Monday, 17 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 7

کل 9

اس هفته 7

اس ماه 180

ٹوٹل 22021

تحریر: سیدہ سائرہ بانو
Email: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 گذشتہ صدی کے آئینہ میں براعظم ایشیا کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس تمام عرصہ میں انقلابی فکر اور قیادت نے خصوصاً مسلمانوں کو ایک نئی کیفیت سے آگاہ کیا۔ برصغیر اور خلافت عثمانیہ کے واقعات نے گذشتہ صدی کے اوائل سے ہی دنیا کو اپنی جانب متوجہ کر لیا تھا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم اسلامی ملک کی حکومت ایک عظیم انقلاب برپا کرنے والوں کے لئے راہ ہموار کر رہی تھی۔ کسے خبر تھی کہ بیسویں صدی میں ایک ایسا شخص پیدا ہوگا جو عوام کی فکر میں ایک نئی روح پھونکے گا اور ’’مرد انقلاب‘‘ کہلائے گا۔ آیت اللہ العظمٰی سید روح اللہ خمینیؒ وہ تاریخ ساز نام ہے، جس نے انقلاب کی جنگ استقامت کے ساتھ لڑی۔ یہ حقیقت ہے کہ جب فریقین میں فکر کا تضاد ہو تو کربلا جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں، کوئی یزید بن جاتا ہے تو کوئی حسین ؑ !! ایسا ہی ایک واقعہ گذشتہ صدی کے دوران ایران میں رونما ہوا، جس نے انقلاب اسلامی کی راہ ہموار کی۔

تحریر: ثاقب اکبر

 فروری 1979ء میں ایران کا اسلامی انقلاب امام سید روح اللہ الموسوی الخمینی کی قیادت میں کامیاب ہوا۔ یہ اپنی نوعیت کا عصر جدید میں منفرد انقلاب تھا۔ اس انقلاب نے سرمایہ داری اور اشتراکی نظام کی گرفت میں بٹی دنیا میں ایک ہمہ گیر ارتعاش برپا کر دیا۔ یہ انقلاب معاشی یا کسی اور مادی بنیاد پر رونما نہیں ہوا تھا۔ یہ استبداد و استعمار کے خلاف اور اخلاقی و انسانی اقدار کے پامالی کے خلاف ایک انقلاب تھا، جس کی قیادت روحانی شخصیات کر رہی تھیں، جن میں قائد انقلاب امام خمینی سب سے آگے تھے۔ یہ انقلاب چونکہ دین اسلام کی آفاقیت پر یقین رکھتا تھا اور اسی آفاقیت کا علمبردار بھی تھا، اس لئے وحدت اسلامی کا نظریہ اس کے جوہر میں موجود تھا۔ قرآن و سنت مسلمانوں کے اتحاد و وحدت کے ترجمان اور مبلغ ہیں۔ قرآن مسلمانوں کو بھائی بھائی قرار دیتا ہے اور تفرقے سے روکتا ہے۔ سنت مسلمان کو حکم دیتی ہے کہ وہ اپنی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان کو اذیت نہ پہنچائے۔ سنت کا تصور پوری امت مسلمہ کے لئے یہ ہے کہ وہ جسم واحد کی طرح ہے۔ جب قرآن و سنت کی یہ تعلیم ہو تو ایک حقیقی اسلامی انقلاب اور اس کی قیادت کو امت واحدہ اور کلمہ توحید کا پرچم بردار ہونا ہی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ امام خمینی نے پہلے دن سے مسلمانوں کو اتحاد ووحدت کا پیغام دیا۔

 تحریر:ڈاکٹر سید قلب نواز سبزواری

 

 تاریخ گواہ ہے کہ عرب اور عجم کا جھگڑا بہت قدیم ہے ، یہود و نصاریٰ کی سازشوں کے باعث سعودی عرب اور ایران کی سرد جنگ جو عرصہ دراز سے جاری تھی، آیت اللہ شیخ باقر النمر(ممتاز عالم دین) کو سعودی حکومت کی جانب سے عوام کے حقوق اور ان کے برحق مطالبات کی حمایت کی پاداش میں پھانسی دئیے جانے کے بعد سے سعودیہ ایران اختلافات کھل کر اقوام عالم کے سامنے آگئے ۔جس سے مسلم دنیا میں بحران شد ت اختیار کر گیا۔اس بحران سے نکلنے کیلئے جو راستے اختیار کئے جارہے ہیں وہ اُمت مسلمہ کو مزید تباہی کی طرف لے جاسکتے ہیں ۔

 

آیت اللہ باقر نمر النمرکا سر قلم کئے جانے کے بعد سعودی عرب دنیا بھرکے ممالک سے آنے والے رد عمل سے نالاں ہے۔ اس واقعہ کے بعد اسلامی ممالک سمیت دنیا بھر کے دیگر ممالک سے آنے وا لے سعودی مخالف احتجاج کو اپنے ملک کے قوانین پر عملدرآمد میں مداخلت تصور کرتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خود سعودی عرب یمن ،بحرین اور شا م ،مصر اور لیبیامیں مداخلت کو اپنا حق تصو ر کرتا ہے اورتاحال ان ممالک میں سعودی عرب کی مداخلت جاری ہے اس دوہرے معیار پر برادر اسلامی ملک پر سوالات بھی اُٹھ رہے ہیں۔ جبکہ تہران اور مشہد میں آیت اللہ باقر نمر النمر کی شہادت کے بعد ایران کی عوام نے سفارتخانہ کو آگ لگا کر اس کشیدگی کو مزید بڑھاوا دیا جس کے بعد ایرانی صدر نے معذرت کرتے ہوئے ذمہ داران کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کابھی اعلان کیا۔

سعودی عرب کے مذہبی پیشوا آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کو سزائے موت دینے کے آل سعود کے جرم نے بہت سے ایسے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں کہ جن کا باریکی سے جائزہ لینے اور تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے- سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شیخ نمر کو اس حساس دور میں کیوں شہید کیاگیا- ؟ کیا سعودی عرب کے حکمرانوں کی امتیازی پالیسیوں پر شیخ نمر کی تنقید ریاض کے لئے اتنا بڑا خطرہ بن گئی تھی کہ سزائے موت کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہ گیا تھا؟گذشتہ دو دنوں سے سعودی عرب سے وابستہ عرب ٹی وی چینل اپنے تمام تجزیوں اور رپورٹوں کا رخ اس موضوع پر مرکوز کئے ہوئے ہیں کہ سعودی عرب میں جو کچھ ہوا اس کی جڑیں ایران میں ہیں-

 تحریر : اجمل حسین قاسمی

صحیفہ سجادیہ اما م زین العابدین علیہ السلام کے دعاوں کا گرانقدر مجموعہ ہے اور شیعہ مکتب کی سب سے پہلی اور قدیمی ترین دعاوں کی کتاب ہے جو روز اول سے اب تک شیعہ علماء و بزرگان کی توجہ کا مرکز رہی ہے ۔ صحیفہ سجادیہ صرف ایک کتاب نہیں بلکہ انسان سازی اور تہذیب نفس کے لئے ایک مکتب ہے جس کا عنوان دعا ہے مگر امام سجاد علیہ السلام نے دعا کی صورت میں معارف الہی ، توحید ، معاد ، نبوت ، امامت کو بیان کیا ہے ۔

 

مرجع فقید مرحوم آیت اللہ العظمیٰ نجفی مرعشی قدس سرہ نے ١٣٥٣ ھ میں علامۂ معاصر مؤلف تفسیر طنطاوی (مفتی اسکندریہ)کی خدمت میں صحیفۂ سجادیہ کا ایک نسخہ قاہرہ روانہ کیا ،انھوں نے اس گراں قدر ہدیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جواب میں اس طرح تحریر فرمایا ہے

یہ ہماری بد نصیبی ہے کہ یہ گراں قدر کتاب جو میراث نبوت سمجھی جاتی ہے اب تک ہم اس سے محروم تھے اور میں جتنا بھی اس میں مشاہدہ اور غورو فکر کرتا ہوں اسے کلام مخلوق سے افضل وبرتر اور کلام خالق سے کمتر پاتا ہوں ۔[1]

 

حضرت امام سید سجاد  کا طریقۂ تبلیغ دعا کے پیکر میں اسلامی معارف کا بیان کرنا ہے ۔ہم جانتے ہیں کہ دعا انسان اور پروردگار کے درمیان معنوی پیوند اور لگاؤ ہے جو تربیتی اور اخلاقی اثر کی حامل ہے ،اس اعتبار سے کہ اسلام کی نظر میں دعا کا ایک خاص مقام ہے اور اگر پیغمبر اسلام  ۖوائمۂ معصومین (علیہم السلام )کی طرف سے جو دعائیں ہم تک پہونچی ہیں جمع کردی جائیں تو ایک بہت بڑا مجموعہ ہوجائے گا ۔یہ دعائیں عظیم تربیت کا ایک مکتب ہے جو انسانوں کے رشد ونما اور ان کی اخلاقی تربیت میں ایک اہم نقش کی حامل ہیں ۔