Monday, 22 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 10

کل 11

اس هفته 10

اس ماه 235

ٹوٹل 21531


 
تحریر: نذر حافی
This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
کچھ لوگ آج بھی جب قیام پاکستان کا ذکر کرتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں آگ اور خون کا دریا پھرسے جوش مارنے لگتا ہے ،ان کی سانسوں میں پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ کے نعرے کی مہک گردش کرنے لگتی ہے،ان کی رگوں میں شہداء تحریک پاکستان کی محبت پھرسےدوڑنے لگتی ہے اور ان کی زبان سےقیام پاکستان کےان لمحات کا ذکرآج بھی سامعین کو مضطرب اور مسحور بنا دیتاہے۔چونکہ ہمارے اور تحریک قیام پاکستان کے درمیان کافی فاصلہ ہے اس لئے ہم لوگوں کو قیام پاکستان کے بجائے دہشت گردٹولوں کے قصے سناتے رہتے ہیں.

 

وینا ملک کی شادی کی تقریب میں حضرت علی علیہ سلام اور خاتون جنت سیدہ فاطمۃ الذھرہ سلام اللہ علیھا کی شادی کے سہرے کی منقبت پڑھے جانے اور اس دوران ہونے والے معاملات کو اے آر وائی کے اینکر مبشر لقمان نے جو رنگ دیا اور اس حوالے سے جیو اور جنگ گروپ کو رگیدنے کے لیے جو طریقہ کار اختیار کیا اس سے براہ راست فائدہ شیعہ کی نسل کشی میں ملوث دیوبندی تکفیری گروہ اہل سنت والجماعت اور دیگر تنظیموں کو ہوا.

 

تحریر : اجمل حسین قاسمی

گلگت بلتستان  دنیا کے مشہور و معروف بلند و بالا پہاڑوں  کوہ ہمالیہ ،کوہ ہندوکش اورکوہ قراقرم کے بیچ میں محصور ایک خوبصورت اور حساس خطہ ہے ۔  گلگت بلتستان کے غرب شمال میں افغانستان،  شرق شمال میں چین  اور تاجکستان  ، شرق جنوب میں   ہندوستان  واقع ہے ۔ دنیا کا دوسرا بلند ترین پہاڑ (کے – ٹو )، نانگا پربت اور راکا پوشی بھی اسی علاقے میں موجود ہیں ۔

ایک زمانہ ایسا تھا جب گلگت  بلتستان میں  بے مثال امن و اخوت، بھائی چارہ، محبت اور اتحاد پایا جاتا تھا ۔ یہاں شیعہ سنی اختلافات کا کوئی  تصور ہی نہیں تھا۔  شیعہ سنی سب مل جل کر بھائیوں کی طرح  رہتے تھے۔   ایک دوسرے سے   رشتہ داریاں تھیں ۔ خوشی وغم اور  دکھ درد میں سب شریک ہوتے  تھے 

 

تحریر:سید تصور کاظمی

خصوصی تحریر:بمناسبت برسی شہدائے سانحہ گلگت بلتستان 1988ء

 

حق اور باطل کے درمیان معرکہ صدیوں سے چلا آ رہا ہے مگر فتح ہمیشہ حق ہی کو نصیب ہوئی ہے اور باطل کو ہمیشہ ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ قیام پاکستان کا بنیادی مقصد ایک ایسے ملک کا قیام تھا جہاں پر تمام مسلمان بلا تفریق مذہب و مسلک اور رنگ ونسل اپنے اپنے مذہبی عقائد آزادی کے ساتھ سرانجام دے سکیں۔ مگر افسوس صد افسوس کہ قیام پاکستان سے آج تک اس ملک کے لئے بیش بہا قربانیاں دینے والی ملت تشیع کو ہمیشہ ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ اور اس ملک عزیز میں ملت تشیع سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کا بیگناہ خون بہایا جاتا رہا اور اب تک ہزاروں کی تعداد میں شیعہ علماء، ڈاکٹرز، انجنیئرز، وکلاء، پروفیسرز اور دیگر اعلٰی عہدیداروں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے بیگناہ مومنین کو اس لئے چن چن کر شہید کیا گیا ہے کیونکہ وہ ملت جعفریہ سے تعلق رکھتے تھے اور قیام پاکستان کے مخالفین نہیں چاہتے تھے کہ یہ ملک صحیح معنوں میں ایک اسلامی فلاحی مملکت کا روپ دھارے اور یہ ملک ترقی کی اعلٰی منازل کو طے کرتے ہوئے اقوام عالم کے سامنے ایک ترقی یافتہ ملک بن کر ابھرے۔

 

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ایک حالیہ رپورٹ میں ایک بات پھر اس بات کی نشاندہی کی ہے جو ہم پہلے سے ہی جانتے ہیں یعنی یہ کہ پاکستان میں فرقہ ورانہ تشدد ناقبل قبول حد تک بڑھ گیا ہے- ایچ آر سی پی، 2013 میں دو سو سے زائد فرقہ ورانہ حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 687 بتاتی ہے جو کہ 2012 کے مقابلے میں بائیس فیصد زیادہ ہے-

ہر حملے کے بعد، چاہے وہ کسی بھری پھری سڑک پر ٹارگٹ کلنگ ہو، کسی دوردراز کی تحصیل میں ہجوم کا تشدد، ہزارہ برادری کے قتل عام ہوں یا گرجا گھروں کی تباہی، ہم یہی سمجھنے لگتے ہیں کہ ہم نے بدترن دیکھ لیا اور اس بربریت سے زیادہ بھیانک کیا ہو سکتا اور اس کے بعد کچھ نہ کچھ پھر ہو جاتا ہے اور شاید پہلے سے زیادہ تباہ کن-