Wednesday, 19 June 2019

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 10

اس هفته 20

اس ماه 180

ٹوٹل 27171

 

تحریر:محمداعجاز نگری

تمہید:

   انسان جس سرزمین یا قوم و قبیلے میں زندگی بسر کر رہا ہے اس سے محبت کرتا ہے ۔ یہ  نہ صرف عیب اور برا نہیں بلکہ بہت ساری معاشرتی مشکلات کے حل ہونے کا باعث بھی بنتی ہے چونکہ انسان اگر وطن ، قوم اور لوگوں سے محبت نہ رکھے تو ان کی کامیابی ، دفاع ، ہدایت اور اعلیٰ اقدار کے مالک بننے کے لئے کوئی عملی اقدام نہیں کرے گا جبکہ معاشرے کا ہر فرد اگر اسی طرح بے پروا رہے گا تو وہ معاشرہ ہر طرح کی ترقی (دینی ،علمی،معاشرتی ، سیاسی و غیرہ)سے قاصر رہے گا اس لئے قوم و وطن سے محبت کرنا بھی ضروری ہے جیسا کہ روایات میں وطن سے محبت کرنے کو  ایمان کی نشانی قرار دیا گیا ہے۔ یا بعض روایات میں ملتا ہے کہ وطن سے محبت رکھنے سے ہی وہ آباد ہوتے ہیں  ۔لیکن بعض روایات میں قوم و قبیلے کو ترجیح دینے یا قوم پرستی کی مذمت ہوئی ہے تو اسلام کی نگاہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم اپنی قوم کے سا تھ کیسا سلوک اختیار کریں اسلام میں قوم پرستی کے لئے کوئی حد بندی ہوئی ہے یا نہیں؟