Monday, 17 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 7

کل 9

اس هفته 7

اس ماه 180

ٹوٹل 22021

تحریر: سیدہ سائرہ بانو
Email: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 گذشتہ صدی کے آئینہ میں براعظم ایشیا کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس تمام عرصہ میں انقلابی فکر اور قیادت نے خصوصاً مسلمانوں کو ایک نئی کیفیت سے آگاہ کیا۔ برصغیر اور خلافت عثمانیہ کے واقعات نے گذشتہ صدی کے اوائل سے ہی دنیا کو اپنی جانب متوجہ کر لیا تھا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم اسلامی ملک کی حکومت ایک عظیم انقلاب برپا کرنے والوں کے لئے راہ ہموار کر رہی تھی۔ کسے خبر تھی کہ بیسویں صدی میں ایک ایسا شخص پیدا ہوگا جو عوام کی فکر میں ایک نئی روح پھونکے گا اور ’’مرد انقلاب‘‘ کہلائے گا۔ آیت اللہ العظمٰی سید روح اللہ خمینیؒ وہ تاریخ ساز نام ہے، جس نے انقلاب کی جنگ استقامت کے ساتھ لڑی۔ یہ حقیقت ہے کہ جب فریقین میں فکر کا تضاد ہو تو کربلا جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں، کوئی یزید بن جاتا ہے تو کوئی حسین ؑ !! ایسا ہی ایک واقعہ گذشتہ صدی کے دوران ایران میں رونما ہوا، جس نے انقلاب اسلامی کی راہ ہموار کی۔


انقلابِ اسلامی ایران، کیوں اور کیسے؟
2016ء کی آمد نے انقلاب اسلامی ایران کے 37 سال مکمل کر دیئے ہیں۔ ان سینتیس سالوں کا پس منظر شاہ ایران کی جبری حکومت پر محیط ہے۔ یہ انقلاب کیونکر ممکن ہوا، آیئے اس کی حقیقت کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔
تاریخی جائزہ
مغربی حکومتوں نے نو آبادیاتی نظام کے ذریعے عالم اسلام کے وسیع علاقوں پر جبری قبضہ کیا اور وہاں تشدد، مال و طاقت کی بدولت استعماری طاقتوں کی خفیہ اور برملا مداخلت کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ایران میں بھی کئی سلاطین برسر اقتدار آئے اور عوام پر ظلم و ستم ڈھاتے رہے، مگر ایران کے دیندار عوام نے اس نو آبادیاتی نظام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس طریقہ کار کی ناکامی پر دشمن کے سرغنہ یعنی امریکہ نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر دی اور یہاں کے وسائل خصوصاً تیل کی دولت پر قبضہ کرنے کی ٹھانی اور ایران کی شاہی حکومت کے ذریعے مغربی طرز حکومت کی بنیاد رکھنے کا منصوبہ بنایا۔ چونکہ ایرانی عوام ایک طویل عرصہ سے ظلم و استبداد کا مقابلہ کرتے آرہے تھے، لہٰذا انہوں نے سلسلہ شاہی سے بغاوت کا اعلان ایک باقاعدہ تحریک کے ذریعے کیا۔ 1891ء کے دوران ’’تحریک تمباکو ‘‘ میں عظیم مجاہد اور عالم آیت اللہ العظمٰی مرزا حسن شیرازی کے فتوے، سید جمال الدین اسد آبادی (افغانی) کے اصلاحی پیغام اور مغربی سامراج کے خلاف ایران و عراق کی تحریک سے یہ بات آشکار ہوچکی تھی کہ ایرانی عوام کے دلوں اور ذہنوں پر علمی قیادت مکمل طور پر قابض ہے۔ لہٰذا امریکہ نے دین کو سیاست سے علیحدہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے مقصد کے حصول کی خاطر پہلوی خاندان کا سہارا لیا۔

امریکی معاون برطانیہ نے رضا خان کے بیٹے محمد رضا کو 1941ء میں ایران کا بادشاہ بنا دیا۔ ایرانی عوام باشعور علماء کی قیادت میں اپنی منزل (اسلامی حکومت کے قیام) کی طرف رواں دواں تھی۔ ان صفِ اول کے رہنماؤں میں سے ایک شخصیت نے خود کو سب سے الگ اور جُدا ثابت کر دیا۔ اُس میں کیا تھا اور کیا نہیں؟ ایک عام آدمی شاید درک نہ کرسکے، مگر شاعر کے قلم کو کون روک سکتا ہے؟
چشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیری
ہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیری
زندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیری
کوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیری
وقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے
نور توحید کا اتمام ابھی باقی ہے
سید روح اللہ موسوی خمینیؒ جیسے مرد مومن نے اپنے ہاتھوں سے نورِ توحید کی شمع باقی رہنے کا سامان پیدا کیا، تو باطل کی تاریکی خود بخود روشنی میں تبدیل ہوگئی۔ بھلا اس حقیقت کو کون جُھٹلا سکتا ہے کہ ہر اندھیری رات ایک روشن دن پر ختم ہوتی ہے۔

امام خمینی ؒ کا مختصر سوانحی خاکہ
آپ ؒ کی تاریخ پیدائش 20 جمادی الثانی 1320 ق مطابق 24 ستمبر 1904ء اور جائے ولادت ضلع خمین (ایران) ہے۔ آپؒ کے والد گرامی مرحوم آیت اللہ سید مصطفٰی موسویؒ، آیت اللہ العظمٰی میرزائے شیرازیؒ کے ہم عصر تھے اور نجف اشرف میں کئی سال اسلامی علوم حاصل کرکے درجۂ اجتہاد پر فائز ہوئے۔ حکومت وقت کے خلاف حق پرستی کی حمایت کا صلہ شہادت کی صورت میں آپؒ کو دیا گیا۔ خمینیؒ کے لئے یہ تمام صورتحال اجنبی تھی، کیونکہ اُس وقت آپؒ کی عمر محض پانچ ماہ تھی۔ آپؒ کی والدہ بانو ہاجر جرأت اور علم و تقویٰ کا پیکر تھیں، لہٰذا انہوں نے آپ ؒ کی تربیت پر خاص توجہ دی۔ لڑکپن سے لے کر بلوغت تک آپ ؒ نے اُس زمانے کی مروجہ تعلیمات اور دینی مدارس کا نصاب مختلف علمائے کرام سے حاصل کیا۔ علم کے حصول کی خاطر آپ ؒ نے سفر بھی اختیار کیا اور اراک سے ہوتے ہوئے قم کے حوزۂ علمیہ میں تعلیمی مراحل طے کئے۔ جلد ہی آپ ؒ فقہ، اصول فقہ، فلسفہ، عرفان و سلوک اور اخلاقیات کے شعبوں میں ایک صاحب نظر استاد اور مجتہد کے طور پر پہچانے جانے لگے۔ شعور کی منزل پر قدم رکھتے ہی امام ؒ نے ایرانی سیاست کو مشکل ترین حالات سے دو چار پایا۔

سیاسی جدوجہد
امام خمینی ؒ کی علانیہ سیاسی جدوجہد کا آغاز اُس بل کی منظوری پر ہوا، جسے امیر اسداللہ اعلم کی کابینہ نے منظور کیا تھا۔ 8 اکتوبر 1962ء کے اس بل میں علاقائی و صوبائی کونسلوں کے رائے دہندگان اور امیدواروں میں غیر مسلموں کی شمولیت، خواتین کو انتخاب میں حصہ لینے کی آزادی اور قرآن مجید کی بجائے آسمانی کتابوں پر حلف اٹھانے کے امور شامل تھے۔ مذکورہ بل کی منظوری کی اطلاع ملتے ہی امامؒ نے قم اور تہران کے دیگر علماء کے ساتھ مشورے کے بعد بھرپور مخالفت کا اعلان کیا۔ حکومت کے خلاف علماء اور طلباء کی جدوجہد رنگ لائی اور نتیجے کے طور پر شاہ کی حکومت نے بل پر عمل درآمد روک دیا۔ پہلے وار کی ناکامی کے بعد ’’سفید انقلاب‘‘ شاہ حکومت کی طرف سے ایرانی عوام پر دوسرا وار تھا۔ دراصل سفید انقلاب امریکہ کی ایما پر تیار کیا گیا ایک منصوبہ تھا۔ جس میں چھے نکات پیش کئے گئے تھے۔ اس منصوبہ پر عوام کی تائید حاصل کرنے کے لئے ریفرنڈم کا اعلان کیا گیا۔ چونکہ یہ منصوبہ زمین داری نظام کے خاتمے، جنگلات کو قومی تحویل میں لینے، سرکاری خزانوں کے حصص کو فروخت کرنے، کارخانوں کے منافع میں مزدوروں کے حصے، انتخابات کے قوانین میں اصلاح اور سپاہ دانش (جاسوسی ایجنسی) کے قیام پر مشتمل تھا، اسلئے علماء نے ایک بار پھر اس کی شدید مخالفت کی اور ریفرنڈم کا بائیکاٹ کر دیا۔ بہت قلیل عوام نے رائے دی، لیکن حکومت نے ’’سفید انقلاب‘‘ کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ اس پر لوگ سٹرکوں پر نکل آئے۔ احتجاج کے سلسلے کو روکنے کے لئے انتظامیہ اور ساواک نے لاٹھیوں اور گولیوں کا استعمال کیا، مگر وہ انقلابی ہجوم کو قابو نہ کرسکے۔ دوسرے وار کی ناکامی پر علماء پر مظالم کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ مذہبی مطبوعات پر پابندی لگا دی گئی اور علماء کی زمینیں اور جائیداد چھین لی گئیں۔

3 جون 1963ء یعنی یوم عاشورہ کے موقع پر امام ؒ کا خطاب انقلاب اسلامی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ اس تقریر میں آپؒ نے جرات مندی سے شاہ اور اسرائیل (امریکی ایجنٹ) کے خفیہ تعلقات کو فاش کیا۔ عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر قم کی شاہراہوں اور گلیوں میں ’’مرگ بر شاہ‘‘ ’’ما شاہ نمی خواہم‘‘ کے نعرے لگاتا رہا۔ تحریک کی آواز کو دبانے کے لئے آپؒ کے ساتھیوں کو بڑی تعداد میں گرفتار کر لیا گیا اور 5 جون 1963ء کو امام ؒ کو بھی اُن کی رہائش گاہ سے گرفتار کرکے تہران بھیج دیا گیا۔ قائدِ انقلاب کی گرفتاری کی خبر پورے ملک میں پھیل گئی اور حالات کشیدہ ہوگئے۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامیہ مارشل لاء نافذ کرنے پر مجبور ہوگئی۔ عوام کے مسلسل احتجاج کے نتیجے میں آپؒ کو 12 اگست 1964ء کو رہا کر دیا گیا۔ اس رہائی نے شمع توحید کے پروانوں کے جذبات کو اور ہوا دی اور وہ اپنے ہر دلعزیز رہنما کے استقبال کو بڑھتے چلے آئے۔ حکومت کے لئے یہ سماں ایک اُلجھن بن گیا کہ وہ آقای خمینیؒ کو رہا کر ے یا مسلسل قید میں رکھے!! اس کا حل یوں تلاش کیا گیا کہ آپؒ کو نظر بند کر دیا گیا۔ اسد اللہ اعلم کی حکومت تبدیل ہونے کے بعد نئے وزیراعظم حسن علی منصور نے مصلحتاً علماء کی طرفداری کرتے ہوئے قائد کی نظر بندی ختم کر دی اور انہیں رہا کر دیا۔ دشمن کی مسلسل ناکامی نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر نیت نیک ہو اور سفر کا مقصد واضح اور متعین ہو تو منزل تک پہنچنا چنداں مشکل نہیں ہوتا۔ بقول شاعر
اگر سچی لگن ہو تو بہت سوچا نہیں کرتے
کوئی رستہ کٹھن ہو تو بہت سوچا نہیں کرتے
خدا کا نام لیتے ہی نکل پڑتے ہیں منزل کو
ارادہ بے شکن ہو تو بہت سوچا نہیں کرتے

ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں!
15 جنوری 1963ء کو شاہ کی حکومت نے سینیٹ میں ایک بل پیش کیا۔ اس بل کا پس منظر ایران میں امریکی فورسز کی تعیناتی، ان کے تحفظ کی ضمانت اور مطلق العنانیت کے لئے عدالتی و قانونی رکاوٹ کا خاتمہ تھا۔ یہ بل 25 جولائی 1964ء کو منظور کر لیا گیا۔ اسے Capitulation کا بل کہتے ہیں۔ امام ؒ نے اِس بل کی حیثیت کو حسبِ سابق ماننے سے انکار کر دیا اور ایک زبردست تقریر کے ذریعے بل کی مخالفت کا اعلان کیا۔ ایک بار پھر عوام آپ کی آواز پر لبیک کہتی ہوئی احتجاج کے میدان میں اُتر آئی۔ تمام ملک شاہ مخالف نعروں سے گونج اٹھا۔ تحریک کا یہ دور نہایت دلچسپ صورتحال اختیار کرچکا تھا۔ امامؒ کی گرفتاری ماضی کا تلخ تجربہ بن چکی تھی، جسے دہرانا عوام کی صفوں میں ہیجان پیدا کرنے کے مترادف تھا۔ اس کے علاوہ آپ ؒ کو جان سے مار دینے کی صورت میں بھی ملک کے اندر بغاوت کا خدشہ تھا۔ شاہی حکومت تقریباً تمام جنگی وار آزما چکی تھی اور اب شدید ذہنی کشمکش کا شکار تھی۔ اب اس کے ترکش میں ایک ہی تیر باقی بچا تھا، جسے بلا تذبذب آزمایا گیا۔ 4نومبر 1964ء کو امامؒ کو قم سے گرفتار کرکے سکیورٹی فورسز نے تہران کے مہرآباد ہوائی اڈے پر پہنچا دیا، جہاں سے ایک طیارہ کے ذریعے آپ ؒ کو ترکی (انقرہ) لے جایا گیا۔ امتحان کی ایک نئی منزل پر آپؒ قدم رکھ چکے تھے، جس میں آپ ؒ کے فرزند آیت اللہ حاج آقای مصطفٰیؒ بھی شریک سفر تھے۔

امام خمینیؒ کی جلاو طنی کے واقعہ تک اگر اُن کی زندگی پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے 1400 سال قبل کی ایک شخصیت کی زندگی کے چند مناظر ذرا مختلف انداز سے دوبارہ اُبھر آئے ہوں۔ ہوش سنبھالتے ہی یتیمی کی کیفیت سے آشنا ہو جانا، لڑکپن کے زینے پر قدم رکھتے ہی یسیری کا غم اُٹھانا، صبر و ہمت کی ہمراہی اور علم و عمل کی صحبت میں وقت گزارنا، انقلابی فکر کے ساتھ میدان جہاد میں اُترنا، حق کا پرچار اور کفر کا انکار کرنا، اور ایک منزل پر اپنے وطن کو خیرباد کہنا۔ یہ وہی منظر ہے کہ جب نبی کریم صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دین کی بقا کی خاطر اپنے وطن (مکہ مکرمہ) کو چھوڑ کر چلے گئے۔ کسے خبر تھی کہ آج کا مہاجر کل کا فاتح بن کر واپس اپنے گھر لوٹے گا۔ پس یہ بھی کوئی نہیں جانتا تھا کہ اپنے محبوب ؐ جیسی زندگی گزارنے والا شخص بھی اپنے وطن کو واپس آنے کے لئے چھوڑ رہا ہے۔ ترکی میں جلا وطنی کے دوران آپؒ کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی، مگر آپؒ نے کتاب ’’تحریر الوسیلہ‘‘ کی تصنیف مکمل کی۔ یہ کتاب امامؒ کے فقہی فتاویٰ پر مشتمل ہے، جس میں جہاد، دفاع، امربالمعروف و نہی عن المنکر پر عصری تقاضوں کے مطابق فتوے دیئے گئے تھے۔ اس عرصہ میں حکومت کافی حد تک عوام کی جہادی قوت کو کچلنے میں کامیاب ہوگئی۔

دوسری طرف قائد انقلاب خطوط کے ذریعے علماء کو جہاد جاری رکھنے کی تاکید کرتے رہے۔ 4 اکتوبر 1965ء کو ترکی کی حکومت نے مذہبی حلقوں کے دباؤ میں آکر آپؒ کو عراق بھیج دیا۔ نجف اشرف میں بھی آپؒ ایرانی علماء کو بذریعہ قلم مشن جاری رکھنے کی ترغیب دیتے رہے۔ 1970ء کے اوائل میں اسلامی حکومت یا ولایت فقیہ کے موضوع پر درس کا آغاز کیا۔ بعد میں یہ دُروس کتابی شکل میں شائع ہو کر ایران، عراق اور لبنان پہنچے۔ اس کتاب میں انقلابی و جہادی مقاصد کو بیان کرنے کے علاوہ اسلامی حکومت کی فقہی، اصولی اور عقلی بنیادوں پر تشریح کی گئی تھی۔ اُدھر ایران میں شاہ بھرپور انداز سے اپنی تہذیب کے فروغ میں مصروف عمل تھا۔ غیر ملکی ثقافت کا پرچار، امریکی اور یورپی کمپنیوں کے ہاتھوں ایران کے تیل کے ذخائر کی لوٹ کھسوٹ اور امریکی سراغ رساں ایجنسیوں اور فوجی اڈوں کے قیام جیسے مقاصد اُس کے منصوبہ کا حصہ تھے۔ اپنے رہبر کی غیر موجودگی کے باوجود ایرانی قوم ہر سال 5 جون کو یوم تحریک انقلاب کا جشن منانے کے ساتھ ساتھ جہاد کا بھی عہد کرتی رہی۔

اسلامی انقلاب نقطۂ عروج پر
1977ء میں امامؒ کے فرزند آیت اللہ مصطفٰی ؒ کی شہادت نے ایران کے مذہبی معاشرے کی تحریک کا ازسر نو آغاز کر دیا۔ بیٹے کی شہادت پر امام خمینیؒ کا صبر و استقلال قابل تعریف تھا۔ بھلا حسین ؑ کے ماننے والے اپنے فرزند کو قربان کرنے سے پیچھے ہٹے ہیں؟ پس ادھر عوام کی قوت سڑکوں پر نکلی، ادھر شاہ کی گولی چلی۔ جمشید آموزگار اور جعفر شریف امامی (ایرانی وزرائے اعظم) جیسے پٹھوؤں نے حالات پر قابو پانے کی سعی کی مگر ناکام رہے۔ عراقی حکومت نے آقای خمینیؒ سے کہا کہ اگر آپ ؒ عراق میں قیام پذیر رہنا چاہتے ہیں تو سیاست میں حصہ لینا چھوڑ دیں۔ آپ نے مصالحت کی بجائے ہجرت کو فوقیت دی اور پیرس جانے کا فیصلہ کیا۔ شریف امامی کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے اُسے اقتدار سے جلد ہی دست بردار ہونا پڑا۔ جبہہ ملی (قومی محاذ) کا رہنما ’’شاہ پور بختیار‘‘ امریکہ کا آخری پٹھو تھا، جسکا نام شاہ کے سامنے وزارت عظمٰی کے عہدے کے لئے تجویز کیا گیا۔ مگر وہ 16 جنوری 1979ء کو ایران سے فرار ہوگیا۔ وہ ایسا کرنے پر مجبور تھا کیونکہ امامؒ کے خصوصی پیغامات نے عوام میں ولولہ پیدا کر دیا تھا اور شورائے انقلاب (انقلابی کونسل) کی تشکیل نے اُس کے گرد گھیرا تنگ کر دیا تھا، سو اُس نے راہ فرار اختیار کی۔

پہنچی و ہیں پہ خاک۔۔۔
یکم فروری 1979ء کی صبح 14 سال وطن سے دُور رہنے کے بعد امام خمینیؒ ایران واپس تشریف لائے۔ ایرانی عوام نے اپنے قائد کے استقبال کے لئے دیددہ و دل بچھا دیئے۔ آپؒ نے وطن واپس آتے ہی قوم کی حمایت سے حکومت بنانے کا اعلان کیا۔ بختیار کی دم توڑتی ہوئی حکومت نے آخری کوشش کے طور پر فوجی بغاوت کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا حکم دیا۔ کرفیو نافذ ہونے کے باوجود امامؒ نے اس سازش کو ناکام بنانے کے لئے عوام کو گھروں سے نکل جانے کا حکم دیا۔ تہرانی عوام لبیک کہتی ہوئی سٹرکوں پر نکل آئی اور شاہی حکومت کی آخری کوشش بھی ناکام ہو کر رہ گئی۔ 11 فروری 1979ء کی صبح کو ایران میں امام خمینیؒ کی تحریک اور اسلامی انقلاب کا سورج طلوع ہوا اور ظالم بادشاہوں کا طویل سلسلہ بادشاہت بھی ختم ہوگیا۔

قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے!
انقلاب اسلامی ایران کی اصل رُوح امام خمینی ؒ کے دینی افکار و اذکار اور اُن کا پرچار ہے۔ انقلاب کی کامیابی سے مراد اسلامی روحانی اقدار کے فروغ کے علاوہ تیسری دنیا کے ممالک میں آزادی کی تحریکوں کی لہر کو متحرک کرنا ہے۔ آیت اللہ روح اللہ خمینیؒ نے برسر اقتدار آنے کے بعد تحریر و تقریر کے ذریعے اُمت مسلمہ کی فلاح، یگانگت اور مغربی ثقافت کی یلغار سے بچاؤ کے لئے وعظ و نصیحت کا سلسلہ برقرار رکھا۔ آپ مسلمانوں کے مسائل میں گہری دلچسپی لیتے تھے۔ قدس کی آزادی کے لئے آپ ؒ کی تقاریر نے دنیائے اسلام کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ ؒ نے فرمایا تھا: ’’امریکہ برطانیہ سے بدتر، برطانیہ امریکہ سے بدتر اور سوویت یونین ان دونوں سے بدتر ہے، یہ سب ایک دوسرے سے بدتر اور سب ایک دوسرے سے ناپاک تر ہیں، لیکن آج ہمارا واسطہ ان خبیثوں سے ہے۔ امریکہ سے ہے، امریکی صدر کو جان لینا چاہیے کہ ہماری قوم کے نزدیک وہ دنیا کا سب سے زیادہ قابل نفرت شخص ہے۔ ہماری ساری مصیبتیں اسی امریکہ کی وجہ سے ہیں، ہماری مصیبت اس اسرائیل کی وجہ سے ہے، اسرائیل بھی امریکہ کا حصہ ہے۔‘‘ سینتیس سال گزر جانے کے بعد بھی یہ الفاظ آج کی دنیا کی سیاسی صورتحال کی صحیح عکاسی کر رہے ہیں۔

امامؒ کا سب سے اہم اور جراتمندانہ قدم اپنے دور کی بڑی طاقت روس کو اسلام کا پیغام دینا تھا۔ یہ واقعہ بھی اُس واقعہ سے مماثلت رکھتا ہے کہ جب نبی کریم صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے روم اور ایران کے بادشاہوں کو دعوتِ اسلام دی تھی۔ امام ؒ نے روس کے صدر گوربا چوف کو آگاہ کیا تھا کہ اُن کے ملک کا حقیقی مسئلہ نجی ملکیت و اقتصادیات کا نہیں بلکہ اصل مسئلہ خدا پر ایمان نہ لانا تھا۔ اس حقیقت کا اعتراف خود روسی صدرنے امام ؒ کی رحلت کے بعد کیا تھا۔ بقول گوربا چوف: ’’امام خمینی ؒ کا پیغام میرے ذہن پر نقش ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ میں عنقریب مارکسزم کو تاریخ کے عجائب گھر میں دیکھ رہا ہوں۔ اگر ہم اُن کی دور اندیشی کو سنجیدگی سے سنتے تو آج ہم اس حال کو نہ پہنچتے اور ملک کی یہ حالت نہ ہوتی، اگرچہ روس کی موجودہ حالت داخلی اسباب کی بنا پر ہے۔‘‘ المختصر، امام خمینیؒ کا کردار، ہر مسلمان کے لیے نمونۂ عمل ہے اور ہر نوجوان کے لئے ایک پیغام ہے۔ بقول شاعر
قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسم محمدؐ سے اُجالا کر دے