Saturday, 20 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 12

اس هفته 75

اس ماه 214

ٹوٹل 21510

جب امریکہ کے دوراندیش حضرات اور تھنک ٹینکس امریکی سیاست خارجہ وضع کر رہے تھے تو انہوں نے اپنی پوری توجہ ایک لفظ پر مرکوز کر دی یعنی "برتری"۔ امریکی پالیسی میکرز کیلئے اس لفظ کا معنی "وسیع پیمانے پر مکمل تسلط" پر مبنی تھا۔ سڑکوں پر یہی کہا جاتا تھا کہ "اس کے بارے میں نہ سوچو" لیکن مغربی فلموں میں مختلف قسم کے مفاہیم اور تصورات پیش کئے جاتے تھے۔ مثال کے طور پر ایک رائج فلمی ڈائیالوگ یہ تھا: "تمہارے خیال میں یہ شہر ہمارے لئے بہت چھوٹا نہیں۔؟" مختصر یہ کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے "برتری" کا لفظ استعمال کیا، کیونکہ امریکی پالیسی میکرز کا عقیدہ یہ تھا کہ تمام دنیا والوں کو ان کے قوانین اور مطالبات کی پیروی کرنی چاہئے۔ لیکن ان دنوں ایک نئی عبارت سننے کو ملتی ہے۔ کوئی نظریہ دکھائی نہیں دیتا، لیکن عبارت نئی ضرور ہے۔ "عالمی لیڈرشپ کیلئے تگ و دو نے ہمیں ویت نام، افغانستان اور عراق جیسی دلدلوں میں پھنسا ڈالا اور ہمارے لئے بہت سی مشکلات جنم دیں"؛ "اس خطرناک ڈاکٹرائن نے عالمی سطح پر امریکی طاقت کو کمزور کر دیا ہے۔"

 امت مسلمہ میں ایک سب سے خطرناک مسئلہ تکفیر کا ہے ۔ وہابی تکفیری ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب کے غلط عقائد کی بنیاد پر دیگر مسلمانوں پر شرک کا الزام عائد کرتے ہیں۔ اور اسی بنیاد پر مسلمانوں کے قتل کے احکام صادر کرتے ہیں۔  تکفیری ایک ایسا فرقہ ہے، جس کی بنیاد صرف پچاس سال قبل مصر میں ڈالی گئی تھی۔ اس فرقہ کے لوگ اپنے آپ کو تکفیر والھجرہ بھی کہتے ہیں۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ ان کے علاوہ تمام مسلمان اللہ کے راستے سے بھٹک گئے ہیں اور اللہ کے راستے سے بھٹک جانے والا ہر شخص واجب القتل ہے۔اس فرقہ کا قیام 1960میں ہوا تھا، لیکن 1977تک عام لوگوں کو اس فرقہ کے قیام کے بارے میں معلومات نہیں تھیں۔ اس فرقہ کا بانی مصری نژاد شکری مصصفی نام کاایک زرعی سائنسداں تھا ، جس نے Society of Muslims ) یا ( مسلم سماج) کے نام سے ایک گروہ بنایا اور بہت ہی خفیہ طریقے سے اپنے مشن کی شروعات کی۔اس شخص نے اپنے گروہ کے درمیان یہ بات پھیلائی کہ تمام مسلمان مرتد ہو گئے ہیں، یعنی اللہ کے راستے سے بھٹک گئے ہیں اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعلق نہیں رکھنا چاہیے۔ تکفیری دہشت گرد گرد گروہ ، علاقے کی بعض حکومتوں اور عالمی طاقتوں کی حمایت سے ، عالم اسلام میں اختلاف ڈالنے ، مشرق وسطی کے علاقے میں بدامنی پھیلانے ، مسلمانوں کا قتل عام کرنے اور مسلم جوانوں کے درمیاں خرافاتی عقائد کی ترویج میں کوشاں ہیں ۔ اس وقت تکفیریوں کی سرگرمیوں میں تیزی آنے کے سبب وسیع پیمانے پر مختلف ملکوں  خاص طور پر شام میں وحشیانہ قتل عام انجام پارہا ہے جس سے ہر حریت پسند ، آزاد منش اور خدا پرست انسان کا دل لرز اٹھتا ہے ۔ تکفیری عناصر اسلام کے نام پر ، جو الفت و محبت سے  سرشار دین ہے ، انتہائي تشدد انجام دے رہے ہیں اور وہ اسلام کے حقیقی ، زیبا اور پرکشش چہرے کو اقوام عالم کے سامنے بگاڑ کر پیش کررہے ہيں ۔ جبکہ ان کی سرگرمیاں اسلامی تعلیمات کے عین خلاف ہيں ۔ مسلم دانشوروں کی نظر ميں اس نٹ ورک پر کنٹرول پانا انتہائي ضروری مسئلہ بن گيا ہے ۔ 

تحریر : سید اظہار مہدی بخاری

 ایران کے اسلامی انقلاب کو اگر ایک ملک میں تبدیل ہونے والے نظام کی حد تک دیکھا جائے تو شاید اس میں معمولی خاصیتیں نظر آئیں یا صرف خطے اور ملک کے حوالے سے تبدیلیاں نظر آئیں لیکن انقلاب اسلامی ایران کو اس کی فکر، اس کی قیادت، اس کے نظریے، اس کے انداز اور اس کے استقلال و استحکام کے حوالے سے دیکھا جائے تو ہمیں یہ انقلاب ایک خطے اور ملک کا انقلاب نہیں بلکہ پوری دنیا پر محیط انقلاب نظر آتا ہے جس کا تعلق کسی ایک ملک کے باشندوں سے نہیں بلکہ دنیا میں رہنے والے تمام انسانوں کے قلوب کی تبدیلی سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انقلاب اسلامی ایران سے دنیا بھر کے انسان متاثر ہوئے اور اس انقلاب کے عالم اسلام میں بالخصوص اور دیگر اقوام و مذاہب میں بالعموم مثبت اور حریت پر مبنی اثرات مرتب ہوئے اور ہمارے موجودہ ادوار میں موجود انقلابیوں، حریت پسندوں اور خودداروں کو اس انقلاب سے بہت رہنمائی اور حوصلہ ملا۔


انقلاب اسلامی ایران کے قیام کے آغازکے دنوں میں بعض قوتوں نے کہا کہ یہ جذباتی انقلاب ہے جو چاردنوں کے بعد ختم ہوجائے گا۔ بعض قوتوں نے کہا کہ یہ ایک فرقے اور مسلک کا انقلاب ہے جو صرف اس مسلک کے پیروکاروں تک محدود ہوکر رہ جائے گا۔ بعض قوتوں نے کہا کہ یہ انقلاب فقط ایک خطے کے ساتھ متعلق ہے لہذا جلد ختم ہوجائے گا۔ بعض قوتوں نے کہاکہ یہ انقلاب فقط امریکی مخالفت پر مبنی ہے لہذا اس کو پائندگی حاصل نہیں ہوسکے گی۔ بعض قوتوں نے کہا کہ یہ انقلاب چند مولویوں کا برپا کیا ہوا ہے جو چند دنوں بعد باہم دست وگریباں ہوجائیں گے۔ بعض قوتوں نے کہا کہ یہ انقلاب فقط ’’ امام خمینی شو‘‘ ہے جو ان کی وفات کے ساتھ ختم ہوجائے گا۔ بعض قوتوں نے کہا کہ یہ ایک نسل تک محدود ہے نئی آنے والی نسل کے ساتھ ہی یہ انقلاب اپنے انجام کو پہنچ جائے گا۔ بعض قوتوں نے کہا کہ یہ جبری اور ڈنڈے کے زور پر آنے والا انقلاب ہے جسے جلد ہی عوام مسترد کردیں گے۔ بعض قوتوں نے کہا کہ یہ بادشاہت کے خلاف نفرت کی بنیاد پر آنے والا انقلاب ہے جس کو عوام جلد ہی خود ختم کردیں گے۔ بعض قوتوں نے کہا کہ ملک چلانا اور عالمی سطح پر شناخت قائم رکھنا مذہبی طبقے کے بس کا روگ نہیں ہے لہذا عوام جلد ہی مذہبی طبقے سے تنگ آکر انہیں اقتدار سے علیحدہ کردیں گے۔

اداریہ روزنامہ جنگ

 پاکستان اور ایران مذہب، تاریخ، تہذیب، ثقافت اور ہمسائیگی کے دیرینہ رشتوں میں منسلک برادر مسلم ملک ہیں۔ ددنوں ہر طرح کے حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے رہے ہیں۔ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد سب سے پہلے ایران ہی نے اسے تسلیم کیا اور انجمن اقوام متحدہ میں اس کی رکنیت کی وکالت کی۔ پاک بھارت جنگوں میں ایران نے کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا جبکہ ایران عراق جنگ کے دوران پاکستان نے دونوں مسلم ملکوں میں جنگ ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم ایران کے جوہری پروگرام پر مغربی دنیا کے شدید تحفظات کی بناء پر اقوام متحدہ کی جانب سے اس پر تقریباً دس سال پہلے پابندیاں عائد کئے جانے کا سلسلہ شروع ہونے کے نتیجے میں عالمی ادارے کا رکن ہونے کے سبب پاکستان کو بھی ایسا کرنا پڑا۔ لیکن ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایٹمی پروگرام پر سمجھوتہ طے پا جانے کے باعث گذشتہ ماہ کے وسط میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران پر لگائی گئی پابندیوں کے خاتمے کی منظوری دے دی، جس کے بعد پاکستان کے لئے بھی ایران پر عائد پابندیاں اٹھا لینے کی راہ ہموار ہوگئی۔ چنانچہ گذشتہ روز پاکستان نے بھی ایران کے خلاف عائد کی جانے والی تمام پابندیاں اٹھا لی ہیں۔ یہ فیصلہ جمعرات کو وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحق ڈار کے زیر صدارت بین الوزارتی اجلاس میں کیا گیا۔

تحریر: سیدہ سائرہ بانو
Email: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 گذشتہ صدی کے آئینہ میں براعظم ایشیا کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس تمام عرصہ میں انقلابی فکر اور قیادت نے خصوصاً مسلمانوں کو ایک نئی کیفیت سے آگاہ کیا۔ برصغیر اور خلافت عثمانیہ کے واقعات نے گذشتہ صدی کے اوائل سے ہی دنیا کو اپنی جانب متوجہ کر لیا تھا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم اسلامی ملک کی حکومت ایک عظیم انقلاب برپا کرنے والوں کے لئے راہ ہموار کر رہی تھی۔ کسے خبر تھی کہ بیسویں صدی میں ایک ایسا شخص پیدا ہوگا جو عوام کی فکر میں ایک نئی روح پھونکے گا اور ’’مرد انقلاب‘‘ کہلائے گا۔ آیت اللہ العظمٰی سید روح اللہ خمینیؒ وہ تاریخ ساز نام ہے، جس نے انقلاب کی جنگ استقامت کے ساتھ لڑی۔ یہ حقیقت ہے کہ جب فریقین میں فکر کا تضاد ہو تو کربلا جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں، کوئی یزید بن جاتا ہے تو کوئی حسین ؑ !! ایسا ہی ایک واقعہ گذشتہ صدی کے دوران ایران میں رونما ہوا، جس نے انقلاب اسلامی کی راہ ہموار کی۔