Thursday, 13 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 1

کل 10

اس هفته 30

اس ماه 128

ٹوٹل 21969

تحریر:عین الحیات

  سنہ۶۱ ھ میں امام حسین ؑ نے ظلم و جور ، تشدد و بربریت کے خلافت قیام کر کے زندگی کی آخری سانسیں لیتی ہوئی انسانیت کو ، یزیدیت کے ظلم و ستم سے نجات دے کر ، دنیا کے تمام انسانوں پر وہ احسان کیا ہے ؛ جسے رہتی دنیا تک کوئی بھی انصاف پسند انسان فراموش نہیں کرسکتا۔امام حسین ؑ نے اپنا او ر اپنے اہل و عیال اور باوفاء ساتھیوں کا خون دے کر انسانیت کے مرجھائے ہوئے چہرے کو تا قیامت تر و تازہ کردیا۔یہ صحیح ہے کہ روز عاشور یزیدی درندوں نے امام عالیمقامؑ کا ہرا بھرا گھر، کربلا کے میدان میں لوٹ لیا اور تہسں نہسں کردیا۔مگر امام حسین ؑ نے اس لالہ زار کی قربانی دے کر گلستان اسلام اور انسانیت کی ایسی آبیاری کی کہ اب وہ ہمیشہ سر سبز و شاداب اور لہلہاتا رہے گا۔امام ؑ نے اسلامی تعلیمات اور انسانی اقدار کو بچانےکے لئے حتی مخدرات عصمت کی اسیری بھی گوارا کرلی!امام حسین ؑ اور اہلبیت رسول ﷺ پر ان کے دشمنوں  کی طرف سے ڈھائےجانے والے مظالم پر غم و اندوہ کا اظہار گریہ و زاری ، سینہ زنی ، مجالس و جلوس عزاء کا انعقاد اور امام حسین ؑ کے مقاصد کو زندہ رکھنے کو ائمہ ؑ کی احادیث اور علماء کے اقوال کی روشنی میں عزاداری کہلاتا ہے۔یہاں پر فلسفہ عزاداری کو بیان کرنے سے پہلے عزاداری کی اہمیت کو چند جملوں میں بیان کیا جاتا ہے۔

 

اہمیت عزاداری:

  ائمہ معصومین ؑ کی جانب سے بہت سی روایتیں وارد ہوئی ہیں۔جن میں عزاداری کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے۔اور ان میں اس کا کافی اجر وثواب بھی بیان کیا گیا ہے۔ایسی ہی کچھ احادیث او ر روایات پیش خدمت ہیں۔

۱۔عبدللہ بن سنان کہتے ہیں:ایک مرتبہ میں عاشور کے دن امام جعفر صادق ؑکی خدمت میں حاضر ہوا۔میں نے دیکھا کہ آپ ؑ بہت غمگین ہیں اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔میں نے عرض کی ، اے فرزند رسول ﷺ!کیا بات ہے آپؑ کیوں گریہ کر رہے ہیں؟  امام ؑ نے فرمایا :کیا تمہیں نہیں معلوم !آج کے دن حسین بن علیؑ نے جام شہادت نوش کیا۔اس دن اگر رسول اکرم ﷺ موجود ہوتے تو یقینا مجلس عزاء برپا کرتے۔

۲۔ امام رضا ؑ نے فرمایا کہ محرم وہ مہینہ ہے کہ جس میں زمانہ جاہلیت کے بھی لوگ جنگ اور قتل و غارت گری کو حرام سمجھتے تھے۔لیکن اس مہینہ میں ہمارے خون کو حلال سمجھا گیا ، ہمارے گھر کی خواتین اور بچوں کو اسیر کیا گیا ، ہمارے خیموں کو آگ لگائی گئی ، اور ان کا سارا سامان لوٹ لیا گیا ۔ ہمارے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کی حرمت کا پاس نہیں رکھا گیا۔حسین ابن علیؑ کی شہادت کے سبب ہماری آنکھیں گریہ کر رہی ہیں، ہمارے اشک جاری ہیں اور قیامت تک کے لئے ہمیں غمگین کردیا گیا ہے۔پس گریہ کرنے والوں کو حسین ؑ جیسے مظلوم پر گریہ کرنا چاہیئے؛کیونکہ آپؑ پر گریہ کرنےسے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں[i]۔

۳۔حضرت امام علی رضا ؑ نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا : اے شبیب ! اگر کسی  پر رونا چاہتے ہو تو حسین ابن علی ؑ کی مصیبت پر رو ؛کیونکہ انہیں ظالموں نے گوسفند کی طرح ذبح کردیا اورآپ ؑ کے ساتھ آپ ؑ کے گھرانے کے ایسے ۱۸ افراد کو بھی شہیدکردیا،حن کی روئے زمین پر کوئی مثال نہ تھی ، ساتوں آسمان اور زمین نے امام حسین ؑ کی مصیبت پر گریہ کیا ہے۔ اے شبیب ! اگر تم امام حسین ؑ پر گریہ کرو اور تمہاری آنکھوں سے اشک رواں ہوجائیں تو خداوند عالم تمہارے گناہوں کو بخش دے گا[ii]۔ پس معلوم یہ ہوا کہ امام حسین ؑ کی انہیں بے مثال اور عظیم الشان قربانیوں کی یاد منانے کو عزاداری کہا جاتا ہے ۔البتہ ہم عزاداری کرکے امام عالیمقام ؑ یا شہدائے کربلاء پر احسان نہیں کرتے بلکہ اپنی انسانیت اور محب اہلبیت ؑہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اعلان کرتے ہیں کہ اے فرزند رسول ﷺ!ظلم و جور ، فتنہ و فساد کے خلاف معرکہ آرائی میں ہم بھی آپ ؑ کے ساتھ ہیں ۔ لہذا  درجہ ذیل چند سطروں میں فلسفہ عزاداری کے حوالے سے کچھ باتیں قارئین کرام کی خدمت میں پیش خدمت ہیں ۔

فلسفہ عزاداری :

۱۔ اہلبیتؑ سے محبت:

((إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ))[iii] ( ترجمہ : اے (پیغمبر کے) اہلبیتؑ  خدا تو بس یہ چاہتا ہے کہ آپ کو (ہر طرح کی ) برائی سے دور رکھے اور جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے  ویسا ہی آپ کو پاک و پاکیزہ رکھے )۔اسی طرح  وہ آیت جس میں خداوند متعال نے پیامبر اکرم ﷺ کی ترجمانی کرتےہوئے فرمایا : (( وما  اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی))[iv]یعنی  میں تم سے کوئی اجر رسالت نہیں مانگتا ، مگر یہ کہ میرے اہلبیت ؑ سے محبت کرو ۔

قرآن کی رو سے اہلبیت ؑ سے محبت کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور جیسا کہ محبت کا کچھ لازمہ ہوا کرتا ہے ۔ اور صحیح معنوں میں سچا محبّ وہی ہوتا ہے جو محبت کے تقاضوں کو پورا کرے اور انہی میں سے ایک تقاضا یہ ہے کہ دوست ، دوست کی خوشی میں خوش ہو اور اس کے غم میں غمگین ہو ۔ اگر کوئی اپنے دوست کی خوشی میں ناراحت اور اس کے غم میں خوشحال ہوتو وہ دوستی کا دعوی تو کرسکتا ہے لیکن واقعی دوست اور محب نہیں بن سکتا ۔

امام جعفر صادق  ؑ فرماتے ہیں : (( شیعتنا جزء منا خلقوا من فضل طینتنا یسوؤھم ما یسؤنا و یسرّھم ما یسرّنا ))[v]۔ یعنی ہمارے شیعہ ہمارا جزء اور حصہ ہیں ۔ یہ ہماری بچی ہوئی مٹی ( خمیر) سے خلق کئے گئے ہیں ۔یہ ہمارے غم میں غمگین اور خوشی میں خوشحال ہوتے ہیں ۔

پس ہم عزاداری کرنے کے ذریعے سے آل محمد ﷺ کے غم میں اپنے کو غمگین اور عزادار ہونے کا ثبوت اور اعلان کرتے ہیں۔

۲۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر :

قیام امام حسین ؑ کے اہداف میں سے ایک ہدف امت کی اصلاح تھی ۔ امام حسین ؑ فرماتے ہیں : ( ارید ان آمر بالمعروف و انھی عن المنکر و اسیر بسیرۃ جدی ) یعنی میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا اور اپنے نانا کی سیرت پر چلنا چاہتا ہوں ۔

امر بالمعروف و نہی عن المنکر فروع دین میں سے ایک ہے ۔ جو ہر انسان پر واجب ہے ۔ اگر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو ہم نے فراموش کردیا تو معاشرے میں برائی اور گناہ پھیل جائیں گے ۔ اگر ہم خاموش رہے تو ہم بھی اس گناہ میں برابر کے شریک رہیں گے ۔ جیسا کہ امام صادق ؑ فرماتے ہیں((  السامع للغیبۃ کالمغتاب))[vi] یعنی غیبت کا سننے والا غیبت کرنے والے کی طرح ہے ۔ یا پھر زیارت وارثہ کا وہ جملہ جس میں کہا گیا ہے : لعن اللہ امۃ قتلتک و لعن اللہ امۃ ظلمتک  ولعن اللہ امۃ سمعت بذلک فرضیت بہ)[vii]یعنی خدا لعنت کرے اس امت پر جس نے آپ کو  قتل  کیا ، آپ پر ظلم کیا ، اور(اسی طرح) خدا لعنت کرے اس امت پر جس نے اس قتل کے بارے سنا  ،پھر اس  پر راضی ہوئے ۔

۳۔ درس یا عبرت حاصل کرنا :

ہم عزاداری میں کربلا کے مختلف پہلوؤں پر نظر ڈالتے ہیں اور ہر مرتبہ ہمیں کربلا ء یہ آواز دیتی ہوئی نظر آتی ہے کہ بغیر کسی ظلم و تشدد کے ذریعے معرکہ سرکرنا ہو تو حسین ؑ سے سیکھو ۔ دشمن سے بے خوف و خطر لڑنا ہو تو حسین ؑ کی پیروی کرو ۔ قلیل تعداد کے ساتھ کسی بڑی طاقت کا مقابلہ کرنا ہوتو حسین ؑ کی پیروی کرو ۔ذلت کی زندگی کے مقابلے میں ، عزت کی موت کو گلے لگانا ہوتو حسین ؑ کی پیروی کرو ۔ ظالم کو ناک رگڑنے پر مجبور کرنا ہو تو حسین ؑ کی پیروی کرو۔ بدترین حالت میں بھی ، صبر کے راستے پر برقرار رہنا ہو تو حسین ؑ کی پیروی کرو ۔ مر کر بھی زندہ رہنا چاہتے ہو تو حسین ؑ کی پیروی کرو ۔

۴۔ روایتوں میں عزاداری پر تاکید :

امام جعفر صادق  ؑ فرماتے ہیں : رحم اللہ شیعتنا واللہ ھم المؤمنون فقد واللہ شرکونا فی المصیبۃ بطول الحزن والحسرۃ ))[viii] یعنی خدا ہمارے شیعوں پر رحمت کرے ، خدا کی قسم ہمارے شیعہ وہیں حقیقی مؤمن ہیں ،بے شک خدا کی قسم ہمارے یہ طویل حزن اور ملال کے ساتھ ہماری مصیبت میں شریک رہتے ہیں ۔

اسی طرح معصوم ؑ فرماتے ہیں : (( من تذکّر مصابنا و بکی لما ارتکب منا کان معنا فی درجتنا یوم القیامۃ  ومن ذکر بمصابنا فبکی فابکی لمّا تبکی عینہ یوم تبکی العیون  و من جلس مجلسنا یحیی فیہ امرنا لم یمت قلبہ یوم تموت القلوب))[ix] یعنی جو ہمارے مصائب کو یاد کرکے روئے گا وہ روز قیامت ہمارے ساتھ ہوگا  ، اور جو ہماری مصیبت کو یاد کرکے روئے اور دوسروں کو رولائے ؛ اس کی آنکھ اس دن نہیں روئے گی جس دن ساری آنکھیں رورہی ہونگی۔اور جو ہماری اس مجلس میں شرکت کرے گا جس میں ہمارے امر کا احیاء ہوتا ہے ، اس کا دل اس دن نہیں مرے گا جس دن سارے دل مردہ ہونگے ۔

۵۔ نمونہ عمل :

کیا عزاداری کے فیوض اور برکات میں سے یہ کم ہے کہ اس کی برکت سے ایران میں اتنا بڑا عظیم الشان انقلاب برپا ہوگیا !؟   امام خمینی ؒ نے فرمایا کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ محرم و صفر کی مرہون منت ہے ۔ پھر دوسری جگہ فرماتے ہیں : اس محرم کو زندہ رکھیں اس لئے کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے اس محرم کی وجہ سے ہے ۔ اگر یہ مجالس ، تقاریر ، عزاداری اور اجتماعات نہ ہوتےہمارا ملک کبھی کامیاب نہ ہوتا [x]۔

آج حزب اللہ کو کون نہیں جانتا ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مکتب عاشورا کی گود میں پرورش پائی ۔ ماؤں نے عباس  عباس کی لوریاں سنائیں اور پھر عباس کا علم لے کر اسرائیل کو للکارا ، جس کے ہاتھوں ساری عرب دنیا شکست کھاچکی تھی ۔ سینہ مارنے والے ہاتھ جب دشمن کے گریبان پر پڑے تو دنیا نے روز روشن میں دیکھا کہ اسرائیل جو ظاہرا طاقتور ملک ہے اسلحے کے انبار چھوڑ کر فرا ر ہوگیا ۔ اور حزب اللہ کے انگشت شمار عزاداروں نے دنیا کو سمجھادیا کہ عاشورا اور عزاداری صرف مظلومیت کا مرثیہ نہیں بلکہ ظلم اور بربریت کے خلاف حریت پسندوں کا رجز اور ہر ظالم کے خلاف لشکر خدا کی فریاد بھی ہے ۔ اسی طرح جب ہندوستان کی تحریک آزادی نے زور پکڑنا چاہا تو مھاتما گاندھی نے حسینی  ؑجہادکو اپنا  نمونہ عمل قرار دے دیا ۔

۶۔ بقائے مقصد کربلاء اور تبلیغ دین :

عزاداری کا ایک مقصد کربلاء کے واقعہ کو مٹنے نہیں دینا ہے ؛  کیونکہ ہم نے تاریخ میں مشاہدہ کیا ہے کہ جو اعلان ولایت ، تکمیل دین کا سبب بنا کہ اگر رسول اکرم ﷺ نے یہ کام انجام نہ دیا ہوتا تو گویا رسالت کا کوئی کام انجام نہیں دیا ہوتا ۔ ایسے اہم اعلان کو لوگوں نے بھلادیا ۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ امام علی ؑ کی زندگی میں آنحضرت  ؑ کے سامنے لوگوں نے ولایت کے اعلان کا انکار کردیا ۔ بے شک اگر ثانی زہراء جناب زینب (س)نے فرش عزاء نہ بچھائی ہوتی ، امام سجاد ؑ نے فرش عزاء نہ بچھائی ہوتی اور عزاداری کا سلسلہ جاری نہ کیا ہو تا تو آج لوگ کربلاء کا بھی انکار کردیتے ! لیکن جناب زینب (س) نے امام حسین ؑ کی شہادت کے بعد امام ؑ کا مشن جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ یہ بتلادیا کہ اے یزید ! تو یہ سمجھتا ہے کہ حسین ؑ کی شہادت پر پردہ ڈال دے گا اور حسین ؑ کے مشن کو ختم کردے گا ۔ لیکن یاد رکھ کہ زینب (س) لوگوں کے دلوں میں حسینیت کا  ایسا چراغ روشن کردے گی کہ زمانے کا کوئی بھی بڑے سے بڑا طوفان اسے خاموش نہیں کرسکے گا ۔

وہ کرکے لاش پہ بیٹوں کی شکر کا سجدہ                  بہن حسین ؑ کی ہوں یہ بتاگئیں زینب

بچھا کے فرش عزاء خود یزید کے گھر میں               غم حسین ؑ کی بستی بساگئیں زینب

 

 

 



[i]۔ امالی صدوق ، مجلس 27

[ii]۔ وہی منبع

[iii]۔ سورہ احزاب ، آیہ ۳۳

[iv]۔ سورہ

[v]۔ امالی ، ص، ۳۰۵

[vi]۔ غرر الحکم ، ج۲ ص ۲۲۱

[vii]۔ زیارت وارثہ

[viii]۔ بحار ، ج ۴۳ ، ص ۲۲۲

[ix]۔ وہی منبع ، ص ۲۷۸

[x]۔ صحیفہ امام خمینی (رہ) ، ص ۵۸