Monday, 17 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 7

کل 9

اس هفته 7

اس ماه 180

ٹوٹل 22021

 

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ایک حالیہ رپورٹ میں ایک بات پھر اس بات کی نشاندہی کی ہے جو ہم پہلے سے ہی جانتے ہیں یعنی یہ کہ پاکستان میں فرقہ ورانہ تشدد ناقبل قبول حد تک بڑھ گیا ہے- ایچ آر سی پی، 2013 میں دو سو سے زائد فرقہ ورانہ حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 687 بتاتی ہے جو کہ 2012 کے مقابلے میں بائیس فیصد زیادہ ہے-

ہر حملے کے بعد، چاہے وہ کسی بھری پھری سڑک پر ٹارگٹ کلنگ ہو، کسی دوردراز کی تحصیل میں ہجوم کا تشدد، ہزارہ برادری کے قتل عام ہوں یا گرجا گھروں کی تباہی، ہم یہی سمجھنے لگتے ہیں کہ ہم نے بدترن دیکھ لیا اور اس بربریت سے زیادہ بھیانک کیا ہو سکتا اور اس کے بعد کچھ نہ کچھ پھر ہو جاتا ہے اور شاید پہلے سے زیادہ تباہ کن-

 

تاریخ کا سب سے پہلا کیمیا دان اور عظیم مسلمان سائنسدان جابر بن حیان جس نے سائنسی نظریات کو دینی عقائد کی طرح اپنایا ۔ دنیا آج تک اسے بابائے کیمیا کے نام سے جانتی ہے ۔ اہل مغرب ’’Geber ‘‘کے نام سے جانتے ہیں ۔ جابر بن حیان کو کیمیا کا بانی مانا جاتا ہے ۔وہ کیمیا کے تمام عملی تجربات سے واقف تھا۔


پیدائش 731ء اور مقام طوس یا خراسان ۔ جابر کا تعلق عرب کے جنوبی حصے کے ایک قبیلے اذد سے تھا۔ ان کی پیدائش ان کے باپ کی جلاوطنی (ايک روايت کے مطابق وفات) کے دوران ہوئی ۔ بہت چھوٹی عمر میں ہی باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا تو ان کی ماں نے ان کی پرورش اور تعلیم و تربیت کی۔ ہوش سنبھالا تو ماں انہیں کوفہ کے مضافات میں اپنے ميکے پرورش پانے کے لئے بھیج دیا۔ لہذا اچھی تعلیم حاصل کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔

 

جب عصر حاضر میں، اس پیشرفت زمانے میں، جدید ٹکنالوجی نے اسلام کے متعلق ریسرچ کے ذرائع کثرت سے ہموار کر دئے تو عیسائی جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے۔ ایسے میں عالمی استکبار کے پاس سوائے اس کے کوئی دوسرا چارہ کار نہیں بچا تھا جس کے ذریعے وہ غیر مسلمانوں کو اسلام سے متنفر کر سکیں۔ ان کے پاس صرف ایک ہی چارہ کار تھا کہ وہ خود مسلمانوں کے درمیان ایسا فرقہ پیدا کریں جو بظاہر مسلمان ہوں لیکن باطنی طور پر ان کے مقاصد کو پورا کرتے ہوں۔ وہابیت امریکہ اور عالمی استکبار کا پیدا کردہ فرقہ ہے جس کا مقصد صرف محمدی اسلام کو نابود کرنا اور امریکی اسلام کو دنیا میں نافذ کرنا ہے۔

 

کتاب الکافی شیعہ مصادر حدیث میں سے سب سے بڑا اور سب سے معتبر مصدر ہے اس عظیم کتاب کے مؤلف شیخ جلیل محمد بن یعقوب الکلینی  ہیں جن کی کنیت ابو جعفر الاعور ہے .شیخ کلینی قدہ نے غیبت صغریٰ کے زمانہ میں اپنی زندگی گزاری اور آپ سفراء اربعہ ( ۱ جناب ابو عمر عثمان بن سعید الاسدی ؓ ۲ ابو جعفر محمد محمد بن عثمانؓ ۳ الشیخ ابو القاسم الحسین بن روح النوبختیؓ ۴ الشیخ ابو الحسن علی بن محمد السمریؓ ) اور آپ نے سفیر رابع کی وفات سے تقریبا ایک سال پہلے ۱۴۲۸ھ میں وفات پائی .

 

  

تحریر:ایم-اے-حیدر

 

تمہید :

 (لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُواْ الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُواْ) 

  قرآن کریم یہودیوں اور مشرکین کو اہل ایمان کا بدترین دشمن قرار دیتا ہے اور عملی طور پر بھی ہر عصر میں ثابت ہو چکا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہونے والی ہر سازش میں یہودی شریک رہے ہیں۔ان سطور میں عالمی سامراج کے اسرائیل کے تحفظ اور حمایت میں کئےجانے والے اقدامات اور عزائم کے طرف اشارہ کیا جائے گا۔