Thursday, 18 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 10

اس هفته 51

اس ماه 190

ٹوٹل 21486

اداریہ روزنامہ جنگ

 پاکستان اور ایران مذہب، تاریخ، تہذیب، ثقافت اور ہمسائیگی کے دیرینہ رشتوں میں منسلک برادر مسلم ملک ہیں۔ ددنوں ہر طرح کے حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے رہے ہیں۔ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد سب سے پہلے ایران ہی نے اسے تسلیم کیا اور انجمن اقوام متحدہ میں اس کی رکنیت کی وکالت کی۔ پاک بھارت جنگوں میں ایران نے کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا جبکہ ایران عراق جنگ کے دوران پاکستان نے دونوں مسلم ملکوں میں جنگ ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم ایران کے جوہری پروگرام پر مغربی دنیا کے شدید تحفظات کی بناء پر اقوام متحدہ کی جانب سے اس پر تقریباً دس سال پہلے پابندیاں عائد کئے جانے کا سلسلہ شروع ہونے کے نتیجے میں عالمی ادارے کا رکن ہونے کے سبب پاکستان کو بھی ایسا کرنا پڑا۔ لیکن ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایٹمی پروگرام پر سمجھوتہ طے پا جانے کے باعث گذشتہ ماہ کے وسط میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران پر لگائی گئی پابندیوں کے خاتمے کی منظوری دے دی، جس کے بعد پاکستان کے لئے بھی ایران پر عائد پابندیاں اٹھا لینے کی راہ ہموار ہوگئی۔ چنانچہ گذشتہ روز پاکستان نے بھی ایران کے خلاف عائد کی جانے والی تمام پابندیاں اٹھا لی ہیں۔ یہ فیصلہ جمعرات کو وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحق ڈار کے زیر صدارت بین الوزارتی اجلاس میں کیا گیا۔


اجلاس کے بعد وزارت خارجہ نے باضابطہ اعلامیہ جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں پاکستان کے ساتھ ایران کے تمام معاشی اور تجارتی تعلقات بحال ہوجائیں گے اور سرمایہ کاری، تجارت، ٹیکنالوجی، بینکاری، مالیات اور توانائی کے شعبوں میں دونوں ملکوں کے درمیان معمول کے مطابق سرگرمیاں شروع کی جاسکیں گی۔ وزارت خارجہ کے اعلامیہ کی رو سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کو مؤثر بنانے کے لئے حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کئے گئے تمام نوٹیفکیشن منسوخ ہوگئے ہیں۔ پاکستان نے ایران، یورپی یونین، چین، امریکہ، جرمنی، فرانس، برطانیہ اور روس کے درمیان مشترکہ جامع ایکشن پروگرام کا خیرمقدم کیا ہے اور اس پر عمل درآمد کے لئے ایران کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو بھی سراہا ہے۔ پابندیوں کے خاتمے کے بعد توقع ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان نہ صرف معیشت و تجارت سمیت ہر شعبے میں سرگرم تعاون تیزی سے بڑھے گا بلکہ پاک ایران گیس پائپ لائن کے منصوبے کی تکمیل کے لئے بھی ضروری اقدامات عمل میں لائے جاسکیں گے۔ تاہم انفرا اسٹرکچر کے مسائل حل کرنے اور بینکنگ کی سہولتوں کی بحالی کے لئے دونوں ملکوں کو ابھی بنیادی اقدامات کرنے ہیں۔

گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکی دباؤ ختم کرنے کے لئے بھی دونوں ملکوں کو راستے تلاش کرنے ہوں گے کیونکہ یہ دباؤ اب تک برقرار ہے۔ امریکہ کے نائب وزیر خارجہ برائے توانائی گذشتہ دنوں پاکستان کے دورے کے موقع پر اس سوال پر کہ کیا امریکہ پاک ایران پائپ لائن کی حمایت کرے گا، پاکستان کو متبادل آپشن تلاش کرنے کا مشورہ دے چکے ہیں۔ امریکہ کو ایرانی گیس لائن منصوبے سے منسلک کراچی سے لاہور تک روس کے تعاون سے گیس پائپ لائن بچھانے کے منصوبے پر بھی اعتراض ہے۔ امریکی نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس منصوبے میں شامل روسی کمپنی پر بھی امریکی پابندیاں ہیں۔ یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو کراچی لاہور گیس پائپ لائن کے لئے پاکستان کو کہیں اور سے مالی وسائل کا بندوبست کرنا ہوگا۔ پاکستان نے ایران کو پانچ سال کی مدت میں باہمی تجارت کا حجم پانچ ارب ڈالر سالانہ تک بڑھانے کا روڈ میپ دے رکھا ہے، امید ہے کہ ایران اب اس کا جلد مثبت جواب دے گا۔ پاک ایران اقتصادی تعلقات میں ازسرنو گرمجوشی سے پاکستان کے لئے عرب دنیا اور ایران کے اختلافات ختم کرانے میں بھی زیادہ مؤثر کردار ادا کرنا ممکن ہوگا اور امید کی جاسکتی ہے کہ یوں پاک ایران تعلقات کی بحالی سے پوری مسلم دنیا کی قربت اور کے استحکام کی راہیں کشادہ ہوں گی