Monday, 17 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 7

کل 9

اس هفته 7

اس ماه 180

ٹوٹل 22021

 امت مسلمہ میں ایک سب سے خطرناک مسئلہ تکفیر کا ہے ۔ وہابی تکفیری ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب کے غلط عقائد کی بنیاد پر دیگر مسلمانوں پر شرک کا الزام عائد کرتے ہیں۔ اور اسی بنیاد پر مسلمانوں کے قتل کے احکام صادر کرتے ہیں۔  تکفیری ایک ایسا فرقہ ہے، جس کی بنیاد صرف پچاس سال قبل مصر میں ڈالی گئی تھی۔ اس فرقہ کے لوگ اپنے آپ کو تکفیر والھجرہ بھی کہتے ہیں۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ ان کے علاوہ تمام مسلمان اللہ کے راستے سے بھٹک گئے ہیں اور اللہ کے راستے سے بھٹک جانے والا ہر شخص واجب القتل ہے۔اس فرقہ کا قیام 1960میں ہوا تھا، لیکن 1977تک عام لوگوں کو اس فرقہ کے قیام کے بارے میں معلومات نہیں تھیں۔ اس فرقہ کا بانی مصری نژاد شکری مصصفی نام کاایک زرعی سائنسداں تھا ، جس نے Society of Muslims ) یا ( مسلم سماج) کے نام سے ایک گروہ بنایا اور بہت ہی خفیہ طریقے سے اپنے مشن کی شروعات کی۔اس شخص نے اپنے گروہ کے درمیان یہ بات پھیلائی کہ تمام مسلمان مرتد ہو گئے ہیں، یعنی اللہ کے راستے سے بھٹک گئے ہیں اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعلق نہیں رکھنا چاہیے۔ تکفیری دہشت گرد گرد گروہ ، علاقے کی بعض حکومتوں اور عالمی طاقتوں کی حمایت سے ، عالم اسلام میں اختلاف ڈالنے ، مشرق وسطی کے علاقے میں بدامنی پھیلانے ، مسلمانوں کا قتل عام کرنے اور مسلم جوانوں کے درمیاں خرافاتی عقائد کی ترویج میں کوشاں ہیں ۔ اس وقت تکفیریوں کی سرگرمیوں میں تیزی آنے کے سبب وسیع پیمانے پر مختلف ملکوں  خاص طور پر شام میں وحشیانہ قتل عام انجام پارہا ہے جس سے ہر حریت پسند ، آزاد منش اور خدا پرست انسان کا دل لرز اٹھتا ہے ۔ تکفیری عناصر اسلام کے نام پر ، جو الفت و محبت سے  سرشار دین ہے ، انتہائي تشدد انجام دے رہے ہیں اور وہ اسلام کے حقیقی ، زیبا اور پرکشش چہرے کو اقوام عالم کے سامنے بگاڑ کر پیش کررہے ہيں ۔ جبکہ ان کی سرگرمیاں اسلامی تعلیمات کے عین خلاف ہيں ۔ مسلم دانشوروں کی نظر ميں اس نٹ ورک پر کنٹرول پانا انتہائي ضروری مسئلہ بن گيا ہے ۔ 


تکفیریوں کی کھلم کھلا دہشت گردی اور انسانیت سے دور برتاؤ جیسے بچوں اور عورتوں کا قتل عام ، ذہنوں میں یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ کس طرح سے ایک انسان ، شقاوت کے اس درجے پر پہنچتا ہے ؟ وہ عوامل اور وجوہات جو تکفیریوں کے وجود میں آنے کا باعث بنتی ہیں وہ کیا ہیں ؟ ایران کی مذاہب اسلامی یونیورسٹی کے چانسلر ڈاکٹر احمد مبلغی ، چند بنیادی عوامل کو تکفیری جذبے کے وجود میں آنے کا عامل قرار دیتے ہيں ۔ ان کی نظر ميں جہل ، تعصب اور فکر افتادہ معاشرے میں زندگي گذارنا ، تکفیریوں کے وجود میں آنے کا اہم ترین عامل ہیں ۔ اسلامی محقق ڈاکٹر مبلغی کی نظر ميں تکفیری عناصر ، پروردگار کے ساتھ جو سرچشمۂ رحمت و لطافت اور تمام خوبیوں کا مالک و خالق ہے ، انفرادی اور گہرے رابطے سے دور ہیں ۔دیندار ہونے اور پروردگار کے ساتھ گہرا رابطہ رکھنے سے انسان  وسیع القلب اور فراخ دل ہوتا ہے ۔ وہی انسان بہت زیادہ صابر ہے کہ جس کے افکار ،اس کے احساسات و جذبات پر غالب نہ آئيں ۔ متقی اور پرہیزگار انسان وسیع القلب ہوتا ہے ۔ وہ دوسروں کے ساتھ الفت و محبت کے ساتھ پیش آتا ہے اور پروردگار کے ساتھ ، جو سرچشمۂ رحمت ہے ، عشق و محبت سے  سرشار رابطے کا حامل ہے ۔ دین اسلام کے رہنماؤں کے پندآموز بیانات وکلمات میں کہا گيا ہے  کہ کیا دین ، محبت کے علاوہ اور کچھ ہے ؟ ہاں دین اسلام کی حقیقی تعلیم ، خالق و مخلوق کے درمیان ایک خاص محبت پیدا کرتی ہے اوراس وقت بندہ ، خدا کی محبت کا محور و مرکز قرار پاتا ہے اور اس محبت کو خوشبو کی مانند دوسروں تک پہنچاتا ہے اور سب کو خداوند عالم کی رحمت کی بشارت دیتا ہے ۔ اب اگر خدا کے ساتھ رابطہ محض دکھاوے کا اور سطحی ہو تو اس کے مذہبی اعمال ، فرد ميں باطنی تبدیلی کا باعث نہیں بنتے ہیں اور وہ فرد معنویت سے خالی اور انسانی و رحمانی حسن و جمال کے جلووں اور معنویت سے عاری رہتا ہے اور پھر وہ تکفیر جیسے خطرناک راستے کو اختیار کرلیتا ہے ۔تکفیری انسان ، اسلامی جذبے کے بر خلاف ، انسانون کو آرام و آسائش پہنچانے اور عوام کی خدمت کے بجائے انہیں قتل کرتا ہے ۔ ڈاکٹر مبلغی مزید کہتے ہيں " آج ہميں ضرورت ہے کہ خدا کے ساتھ انسانوں کے رابطے کی کیفیت اور نوعیت میں ایک بنیادی تبدیلی لانے کے لئے منصوبہ بندی کریں ۔ آج کا انسان ، محبت اور باطنی سکون کا خواہاں ہے اور یہ وہی چیز ہے جو خداکے ساتھ حقیقی رابطے کے ذریعے حاصل ہوتی ہے نہ کہ ظاہری اور دکھاوے کے رابطے سے۔

فکری تعصبات اور تشدد سے دوچار ماحول میں پرورش پانے سے انسان تکفیر اور وہابیت کے دام ميں گرفتار ہوجاتا ہے ۔ جن معاشروں ميں  وہابیت کے عقائد کو فروغ حاصل ہے عام طور پر وہ گہری اور متحرک فکر اور تنقید قبول کرنے سے دور ہیں اور تعصب آمیز رویوں اور تشدد سے دوچار ہیں ۔ موجودہ قرائن وشواہد سے امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ شام ميں موجودہ تکفیری عناصر، زیادہ تر سعودی وہابیوں کے افکار سے وجود ميں آئے ہیں اور سرحد پار سے ان کو ڈکٹیٹ کیا جارہا ہے ۔ڈاکٹر مبلغی کہتے ہيں ، پرتشدد معاشرہ ، تکفیریت کے وجود میں آنے کا سبب ہے ۔ خدا کی محبت کی متشدد دلوں میں جگہ نہیں ہوتی ۔ خدا اس معاشرے ميں برائے نام ہوتا ہے ۔ ایک تکفیری یہ گمان کرتا ہے کہ وہ دین سے وابستہ ہے جبکہ وہ دین سے دور ہوتا ہے ۔ وہ نہ ہی خدا سے وابستہ ہوتا ہے نہ ہی اس نے احکام دین کو سمجھا ہوتاہے اور نہ ہی وہ آخرت کے راستے سے متصل ہے اور نہ ہی اسے جہنم کا خوف و ہراس ہوتا ہے "

مسلمان محقق ڈاکٹر مبلغی نے نفسیاتی لحاظ سے بھی تکفیریوں کا جائزہ لیا ہے اور انہوں نے دلچسپ اور قابل غور نتائج حاصل کئے ہيں ۔ ان کا خیال ہے کہ تکفیری شخص ، فکری اور روحانی اعتبار سے باطنی طور پر بکھرا ہوا ہے ۔ ڈاکٹر مبلغی کہتے ہيں کہ تکفیری شخص ایک غیر روحانی کیفیت سے دوچار ہوتا ہے کہ جو باعث بنتی ہے کہ وہ مسائل کو تنگ نظری سے دیکھے اور اسی بناء پر وہ مشکلات سے دوچار رہتا ہے ۔ حضرت علی علیہ السلام کے دور ميں  خوارج بھی ایسے ہی تھے اور دین اور دنیا دونوں کو اپنے لئے سخت سمجھتے تھے ۔ جبکہ دین سخت نہيں ہے ۔ درحقیقت تکفیری شخص کا نقطۂ نگاہ اور ان مسائل سے اس کا باطنی رابطہ ، جو دین کو صحیح طور پر درک کرنے کے فقدان کا سبب  ہے ا س امر کا باعث بنتا ہےکہ وہ تکفیریت کی سمت تیزی سے قدم بڑھائے ۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایک تکفیری ، نہ صرف دین اسلام کے جامع اصول و فقہ کو صحیح طور پر جانتا نہیں ہے اور پروردگار سے بھی اس کا رابطہ گہرا نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ اخلاقیات سے بھی دور ہوتا ہے ۔ اچھے اخلاق سے آراستہ ہونے کی پیغمبر اسلام (ص) اور تمام دینی رہنماؤں نے تلقین کی ہے کیوں کہ اچھا اور نیک اخلاق ، روح کو لطیف بناتا ہے ۔ ڈاکٹر مبلغی کا خیال ہے کہ " اگر اخلاق میں شدت سے انفرادیت  ہو اور اجتماعی نہ ہو اوریا انتخابی صورت ميں عمل ہو تو معاشرے میں پرتشدد اور انتقامی جذبے پیدا ہوں گے ۔اس بناء پر کہا جاسکتا ہےکہ تکفیریت ، عدم اخلاق کے سبب وجود ميں آتی ہے " ۔ تکفیریوں کے درمیان اسلامی اخلاق کے کمزور ہونے کے نتائج ميں سے ایک ، ان کے غیر انسانی وغیر اخلاقی اور مفسد اقدامات کامشاہدہ کرنا ہے کہ جن سے متعلق خبریں ذرا‏ئع ابلاغ ميں منتشر ہوتی رہتی ہیں ۔

وہ اہم عامل جو تکفیریوں کو جنگ و تشدد پر اکساتا ہے ، دولت وثروت کا حصول ہے ۔ وہ اگرچہ خود کو مجاہد سمجھتے ہیں لیکن عام طور پر جنگ میں مال غنیمت حاصل کرنا ان کے لئے بہت اہیمت رکھتاہے ۔ اغیار ، تکفیری دہشت گردوں کو بڑي بڑی رقمیں دیتے ہيں تاکہ وہ اسلامی ملکوں میں جارحانہ کاروائیاں انجام دیں  اور مسلمانوں کے درمیان تفرقے اور اختلاف کی آگ کو بھڑکائيں ۔ امریکہ اور غاصب اسرائیل اور بعض عرب حکومتیں تکفیریوں کو بھاری مقدارمیں ہتھیار اور پیسے فراہم کرتی ہیں اور دنیا کے مختلف علاقوں سے سب سے زیادہ متشدد اور خونریز دہشت گرد گروہوں کو اکٹھا کرتے ہیں تاکہ وہ پیسہ لے کر امت مسلمہ کی ترقی و پیشرفت اور وحدت کی راہ میں روڑے اٹکائیں ان کی سب سے زیادہ مالی امداد و حمایت سعودی عرب کررہا ہے اور درحقیقت سعودی عرب کے تیل کے پیسوں سے تکفیری گروہ مسلح ہوتے ہيں ۔ ایک امریکی تجزیہ نگار رنڈی شارٹ  (randy short ) پریس ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں ، تکفیریوں کے لئے سعودی عرب کی حمایت کے بارے ميں کہتے ہیں " سعودی عرب اپنے پیسے ، اسلام سے لوگوں کو منحرف اور سماجی تبدیلیاں لانے میں صرف کرتا ہے ۔ ایسا خیال کیا جارہا ہے کہ سعودی حکام کو اپنے پیسے، شام کو تباہ کرنے کے بجائے سعودی عرب کے غریب ونادار عوام کو توانا بنانے میں صرف کرنا چاہئے ۔ بھاری رقمیں خرچ کرنا اور امکانات فراہم کرنااس بات کا باعث بنا ہے  کہ مختلف قوموں کے  مختلف افراد تکفیریوں سے جا ملیں ۔ ان میں سے بعض موقع پسند عناصر ہیں جو دین و اخلاق سے دور ہیں اور یورپ ، افریقہ اور روس کے بعض علاقوں مثلا چچنیہ سے آکر تکفیری گروہوں میں شامل ہوگئے ہيں ۔ اور اس وقت شام میں بدترین انسانی المیہ رونما ہونے کاباعث بنے ہيں ۔

اسلامی مذاہب کی یونیورسٹیوں کے سربراہ اور پروفیسر ڈاکٹر مبلغی تکفیریوں کے خطرات کو، لوگوں کے عام تصورات  سے بڑھ کر بتاتے ہيں ۔ وہ اس سلسلےمیں کہتےہیں اگر کسی معاشرے میں "تکفیر " ایک منظم شکل اختیار کرلے تو پھر یہ معاشرہ امن و سکون کے ساتھ معنویت کی سمت قدم نہیں بڑھا نہیں سکتا" ۔ اس بناء پر یہ ضروری ہے کہ علماء اسلام اور شیعہ اورسنی فرقوں کی جید شخصیات اس بحران کے حل کےبارے میں غور کریں اور اتحاد کی بنیاد پر مناسب روشیں اختیار کرنے کے ذریعے ، تکفیریوں کے تباہ کن اقدامات پر قابو پائیں ۔ ڈاکٹر مبلغی آخر ميں کہتے ہیں " ہمیں یہ جاننا چاہئےکہ اگر منشیات تباہ کن ہے تو تکفیری عناصر، امت مسلمہ اور اسلام کو تباہ کرنے والے ہيں ۔ اگر علماء اسلام کوئی راہ حل تلاش کرلیں اور ایک منشور کو اپنے عمل کی بنیاد قرار دیں تو عالم اسلام کی اس مشکل کا خاتمہ ہوسکتاہے  ۔ ہمیں چاہیئے کہ ذرائع ابلاغ اور سفارتی روشوں سے تکفیریت کے خاتمے میں کوشاں رہیں ۔ کیوں کہ تکفیریوں کے خلاف کوئی اقدام عمل میں نہ لانے سے ان کے حوصلے بلند ہوں گے اور انہیں مزید اپنے تخریبی اقدامات انجام دینے کا موقع ہاتھ آئے گا اور تکفیریوں کو کھلی چھوٹ دینے سے بہت سےاسلام دشمنوں اور بد خواہ عناصر کو بھی اسلام مخالف اقدامات انجام دینے کا موقع مسیر آئے گا