Wednesday, 19 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 12

کل 35

اس هفته 61

اس ماه 234

ٹوٹل 22075

  تحریر : محمد اعجاز نگری

قال رسول الله  :( حسین منی وانا من حسین ، احب الله من احب حسینا سبط من الاسباط)(1) ۔ ترجمہ : نبی مکرم  نے فرمایا : حسینؑ مجھ سے ہے اور میں حسینؑ سے ہوں ، خدایا جو حسینؑ سے محبت کرے ؛ تو اس سے محبت کر ، حسین بیٹوں میں سے ایک بیٹا ہے ۔ امام حسین ؑ تین شعبان المعظم چوتھی ہجری قمری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے(2)  اور روز عاشوراء ( دس محرم  ۶۱ھ ق ) کو کربلا معلّی میں شہید ہوگئے  ۔ (3)

 

نبی اکرم  کی امام حسین ؑ  سے محبت :


حضرت رسول خدا  اپنے فرزند ارجمند امام حسین ؑ سے بے انتہا محبت کیا کرتے تھے آپ  کے نزدیک امام حسین ؑ کی شان اور منزلت بہت زیادہ تھی ۔ اس سلسلہ میں آپ  کی بعض احادیث مندرجہ ذیل ہیں :

۱۔  جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ رسول کا فرمان ہے : (من اراد ان ینظر الی سید الشباب اھل الجنة فلینظر الی الحسین بن علی  ) ۔(4)(جو شخص جنت کے جوانوں کے سردار کو دیکھنا چاہتا ہے وہ حسین بن علیؑ کے چہرے کو دیکھے )۔


۲۔  یعلی بن مرۃ سے روایت ہے ، ہم نبی اکرم  کے ساتھ ایک دعوت میں جارہے تھے تو آنحضرت نے دیکھا کہ حسین ؑ کھیل رہے ہیں ۔ آپ نے کھڑے ہوکر اپنے دونوں ہاتھ امام ؑ کی طرف پھیلادئے ، آپ مسکرا رہے تھے اور کہتے جارہے تھے بیٹا ادھر آؤ ادھر آؤ یہاں تک کہ آپ نے امام حسین ؑ کو اپنی آغوش میں لے لیا ایک ہاتھ ان کی ٹھوڑی کے نیچے رکھا اور دوسرا سر  پررکھ کر ان کے بوسے لئیے اور فرمایا : ( حسین ؑ مجھ سے ہے اور میں حسینؑ سے ہوں ، خدایا جو حسینؑ سے محبت کرے تو اس سے محبت کر ، حسین ؑ بیٹوں میں سے ایک بیٹا ہے)۔


۳۔  یزید بن ابوزیاد سے روایت ہے : نبی اکرم عائشہ کے گھر سے نکل کر حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے بیت الشرف کی طرف سے گزرے تو آپ کے کانوں میں امام حسین ؑ کے گریہ کی آواز آئی تو آپ بے چین ہوگئے اور جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا سے فرمایا :( الم تعلمی ان بکائہ یوذینی) ۔(5) ( کیا تمہیں نہیں معلوم کہ حسین ؑ کے رونے سے مجھ کو تکلیف ہوتی ہے )۔

امام حسین ؑکے کمالات :


امام حسین ؑ مندرجہ ذیل کمالات کے حامل تھے :
۱۔ قوت ارادہ  ۲۔ ظلم و ستم سے منع کرنا  ۳۔ شجاعت  ۴۔ صراحت  ۵۔ حق کے سلسلے میں استقامت  ۶۔ صبر  ۷۔ حلم  ۸۔ تواضع ، وغیرہ


   امامؑ کے ان کمالات کو حضور کی مختلف تقریروں سے سمجھ سکتے ہیں جن میں قیام عاشورا کی وجوہات اور اسباب بھی بیان کئے گئے ہیں ۔
امام حسینؑ نے کربلا میں وارد ہونے سے پہلے "بیضہ" نامی مقام پر اپنے ساتھیوں اور حُر کے لشکر کے سامنے ایک خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں اپنی تحریک کے اسباب کو پہلے سے زیادہ روشن فرمایا ۔ آپ نے حاضرین کو سمجھایا کہ ان حالات میں میری ایک ذمہ داری ہے ضروری ہے کہ میں اس کی تکمیل کروں ۔ آج امت مسلمہ میں سے کوئی شخص اس قیام و انقلاب کیلئے مجھ سے زیادہ مناسب نہیں ہے۔ اس خطبہ میں امامؑ نے حمد و ثنائے الہی کے بعد فرمایا : اے لوگو ! رسولخدا  نے فرمایا : جو کوئی بھی یہ دیکھے کہ کسی حکومت نے ظلم و ستم کو اپنا پیشہ بنالیا ہے اور قوانین الہی سے تجاوز کرتی ہے ، خدا سے کئے گئے وعدوں کا پاس نہیں کرتی ، رسولخدا  کی سنت کی مخالفت کی جاتی ہے ، لوگوں کے درمیان گناہ ، ظلم وجور سے سلوک روا رکھا جاتا ہے پس اگر ایسی حکومت کے ظلم اور ناجائز کاموں پر کوئی بھی اپنی گفتار و عمل کے ذریعے اعتراض نہیں کرتا اور اس کو ان کاموں سے نہیں روکتا  تو  خدا کو حق ہے وہ اس شخص کو بھی اس ظالم اور ستمگر حکومت کے آلہ کاروں میں شمار کرے اور دونوں کو عذاب میں مبتلاء کرے ۔
       جان لو کہ یہ لوگ ( یزید اور اس کے چیلے ) شیطان کی پیروی کررہے ہیں اور اس سے جدا نہیں ہوتے انہوں نے خدا کی اطاعت کو پس پشت ڈال دیا ہے ، یہ الہی دستور کو اہمیت نہیں دیتے ہیں یہ لوگ اعلانیہ اسلام کو تباہ کررہے ہیں یہ حدود الہی معطل کرچکے ہیں ، مسلمانوں کے مال کو فقط اپنی ملکیت جانتے ہیں ، حرام خدا کو حلال اور حلال خدا کو حرام کردیا گیا ہے ۔ میں مسلمانوں میں سب سے زیادہ مناسب ہوں کہ یزید کو اس کے ان کاموں سے روکوں ۔۔۔ میں حسین بن علیؑ وابن فاطمہ بنت رسول اللہ  ہوں ۔ اس راہ جھاد و قیام میں آپ کے ساتھ رہوں گا میری عورتیں اور بچے آپ کی عورتوں اور بچوں کے ساتھ ہیں آپ لوگوں کو بھی چاہیئے کہ اس قیام میں میری پیروی کریں ۔ (6)


امام ؑ کی اس تقریر سے معلوم ہوتا ہے کہ ظلم اور فساد جہاں پر بھی ہو اس کے خلاف آواز بلند کرنا ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا ہر مسلمان اور پیرو امام ؑ پر فرض ہے ۔ نبی مکرم اسلام  کا یہ فرمان کہ ( انا من حسین ) (میں حسین ؑ سے ہوں) اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امام حسین ؑ تقبل میں اسلام اور دین محمدی  کی راہ میں قربانی دے کر رہتی دنیا  تک اسلام کو زندہ و جاوید کریں گے ۔ لہذا حقیقت میں نبی  حسین ؑ سے ہیں کیونکہ امام حسین ؑ نے ہی آپ  کے دین کو دوبارہ جلا بخشی ، ان طاغوتی حکومتوں کے چنگل سے رہائی دلائی جو دین کو مٹانا اور زندگی کو جاہلیت کے دور کی طرف پلٹانا چاہتے تھے اور امام حسین ؑ نے قربانی دے کر امویوں کی بنیادوں کو اکھاڑ پھینکا اور مسلمانوں کو ان کے ظلم و ستم سے آزاد کرالیا ۔ اسی ہدف کی خاطر امام حسین ؑ نے قیام کیا جس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے بہت سی مصیبتوں پر صبر کرنا پڑا ۔ امام ؑ نے جس سخت مصیبت پر صبر کیا وہ اسلام کے اصول اور قوانین پر عمل نہ کرنا تھا چونکہ معاشرے میں اسلام کا صرف نام ہی باقی رہ گیا تھا ، شریعت محمدی  مسخ ہورہی تھی آپ نے اس المیہ کا بھی مشاہدہ کیا کہ آپ کے پدر بزرگوار پر منبروں سے لعن و طعن کی جارہی تھی سب سے سخت مصیبت آپ نے صبر کیا وہ دس محرم الحرام تھی جس میں مصیبتیں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں بلکہ مصیبتیں آپؑکا طواف کررہی تھیں ۔ آپؑ اپنی اولاد اور اہلبیتؑ کے روشن اور منور ستاروں  کے سامنے کھڑے تھے ، جب ان کی طرف تلواریں اور نیزے بڑھ رہے تھے آپؑ ان سے مخاطب ہوکر ان کو صبر و استقامت کی تلقین کر رہے تھے : اے میرے اہلبیت ؑ ! صبر کرو ، اے میرے چچا کے بیٹوں ! صبر کرو اس دن سے زیادہ سخت دن نہیں آئے گا ۔

امام حسین ؑ پر عزاداری اور گریہ :


امام حسین ؑ اور آپ کے وفادار اصحاب پر عزاداری کرنا صرف شیعوں کے ساتھ مختص نہیں بلکہ اہل سنت بھی آپ ؑ کی شہادت پر غم و غصہ کا اظہار کرتے ہیں اگرچہ اظہار غم کی کیفیت مختلف ہے لیکن قاتلین حسین ؑ سے بیزاری کا اعلان سب نےکیا ہے ۔

پیغمبر اسلام کے دور میں امام حسین ؑ  پر عزاداری :


حضور اکرم کی سیرت سب مسلمانوں کیلئے نمونہ عمل ہے ۔ اہل سنت آپ ؑ کی سیرت کو حجت اور واجب الاتباع سمجھتے ہیں ان کے نزدیک امام حسین ؑ پر عزاداری کرنے کی تاریخ کا آغاز حضور اکرم کی پاک زندگانی کے دور سے ہی ہے ۔   تاریخی شواہد کے مطابق حضرت آدم ؑ سب سے پہلی وہ خصیت ہیں جنہوں نے امام حسین ؑ کے غم میں گریہ کیا اور ولادت امام ؑ کے بعد پیغمبر اسلام  نے اپنے نواسے حسین بن علی ؑ کی شہادت کی خبر دے کر آپ ؑ کی مظلومیت پر آنسو بہائے ۔


   اہل سنت کی معتبر کتابوں میں اس بات کا ذکر ہے کہ امام حسین ؑ نے ام سلمہ سے نقل کیا ہے کہ ام سلمہ نے فرمایا : جبرئیل امین حضور اکرم  کے پاس موجود تھے   آپ ؑ ( حسین ) میرے پاس تھے اور رونے لگے تو حضور  نے فرمایا : میرے فرزند کو زمین پر چھوڑ دو ۔ میں نے آپ ؑ کو زمین پر چھوڑ دیا اتنے میں حضور  نے آپ کو اپنی گود میں لیا  اس منظر کو دیکھ کر جبرئیل نے پوچھا ( یا رسول اللہ ) کیا آپ حسین سے محبت کرتے ہیں ؟ حضور  نے جواب دیا جی ہاں ۔ جبرئیل ؑ نے فرمایا : بے شک آپ کی امت اس کو قتل کردے گی ، کیا حسین ؑ کو قتل کئے جانے والی سرزمین کی مٹی دیکھنا چاہتے ہیں ؟ حضور  نے فرمایا : کیوں نہیں ۔ اتنے میں جبرئیل ؑ نے اپنا پر کھول دیا اور سرزمین کربلا کو دکھایا ۔۔۔ حضور اکرم  اس حالت سے نکل گئے ؟حالانکہ آپ ؑ کے ہاتھوں میں سرخ مٹی تھی ۔(7)


 اہل سنت کے معروف تاریخ نگار ابن سعد نے نقل کیا ہے کہ امام علی ؑ نے صفین کے ایک سفر میں کربلا سے عبور کیا جب قریہ نینوا تک پہنچے تو اتھیوں سے پوچھا کہ یہ جگہ کونسی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : کربلا ، کربلا کا نام سنتے ہی امام ؑ رونے لگے یہاں تک کہ آپ ؑ کے آنسو سے زمین تر ہوگئی پھر آپ ؑ نے فرمایا : ایک دن میں حضور اکرم  کی خدمت میں شرفیاب ہوا   اس وقت آپ  رورہے تھے ۔ میں نے پوچھا ( یا رسول اللہ ) آپ کو کیا چیز رُلا رہی ہے ؟ آپ  نے فرمایا : چند لمحے پہلے جبرئیل امین ؑ میرے پاس تھےاور مجھے خبر دی کہ فرات کے کنارے میرا فرزند حسین ؑ قتل ہوجائے گا جس کو کربلا کہا جاتا ہے پھر جبرئیل نے ایک مٹھی بھر مٹی مجھے دی جس کو سونگھ کر اپنے آنسو کو نہیں روک سکا ۔(8)


 عبداللہ بن وہب زمعہ سے مروی ہے : ام سلمہ نے مجھے خبر دی کہ رسول خدا  ایک رات آرام فرمارہے تھے اچانک پریشانی کی حالت میں اٹھے دوبارہ لیٹ گئے اور آپ  کو نیند آگئی پھر مضطرب اور پریشان ہوکر اٹھے ۔ اس دفعہ آپ کی پریشانی اور اضطراب پہلے کی نسبت زیادہ تھی تیسری مرتبہ پھر لیٹے اور اچانک نیند سے اٹھ گئے جبکہ آپ  کے ہاتھ میں سرخ رنگ کی مٹی تھی اور سونگھ رہے تھے ۔ میں نے عرض کیا ۔ اے اللہ کے رسول  !یہ مٹی کیا ہے ؟ حضور  نے جواب دیا :جبرئیل امین نے مجھے پیغام دیا ہے کہ اس کو (امام حسین ؑ کی طرف اشارہ کیا ) سرزمین عراق میں قتل کیا جائے گا ۔ میں نے جبرئیل ؑ سے کہا اس سرزمین کی مٹی مجھے دکھا دو جہاں میرا حسین ؑ شہید ہوجائے گا اور یہ مٹی اسی سرزمین کی ہے  ۔(9)


مندرجہ بالا اور دوسری روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل سنت کی نظر میں امام حسین ؑ کی شہادت کی پیشگوئی خود حضور اکرم  سے ہوئی ہے جبکہ آنحضرت  ، آپ کی زوجات اور امام علی ؑ امام حسین ؑ کی سوگواری میں آنسو بہاچکے ہیں ۔

عاشورا کے بعد سب سے پہلی عزاداری :


عاشورا کے بارے میں قدیمی ترین مکتوب اسناد کے مطابق اہل سنت اور شیعوں کی عزاداری حادثہ عاشورا کے فورا بعد سے ہی شروع ہوگئی تھی ابن جریر طبری نے اپنی کتاب میں یوں لکھا ہے : یزید کے لشکر نے جب امام حسین ؑ کے خاندان والوں کو قتلگاہ سے عبور کرادیا تو آپ کی بہن زینب نے اپنے بھائی کے بے سر بدن کو خون میں نہائے ہوئے دیکھ کر فریاد کی:(وامحمداہ ، یا محمداہ )، تیرے اوپر آسمان کے فرشتوں کا درود و سلام ہو یہ ( تیرا) سین ؑ ہے جو اس صحراء میں اپنے خون میں نہایا ہوا  پڑا ہوا ہے اور اس کے بدن کے اعضاء کٹے ہوئے ہیں یا محمداہ تیری بیٹیاں اسیر ہوئی ہیں اور تیرے بیٹوں کے سر کاٹے گئے ہیں ۔۔۔ )) جناب طبری نے لکھا ہے جب زینب سلام اللہ علیہا نے ان کلمات کو ادا کیا تو سارے موجود دوست اور دشمن رونے لگے ۔(10)


اس کتاب میں امام حسین ؑ کے مشہور دشمنوں میں سے ایک دشمن کے گھر میں عزاداری قائم ہونے کے بارے میں یوں لکھا ہے : جب خولی بن یزید زدی نے امام ؑ کے سر مبارک کو عمر سعد سے اس لئے لیا تاکہ وہ ( کوفہ میں ) عبیداللہ بن زیاد کو خوشخبری دے کر انعام دریافت کرے اور وہ سب سے پہلے کوفہ کی طرف روانہ ہوگیا جب کوفہ دارالامارہ پہنچا تو دروازہ بند ہوچکا تھا اس لئے اپنےگھر جاکر امام ؑ کے سر مبارک کو تنور یا صندوق میں رکھ دیا ۔ (رات کو )جب اس کی قبیلہ حضرمیہ سے تعلق رکھنے والی بیوی کو معلوم ہوا( کہ امام حسین ؑ کا سر مبارک تنور میں رکھا ہوا ہے) تو  آہ و نالہ کرتے ہوئے اس نے حادثہ عاشورا  اور امام ؑ کی مظلومیت پر روتے ہوئے گھر چھوڑ دیا ۔ (11)

عزاداریامام حسین ؑ اہل سنت کے شعراء کی نگاہ میں :


حادثہ عاشورا کے بعد،شعراء کی کثیر تعداد نے شعر و شاعری کی صورت میں امام حسینؑ پر عزاداری کی ہے البتہ بعض شعراء مشہور ہیں اور بعض نامعلوم جس کی وجہ امویوں کا علویوں کے ساتھ بدترین سلوک ہے۔ طبری نے اپنی کتاب تاریخ الامم والملوک میں یوں نقل کیا ہے۔


ایهاالقاتلون جهلاحسینا            ابشروابالعذابوالتنکیل
کل اهلالسماء یدعو علیکم       من نبی و ملائک و قبیل قد

لعنتم علی لسان ابن داؤد    موسی و حامل الانجیل(12)
 ترجمہ: اے حسینؑ کے قاتلو ! تمہارے لئے  عذاب اور درد کی خبر ہے ، سارے آسمان والے ، پیغمبر اور فرشتے تم کو نفرین کرتے ہیں اور اس سے پہلے فرزند داؤد اور کتاب مقدس انجیل کو لانے والے موسی ؑ کی زبان سے تم پر لعنت ہوئی ہے۔


     خالد بن معدان ان شعراء میں سے ہے جو اہلبیتؑ کو سرزمین شام میں لانے کے بعد امام حسینؑ اور شہداء کربلا کی مظلومیت سے متأثر ہوا   وہ اہل سنت کے نزدیک بزرگ تابعی میں سے شمار ہوتا ہے۔ واقعہ عاشوراء کے بعد جب اسیروں کے آگے آگے شہداء کربلا کے مبارک سر نیزوں پر رکھ کر شام میں داخل کئے گئے تو خالدبن معدان انتہائی غمگین ہو گیا جس کی وجہ سے ایک مہینہ تک لوگوں سے دور رہ کر عزاداری اور ماتم میں مشغول رہا۔ جب خالد کے دوستوں نے اس کو پایا تو یہ اشعار کہنے لگا :

جاؤهبرأسک یابن بنت محمد         مترملاً بدمائه ترمیلاً
وکانما یاابن بنت محمد            قتلوا جهاداً عامدین رسولا
قتلوک عطشانا ولمایرقبوا          فی قتلک التاویل والتنزیلا
و یکبرون بان قتلت و انما             قتلوا بک التکبیر والتهلیلا(13)
ترجمہ : اے دختر محمد کےدلبند (بنی امیہ ) آپ کے سر مبارک کو لے کر ( سرزمین شام ) آئے حالانکہ ( آپ کا سر مبارک ) اپنے خون میں آغشتہ تھا ۔ اے بنت محمد  کے دلبند آپ کے قتل سے ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر رسول اکرم  کو قتل کر دیا ہے ۔ آپ کو تشنہ لب شہید کردیا اور آپ کو قتل کرنے میں کسی آیت کی تاویل یا تنزیل کا خیال تک نہیں رکھا اور (دشمنوں نے ) آپ کو قتل کرتے ہوئے تکبیر کہی ، بے شک انہوں نے آپ کے قتل سے تکبیر اور تہلیل کو قتل کیا ۔ تاریخ کی کتابوں میں مذکورہ اشعار جیسے بہت شعرکہے جاچکے ہیں لیکن ہم اس مختصر تحریر میں اس سے زیادہ ذکر نہیں کرسکتے ۔

عزاداری کی موجیں :


    جناب شرف الدین موصلی اپنی کتاب میں لکھتےہیں کہ جب اس مصیبت (واقعہ عاشورا ) کی خبر سارے شہروں اور علاقوں تک پہنچ گئی تو وہاں پر سوگواری بھی زیادہ ہوگئی ۔۔۔ حسن بصری کا بدن زیادہ رونے کی وجہ سے لرزتا تھا اور کہتا تھا : پیغمبر اکرم  کی امت کیلئے کتنی عار اور شرم ہے کہ ایک حرام زادہ ، پیغمبر  کے بیٹے کو قتل کردے !(14)  اس کے بعد جناب موصلی صاحب نے اہلبیت ؑ کے مصائب ،  یزید کے لشکر کا شہداء کربلا کے اجساد کو بے لباس کرکے ان پر گھوڑے دوڑانے کا  تذکرہ کرکے کہتا ہے :سبق حاصل کرتے ہوئے حسنؑ  اور حسین ؑ پر رونا چاہیئے  ۔(15)

اہل سنت کے تاریخ نگار اور عاشورا کا تذکرہ :


    تیسری صدی ہجری میں عباسیوں کی طرف سے تعلیمات اہلبیت ؑ اور امام حسین ؑ کی یاد منانا خصوصا عاشورا کی مناسبت سے عزاداری کرنے کی شدید مخالفت ہوئی یہاں تک کہ متوکل عباسی نے ۲۳۶ ہجری کو روضہ اقدس امام حسین ؑ کی تخریب کرکے اس پر پانی کھول دیا ۔ اس طرح امام ؑ کے زائرین ور عزاداروں کو مختلف طریقوں سے تشدد کا نشانہ بنایا ۔


اہل سنت کے تاریخ نگاروں نے امام حسین ؑ اور آپ کے محبّوں کے مصائب کو تاریخ کی شکل میں بیان کیا اسی طرح حادثہ کربلا سینوں سے کتابوں تک منتقل ہوکر زندہ جاوید ہوگیا ۔


        اسلامی دانشمندوں میں سے جناب محمد ابن جریر طبری نے حادثہ عاشورا کو ، نقل کرنے میں صرف ابومخنف پر اکتفا نہیں کیا ہے بلکہ اہل بیت ؑ کی اسیری ، کوفہ کے واقعات اور عبیداللہ بن زیاد کے دربار میں لوگوں کا رونا ، اور شام میں پیش آنے والے واقعات کو بھی بیان کیا ہے جیسے دربار شام میں یزید کا سر مبارک امام حسین ؑ کی جسارت کرنا ، دربار میں موجود لوگوں کا یزید سے نفرت کرنا ، بعض شامیوں کا  اہل بیت ؑ سے ہمدردی کرکے عزاداری اور اشک بہانے کا بھی تذکرہ کیا ہے ۔(15) گویا طبری کے اس کام کو مقتل نگاری بھی کہہ سکتے ہیں۔

...................................................................................................

منابع :

(1)  ۔ سنن ابن ماجہ ، ج۱ ، ص ۵۴ ؛ مسند احمد حنبل ، ج۴ ، ص ۱۷۲ ؛ مستدرک حاکم ، ج۳ ، ص ۱۷۷ ۔

(2) طبقات الکبری ، ابن سعد ، ص ۱۳۔

(3)  ۔ اخبار الطوال ، احمد بن داؤد دنیوری ، ص ۲۵۳ ؛ کتاب جمل من انساب الاشراف ، بلاذری ، ص ۳۹۵۔

(4) سیراعلام النبلاء ، ج۳ ، ص ۱۹۰ ؛ تاریخ ابن عساکر ، ج ۱۳ ، ص ۵۰۔

(5)  ۔ مجمع الزواید ، ج ۹ ، ص ۲۰۱ ؛ سیراعلام النبلاء ، ج ۳ ، ص ۱۹۱۔

(6)  ۔ تاریخ طبری ، ج۴ ، ص ۳۰۴ ، ایک اور ارشاد میں امام ؑ نے فرمایا : میں اس وقت مناسب ترین فرد ہوں کہ دین خدا کی حمایت اور شریعت اسلام کو عزت و وقار دینے کیلئے راہ خدا میں جھاد کروں تاکہ کلمہ (( لا الہ الا اللہ )) رفعت واضح حاصل کرے ۔ ( تذکرہ سبط ابن جوزی ، ص ۱۳۸ ، باب ۱۹)۔

(7)  ۔ سبط ابن جوزی ، تذکرۃ الخواص ، تحقیق بحرالعلوم ، تھران ، نینوی الحدیثہ ، ص ۲۵۰ ؛ ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی ، الشافعی ، احمد بن عبداللہ ، ص ۱۴۶ و ۱۶۴۔

(8)  ۔  ابن حجر عسقلانی ، احمد ، تھذیب التھذیب ، بیروت ، دار صادر ، ج۲ ، ص ۳۰۰ ؛ ابن جوزی ، تذکرۃ الخواص ، مقدمہ محمد صادق بحرالعلوم  ، تھران ، نینوی الحدیثہ ، ص ۲۵۰ ؛   ھیثمی ، مجمع الزواید ، ج۹ ، ص ۱۸۷ ۔

(9) الحاکم النیشابوری ، محمد بن عبداللہ ، المستدرک علی الصحیحین ، بیروت دارالکتاب العلمیہ ، 1411ھ ق ، ج۴ ، ص ۴۴۰ ؛ الطبرانی ، ابو احمد ، المعجم الکبیر ، ج ۳ ، ص ۱۰۹۔

(10) طبری ، ابوجعفر محمد بن جریر ، تاریخ الامم والملوک ، تحقیق : ابوالفجل ابراہیم ، ج۵ ، ص ۴۵۶

(11) ایضا

(12)  ۔ طبری ، ابو جعفر محمد بن حریر ، تاریخ الامم والملوک ، ج5 ، ص467

(13)  ۔ الموصلی ، شرف الدین ، مناقب آل محمد ( النعیم المقیم لعترۃ النبا العظیم ، تحقیق ، العالمہ سید علی ، ص ۱۰۴ ۔ ۱۰۵ ، عاشوری ، بیروت ، مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات ، 1424ھ ق ، ص ۱۰۴ ۔ ۱۰۵ ۔

(14) ایضا

(15)  ۔ طبری ، محمد بن جریر ، تاریخ الامم والملوک ، ج۵ ، ص ۴۶۵۔