Thursday, 13 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 1

کل 10

اس هفته 30

اس ماه 128

ٹوٹل 21969

 تحریر : اجمل حسین قاسمی

صحیفہ سجادیہ اما م زین العابدین علیہ السلام کے دعاوں کا گرانقدر مجموعہ ہے اور شیعہ مکتب کی سب سے پہلی اور قدیمی ترین دعاوں کی کتاب ہے جو روز اول سے اب تک شیعہ علماء و بزرگان کی توجہ کا مرکز رہی ہے ۔ صحیفہ سجادیہ صرف ایک کتاب نہیں بلکہ انسان سازی اور تہذیب نفس کے لئے ایک مکتب ہے جس کا عنوان دعا ہے مگر امام سجاد علیہ السلام نے دعا کی صورت میں معارف الہی ، توحید ، معاد ، نبوت ، امامت کو بیان کیا ہے ۔

 

مرجع فقید مرحوم آیت اللہ العظمیٰ نجفی مرعشی قدس سرہ نے ١٣٥٣ ھ میں علامۂ معاصر مؤلف تفسیر طنطاوی (مفتی اسکندریہ)کی خدمت میں صحیفۂ سجادیہ کا ایک نسخہ قاہرہ روانہ کیا ،انھوں نے اس گراں قدر ہدیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جواب میں اس طرح تحریر فرمایا ہے

یہ ہماری بد نصیبی ہے کہ یہ گراں قدر کتاب جو میراث نبوت سمجھی جاتی ہے اب تک ہم اس سے محروم تھے اور میں جتنا بھی اس میں مشاہدہ اور غورو فکر کرتا ہوں اسے کلام مخلوق سے افضل وبرتر اور کلام خالق سے کمتر پاتا ہوں ۔[1]

 

حضرت امام سید سجاد  کا طریقۂ تبلیغ دعا کے پیکر میں اسلامی معارف کا بیان کرنا ہے ۔ہم جانتے ہیں کہ دعا انسان اور پروردگار کے درمیان معنوی پیوند اور لگاؤ ہے جو تربیتی اور اخلاقی اثر کی حامل ہے ،اس اعتبار سے کہ اسلام کی نظر میں دعا کا ایک خاص مقام ہے اور اگر پیغمبر اسلام  ۖوائمۂ معصومین (علیہم السلام )کی طرف سے جو دعائیں ہم تک پہونچی ہیں جمع کردی جائیں تو ایک بہت بڑا مجموعہ ہوجائے گا ۔یہ دعائیں عظیم تربیت کا ایک مکتب ہے جو انسانوں کے رشد ونما اور ان کی اخلاقی تربیت میں ایک اہم نقش کی حامل ہیں ۔

 

جیسا کہ چوتھے امام حضرت امام زین العابدین کے زمانے میں حالات بہت زیادہ پرآشوب اور خراب تھے ،امام اپنے اغراض ومقاصد کو دعا اور مناجات کی شکل میں بیان کرتے تھے ،آپ کی دعاؤں کا مجموعہ جو صحیفۂ سجادیہ کے نام سے مشہور ہے قرآن مجید اور نہج البلاغہ کے بعد سب سے عظیم واہم حقائق اور الٰہی معارف کا گرانقدر خزانہ سمجھاجاتا ہے

 

آسمان امامت کے چوتھے ستارے علی ابن حسین ابن علی علیہ السلام ۳۸ ھجری قمری بروز ۳ شعبان کو پیدا ہوئے ۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا اسم گرامی شہربانو ہے آپ علیہ السلام نے اپنے بچپن کا زمانہ مدینہ میں گزارا ہے آپ نے اپنے جد امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے امامت کے دوسال و اپنے چچا امام حسن مجتبی علیہ السلام کے امامت کے دس سال اور اپنے والد گرامی امام حسین علیہ السلام کے دس سال کی امامت کو درک کیا ہے ۔

آپ ۶۱ ھجری قمری میں امام حسین علیہ السلام کے قیام کے دوران سرزمین کربلا میں موجود تھے اور واقعہ کربلا کے بعدشیعوں کی امامت آپ تک پہنچی [2]

 

القاب حضرت امام علی ابن الحسین علیہ السلام :

زین العابدین ، سید العابدین ، زین الصالحین ، وارث علم النبیین ، وصی الوصیین ، امام المومنین ، منارالقانتین ، الخاشع ، المتھجد ، الزاھد ، العابد ، العدل، البکاء، السجاد ، ابوالائمہ، الزکی ، الامین۔

 

صحیفہ سجادیہ کے نام :

قرآن اور نہج البلاغہ کے بعد صحیفہ سجادیہ حقائق اور معارف الہی کا سب سے بڑا سر چشمہ اور منبع ہے ۔ اس کو" اخت القرآن "قرآن کی بہن ۔ "انجیل اہلبیت " "زبور آل محمد " اور صحیفہ کاملہ بھی کہا گیا ہے ۔

 

صحیفہ سجادیہ کو صحیفہ کاملہ اس لئے کہا گیا ہے کیونکہ فرقہ زیدیہ کے پاس صحیفہ سجادیہ کا ایک ناقص اور نا مکمل نسخہ موجود ہے اور جو نسخہ شیعہ امامیہ اثنا عشری کے پاس موجود ہے وہ اس کی نسبت کامل ہے ۔ اور اس گرانبہا کتاب کو زبور کا نام دینے کی وجہ یہ ہے کہ زبور حضرت داود علیہ السلام کی کتاب تھی جس میں دعائیں اور مناجات تھیں چونکہ صحیفہ سجادیہ بھی دعاوں اور مناجات کا مجموعہ ہے اس لئے اسے زبور آل محمد کا نام دیا گیا ہے ۔ انجیل حضرت عیسی علیہ السلام کی آسمانی کتاب کا نام ہے جس میں حضرت عیسی کے مواعظ موجود ہیں چونکہ صحیفہ سجادیہ کے دعاوں میں بھی حضرت امام این العابدین علیہ السلام کے مواعظ موجود ہیں اس لئے اسے انجیل اہلبہت علیہ السلام کا نام دیا گیا ہے [3]۔

 

صحیفہ سجادیہ کے دعاوں کی تعداد :

صحیفہ سجادیہ میں خدا کے ساتھ راز و نیاز کے ساتھ ساتھ علوم و معارف الہی کا ایک بے کراں سمندر موجود ہے جس میں دعا کی صورت میں امام سجاد علیہ السلام نے عقائد ، ثقافت ، اجتماعی ، سیاسی اور مختلف شرعی مسائل کو بیان کیا ہے صحیفہ سجادیہ میں ۵۴ دعائیں موجود ہیں ۔ جن کے عناوین کی فہرست اس طرح ہے[4]

 

١۔ خداوند عالم کی حمد وثناء     ٢۔ رسول اکرم ۖ اور ان کی آل پر درود و صلوات     ٣۔ حاملان عرش فرشتوں پر درود و صلوات
٤۔ انبیا ء  کی تصدیق کرنے والوں پر درود و صلوات     ٥۔ اپنے اور اپنے قرابتداروں کے سلسلہ میں دعا     ٦۔صبح وشام کے وقت کی دعا
٧۔ مشکلات کے وقت کی دعا     ٨۔طلب پناہ کے سلسلہ کی دعا      ٩۔ طلب مغفرت کے سلسلہ کی دعا     ١٠۔ خدا کی پناہ طلب کرنے کی دعا
١١۔ انجام بخیر ہونے کی دعا      ١٢۔ اعتراف گناہ کے بارے میں دعا      ١٣۔ طلب حاجات کے سلسلہ میں دعا  
١٤۔ ایسے ظلم و ستم کے بارے میں دعا جو ان پر ڈھائے گئے      ١٥۔بیماری کی وقت کی دعا     ١٦۔گناہوںسے طلب بخشش کے بارے میں دعا
١٧۔ شیطان پر لعن و نفرین کرنے کے بارے  میں دعا     ١٨۔ دفع بلیات کے سلسلہ میں      ١٩۔ طلب باران کی دعا
٢٠۔ نیک اور پسندیدہ اخلاق کے بارے میں دعا      ٢١۔ آپ کے محزون و غمگین ہونے کے وقت کی دعا      ٢٢۔ شدت و سختی کے وقت کی دعا
٢٣۔ طلب عافیت کی دعا      ٢٤۔ والدین کے لئے دعا      ٢٥۔ اولاد کے لئے دعا        ٢٦۔ پڑوسیوں اور دوستوں کے بارے میں دعا
٢٧۔اسلامی ممالک کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں کے لئے دعا      ٢٨۔ بارگاہ خداوندی میں پناہ طلب کرنے کے وقت کی دعا
٢٩۔ تنگی رزق کے وقت کی دعا       ٣٠۔ ادائے قرض کی دعا       ٣١۔ دعائے توبہ       ٣٢۔ نماز شب کے بعد کی دعا
٣٣۔ دعائے استخارہ     ٣٤۔ مشکلات اور گناہوں کی رسوائی میں گرفتار ہونے کے وقت کی دعا        ٣٥۔الٰہی قضا و قدر پر راضی رہنے کے موقع کی دعا       ٣٦۔ بجلی کڑک اور بادل کی گرج سننے کے وقت کی دعا         ٣٧۔شکر پروردگار کے بارے میں دعا
٣٨۔ عذر خواہی کے سلسلہ میں دعا         ٣٩۔ طلب عفو وبخشش کی دعا         ٤٠۔ موت کو یاد کرنے کے وقت کی دعا
٤١۔گناہوں سے پردہ پوشی طلب کرنے کے بارے میں دعا        ٤٢۔ ختم قرآن کے بعد کی دعا          ٤٣۔ دعائے رویت ہلال
٤٤۔ استقبال ماہ رمضان کی دعا     ٤٥۔ وداع ماہ رمضان کی دعا      ٤٦۔ عیدین اور جمعہ کے دن کی دعا       ٤٧۔ روزعرفہ کی دعا         ۴۸ ۔عید قربان اور جمعہ کی دعا
٤٩۔ دشمن کے مکر و فریب کے دفع ہونے کی دعا     ٥٠۔ خوف الٰہی کے سلسلہ میں دعا      ٥١۔ تضرع و زاری کے سلسلہ کی دعا
٥٢۔خدا سے بار بار التماس کرنے کے سلسلہ کی دعا      ٥٣۔ بارگاہ خداوندی میں عجز و انکساری کی دعا      ٥٤۔ رنج و غم کے دور ہونے کی دعا 

صحیفہ سجادیہ پر لکھے گئے شروح :

مرحوم علامہ شیخ آقا بزرگ تہرانی نے اپنی کتاب الزریعہ میں صحیفہ سجادیہ کے تقریبا پچاس شروح کا نام ذکر کیا ہے [5]۔ ان کے علاوہ گذشتہ اور معاصر علماء اور دانشمند، فارسی اور عربی میں صحیفہ سجادیہ کے متعدد شرح اور ترجمے لکھ چکے ہیں ۔ذیل میں بعض شروح کا ذکر کرتے ہیں ۔

 

۱۔" الازھار اللطیفہ فی شرح مفردات الصحیفہ" تالیف سید علامہ محمد رضا اعرجی حسینی         ۲۔شرح میرزا محمد مشہدی جمال الدین طوسی ، صاحب دقائق التنزیل ۔         ۳۔ شرح محمد علی ابن محمد نصیر چہاردہی رشتی  م ۱۳۳۴ صاحب کتاب "شرح الوقت والقبلہ "

۴۔ شرح سید افصح الدین محمد شیرازی۔   ۵۔ شرح مولا تاج الدین مشہور بہ تاجا ۔                ۶۔ شرح مفتی میر محمد عباس جزائری م ۱۳۰۶

۷۔ شرح مولا حبیب اللہ کاشانی ۔    ۸۔ شرح مولا خلیل کاشانی ۔  ۹۔ شرح آقا ہادی ابن مولا صالح مازندرانی

۱۰۔ شرح مولا محمد طاہر ابن حسین شیرازی ۔[6]

 

صحیفۂ سجادیہ کے سیاسی پہلو

صحیفۂ سجادیہ بارگاہ خداوندی میں دعا ،مناجات اور طلب ِ حاجت پر مشتمل نہیں ہے بلکہ اس میں سیاسی ،سماجی ،ثقافتی اور عقیدتی پہلو بھی پائے جاتے ہیں ۔حضرت امام سید سجاد نے اپنی دعاؤں کے ضمن میں کئی مقامات پر سیاسی مباحث بالخصوص مسئلۂ امامت اور اسلامی معاشرہ کی رہبری کو پیش کیا ہے کہ جن کے چند نمونے یہ ہیں

 


١۔امام علیہ السلام  بیسویں دعا ،دعائے مکارم الاخلاق میں اس طرح فرماتے ہیں :

اے خدا!محمد وآل محمد ۖ پر درود بھیج اور مجھے اس شخص کے مقابلہ میں جو مجھ پر ظلم کرتا ہے قدرت وتوانائی عطا کر اور اس شخص کے مقابلہ میں کہ جس نے مجھ سے مجادلہ کیا ہے زبان گویا عنایت فرما اور اس شخص کے مقابلہ میں کہ جو مجھ سے دشمنی رکھتا ہے فتح وظفر عنایت فرما اور اس شخص کے مقابلہ میں جو مجھے فریب دیتا ہے راہ چارہ اور تدبیر عطا فرما اور اس شخص کے مقابلہ میں جو مجھے اذیت پہونچاتا ہے قدرت وطاقت عنایت فرما اور اس شخص کے مقابلہ میں میری عیب جوئی اور مجھے سب وشتم کرتا ہے جھٹلانے کی قوت عنایت فرما اور دشمنوں کے خطرات سے محفوظ فرما ۔

 

کیاعبد الملک کے کارندوں (جیسے ہشام بن اسماعیل مخزومی)کے علاوہ وہ کون لوگ تھے کہ جن کی وجہ سے امام  پر ظلم وستم ڈھائے گئے اور انھیں اذیت پہوچائی گئی ؟اس بناء پر درحقیقت امام کی یہ دعائیں حکومت وقت کی سینہ زوری کے مقابلہ میں ایک اعتراض اور شکایت تھیں اسی لحاظ سے سیاسی پہلو کی حامل ہیں ۔

 

٢۔امام کی وہ دعا جو آپ عید قربان اور جمعہ کے دن پڑھتے تھے ان دعاؤں میں اس طرح بیان ہوا ہے

اے خدا !یہ مقام (خلافت اور امت مسلمہ کی رہبری جو عید قربان اور جمعہ کے دن اقامۂ نماز اور جمعہ کے  خطبے اسی کی شان ہے)تیرے خلفاء اور تیری برگزیدہ ہستیوں سے مخصوص ہے اور تیرے امانتداروں کا مقام ہے کہ جس کو تو نے بلند وبالا درجہ میں قرار دیا ہے ،لیکن ظالموں نے اسے غصب کرلیا ہے یہوں تک کہ تیری برگزیدہ ہستیاں اور تیرے خلفاء مظلوم و مقہور واقع ہوئے اس حال میں کہ وہ مشاہدہ کررہے ہیں کہ تیرے احکام تبدیل کردیئے گئے ہیں، تیری کتاب میدان عمل سے دور کردی گئی ہے ،فرائض وواجبات میں تحریف کردی گئی ہے اور تیرے پیغمبرۖ کی سنت کو ترک کردیا گیا ہے ۔

اے خدا! اپنے برگزیدہ بندوں کے تمام دشمنوںاوران لوگوں پر لعنت بھیج جو ان کے اس عمل سے راضی ہیں ،نیز ان کے ساتھیوں اور ان کے پیروکاروں پر لعنت بھیج اور اپنی رحمت سے دور کر ۔

امام نے اس دعا میں بڑی صراحت کے ساتھ امامت ورہبری کے مسئلہ کو جو خاندان پیغمبر  ۖ سے مخصوص ہے  بیان کیا ہے اور بتا یا ہے کہ ظالموں نے اسے غصب کرلیا ہے اس لئے حکومت بنی امیہ کے جائز اور شرعی ہونے کی نفی کرتے ہیں ۔

 


٣۔ پروردگارا! درود بھیج اہل بیت عصمت وطہارت پر کہ جن کو تو نے امت کی رہبری اور اپنے اوامر کو اجرا کرنے کے لئے منتخب کیا ہے اور اپنے علم کا خزانہ دار ،اپنے دین کا محافظ ونگہبان ،روئے زمین پر اپنا خلیفہ اور اپنے بندوں پر اپنی حجت قرار دیا اور اپنے ارادہ ومشیت سے ان کو ہر نجاست سے پاک وپاکیزہ اور دور رکھا اور انھیں اپنی بارگاہ میں پہونچنے اور بہشت میں داخل ہونے کا وسیلہ قرار دیا۔


پروردگارا ! تونے ہر زمانے میں کسی امام کے ذریعہ اپنے دین کی تائید و تصدیق فرمائی ہے کہ جس کو اپنے بندوں کا رہبر ، پیشوا اور قائد بنایاہے اور زمین پر مشعل ہدایت ، اپنی خوشنودی کا وسیلہ اور اس کی پیروی کو واجب قراردیاہے اور اس کی نافرمانی سے ڈرایاہے اور جس چیزکو انجام دینے کا حکم دیاہے اس کی اطاعت اور جس چیز سے منع کیاہے اس کو قبول کرنے کا حکم دیاہے اور یہ مقرر کیاہے کہ نہ کوئی شخص اس سے سبقت کرے اور نہ کوئی اس کی پیروی سے چشم پوشی کرے۔


نیز آپ نے اس دعا میں الٰہی نمائندوں اور خاندان نبوت کے اماموں کا خاص نقش اور ان کے امتیازات کو بیان کیاہے اس کے معنی یہ ہیں کہ بنی امیہ کی حکومت باحق اور جائز نہیں تھی ۔



[1].صحیفہ ٔ سجادیہ ، ترجمہ سید صدر الدین صدر بلاغی ، تہران ، دار الکتب الاسلامیة ، مقدمہ ، ص ٣٧ ۔

[2].الارشاد ، ص ۲۵۶

[3].الذریعہ الی تصانیف الشیعہ ، ج ۱۵ ، ص ۱۸۔۱۹

[4].متوکل بن ہارون راوی صحیفہ نے کہاہے کہ : '' ان دعاؤں کے ٧٥ باب تھے کے جن میں سے میں نے گیارہ باب کو فراموش کردیا اور ٦٠ اور کچھ باب کو حفظ کرلیا

[5].الذریعہ ، ج ۳ ، ص ۳۴۵۔۳۵۹

[6].وہی منبع