے ہیں۔ جس کی زندہ مثالوں میں سے ایک اسرائیلی غاصب حکومت کو مستحکم کرنا ہے۔ سامراجی طاقتیں ہر سال اربوں ڈالر اسرائیل کے فوجی استحکام پہ خرچ کر رہی ہیں۔اس وقت دنیا کا ہر جدید جنگی اور دفاعی سسٹم اس غاصب حکومت کے پاس موجود ہے۔ خود اسرائیلی حکام تین سو ایٹم بموں کی موجودگی کا اعتراف کرچکے ہیں۔ اس غاصب حکومت کے ایٹمی ریکٹر اس وقت بھی ایٹمی ہتھیاربنانے میں مصروف ہیں۔ اور اس کے پاس وہ جدید اسلحہ موجود ہے جس سے وہ کسی بھی وقت دنیا کے کسی بھی ملک پر حملہ کر سکتا ہے۔ جس کی زندہ مثالیں عراق ، شام ، لیبیا، دیگر عرب اور افریقی ممالک کے تنصیبات پہ اسرائیل کے آئے دن کے حملات شامل ہیں۔ لیکن نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ ملک جو ایٹمی طاقت رکھتا ہے اور ایٹمی مہلک ہتھیار بنا رہا ہے اور آئے دن اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے قوانین کو پایمال کر رہا ہے ۔ وہ این،پی،ٹی(ایٹمی ہتھیار کے عدم پھیلاؤ کا معاہدہ) کا رکن نہیں ہے ۔ اور اس کے انسانیت سوز اقدامات کا امریکا اور دیگر مغربی طاقتیں ویٹو اور دیگر  ذرائع سے دفاع کر رہے ہیں۔

 

2۔علاقے کے جابر حکمرانوں کے ذریعے اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنا:

  عالمی سامراجی طاقتیں ، علاقے کے ڈکٹیڑ حاکموں کے ذریعے اسرائیلی ظالم اور ناجائز حکومت کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ جس کی روشن مثالیں ہر اہل بصیرت کے لئے واضح ہیں۔ انورالسادات ،حسنی مبارک اور سعودی عرب ، قطر ، ترکی اور دیگر عرب حکمرانوں کی کھل کر اور درپردہ اسرائیل ، حمایتوں کا سلسلہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔یہ جابر حکمران اسرائیل کی حمایت اور پشت پناہی پہ ایسے مصمم ہیں، گویا کہ ان کا اقتدار میں رہنا اسرائیل کی بقا٫ سے وابستہ ہے۔وہ اسرائیل کے تحفظ کے لئے پانی کی طرح پیسہ بہانے کے علاوہ ، اپنے عوام کے جذبات اور احساسات کو بھی خاطر میں نہیں لاتے۔ شام کے حالیہ حالات میں ان ظالم حکمرانوں کا کردار کسی تعریف کا محتاج نہیں وہ شام ، حزب اللہ اور حماس کے ذریعے اسرائیل کو لاحق ممکنہ خطرے کو اپنے اقتدار کے لئے خطرہ سمجھتے ہوئے، تن ، من ، دھن سے شام ، حزب اللہ اور حماس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اب شام کے مسئلے میں اسرائیل کے حامی اور مخالف گروپ واضح طور پر سامنے آگئے ہیں ۔ مغربی طاقتوں کے علاوہ یہ ظالم حکمران اور تکفیری دہشتگرد سب ایک صف میں اسرائیل کے دشمن ،یعنی حکومت شام سے ، برسر پیکار ہیں بلکہ یہی ظالم عرب حکمران اپنے خرچے پہ امریکا اور دیگر مغربی طاقتوں کو شام اور دیگر اسرائیل دشمن طاقتوں پہ لشکر کشی کی دعوت دے رہے ہیں ۔

 

3۔معاہدوں اور قراردادوں کے ذریعے اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنا:

  عالمی سامراجی طاقتیں ہر جہت سے اسرائیل کو تحفظ فرہم کرنے کے درپے ہیں ۔وہ اسرائیل کے مختلف ہمسایوں سےمعاہدوں اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے ذریعے بھی اسرائیل کو تحفظ فراہم کر رہی ہیں۔ اسرائیل کو مزید پھلے پھولنے اور مزید یہودی بستیاں بسانے کا مواقع فراہم کر رہی ہیں۔ مظلوم فلسطینی عوام کو خود ساختہ شرائط کے ذریعے اپنے آبائی سرزمین سے بے دخل کر رہے ہیں۔ان معاہدوں میں سے کیمپ ڈیوڈ کا معاہدہ قابل ذکر ہے جو فلسطینی نہتے عوام کے علاوہ مصری قوم کا بھی استحصال کر رہا ہے۔ ان ناجائز معاہدوں کے عکس العمل کے طور پر اب مظلوم عوامی طاقتیں سر اٹھا رہی ہیں۔ اور ان اسلامی تحریکوں کے زلزلے میں مقامی ظالم حکومتیں یکے بعد دیگرے گر رہی ہیں۔ اور وہ دن انشا٫اللہ دور نہیں جب اس عوامی سیلاب میں اسرائیلی ناجائز حکومت بھی بہہ جائےگی۔

 

4۔اسلامی تحریکوں کو کمزور کرنے کے ذریعے اسرائیل کو مستحکم کرنا:

  اسرائیل کی مظالم اور استکباری قوتوں اور ظالم حاکموں کے مقابلے میں اسلامی اور عرب دنیا میں بیداری کی جو لہر اٹھی ہے سامراجی قوتیں ان عوامی اسلامی تحریکوں سے اسرائیل اور اس کے حامی حکام کو بچانا چاہتی ہیں اور مختلف سازشوں کے ذریعے ان اسلامی تحریکوں کو کمزور اور رائے عامہ اور میڈیا میں ان تحریکوں کے خلاف زہر اگلا جا رہاہے۔جیسے آج کل بحرین ، مصر اور دیگر عرب ممالک میں اسلامی تحریکوں کو استکباری قوتیں انتہائی بے دردی سے کچل رہی ہیں۔یا جیسے ماضی قریب میں انقلاب اسلامی ایران کی تحریک کے خلاف مغربی سامراج کی سرگرمیاں کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔

 

5۔ہمسایہ ممالک میں اسرائیل حامی حکومتیں برسر اقتدار لانا:

  استعماری طاقتیں ہر قیمت پہ اسرائیل کا دفاع کرنا چاہتی ہیں۔ وہ اسرائیل کے ہمسایہ ممالک میں اسرائیل نواز حکمرانوں کو بر سر اقتدار  لانا چاہتے ہیں۔تاکہ وہ ان کے ہر ناجائزاقدام کی حمایت کریں ۔اس سلسلے میں آج کل شام کے جمہوری نظام کے خلاف باطل قوتوں کی صف آرائی  اور لشکر کشی اس کی زندہ مثال ہے۔ گذشتہ کئ دہائیوں سے عالم عرب  میں صرف شام اپنے اصولی موقف پہ برقرار رہتے ہوئے فلسطین اور لبنان کے محاذوں پہ حماس اور حزب اللہ جیسی اسرائیل دشمن طاقتوں کی مدد کر رہا ہے۔ لیکن سامرا جی طاقتیں ہر قیمت پہ اسرائیل کا تحفظ چاہتی ہیں اور کئی سالوں سے بشار الاسد کی جمہوری حکومت کے خلاف مخفیانہ طور پر سر گرم عمل ہیں۔اور اب یہ استکباری سازشیں گذشتہ تین سالوں سے مسلحانہ محاذ آرائی میں بدل چکی ہے۔ اور شام کے منتخب جمہوری حکومت کے خلاف اس سامرا جی محاذ آرائی سے دنیا  والوں کیلئے بہت سے حقائق کھل کر سامنے آئے ہیں جن میں سے کچھ حقائق کی طرف ذیل میں اشارہ کیا جاتاہے:

 

الف:مغربی جمہوریت طلبی کا اصل روپ:

مغربی استعماری طاقتیں جمہوریت کے علمبردار ہونے کی دعویدار ہیں۔ لیکن شام کے حالیہ واقعات نے ان کے اس جھوٹے دعوے کی قلعی کھول دی ہے؛ کیونکہ وہ شام کی جمہوری حکومت کوپہلے تو مخفیانہ طور پر گرانے کے درپے تھیں لیکن گذشتہ تین سالوں سے وہ طاقت اور حتٰی کہ دہشت گردوں کے ذریعے ہٹانے کے درپے ہیں۔وہ اپنے اس غیر جمہوری اور غیر انسانی ہدف کیلئے القاعدہ اور دیگر عالمی دہشتگرد تنظیموں سے الحاق کیے ہوئے ہیں۔اور اب تو خود ان مغربی طاقتوں کے عوام  بھی ان کے اس غیر جمہوری اور غیر انسانی اقدام کے خلاف  آئے دن  مظاہرے کر رہے ہیں۔لیکن چونکہ مغربی استعمار ہر صورت میں اسرائیل کا تحفظ چاہتا ہے۔ چاہے وہ ہزاروں شامی خواتین  اور بچوں کے دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل عام یا لاکھوں شامیوں کے آوارہ  ہونے کے قیمت پہ ہو ،یا دنیا میں دہشتگردی کے فروغ کی قیمت پہ ہو۔سیدھی سی بات یہ ہےکہ جمہوریت کے جھوٹے دعوے داروں نے شام میں جمہوریت کو اسرائیل کے تحفط پہ قربان کیا ہے۔

 

ب) اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی حقیقت:

اسلامی ممالک کے حکمران جو سامراج کے حامی ہیں اور اپنے آپ کو عالم  اسلام کا کرتا  دھرتا  قرار دیتے  ہیں اور خادم الحرمین الشریفین اور دیگر خود ساختہ القابات کے ذریعے اپنے آپ کو اسلام اور مسلمانوں کا ولی و وارث سمجھتے ہیں ۔حالانکہ وہ عملی طور پر اسلام دشمن طاقتوں کے ساتھی اور حلیف ہیں اور استعمار کے ان گماشتوں نے آج تک  اسرئیل کے خلاف  ایک گولی نہیں چلائی یا اسرئیل سے لڑنے کیلئے  ایک فوجی نہیں بھیجا لیکن  انھیں ضمیر  فروشوں نے مغربی استعماری طاقتوں کو نہ صرف شام پہ لشکر کشی پہ آمادہ کیا ۔بلکہ پورے فوجی آپریشن کے اخراجات  برداشت کرنے کی حامی بھی بھر لی ہے۔ آج عالم اسلام کے ہر با ضمیر فرد کیلئے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ سید جمال الدین افغانی کے قول: "الاسلام مھجور بالمسلمین" (ترجمہ:اسلام مسلمانوں کے ہاتھوں مظلوم واقع ہوا ہے۔)کے مطابق ان خود فروختہ بے ضمیر حکمرانوں نے اسلام اور مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ اور وہ اپنے مغربی آقاؤوں کے اشارے پہ  ہر وہ کام انجام دینے کیلئے کمر بستہ ہیں جو  خود  ان کے اقتدار اور اسرائیل کے تحفظ کیلئے  ہو اور چاہے اسلام کو کتنا  ہی نقصان پہنچے۔ در واقع یہ نام نہاد حکمران فلسطینیوں کے نا حق خون بہنے میں اسرائیل اور دیگر سامراجی طاقتوں کے ساتھ شریک جرم ہیں۔

 

مذہبی شدت پسند اور تکفیریوں کا اصلی روپ:

شام کے حالات نے بہت سے دیگر حقائق کو آشکار کرنے کےساتھ ساتھ شیعہ دشمن اور تکفیری گروپوں کی حقیقت کا بھانڈا بھی پھوڑ دیا ہے وہ مذہبی شدت پسند جو اپنے علاوہ سب کو کافر قرار دیتے تھے ، آج شام کے فتنے میں اسرائیل اور دیگر سامراجی طاقتوں کے شانہ بشانہ شام کے نہتے مسلمانوں کے قتل عام میں سرگرم ہیں ۔

 

  وہ تکفیری تنگ نظر گروہ جو اپنے افکار کو حقیقی اسلام اور صرف اپنے آپ کو مسلمان قرار دیتے ہیں ، آج وہ شام کے بے گناہ مسلمانوں کو خون میں نہلانے کے لئے یہود و کفار کے ہم پیالہ اور ہم نوالہ بنے ہوئے ہیں ۔ آج وہ اسلام کے حرام کئے ہوئے امور کو حلال قرار دے رہے ہیں ۔ اور ان کے بے ضمیر مفتی   (ناصرالعمری ) اپنے جنونی جنگجؤوں کے لئے شیعہ خواتین کو حلال قرار دے رہے ہیں ، اور اس سے بھی بڑی خوشخبری یہ  کہ  اپنے مجاہدوں کے لئے نکاح بالمحارم ( یعنی ماں ، بہن سے نکاح) کو بھی مباح قرار دے رہے ہیں!

اسلا م کے لبادے میں ملحد لوگ ، آج اسلام اور مسلمانوں کو جتنا نقصان پہنچارہے ہیں ، کفار اور سامراج بھی اتنا نہیں پہنچا رہے تھے ۔ ان کوتاہ فکر ، شدت پسندوں کی شیطانی جذبات اور بے ضمیر شہوت پرست حکمرانوں کے خزانوں سے آج سامراج نے اسلام کے خلاف  وہ سازشیں کی ہیں  جس سے مسلمانوں کی جان و مال کے قیمت پہ اسرائیل کو تحفظ فراہم ہوا ہے ۔ستم بالائے ستم یہ کہ یہی کوتاہ فکر طبقہ اپنے ان جنونی اقدامات کو جہاد کا نام دے کر اسلام کو بدنام کررہا ہے جبکہ علامہ اقبال کے اس شعر کے مطابق یہ لوگ فتنہ پھیلانے والے ہیں ۔

 

اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ              املاک و اولاد و جاگیر بھی فتنہ

ناحق کے لئے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ                 شمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ

 

مسلمانوں میں نفرتیں پھیلانے سے اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنا :

اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنے کی ایک اہم ترین سامراجی سازش ، مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنا ہے ، سامراجی طاقتیں فلسطین کو عالم عرب کا مسئلہ قرار دے کر غیر عرب مسلمانوں کو فلسطین کے مسئلے سے لاتعلق قرار دے رہی ہیں۔ اسی طرح سنی شیعہ تفرقے کے ذریعے عالم تشیع کو اس اسلامی مسئلے سے جدا کرنا چاہتا ہے ۔ جبکہ واقعیت تو یہ ہے کہ جتنا مسئلہ فلسطین ،عربوں کے لئے اہمیت رکھتا ہے اس سے بڑھ کر  پورے عالم اسلام کے لئے اہمیت کا حامل ہے اور الحمد للہ آج مسئلہ فلسطین شیعہ کو سنی سے جدا نہیں بلکہ یکجا کرنے کا محور ہے کیونکہ حضرت امام خمینی (رہ) ہی نے جمعۃ الوداع  کو یوم القدس قرار دے کر دشمنوں کو آگ بگولا کیا اور سرزمین کوئٹہ کے غیور شیعوں نے ۲۰۱۰ءکے یوم القدس کو ۸۰شہداء کے پاک خون کا نذرانہ دے کر ثابت کیا کہ شیعہ سنی اسلام کے پیکر کے دو ہاتھ ہیں  اور مسئلہ فلسطین پورے عالم اسلام کا مسئلہ ہے اور جو مسئلہ فلسطین کو علاقائی یا لسانی یا مذہبی رنگ دینا چاہتے ہیں وہ در واقع استعماری طاقتوں کے ایجنٹ ہیں ۔ ان کا اسلام یا شیعہ سنی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔