Saturday, 20 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 12

اس هفته 75

اس ماه 214

ٹوٹل 21510

 

تحریر:محمداعجاز نگری

تمہید:

   انسان جس سرزمین یا قوم و قبیلے میں زندگی بسر کر رہا ہے اس سے محبت کرتا ہے ۔ یہ  نہ صرف عیب اور برا نہیں بلکہ بہت ساری معاشرتی مشکلات کے حل ہونے کا باعث بھی بنتی ہے چونکہ انسان اگر وطن ، قوم اور لوگوں سے محبت نہ رکھے تو ان کی کامیابی ، دفاع ، ہدایت اور اعلیٰ اقدار کے مالک بننے کے لئے کوئی عملی اقدام نہیں کرے گا جبکہ معاشرے کا ہر فرد اگر اسی طرح بے پروا رہے گا تو وہ معاشرہ ہر طرح کی ترقی (دینی ،علمی،معاشرتی ، سیاسی و غیرہ)سے قاصر رہے گا اس لئے قوم و وطن سے محبت کرنا بھی ضروری ہے جیسا کہ روایات میں وطن سے محبت کرنے کو  ایمان کی نشانی قرار دیا گیا ہے۔ یا بعض روایات میں ملتا ہے کہ وطن سے محبت رکھنے سے ہی وہ آباد ہوتے ہیں  ۔لیکن بعض روایات میں قوم و قبیلے کو ترجیح دینے یا قوم پرستی کی مذمت ہوئی ہے تو اسلام کی نگاہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم اپنی قوم کے سا تھ کیسا سلوک اختیار کریں اسلام میں قوم پرستی کے لئے کوئی حد بندی ہوئی ہے یا نہیں؟

 

تعصب اور قوم پرستی کامطلب

تعصب ایک ایسی خصلت ہے جو آدمی کو بلا اعتراض اپنے اہل و عیال اور رشتے داروں کی حمایت کرنے پر ابھارتی ہے خواہ وہ لوگ ظالم ہوں یا مظلوم  ۔البتہ یہ تعصب رشتے داروں سے مخصوص نہیں بلکہ کبھی قوم و قبیلہ ، نسل ، علاقہ ، ملک ،کلچر اور زبان و غیرہ کے بارے میں بھی ہوسکتا ہے۔ اس بناء پر آدمی کسی عقلی یا شرعی دلیل کے بغیر ،صرف احساسات اور جذبات کا سہارا لیتے ہوئے بلا اعتراض قوم ، خاندان و غیرہ کا دفاع کرتا ہے اگر یہ خصلت قوم اور قبیلہ سے متعلق ہو تو اسے قوم پرستی کہتے ہیں۔

 

 تاریخ میں قوم و قبیلہ اور وطن سے محبت میں زیادہ روی کی وجہ سے خطرناک جنگیں وجود میں آئی ہیں اور اس جیسی جنگیں ، قومی لڑائیاں آج کے دور میں بھی نظر آرہی ہیں کبھی قبائل کے آداب و رسوم کے نام پر بعض خرافات اور برائیاں دوسرے اقوام کی طرف منتقل ہو گئی ہیں اور کبھی قومی اور قبائلی تعصب اتنا زیادہ بڑھ جاتا ہے کہ اپنے قبیلے کا بد ترین فرد اچھا اور دوسرے قبیلے کا بہترین فرد انسان کو برا لگتا ہے۔ البتہ زمانہ جاہلیت (اسلام کے آنے سے پہلے) میں قوم پرستی اتنا زیادہ تھی کہ قرآن مجید جیسی مقدس کتاب اگر کسی غیر عرب پر نازل ہوتی تو عرب لوگ اس پر ایمان لانے  کو تیار نہیں تھے ۔

 

آیات اور روایات میں قوم پرستی کی مذمت

یہ فطرت ہر دور میں پائی گئی ہے کہ بعض لوگ اپنے آبا ء و اجداد کی تعلیمات کو احکام خدا و رسول ﷺ سے زیادہ اہمیت دیتے تھے اور ان میں اس قدر شعور بھی نہیں ہوتا کہ یہ آباء و اجداد  ان کے برابر بھی صاحبان علم و عقل نہیں تھے اور بطور عام یہ ہر دینی ، مذہبی ، سیاسی ، اجتماعی و غیرہ معاملہ میں اپنی عقل کو ان پر مقدم رکھتے تھے ،خصوصا مذہب کے معاملہ میں اپنے علم اور اپنی عقل کو بالائے طاق رکھ کر اپنے باپ دادا کے رسوم کا اتباع کرتے تھے۔قرآن مجید نے اس طریقے کی شدید مذمت  کر کے ایسے لوگوں کو بے عقل ، جانور ، اندھا ، بہرا ، گونگا اور دردناک عذاب کا مستحق قرار دیا ہے جیسا کہ فرما رہا ہے:

 

 1۔((وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللّهُ قَالُواْ بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءنَا أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لاَيَعْقِلُونَ شَيْئًا وَ لاَيَهْتَدُونَ )) ۔ ترجمہ:جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ خدا نے نازل کیا ہے اس کا اتباع کرو تو کہتے ہیں کہ ہم اس کا اتباع کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ۔کیا یہ ایسا ہی کریں گے چاہے ان کے باپ دادا بے عقل ہی رہے ہوں اور ہدایت یافتہ نہ رہے ہوں۔

 

2۔((وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْاْ إِلَى مَا أَنزَلَ اللّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ قَالُواْ حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءنَا أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ شَيْئًا وَلاَ يَهْتَدُونَ ))  ترجمہ:جب ان سے کہا جاتا ہے خدا کے نازل کئے ہوئے احکام اور اس کے رسولﷺ کی طرف آؤ تو کہتے ہیں کہ ہمارے لئے وہی کافی ہے  جس پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا ہے ، چاہے ان کے آباء و اجداد نہ کچھ سمجھتے ہوں اور نہ کسی طرح کی ہدایت رکھتے ہوں ۔

 

 3۔((وَإِذَا فَعَلُواْ فَاحِشَةً قَالُواْ وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءنَا وَاللّهُ أَمَرَنَا بِهَا قُلْ إِنَّ اللّهَ لاَ يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاء أَتَقُولُونَ عَلَى اللّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ))  ترجمہ:اور یہ لوگ جب کوئی برا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے آباء و اجداد کو اسی طریقہ پر پایا ہے اور اللہ نے یہی حکم دیا ہے ۔آپ فرما دیجیئے کہ خدا بری بات کا حکمدے ہی نہیں سکتا ہے کیا تم خدا کے خلاف وہ کہہ رہے ہو جو جا نتے بھی نہیں ہو۔

 

4۔((قَالُواْ أَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءنَا وَتَكُونَ لَكُمَا الْكِبْرِيَاء فِي الأَرْضِ وَمَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِينَ)) ۔ ترجمہ:ان لوگوں نے کہا کہ تم یہ پیغام اس لئے لائے ہو کہ ہمیں باپ دادا کے راستے سے منحرف کردو اور تم دونوں کو زمین میں حکومت اور اقتدار مل جائے اور ہم ہرگز بات ماننے والے نہیں ہیں۔

5۔((قَالُوا وَجَدْنَا آبَاءنَا لَهَا عَابِدِينَ)) ۔ ترجمہ:ان لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو بھی انہیں کی عبادت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

 

6۔ترجمہ: ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے دیکھا ۔

7۔ترجمہ: اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے اس کا اتباع کرو تو کہتے ہیں کہ ہم اس کا اتباع کرتے ہیں جس پر اپنے باپ دادا کو عمل کرتے دیکھا ہے ، چاہے شیطان ان کو جھنم کی طرف دعوت دے رہا ہو  ۔

۸۔ ترجمہ : نہیں بلکہ ان کا کہنا صرف یہ ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم انہیں کے نقش قدم پر ہدایت پانے والے ہیں  ۔

 

9۔ترجمہ :اور اسی طرح  ہم نے آپ سے پہلے کی بستی میں کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر یہ کہ اس بستی کے خوشحال لوگوں نے یہ کہہ دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم انہیں کے نقش قدم کی پیروی کرنے والے ہیں ۔

یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کی طرف  سے پیغام لائے  ہوئے انبیاء ؑ کو ٹھکراتے تھے اور اپنے آباء و اجداد کے بنائے گئے قبائلی آداب و رسوم کو بہتر سمجھتے تھے تو ایسے لوگوں کو قرآن مجید نے یوں خطاب کیا :((وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُواْ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لاَ يَسْمَعُ إِلاَّ دُعَاء وَنِدَاء صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لاَ يَعْقِلُونَ )) ترجمہ : جو لوگ کافر ہوگئے ہیں ان کو پکارنے والے کی مثال اس شخص کی ہے جو جانوروں کو آواز دے اور جانور پکار اور آواز کے علاوہ کچھ نہ سنیں اور سمجھیں ۔ یہ کفار بہرے ، گونگے اور اندھے ہیں انہیں عقل سے سروکار نہیں ہے ۔

 

آج کل کے دور میں بھی کچھ ایسے لوگ اور اقوام پائے جاتے ہیں جو قرآن وسنت کی باتیں جو دیندار افراد اور علماء لے کر آتے ہیں ماننے کو تیار نہیں ہوتے تو ایسے لوگ بھی مذکورہ آیات کے مصداق بن سکتے ہیں ۔

روایات میں بھی تعصب اور قوم پرستی کی شدید مذمت ہوئی ہے یہاں تک کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : (( جس کے دل میں ایک رائی کے دانہ کے برابر ( ناحق ) طرفداری پائی جائے تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس کو زمانہ جاہلیت کے عربوں کے ساتھ محشور کرے گا )) ۔

امام صادق  ؑنے فرمایا : جو شخص خود تعصب کرے یا کوئی اور اس کے لئے تعصب کرے تو گویا اس نے ایمان کے پیوند کو اپنے گردن سے اتاردیا  ۔  روایت میں ملتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ دن میں مندرجہ ذیل چھے چیزوں سے اللہ کے حضور پناہ مانگتے تھے:1۔شک 2۔شرک ،3۔تعصب ، ۴۔غضب ، ۵۔ظلم، ۶۔حسد ۔

 

 امام علیؑ نے جاہلی تعصب اور قوم پرستی کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا : حب اللہ تعالی نے حضرت آدم ؑؑ  کے پیکر میں روح کمال پھونک کر ملائکہ کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو سوائے ابلیس کے تمام ملائکہنے سجدہ کیا اور اسے تعصب لا حق ہوگیا اور اس نے اپنی تخلیق کے مادہ سے آدم پر فخر کیا اور اپنی اصل کی بناء  پر استکبار کا شکار ہوا(اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مخلوقات میں سے سب سے پہلے شیطان ہی حق کے مقابلے میں تعصب کا شکار ہوگیا ہے )  جس کے بعد یہ دشمن خدا تمام متعصب افراد کا پیشوا اور تمام متکبر لوگوں کا مورث اعلیٰ بن گیا۔ اسی نے قومیت اور رشتوں پر ناز کرنے کی بنیاد قائم کی اور اسی نے پروردگار سے جبروت کی رداء میں مقابلہ کیا اور اپنے خیال میں عزت و جلال کا لباس زیب تن کر لیا اور تواضع کا نقاب اتار کر پھینک دیا ۔

 

 پھر امامؑ نے فرمایا : اب کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ پروردگار نے کس طرح اسے تکبر کی بناء پر چھوٹا بنا دیا اور بلندی کے اظہار کی بنیاد پر پست کردیا ہے ، دنیا میں اسے ملعون قرار دیا اور آخرت میں اس کے لئے آتش جہنم کا انتظام کردیا ہے  ۔

 ممکن ہے بعض لوگوں کو یہ معلوم نہ ہو کہ بے جا تعصب کرنے والوں کا پیشوا شیطان ہوتا ہے اور مخلوقات میں سے سب سے پہلے تعصب کی بنیاد شیطان نے ہی ڈالی ہے اور جو بھی حق کے مقابلے میں تعصب ، تکبر اور قوم پرستی کرے گا وہ شیطان کے سپاہیوں میں سے اور للہ تعالی کے نزدیک ناچیز شمار ہوگا جس کی وجہ سے بے جاقوم پرستی اور تعصب کا شکار ہوجائیں تو ایسے لوگوں کے بارے میں امیرالمؤمنین علیؑ فرماتے ہیں:   ( جب تمہیں قوم پرستی اور تعصب کی حقیقت اور عاقبت معلوم ہوگئی تو ) اب تمہارا فرض ہے کہ تمہارے دلوں میں جو قوم پرستی  اور جاہلیت کے کینوں کی آگ بھڑک رہی ہے اسے بجھادو کہ یہ غرور ایک مسلمان کے اندر شیطانی وسوسوں ، نخوتوں ، فتنہ انگیریوں اور فریب کاریوں کا نتیجہ ہے ، اپنے سر پر تواضع کا تاج رکھنے کا عزم کرو اور تکبر کو اپنے پیروں تلے رکھ کر کچل دو ۔

امام علیؑ كی یہ نصیحت سن کر اس آفت میں مبتلا شخص اگر ندامت کا اظہار کر کے اللہ تعالی سے مغفرت طلب کرے تو خدا اس کو معاف کردے گا لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ناحق جانبداری ، تعصب اور قوم پرستی سے ہمیشہ کے لئے گریز کرے ۔

دور حاضر میں دنیا کے  مختلف ممالک میں ، بڑے اور چھوٹے شہروں میں ، دیہاتوں اور قصبوں میں بھی قوم پرستی اور تعصب نظر آتا ہے ، خصوصا جن معاشروں میں علم کی ترقی نہیں ، قرآن اور اہلبیت ؑ  کے فرامین صحیح معنوں میں نشر نہیں ہوئے ہیں وہاں پر اس قسم کے خاندانی اور قبائلی تعصبات پائے جاتے ہیں ۔ لھذا قرآن اور سنت کی روشنی میں مسلمان اس وباء سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔

 

قوم پرستی کے منفی اثرات

آباء و اجداد کی  اندھا دھند  پیروی اور قوم پرستی کرنے سے انسان کی فردی اور معاشرتی زندگی میں بہت سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں جو حقایق کو جاننے ، ایمان لانے ، عدل و مساوات قائم کرنے ، خاشع و خاضع بننے ، ایثار اور فداکاری و غیرہ میں رکاوٹ بنتے ہیں چونکہ یہ افراد ان اقدار کو اپنی قوم کے گزرے ہوئے لوگوں کے معیاروں کے ساتھ جانچتے ہیں اور جو فکر ان کے آباء و اجداد کے افکار میں نظر نہ آئے اس کو باطل سمجھ کر ترک کر دیتے ہیں (اگر چہ دینی لحاظ سے صحیح ہی کیوں نہ ہو ) اور کہتے ہیں ہم نے ان مطالب کو اپنے آباء و اجداد سے نہیں سنا ہے اگر یہ مطلب حقیقت پر مبنی ہوتا تو وہ لوگ ضرور بیان کر دیتے اور ہم اسے ضرور سنتے جیسا کہ اللہ تعالی ارشاد فرمارہا ہے:(( فَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَوْمِهِ مَا هَذَا إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُرِيدُ أَن يَتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ وَلَوْ شَاء اللَّهُ لَأَنزَلَ مَلَائِكَةً مَّا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي آبَائِنَا الْأَوَّلِينَ)) ۔ترجمہ: ان کی قوم کے  کافر رؤسانے کہا یہ نوح تمہارے ہی جیسے انسان ہیں جو تم پر برتری حاصل کرنا چاہتے ہیں حالانکہ خدا چاہتا تو ملائکہ کو بھی نازل کرسکتا تھا یہ تو ہم نے اپنے باپ دادا سے کبھی نہیں سنا ہے ۔

متعصب لوگوں کو کوئی ہادی خطاب کرے تو وہ یوں سمجھتےہیں کہ یہ ہم پر برتری حاصل کرنا چاہتا ہے پھر حقایق کو سننے کے لئے تیار نہیں ہوتےجو انہیں کے لئے نقصان دہ ہے۔

 

تعصب اور قوم پرستی کا ذمہ دار کون؟

مندرجہ بالا مطالب سے یہ معلوم ہوگیا کہ معاشرے کے بعض لوگ اللہ تعالی اور معصومین ؑؑکے فرامین کے مقابلے میں اپنے آباء و اجداد کےطورطریقوں (اگر چہ دین کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں)کو بہتر سمجھتے ہیں بلکہ اسی کو عین دین سمجھتے ہیں تو اس کی اصلی علت کیا ہو سکتی ہے ؟

 

 انسان فطری طور پر توحید پرست اور اللہ تعالی کے احکام پر عمل کرنے کا شوق رکھتا ہے لیکن ولادت کے بعد گھر اور معاشرے کی تربیت کی وجہ سے یا تو سیدھے راستے پر گامزن رہتاہے یا تو غلط راہوں پر چل پڑتا ہے لیکن قوم کی تباہی اور بربادی میں سب سے بڑا ہاتھ ان سرداروں کا ہوتا ہے جن کی حیثیت کچھ نہیں ہوتی ، یہ سردار عموماً دین سے اتنے بے خبر ہوتےہیں کہ قرآن پاک بھی نہیں پڑھ سکتے جبکہ اپنے آپ کو اس قدر عظیم ظاہر کرتے ہیں جس کا اندازہ کرنا مشکل ہوتاہے ۔ان کے پاس تعصب ، عناد ، غرور اور تکبر کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا اور اپنی رعیت کی بھی اپنی جیسی بے بنیاد تربیت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے ماتحت لوگوں کو یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ہم کو بلند بنایا ہے اور اسی نے تمہیں پست قرار دیا ہے !لہذا اب تمہارا فرض ہے کہ اس فیصلہ پر راضی رہو اور ہماری اطاعت کی راہ پر چلتے رہو ، بٖغاوت کا ارادہ مت کرو کہ یہ قضاء و قدر الہی سے بغاوت ہے اور یہ شان اسلام کے خلاف ہے۔ تو ہرسردار کی  بھر پور کوشش رہتی ہے کہ وہ ان حربوں کے ذریعے سے ہمیشہ اپنی رعیت پر مسلط رہے۔

 

حضرت علیؑ ایسے لوگوں کے ساتھ برتاؤکے بارے میں یوں فرماتے ہیں: آگاہ ہوجاؤ ، اپنے ان بزرگوں اور سرداروں کی اطاعت سے محتاط رہو جنہوں نے اپنے حسب پر غرور کیا اور اپنے نسب کی بنیاد پر اونچے بن گئے۔ بد نما چیزوں کو اللہ تعالی کے  سرڈال دیا اور اس کے احسانات کا واضح انکار کردیا انہوں نے اس کے فیصلہ سے مقابلہ کیا اور اس کی نعمتوں پر غلبہ حاصل کرنا چاہا ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو قومیت ،فتنہ کے ستون اور جاہلیت کے غرور کی تلواریں ہیں ۔

 

حقیقی اقدار کیا ہیں ؟

ہر انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ اعلیٰ اورحقیقی اقدار کا مالک بن جائے اس لئے وہ اپنی زندگی میں اقدار کو حاصل کرنے کی کوشش میں سرگرم رہتا ہے لیکن حقیقی اقدار کیا ہیں اور ان کو پہچاننے کے معیار کیا ہیں؟

بعض لوگ خود کو ایک معروف اور مشہور قبیلے سے منسلک کرنے پر فخر و مباہات کرتے ہیں اسلئے ان کی کوشش یہی رہتی ہے کہ اس قبیلے کی بڑائی اور احترام ثابت رہے تا کہ اس کا اپنا بھی احترام باقی رہے یہ طریقہ عرب جاہلی میں زیادہ رائج تھا۔

بعض لوگ مال و دولت ، نو کر و خادم اور کوٹھیوں کے مالک بننے کو اہم سمجھتے ہیں اسلئے مال و دولت کمانا ان کا سارا ہم وغم ہوتا ہے۔

بعض لوگ ایک سیاسی یا اجتماعی شخصیت بننے کو اہم سمجھتے ہیں اس لئے وہ لوگ معاشرتی شخصیت بنانے میں سرگرم رہتے ہیں

 بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ وہ اعلی تعلیم حاصل کرکے معاشرے میں کوئی اچھا مقام اورپوسٹحاصل کریںتاکہ لوگ ان کا احترام کریں ، ان کی بات مانیں اور بعض لوگ تو معاشرے کے دینی اور اجتماعی کاموں میں حصہ لینے کو اپنی شان کے خلاف اور عار سمجھتے ہیں جبکہ یہ علم کے بالکل خلاف ہے علم ایسے افراد کو جاہل سمجھتا ہے چونکہ جس میں علم ہو وہ اللہ تعالی اور اس کے نیک بندوں کے سامنے خاضع ہوتا ہے۔ بہرحال انسان اپنی تربیت ، ماحول ، شعور اور کلچر وغیرہ کے مطابق حقیقی اقدار کے لئے خاص معیار کا قائل ہوتا ہے جبکہ ہمیں قرآن مجید اور سیرت اہلبیت  ؑ  کی طرف رجوع کرنا چاہئے اور عجیب بات یہ ہے کہ خود قرآن ایک ایسے ماحول میں نازل ہوا ہے جس میں قبیلے کا مقام ہر چیز سے اونچا سمجھا جاتا تھا تو قرآن مجید نے انسانوں کو خون ، قبیلہ ، رنگ ، علاقہ ، قوم ، مال و دولت اور مقام کے قید و بند سے آزاد کرادیا اور اللہ تعالی کے نزدیک حقیقی اقدار کے معیار کا تعارف کرایا جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا :(( يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ))  ۔ترجمہ : اے انسانو ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر تم میں شاخیں اور قبیلے قرار دے دیئے ہیں تاکہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکو ، بے شک تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ محترم وہی ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے اور اللہ ہر شئی کا جاننے والا اور ہر بات سے باخبر ہے ۔

 

روایت میں ملتا ہے کہ فتح مکہ کے بعد بلال حبشی نے پیغمبر اسلام ﷺ کے حکم سے خانہ کعبہ کے چھت پر چڑھ کر آذان دی تو (( عتاب بن اسید )) ( جو پہلے غلام تھا ) نے کہا کہ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میرا باپ آج جیسا دن دیکھنے سے پہلے ہی اس دنیا سے چلا گیا ۔ حارث بن ہشام نے بھی کہا : کیا رسول اللہ ﷺنے اس کالے کوے کے سوا کسی کو نہیں پایا۔  تو مندرجہ بالا آیت نازل ہوگئی  ۔

ایک اور مقام پر آنحضرت  ﷺ نے فرمایا : لوگو جان لو تمہارا پروردگار ایک ہے ، تمہارا باپ ایک ہے ، نہ عرب عجم پر برتری رکھتا ہے اور نہ عجم عرب پر ، نہ سیاہ فام گورے پر اور نہ ہی گورا سیاہ فام پر سوائے پرہیزگاری کے ۔ کیا میں نے اللہ تعالی کا پیغام آپ لوگوں تک پہنچایا ؟ سب نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ ۔تو  آنحضرت ﷺ نے فرمایا : پھر اس پیغام کو آپ لوگ غائب لوگوں تک پہنچا دیں۔  نیز آنحضرت ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی نہ  آپ کے حسب و نسب کو دیکھتا ہے اور نہ آپ کے جسموں کو اور نہ ہی آپ کے اموال کو بلکہ آپ کے دلوں کو دیکھتا ہے جس کا دل نیک اور پارسا ہوگا اللہ تعالی اس پر رحم کرتا ہے ، تم سب آدم ؑ کی اولاد ہو ، تم میں سے اللہ تعالی کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے  ۔

 

قوم پرستی میں زیادہ روی کرنے کی وجہ سے انسان کبھی غیرت کے نام پر ، کبھی قبیلے کے آداب و رسوم کے بہانے ، کبھی جذبہ اور کبھی کسی اور بہانےسے اپنی قوم کو سب کچھ اور دوسری قوم کو کچھ نہیں سمجھتا اس لئے اللہ تعالی ارشاد فرمارہا ہے :((يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَومٌ مِّن قَوْمٍ عَسَى أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاء مِّن نِّسَاء عَسَى أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ )) ۔ترجمہ :اے ایمان والو خبردار !کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے کہ شاید وہ اس سے بہتر ہو اور عورتوں کی بھی کوئی جماعت دوسری جماعت کا مسخرہ نہ کریں کہ شاید وہی عورتیں ان سے بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسرے کو طعنے بھی نہ دینا اور برے القاب سے بھی یاد نہ کرنا کہ ایمان کے بعد بدکاری کا نام ہی بہت برا ہے اور جو شخص توبہ نہ کرے تو سمجھو کہ یہی لوگ درحقیقت ظالم ہیں ۔

اسلام میں فضیلت اور شرافت کا معیار قوم و قبیلہ نہیں ہے بلکہ تقوا اور کردار ہے ۔اس آیت کے مطابق اگر کسی نے اپنی قوم و قبیلہ کو سب کچھ سمجھا ہو اور دوسرے مسلمان بھائیوں ، بہنوں کا مذاق اڑایا ہو تو وہ ظالم شمار ہوگا جس کا ٹھکانا دردناک عذاب ہے لھذا ایسے برے کاموں سے توبہ کرکے باز آنا چاہئے ۔

 

قوم کی انسانی اور اسلامی روایات کی تمجید تعصب نہیں

انسان کے ذہن میں یہ سوال آسکتا ہے کہ اگر قرآن اور روایات میں تعصب اور قوم پرستی کی مذمت اتنی زیادہ ہے تو ہم اپنی اقوام کو ہمیشہ کے لئے ذہن سے نکال دیں اور قوم ، قوم ہونے کے ناطے جو بھی کام کرے صحیح ہو یا غلط اس کی حمایت اور دفاع نہ کیا جائے ؟

  امام زین العابدین ؑ سے قوم پرستی کے بارے میں پوچھا گیا تو آنحضرت ؑ نے فرمایا : وہ قوم پرستی اور تعصب جس کی وجہ سے انسان گناہکار ہوجاتا ہے یہ ہے کہ انسان اپنی قوم اور قبیلے کے شریر افراد کو دوسرے قبیلوں کے اچھے اور نیک افراد سے بہتر سمجھے ،لیکن  ( یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ) صرف اپنی قوم اور قبیلے سے محبت کرنا قوم پرستی نہیں کہلاتا بلکہ تعصب اور قوم پرستی وہ ہے جس میں انسان اپنی قوم اور قبیلے کی ( دوسروں پر ) ظلم کرنے میں مدد کرے  ۔

 

اس لئے امام علی ؑ نے فرمایا : اگر فخر اور تعصب کرنا ہے تو بہترین عادات ، قابل تحسین اعمال اور حسین ترین خصائل کی بناء پر کرو جن کے بارے میں عرب کے خاندانوں ، قبائل کے سرداروں کے بزرگ اور شریف لوگ کیا کرتے تھے ۔ یعنی پسندیدہ اخلاق ، عظیم دانائی ، اعلی مراتب اور قابل تعریف کارنامے ۔ تم بھی انہیں قابل ستایش اعمال پر فخر کرو ، ہمسایوں کا تحفظ کرو ، عھد و پیمان پورا کرو ، نیک لوگوں کی اطاعت کرو ، سرکشوں کی مخالفت کرو ، فضل و کرم اختیار کرو ، ظلم و سرکشی سے پرہیز کرو ، خونریزی سے پناہ مانگو ، خلق خدا کے ساتھ انصاف کرو ، غصہ کو پی جاؤ ، فساد فی الارض سے اجتناب کرو کہ یہی صفات و کمالات قابل فخر و مباہات ہیں  ۔

 حضرت علی ؑ کے ان نصیحتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ تعصب اقدار اور شریعت کے تحفظ کے لئے ہونا چاہئے اور جوسپاہی شریعت کے تحفظ کے لئے میدان میں اترتا ہے اس کا ساتھ دینا چاہئے اور ایسے کردار پر فخر و مباہات بھی کرسکتے ہیں چونکہ یہ قدم دین کے لئے اٹھائے گئے ہیں اس میں آپ  سب کے ساتھ تعاون کریں ۔ اگرچہ یہ لوگ دوسرے خاندان اور قبیلے سے کیوں نہ ہوں اور اس کے بالعکس یعنی دینی اقدار کے خلاف اگر کوئی شخص اپنا کردار دکھائے تو اس کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے اگرچہ وہ اپنے قبیلے سے ہی کیوں نہ ہو چونکہ قرآن اور اہلبیت (ع) نے ہمیں یہی سکھایا ہے کہ شریعت میں جغرافیائی ، قبائلی اور طبقاتی حدود کی کوئی اہمیت نہیں ہے بلکہ صرف اور صرف ایمان اور کفر ہی معاشرے کے لوگوں میں فاصلے ڈال سکتے ہیں اگر کوئی مؤمن شخص ( وہ جس قبیلے سے بھی ہو ) حق کی بات کرے یا حق کی دفاع کرے تو امام ؑ کے فرمان کے مطابق اس کی حمایت اور اطاعت کرنی چاہئے اگر کوئی شخص ( خواہ آپ کے قبیلے کا فرد ) حق اور ایمان کے خلاف بولے یا شریعت محمدیہﷺ کو پائمال کرے یا ظلم اور ظالم کی حمایت کرے تو اس کو ٹھکرانا چاہئے جیسا کہ امام علی ؑ نے فرمایا :اگر آپ لوگوں کو ہر صورت میں تعصب کرنا ہی ہے تو حق کی نصرت اور مظلوم کی یاری کے لئے نصرت کریں ۔

………………………………………………………………………………….

منابع:

حُبُ‏ الْوَطَنِ‏ مِنَ‏ الْإِيمَانِ،منتخب میزان الحکمۃ  ،   ری شہری ،ص 537

2۔ عُمِّرَتِ‏ الْبُلْدَانُ‏ بِحُبِّ الْأَوْطَان، وہی منبع

3۔ لسان العرب ، ابن منظور ، جلد 9،ص 233

4۔ تفسیر نمونہ آیت اللہ مکارم شیرازی ، جلد 15، ص 354

5۔ سورہ بقرہ ، آیہ 170

6۔ سورہ مائدہ ، آیہ 104

7۔ سورہ اعراف ، آیہ 28

8۔ سورہ یونس ، آیہ 78

9۔سورہ ونبیاء / 53

10۔((قَالُوا بَلْ وَجَدْنَا آبَاءنَا كَذَلِكَ يَفْعَلُونَ))سورہ شعراء / 74

11۔ (( وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءنَا أَوَلَوْ كَانَ الشَّيْطَانُ يَدْعُوهُمْ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِ))سورہ لقمان /21

12۔(( بَلْ قَالُوا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى آثَارِهِم مُّهْتَدُونَ ))سورہ زخرف/ 22

13۔(( وَكَذَلِكَ مَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى آثَارِهِم مُّقْتَدُونَ )) سورہ زخرف /23

14۔ سورہ بقرہ /171

15۔  اصول کافی ، محمد بن یعقوب کلینی ، ج 2 ، ص ۳۰۸

16۔ وہی منبع ، ص ۳۰۷

17۔ بحارالانوار ، محمد باقر مجلسی ، جلد 3 ، ص ۲۸۹

18۔ نہج البلاغہ خطبہ 192 (خطبہ قاصعہ)

19۔ نہج البلاغہ خطبہ 192 (خطبہ قاصعہ)

20۔ نہج البلاغہ خطبہ 192 (خطبہ قاصعہ)

21۔ سورہ مومنون ، آیہ 24

22۔ نہج البلاغہ خطبہ 192

23۔ سورہ حجرات /13

24۔ چونکہ بلال حبشی سیاہ فام تھا اور یہ لوگ کالے کو پسند نہیں کرتے تھے اور وہ لوگ یہ نہیں جانتے تھے کہ سفید اور کالے رنگ میں کوئی فرق نہیں بلکہ اللہ تعالی کے نزدیک تقوا اور پرہیزگاری معیار ہے جو پرہیزگار ہو اللہ کے نزدیک اسی کا مقام اور عزت ہوتی ہے خواہ وہ سفید ہو یا گورا یا سیاہ فام ۔

25۔ تفسیر نمونہ ، آیت اللہ مکارم شیرازی ، ج ۲2 ، ص ۲۰0

26۔ تفسیر نمونہ ، آیت اللہ مکارم شیرازی ، ج ۲2 ، ص ۲۰۱

27۔ تفسیر نمونہ ، آیت اللہ مکارم شیرازی ، ج ۲2 ، ص ۲۰2

28۔ سورہ حجرات /11

29۔ اصول کافی ، محمد بن یعقوب کلینی ، ج ۲ ، ص ۲۳۳

30۔ خطبہ ۱۹۲

31۔ منتخب میزان الحکمۃ ، ری شہری ، ص ۳۵۰