Monday, 22 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 10

کل 11

اس هفته 10

اس ماه 235

ٹوٹل 21531

 تحریر:ڈاکٹر سید قلب نواز سبزواری

 

 تاریخ گواہ ہے کہ عرب اور عجم کا جھگڑا بہت قدیم ہے ، یہود و نصاریٰ کی سازشوں کے باعث سعودی عرب اور ایران کی سرد جنگ جو عرصہ دراز سے جاری تھی، آیت اللہ شیخ باقر النمر(ممتاز عالم دین) کو سعودی حکومت کی جانب سے عوام کے حقوق اور ان کے برحق مطالبات کی حمایت کی پاداش میں پھانسی دئیے جانے کے بعد سے سعودیہ ایران اختلافات کھل کر اقوام عالم کے سامنے آگئے ۔جس سے مسلم دنیا میں بحران شد ت اختیار کر گیا۔اس بحران سے نکلنے کیلئے جو راستے اختیار کئے جارہے ہیں وہ اُمت مسلمہ کو مزید تباہی کی طرف لے جاسکتے ہیں ۔

 

آیت اللہ باقر نمر النمرکا سر قلم کئے جانے کے بعد سعودی عرب دنیا بھرکے ممالک سے آنے والے رد عمل سے نالاں ہے۔ اس واقعہ کے بعد اسلامی ممالک سمیت دنیا بھر کے دیگر ممالک سے آنے وا لے سعودی مخالف احتجاج کو اپنے ملک کے قوانین پر عملدرآمد میں مداخلت تصور کرتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خود سعودی عرب یمن ،بحرین اور شا م ،مصر اور لیبیامیں مداخلت کو اپنا حق تصو ر کرتا ہے اورتاحال ان ممالک میں سعودی عرب کی مداخلت جاری ہے اس دوہرے معیار پر برادر اسلامی ملک پر سوالات بھی اُٹھ رہے ہیں۔ جبکہ تہران اور مشہد میں آیت اللہ باقر نمر النمر کی شہادت کے بعد ایران کی عوام نے سفارتخانہ کو آگ لگا کر اس کشیدگی کو مزید بڑھاوا دیا جس کے بعد ایرانی صدر نے معذرت کرتے ہوئے ذمہ داران کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کابھی اعلان کیا۔

 

ان وا قعات کے رونما ہو نے سے جس طرح مسلم اُمہ میں بھی دُوریاں پیدا ہو رہی ہیں اور مسائل میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جس سے مشرق وسطی ٰ میں سعودی عرب اور ایران میں کشیدگی بھی مزید بڑھ رہی ہے ۔ شام ،عراق ،یمن ،بحرین اور مشرق وسطیٰ کے حالات پر عرصہ دراز سے ایران اورسعودیہ کی جاری سرد جنگ آیت اللہ باقر نمر النمر کی شہادت کے بعد کھل کر سامنے آگئی اور سعودی عرب کی جانب سے بنایا گیا داعش اور دہشتگردی کیخلاف بنایا جانیوالا 34اسلامی ممالک کا اتحا د جس میں ایران ،عراق ،شام شامل نہیں سے بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں اور ایران یہ سمجھتا ہے کہ یہ اتحاد اس کیخلاف ہے اس اتحاد سے جو خلش پیدا ہورہی ہے اس کا خاتمہ بہت ضروری ہے ۔ اس وقت دنیا اور عالم اسلام بالخصوص پاکستا ن کو دہشتگردی کا سامنا ہے ۔اس وقت منظم دہشتگردی نے مسلم معاشروں کے تانے باے بکھیر دئیے ہیں ۔پہلے ہی القاعدہ ،طالبان ،بوکو حرام،الشباب اورداعش جیسی شدت پسند تنظیموں کی جانب سے ڈھائے جانے والے ظلم و زیادتی اور بربریت پر مشتمل اقدامات کے ذریعے حقیقی اسلام کا روشن چہرہ مسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے دنیا کے دیگر ممالک کے نزدیک اسلام کاامیج خراب ہو رہاہے۔ پاکستان کے دونوں مسلم ممالک سعودی عرب اور ایران کے ساتھ گہرے دوستانہ تعلقات ہیں اور حکومت کا موقف بھی ابھی تک یہی ہے کہ کشیدگی کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیئے تاکہ اس تناؤ کا فائدہ دہشت گرد، شدت پسند عناصر نہ اٹھا سکیں۔

 

ایران ایک شیعہ مسلمان اکثریتی آبادی والا ملک ہے جب کہ اس کے روایتی حریف سعودی عرب میں کٹڑ سنی وہابی مسلمان نظریات رکھنے والوں کی حکومت ہے۔ خطے میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافے کی وجہ سے پہلے سے انتشار کے شکار مشرق وسطیٰ میں مزید بدامنی کا خدشہ بھی بدستور قائم ہے۔ پاکستان کو اس تنازع میں ثالث کا کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ اگر فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھتی ہے تو یہ کسی طور بھی پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوگا۔پاکستان کے مفاد میں یہ بالکل نہیں کہ یہاں شیعہ سنی فسادات ہوں یا ایران اور سعودی عرب کی درپردہ جنگ (پراکسی وار) یہاں لڑی جائے کیونکہ یہ لڑائی مزید بھی پھیل سکتی ہے۔ امن قائم رکھنے اور دونوں ممالک میں صلح کرانے کیلئے پاکستان دیگر اسلامی ممالک میں سے سب سے بہتر پوزیشن میں اس لحاظ سے ہے کہ واحد اسلامی ایٹمی طاقت پاکستان کے ایران کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں اور انھیں صرف اور صرف سمجھانے کی ضرورت ہے کہ خدارا ایسا نہ کرو۔ علاوہ ازیں وہ اسلامی ممالک جن کا موقف اور نظریہ تحمل اور بردباری پر ہے ان کا بھی فریضہ بنتا ہے کہ اس حوالے سے سعودیہ ایران کشیدگی کی شدت کو کم کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔

 

ماضی میں بھی جب ستمبر1980ء میں عراق نے ایران پر حملہ کیا اور سعودی عرب اور کویت سمیت تمام خلیجی ممالک نے کھل کے صدام حسین کا ساتھ دینے کا اعلان کیا تو اس وقت بھی پاکستان کے لیے بہت بڑا چیلنج تھا ۔عراق ایران جنگ کے خاتمے کے بعد عراق نے کویت پر حملہ کر دیا سعودی عرب کی بہت خواہش تھی کہ مشرقی علاقے میں1980ء سے مقیم پاکستانی فوجی دستوں کو امریکی قیادت میں بننے والے صدام دشمن اتحاد کا حصہ بنایا جائے۔ مگر پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اسلم بیگ کی جانب سے صدام حسین کی تعریف کی گئی جس سے سعودی عرب اور پاکستان میں دوریاں پیدا ہو گئیں جسے نوا ز شریف نے دور کرنے کی کوشش کی تھی ،2003ء میں عراق پر امریکی اتحاد کے حملے کے دوران پاکستان عرب دباؤ سے محفوظ رہا کیونکہ پاکستان خود دہشتگردی کا شکار تھا ۔مگر گذشتہ برس مارچ میں جب سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے یمن پر حملہ کیا تو پاکستان پر اس جنگ میں شمولیت کے لیے براہِ راست دباؤ ڈالا گیا۔ پاکستان کا نام سعودی عرب نے یکطرفہ طور پر اپنے اتحادیوں کی فہرست میں بھی شامل کر دیا۔ لیکن پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے بدلے ہوئے علاقائی و سٹرٹیجک حالات میں براہِ راست انکار کر کے خلیجی دوستوں کی نگاہوں میں برُا بننے کے بجائے اپنی بلا قومی اسمبلی پر ڈال دی اور قومی اسمبلی نے یمن کے بحران میں غیر جانبداری برتنے کا فیصلہ کیا۔ کچھ ایسی ہی حکمتِ عملی سے پاکستان نے اب تک شام کے بحران میں بھی کام لیا ہے۔البتہ نومبر میں جب سعودی عرب نے اچانک34 رکن مسلم اتحادمیں پاکستان کا نام اپنی طرف سے شامل کر دیاپہلے روز تو پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے حیرت ظاہر کی لیکن پھر مروتاً ہاں کر دی تاکہ یمن کے معاملے پر پیدا ہونے والی سفارتی تلخی کسی حد تک زائل ہوسکے۔لیکن اب سعودی عالم شیخ باقر نمر النمیر کو موت کی سزا دئیے جانے کے بعد ایران اور سعودی عرب میں تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ،اور پاکستان کیلئے ایک مرتبہ پھر امتحان شروع ہو گیاایک طرف سعودی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے موقع پر پاکستان نے ذمہ دار ملک ہو نے کا ثبوت دیا اور ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے سفارتی زبان استعمال کی کہ اگر سعودی عرب کو خطرہ ہوا تو بھر پور جواب دیں گے ،ایران سے تنازعہ میں کر دار ادا کرنے کو تیار ہیں ۔

 

وزیر اعظم کی جانب سے حمایت کی روایتی باتیں نظر آئیں پاکستان کو یہی خارجہ پالیسی اپنانی چاہیے تھی اس لئے کہ ایران اور سعودی عرب دونوں ہمارے دوست ہیں اور دوستی کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ اگر دو مسلمان بھائیوں کے مابین اگرکشیدگی اور اختلافات پیدا ہو جائیں تو اُسے ختم کرانے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ جانبدار ہو کر ہمسائے دوست ملک سے دشمنی کسی صور ت قبول نہیں اس سلسلے میں سیاسی و عسکری راہنماؤں کو پاکستان کے عوامی نمائندوں سے جو پارلیمنٹ میں موجود ہیں سے بھی رہنمائی حاصل کرناوقت کی اہم ضرورت ہے ۔اگر پارلیمنٹ کو بائی پاس کرکے قومی مفاد کے برعکس فیصلے کئے گئے تو اس سے ملکی سا لمیت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ۔اس لئے کہ کسی بھی ملک کو کسی دوسرے ملک کے معاملات میں مداخلت کا حق نہیں ہے تاہم پوری مسلم دنیا کا مفاد اسی میں ہے کہ یہ تناؤ جلد از جلدمذاکرات کے ذریعے حل کرلیا جائے ۔یہ چیز بھی مشاہدہ میں آئی ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادتوں نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ پاکستان کے دونو ں اسلامی ملکوں کیساتھ دیرینہ تعلقات ہیں ،اوریہ کہ پاکستان ایران اور سعودی عرب تنازعہ میں فریق بننے کی بجائے مصالحت کیلئے اپنا کر دار ادا کرئے گا۔ بین الاقوامی صورتحال پر نظر دوڑائیں تو ذہنورں میں کئی سوالات جنم لیتے ہیں ۔

 

یہ کہ ہمیں احساس کرنا ہوگا کہ کہیں ہم عالمی طاقتوں کی پراکسی وار کا حصہ تو بننے نہیں جارہے ؟کیا موجودہ صورتحال میں کہیں عالمی طاقتیں ہمارے فروعی اختلافات کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال تو نہیں کر رہیں ؟ کہیں اپنے مفادات کیلئے صیہونی طاقتوں کا مسلم ممالک خاص طور پر شام ،عراق ،ایران اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں تیل اور گیس جیسے ذخائر پر قبضہ کرنا تو مقصود نہیں ؟طالبان اور داعش کس کی پیداوارار ہیں؟ اور کون کون سے ممالک ہیں جو انہیں تیار کرنے اور انہیں مالی و عسکری سہولتیں فراہم کر رہے ہیں ؟ اور اب داعش اور دہشتگردوں کے خاتمے کے عنوان پر کونسے 34 اسلامی ممالک کی اتحادی فوج کی ضرورت پڑ رہی ہے ؟اس نئی صف بندی میں کون کون سی قوتیں اور طاقتیں پس پردہ اپنا کردار اداکرہی ہیں؟امریکہ اور اسرائیل کی انٹیلی جنس کا خفیہ بجٹ اہم اسلامی ممالک کے ذریعے کس کو کمزور کرنے کیلئے صرف کیا جارہاہے ؟ کیا ا مریکا اور اسرائیل مشرق وسطی ،شام عراق میں اپنی ناکامیوں پراور عالمی سطح پر ایک اسلامی ملک کے ہاتھوں اپنی سفارتی شکست کا بدلا لینے کیلئے شطرنج کی چال کھیلتے ہوئے اپنا دامن بچا کر دانشمندی سے ایک اسلامی ملک کے سامنے ایک عرب اسلامی ملک کو لاکر اسلام کو کمزور کرنے ا ور اپنی شکست کا بدلہ لینے کیلئے یہ تمام کھیل تو نہیں کھیل رہے؟ ان تمام امور کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلم دنیا کو اجتماعی مفاد کیلئے عالمی طاقتوں کی پراکسی وار سے نکلنا اور بچناہو گا اتنا بڑا فوجی اتحاد بنانے کی بجائے بہت نچلی سطح پر ان عوامل کا خاتمہ کیا جائے جو داعش جیسی تنظیموں کو پنپنے کیلئے حالات پیدا کررہی ہیں۔پاکستان کو 34 اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد میں شامل ہو نے کافیصلہ دانشمندی سے کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان کے پڑوس میں ایران واقع ہے ،ماضی میں پاک بھارت جنگ میں ایران نے جو پاکستان کا ساتھ دیا تھا وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ،پاکستان ایران سے کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ پاکستان کے دوسرے پڑوسی ملک افغانستان میں بھی حالات بہت خراب ہیں اور پاکستان کی بھارت کیساتھ مشرقی سرحدوں پر بھی کشیدگی رہتی ہے ۔پاکستان کے اند ر مختلف مسالک اور مکاتب فکر کے لوگ رہتے ہیں۔

 

اور پاکستان جوپہلے سے ہی افغان جنگ کا حصہ بننے کا اب تک مزا چکھ رہا ہے اور جو مجاہدین اور طالبان اس کی فیکٹری میں تیار کئے گئے تھے وہ آج پاکستان کی ہی سا لمیت کے لئے خطرہ بن گئے ہیں جنہوں نے معصوم طلبا ء اور عسکری اداروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیاجس کے بعد پاکستانی حکومت نے ان دہشتگردوں اور شدت پسندوں کیخلاف نیشنل ایکشن پلان تیار کرکے ضرب عضب آپریشن شروع کیا جو تاحال بڑی کامیابی کے ساتھ جاری ہے جسے کامیاب بنانے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں اور عوام نے ملکر حکومت کا ساتھ دیا ہے اس نازک مرحلہ میں کہ جب نیشنل ایکشن پلان پر بہت سا کام باقی ہے اور ضرب عضب آپریشن چل رہاہے اس دوران کسی اور ملک کی لڑائی میں ہماری پاک فوج اور ملک کا کردا ر اصولی طور بنتا ہی نہیں اس لئے کہ عام شہری کے زہنوں میں بھی یہ سوال پیدا ہو رہاہے کہ اپنے ملک سے تو دہشتگردی ختم ہوئی نہیں ہم چلے دوسرے ملکوں کی دہشتگردی ختم کرنے ؟آپ ان نازک لمحات میں خود ہی جائزہ لیں اورفیصلہ کریں کہ ایران اور سعودی کشیدگی میں مداخلت یا جانبداری پاکستان کو کتنا نقصان پہنچا سکتی ہے ؟ جس کا تدارک ممکن نہیں ۔

 

اس لئے کہ پاکستان میں پہلے ہی فرقہ وارانہ ماحول موجود ہے چھوٹی سی چنگاری اور مس ہینڈلنگ ایک بہت بڑے حادثے کا موجب بن سکتا ہے ۔سمجھانے کیلئے ایک چھوٹی سی مثال دینا چاہوں گا جہاں پاکستان میں 8جنوری 2016ء بروز جمعہ کے روز سعودی عرب اور ایران کے تنازعہ پر ملک بھر کی طرح دارلحکومت اسلام آباد میں ایک ہی روز الگ الگ مظاہرے کئے گئے شیعہ تنظیم کے ایک گروپ کی جانب سے جی سکس ٹو امام بارگاہ سے ڈی چوک تک احتجاجی ریلی نکالی جس میں ایرن کے حق میں اور سعودی عرب کیخلاف نعرے بازی کی گئی اور دوسری جانب دیوبندی مکتب فکر پر مشتمل اتحاد کی جانب سے نماز جمعہ کے بعد میلوڈی سے آبپارہ چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں سعودی عرب کے حق میں اور ایران کیخلاف نعرے بازی کی گئی اس نازک موقع پر حالات کے تناظر میں قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی کی تنظیم شیعہ علماء کونسل نے سڑکوں پر ممکنہ کشیدگی سے بچنے کیلئے پہلے سے اعلان کر دہ اپنے مظاہرے جمعہ کے روز نہ کرنے کا اعلان کرکے ذمہ داری کا ثبوت دیا ۔

 

لیکن سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ کیا پاکستان ان حالات میں جانبدارہوکر اپنے ملک میں فرقہ واریت کی نہ بجھنے والی آگ کو بُجھا پائیگا ؟ایران سعودی کشیدگی کے پیش نظر کیا پاکستان اپنے ملک میں امن و امان کو قائم رکھ پائیگا؟کیا ملک میں ساری مذہبی و سیاسی جماعتوں کی سوچ ساجد نقوی جیسی ہے ؟ کیا ایران سعودی کشیدگی سے مشرق وسطی و خلیجی ریاستوں سمیت بالخصوص سرزمین پاکستان جنگ کی لپیٹ سے محفوظ رہ پائے گی؟اگر پاکستان کی سیاسی و عسکری دونو ں قیادتیں ملکر فرقہ وارانہ دہشتگردی و شدت پسندی کا مکمل خاتمہ چاہتی ہیں اور ملک میں ضرب عضب آپریشن کو کامیاب دیکھنا چاہتی ہیں توپاکستانی حکومت کو دونوں اسلامی ممالک کے درمیان فرقہ وارانہ تعصب کے ایٹم بم کوپھٹنے سے قبل ناکارہ بنانا ہو گا۔

 

اور ہماری حکومت کو ایران سعودیہ کشیدگی کے خاتمے کیلئے ہی اپنا مثبت کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔ حکومت کے ساتھ ساتھ قوم کو بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہونگیں اورصبر و تحمل و روادری سے کام لیتے ہوئے ملک کی بقا اور سا لمیت کو سامنے رکھتے ہوئے ’’کہ سب سے پہلے پاکستان‘‘ کے سلوگن پر عمل پیرا ہو کر جراتمندانہ فیصلوں میں ساتھ دینا ہوگا اور اپنے ملک سمیت ایران سعودیہ اورمسلم ممالک کو بھی جنگ کی آگ میں کودنے سے بچانا ہوگا۔پاکستانیوں کو پراکسی وار کاحصہ بننے کی بجائے اتحادو وحدت ،بھائی چارہ کا رویہ اپنانا ہوگا ۔اور اُمت مسلمہ کو استعماری طاقتوں کی سازشوں سے بچا کر ایک پلیٹ فارم پر متحد کرکے مسلم فوجی اتحاد 34مسلم ممالک پر نہیں 54 ممالک پر بنانا ہو گا تاکہ استعماری قوتوں کی سازشوں اور دہشتگردی کا مقابلہ کیاجاسکے ۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے ایسے ہی موقع کے لئے فرمایا ہے !!!!

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے مسلمانو!

تماری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں ۔