Saturday, 20 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 12

اس هفته 75

اس ماه 214

ٹوٹل 21510

تحریر: محمد عارف حیدر قزلباش

تمہید :


خداوند متعال نے اہل بیت اطہار ؑ کی محبت ہم پر واجب کی ہے جیسے کہ قرآن مجید میں خالق باری کا ارشاد ہوتا ہے :
((قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى) (1)
ترجمہ : (اے رسول )کہہ دو کہ میں تم سے (تبلیغ رسالت کا )کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے قرابتداروں (اہل بیتؑ )کی محبت کے ۔


اس آیہ شریفہ کے مطابق محبت کا تقاضا ہے کہ اہل بیت کی خوشیوں پہ خوش اور ان کے غم و اندوہ میں  غمگینہوں ۔
تاریخ بشریت ظلم کے واقعات سے بھری پڑی ہے لیکن۶۱ ہجری کو سرزمین کربلا پہ سید الشہداء امام حسین ؑ اور آپ کے اصحاب پہ جو ظلم کیا گیا ، حیات بشریت میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔
ظالم کے ظلم کے مقابلے میں آواز اٹھانا ، اس کے ظلم کا  پرچار کرنا اور مظلوم کی  آواز دنیا والوںتک پہنچانا قرآن کریم کے مطابق جائز ہے ۔ جیسے کہ خداوند کا ارشاد ہوتا ہے :
 ((لاَّ يُحِبُّ اللّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوَءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلاَّ مَن ظُلِمَ ))(2)
ترجمہ : اللہ برملا بدگوئی کو پسند نہیں کرتا سوائے اس کے کہ جس پر ظلم ہوا ہو۔
 اس آیہ شریفہ کے مطابق ، اللہ تعالی نے انسانوں کو ظلم کے مقابلے میں آواز اٹھانے اور مظلوموں کی یاد منانے اور ان کے غم میں عزاداری کرنے اور صف ماتم بچھانے کی اجازت دی ہے ۔
ائمہ طاہرین ؑ زندگی کے دیگر امور کی طرح ، عزاداری سید الشہداء حضرت امام حسین ؑمنانے میں ہمارے لئے نمونہ ہیں ۔ ذیل میں عزاداری امام حسین ؑکا سیرت  ائمہؑ میں مختصر جائزہ لیا جارہا ہے۔


امام سجاد ؑ اور عزادری امام حسین ؑ :


سانحہ کربلا میں امام سجاد ؑ کا کردار کسی پہ پوشیدہ نہیں ۔ حضرت سب سے زیادہ رنج و الم و مصائب سے دوچار ہوئے ہیں ، کیونکہ امام سجاد ؑ کا رنج و الم عصر عاشور یا سفر شام و دربار  یزید تک محدود نہیں ، بلکہ یہ امام والا مقام ، سانحہ کربلا و امام حسین ؑکا غم پوری زندگی نہایت صبر و استقامت سے مناتے رہے ۔ حضرت امام سجاد ؑجو بکّائین (کثرت سے گریہ و بکاء کرنے والوں) میں سے ایک تھے ۔اور خشیت الہی سے حالت سجدہ میں اتنا آنسو بہاتے کہ زمین کے سنگ ریزے بھی تر ہوجاتے تھے ۔


امام زین العابدین ؑنے آنسو بہانے کے ذریعے اپنے بابا جان کے قاتلوں کو رسوا کرنے کو اپنا مشن بنایا تھا۔ حضرت کے سامنے جب کھانا پینا حاضر کیا جاتا تو حضرت ، اپنے بابا کے مظلومیت کو یاد کرکے آنسو بہاتے ۔ ایک دن جب حضرت کے ایک خدمت گذار نے حضرت سے عرض کیا کہ کیا آپ کا غم و اندوہ ابھی تک ختم نہیں ہوا ؟ تو  آنحضرت نے فرمایا :
 ( ویحک ! ان یعقوب ؑ کان له اثنی عشر ابنا فغیّب الله واحدا منهم فابیضت عیناه من الحزن و کان ابنه یوسف حیّاً فی الدنیا و انا نظرت الی ابی و اخی و عمی و سبعة عشر من اهلبیتی و قوما من انصار ابی مصرعین حولی فکیف ینقض حزنی  )(3)
ترجمہ :واے ہو تم پہ !حضرت یعقوبؑ کے بارہ بیٹے تھے ۔ خدا نے ان میں سے ایک کو ان کے نگاہوں سے اُوجھل کیا تو یعقوبؑ اپنے بیٹے کے غم میں اتنا روئے کہ ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں جبکہ یوسفؑ زندہ تھے ۔ لیکن میرے آنکھوں کے سامنے میرے بابا ، بھائی ، چچا ، میرے اہل بیت کے سترہ افراد اور میرے بابا کے اصحاب کو قتل کرکے ان کے سروں کو جدا کیا گیا ، بھلا کیسے میرا غم و اندوہ ختم ہوسکتا ہے ؟!
دوسری روایت میں آیا ہے کہ حضرت نے اپنے خدمت گزار کے جواب میں فرمایا :
((کیف لا ابکی و قد منع ابی من الماء کان مطلقا للسباع والوحوش))(4)
ترجمہ :کیسے میں گریہ نہ کروں جبکہ میرے بابا کو اس پانی سے روکا گیا جو درندوں اور جانوروں کیلئے آزاد تھا۔
حضرت امام زین العابدین ؑکے ہمیشہ عزادار رہنے کے متعلق امام صادق ؑیوں فرماتے ہیں :
 ( بکی علی ابن الحسین علیه السلام عشرین سنة وما وضع بین یدیه طعام الّا بکی)(5)
ترجمہ : امام سجاد ؑ بیس سال تک (غم حسینؑ میں)روتے رہے اور جب بھی ان کے سامنے کھانا رکھا جاتا تو حضرت روتے تھے۔
حضرت امام سجاد ؑکا سید الشہداء امام حسین ؑپہ گریہ و عزاداری کرنا سال کے کچھ دنوں تک محدود نہیں تھا بلکہ حضرت ہر وقت کربلا والوں پہ روتے رہتے تھے ۔ اس لئے جب حضرت سے کہا گیا ، کہ اگر آپ یوں ہی روتے رہے تو ممکن ہے آپ کی جان چلی جائے تو حضرت فرماتے ہیں :
 (اپنے غم و اندوہ کا خداوند متعال سے شکوہ کرتا ہوں اور خداوند کی جانب سے جو کچھ میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔(6)


درواقع امام سجاد ؑکا یہ فرمانا قرآن کریم کے درجہ ذیل آیہ شریفہ کا مفہوم ہے :
 (قَالَ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ )(7)
ترجمہ : (یعقوب نے) کہا : میں اپنے اضطراب اور غم اللہ کے سامنے پیش کررہا ہوں اور خدا کی جانب سے جو باتیں میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے ہو ۔
امام سجاد ؑکا غم حسین ؑ منانا  ان کی زندگی کا مشن تھا اور حضرت کی عزاداری سید الشہداء کے دو اہم ہدف تھے ، حضرت ، عزاداری کرنے سے نہ صرف دلی طور پر اظہار غم و اندوہ فرماتے بلکہ عزاداری کرنے سے ظالم حکمرانوں کو بھی رسوا فرماتے تھے تاکہ قیام قیامت تک انسانوں پہ ظالموں کا حقیقی چھرہ پوشیدہ نہ رہے اور لوگ سمجھ لیں کہ کربلا کے واقعے میں باطل  یزیدیت نے خدا کے نمائندے ، امام حسین ؑ سے کیا سلوک کیا ۔


امام باقر ؑ اور عزاداری امام حسین ؑ :


      امام باقر علیہ السلام کے زمانے میں حاکمان جور نے عزاداری امام حسین ؑپہ پابندی لگائی تھی اور وقت کے ظالم حکمرانوں نے بھانپ لیا تھا کہ عزاداری سے وقت کے ظالم حاکم اور نظام کی قلعی کھل جائے گی اور لوگوں کی بیداری کا باعث ہوگی جس کے نتیجے میں ظالموں اور ان کے   نا پاک عزائم سے لوگ  آگاہ ہوں گے اور حق اور مظلوموں کا پر چار ہو گا؛اس لیے ظالم حکمرانوں نے مجالس عزاداری پہ پابندی لگائی تھی،اور غم سید الشہداء ؑمنانے کو جرم سمجھا جاتا تھا۔


  اس کٹھن ماحول میں ہمارے پانچویں امام حضرت امام باقر علیہ السلام نے مخفیانہ طور پر، خاص افراد کے ساتھ عزاداری خصوصی مجالس برپا فرماتے ، اور اس عصر کے معروف شعراء کو دعوت دیتے تھے اور یہ شعراء امام مظلوم کے اس عظیم قربانی پہ خراج تحسین پیش  کرتے اور اہل بیت ؑکے صبر و استقامت کا تذکرہ کرتے ، تاریخ میں منقول ہے : ایک بار جب حضرت امام باقر ؑکے حضور اس وقت کے مشہور شاعر " کمیت اسدی " اپنے خاص انداز میں واقعات کربلا سنارہے تھے جب اس عبارت پہ :
 (و قتیل بالطف غودر منهم بین غوغاء امة و طعام ))(8)
ترجمہ : (اور طف کے مقتول سے شور و غل ( ہنگامہ ) اور لالچ کے درمیان عزادری کی گئی) پہنچا ، تو امام باقر ؑبہت روئے اور امام ؑ نے فرمایا :
 (لو کان عندنا مال لاعطیناک ولکن لک ما قال الرسول لحسان ثابت ، لازلت مؤیدا بروح القدس ما ذیت عنا اهل البیت) (9)
ترجمہ : اگر ہمارے پاس مال و دولت ہوتا تو یقیناتمہیں عطا کرتے ، لیکن اے کمیت تمھارا  اجر و پاداش رسول گرامی اسلام کی وہی دعا ہے جس میں رسول اللہ نے حسان بن ثابت کے لئے دعا فرمائی کہ ہم اہل بیتؑ کے دفاع اور حمایت کی وجہ سے ہمیشہ تمھیں روح القدس فرشتے کی حمایت و نصرت حاصل رہے گی۔


مالک جھنی سے منقول ہے کہ امام باقر ؑمؤمنین کو عاشورا کے دن عزاداری امام حسین ؑکی یوں تعلیم دیتے ہیں :
 ( ولیندب الحسین و یبکیه و یامر من فی داره بالبکاء علیه و یقیم فی داره مصیبته باظهارالجزع علیه و یتلاقون بالبکاء علیه بعضهم فی البیوت والیعز بعضهم بعضا بمصاب الحسین فانا ضامن علی اللهلهم اذا احتملوا ذلک ان یعطیهم ثواب الفی حجة و عمرة و غزوة مع رسول الله والائمة الراشدین)(10)
ترجمہ : امام حسین ؑکے لئے عزاداری کی جائے اور حضرت پہ گریہ کیا جائے اور اپنے اہل و عیال کو امام ؑ پہ ماتم کرنے کا حکم دیا جائے اور اپنے گھر میں امام علیہ السلام کے لئے مجلس عزاء کا اہتمام کیا جائے اور ایک دوسرے سے ملتے وقت رویا جائے اور ایک دوسرے کو مصائب امام حسین ؑکے سلسلے میں تعزیت پیش کی جائے جو کوئی یہ اعمال انجام دے گا میں اس کے لئے خداوند کی جانب سے دو ہزار حج و عمرہ اور رسول خدا اور آئمہ برحق کی رکاب میں جھاد کے ثواب کی ضمانت دیتا ہوں۔


شیخ طوسی ؓ سے منقول ہے کہ امام باقر ؑعاشورکے دن کربلا سے دور رہنے والوں کو یوں عزاداری امام مظلوم منانے کا حکم دیتے ہیں :
(ان البعید یؤمی الیه بالسلام و یجتهد فی الدّعا علی قاتله و یصلّی من بعده رکعتین قال ذلک فی صدر النهار قبل ان تزول الشمس ثم لیندب الحسین و لیبکیه و یامر من داره ممن لا یتبعه بالبکاء علیه و یقیم فی داره المصیبة باظهار الجزع علیه)(11)
ترجمہ : کربلائے معلّی سے دور رہنے والا ، زیارت کے لئے اشارے سے کربلا کے طرف سلام کرے اور حضرت کے قاتلوں کو زیادہ لعنت کرے اور اس کے بعد دو رکعت نماز ادا کرے اور یہ اعمال ظہر سے پہلے انجام دے پھر حضرت امام حسین ؑپہ بلند آواز میں روئے اور اہل خانہ میں سے جو حضرت پہ نہیں رورہا ہے اسے رونے کا حکم دے اور اپنے گھر میں امام حسین ؑکی مصیبت منانے کے لئے مجلس عزاء کا اہتمام کرے۔
حضرت امام باقر ؑمجالس عزاء برپا کرنے کے ساتھ ساتھ مؤمنین کو بھی مجالس عزاء کے منعقد کرنے کی ترغیب دیتے ہیں اور حتی کہ کربلا سے دور رہنے والے مؤمنین کو مجالس عزاداری کی تعلیم دیتے ہیں ۔


امام صادق ؑ  اور عزاداری :


   امام صادق ؑکے عصر امامت میں اقتدار بنو امیہ کے خاندان سے بنو عباس کو منتقل ہوتا ہے ، اور اسی انتقال اقتدار کی کشمکش میں امام صادق ؑکو مذہب حقہ پہ (ہزاروں شاگرد تعلیم دینے کی صورت میں) بنیادی کام کرنے کا موقع ملتا ہے ۔ اقتدار کی اس رسہ کشی کے زمانے میں امام صادق ؑکو معارف اہل بیتؑ اور اسلامی تعلیمات کے پرچار کا اچھا موقع ملا ، اسی لئے امام اپنے اصحاب کو عزاداری اہل بیتؑ کی بھی تعلیم دیتے ہیں ۔
     امام صادق ؑکے معروف صحابی معاویہ بن وہب کہتے ہیں: امام صادق ؑکی خدمت میں عاشورا کے دن حاضر ہوا تو حضرت کو محراب عبادت میں اپنے خالق یکتا سے راز و نیاز میں مصروف پایا ، ابن وہب کہتے ہیں میں حضرت سے شرف ملاقات حاصل کرنے کے لئے انتظار کررہا تھا اور حضرت شوق عبادت میں طولانی سجدوں اور راز و نیاز میں مشغول تھے ۔ حضرت اپنے لئے ، اپنے اصحاب اور زائرین امام حسین ؑکے لئے خداوند متعال سے طلب مغفرت فرماتے رہے یہاں تک کہ حضرت میرے طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا :
      (یابن وهب زرالحسین من بعید اقصی ومن قریب ادنی وجدد الحزن علیه واکثرالبکاء علیه ۔۔۔ ثم بکی الصادق ؑ حتی اخضلت لحیته بدموعه ولم یزل حزینا کئیبا طول یومه ذلک وانا ابکی لبکائه و احزن لحزنه)(12)


ترجمہ : اے وہب کے بیٹے ، امام حسین ؑکی نزدیک اور دور سے زیارت کرو ۔ امام حسینؑ پہ اپنے غم و اندوہ کا اعادہ کرو اور رونے کو زیادہ کرو ۔اس کے بعد خود امام صادق ؑ بہت روئے یہاں تک کہ آنسو حضرت کی داڑھی مبارک پہ بہنے لگے اور حضرت سارا دن عزادار رہے اور میں بھی روتا رہا اور حضرت کے غمگین ہونے پہ محزون تھا۔


زید شحام کہتا ہے کہ اہل کوفہ کے ایک گروہ کے ساتھ امام صادق ؑکے حضور میں حاضر تھے کہ عرب کے مشہور شاعر جعفربن عفان ، امام کے خدمت میں حاضر ہوئے ، حضرت نے عفان کا خاص احترام کیا اور انہیں اپنے پاس جگہ دی ۔ امامؑ نے جعفر بن عفان کو مخاطب کرکے فرمایا : اے عفان سنا ہے تم نے سید الشہداء امام حسین ؑکے متعلق اشعار کہے ہیں ۔ جعفر بن عفان نے تائید کیا ۔ امام ؑ نے عفان کو وہ اشعار سنانے کو فرمایا ۔ شاعر نے امام کے فرمان کے مطابق اشعار سنانا شروع کیا اور امام صادق ؑ،  آپ کے اصحاب اور دیگر حضار مجلس رونے لگے اور حضرت کے چہرے پہ آنسو جاری ہوئے اور حضرت نے فرمایا :
(  یا جعفر والله لقد شهدت ملائکة الله المقربین هاهنا یسمعون قولک فی الحسین و لقد بکوا کما بکینا او اکثر  ولقد اوجب الله تعالی لک یا جعفر فی ساعته الجنة باسرها و غفر الله لک)(13)


ترجمہ :اے جعفر خداوند متعال کے مقرب فرشتے ابھی اس مجلس میں موجود ہیں اور تمھارے کلام کو سن کر ہمارے طرح رو رہے ہیں یا ہم سے بھی زیادہ ، اے جعفر خداوند متعال نے ابھی تیرے لئے جنت واجب کی اور تجھے بخش دیا ۔


اس حدیث شریف سے پتہ چلتا ہے کہ فقط انسان امام حسین ؑکے غم میں عزاداری نہیں کرتے بلکہ فرشتے بھی ہماری مجالس عزاء میں آکر غم حسینؑ مناتے ہیں اور روتے ہیں ۔پس عزاداری سید الشہداء ایسی عبادت ہے کہ جس میں فرشتے ہمارے ساتھ شریک ہوتے ہیں ۔
محدث قمی ؒ اپنی کتاب نفس المہموم میں نقل کرتے ہیں کہ ابوہارون جو مشہور شاعر اور امام صادق ؑکےنابیناصحابی تھے، کبھی کبھار امام ؑکی خدمت میں مرثیہ اور اشعار سناتے تھے ۔ ایک دن جب امام صادق ؑکے خدمت میں حاضر ہوا تو امام نے فرمایا :اے ابوہارون وہ مرثیہ جو تم نے میرے دادا  امام حسین ؑکی شان میں کہا ہے سنادو :ابو ہارون جب مرثیہ سنانے کے لئے آمادہ  ہوا تو  امامؑ نے حکم فرمایا کہ مستورات بھی پردے کے پیچھے آکر مرثیہ سنیں ۔ الغرض ابوہارون نے مرثیہ پڑھنا شروع کیا ، امام صادق ؑکے گھر میں کہرام مچ گیا  اور حضرت کے آنسو رواں ہوئے اور حضرت شدت سے رونے لگے ۔ اور امام کے گھر سے آہ و بکاء کی آواز بلند ہوئی  ۔(14)


امام صادق ؑنے اپنے عصر امامت میں نہ صرف ہزاروں شاگردوں کو تربیت دے کر اسلام کو زندہ کیا اور لاکھوں احادیث کے ذریعے اسلام حقیقی کو ہم تک پہنچایا بلکہ اپنے عمل کے ذریعے بھی معارف اسلامی کو زندہ کیا جیسے کہ حضرت نے عزاداری امام حسین ؑکا طریقہ اور آداب شیعیان کو سکھائے   اور مشہور شعراء کو دعوت دے کر مجالس عزاء برپا کیں ۔ عزاداری میں خواتین اور اہل و عیال کو بھی شرکت کرنے کی ترغیب فرمائی۔


حضرت امام موسی کاظم ؑ اور غم امام حسین ؑ :


امام موسی کاظم ؑ کے عصر امامت میں بنو عباس کی جابر حکومت کے طرف سے حضرت پہ بہت دباؤ تھا  اور حکمران حضرت کی سارے مصروفیات کی سخت نگرانی کرتے تھے۔ اسی لیے حضرت اپنے امامت کا زیادہ عرصہ پابند سلاسل رہے اور دشمنان اہل بیتؑ کی جانب سے مجالس عزاداری پہ پابندی تھی اور دشمن امامؑ کو لوگوں کے اجتماعات سے ہر ممکن طور پر دور رکھتا تھا ؛لیکن حضرت امام موسی کاظمؑ ایام محرم کے شروع ہوتے ہی غم و اندوہ کے عالم میں ہوتے جیسے کہ امام رضاؑ فرماتے ہیں:
( کان ابی اذا دخل المحرم لا یری ضاحکا و کانت الکابة تغلب علیه حتی تمضی منه عشرة ایام فاذا کان الیوم العاشر منه کان ذلک الیوم یوم مصیبته و حزنه و بکائه) (15)

ترجمہ:محرم الحرام کے ایام شروع ہوتے ہی میرے بابا جان(امام موسی کاظمؑ)کا چہرہ خوش نظر نہیں آتا تھا۔ اور غم و اندوہ حضرت پہ طاری ہوتا تھا۔یہاں تک کہ عاشورا کا دن حضرت کی مصیبت کا دن ہوتا تھا  اور اس دن حضرت کثرت سے گریہ و بکاء فرماتے تھے۔


امام صادق ؑکی اس حدیث شریف سے پتہ چلتا ہے کہ حکمرانوں کی سختی اور پابند یوں کی وجہ سے کھلے عام مجالس عزاداری کا برپا ہونا ناممکن تھا لیکن ان سخت حالات میں بھی حضرت امام موسی کاظم ؑاپنے طور پر اپنے جدّ مظلوم پر عزاداری فرماتے تھے۔


امام رضا ؑ اور عزاداری امام حسینؑ


امام رضا ؑحکمرانوں کی شدید مخالفتوں اور پابندیوں کے باوجود عزاداری امام حسینؑکی مجالس کا انعقاد فرماتے اور اپنے اصحاب کو عزاداری کی برپائی کی ترغیب دیتے، جیسے کہ ریّان بن شبیب سے منقول ہے کہ میں اول محرم کو امام رضاؑکے خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت نے مجھے فرمایا:
(اے شبیب کے بیٹے اگر امام حسین ؑپہ رونے لگو اور آنسو تمھارے رخساروں پہ جاری ہو ، تو خداوند متعال تمھارے ہر گناہ کوجو تم سے سرزد ہوا ہے معاف کردے گا ۔ پھر حضرت نے فرمایا :اگر چاہتے ہو کہ جنت کے درجات میں ہمارے ساتھ رہو تو ہماری مصیبت میں غمگین اور ہمارے خوشیوں میں خوش رہو۔)(16)
     حضرت کی اس حدیث کے مطابق سید الشہداء کی عزاداری اور حضرت پہ آنسو بہانا  گناہوں کو مٹاتا ہے ۔اور نیز اہل بیت ؑکی خوشی اور غم میں شریک ہونا مؤمن کے اخروی درجات کو اتنا بلند کردیتا ہے کہ جنت میں اُسے اہل بیت ؑکے ہمنشین ہونے کا اعزاز ملتا ہے ۔
اہل بیتؑ کے ماننے والے دعبل خزاعی مشہور شاعر کہتے ہیں: ۱۹۸ ہجری کو جب میں شہر مرو میں حضرت امام رضا ؑکی خدمت میں حاضر ہوا  تو حضرت  نہایت غم و اندوہ کے عالم میں اپنے اصحاب میں تشریف فرما تھے ۔میرے مجلس میں داخل ہوتے ہی حضرت نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا :خوش نصیب ہو  اے دعبل کہ اپنے ہاتھ اور زبان سے ہماری مدد کررہے ہو ، تب مجھے نہایت احترام سے حضرتؑ نے اپنے پاس جگہ دی  اور فرمایا ہمارے لئے اشعار کہو اور امام ؑ مزید فرماتے ہیں :
(فان هذه الایام حزن کانت علینا اهل البیت و ایام سرور کانت علی اعدائنا خصوصا بنوامیة ثم انه نهض وضرب شرابیننا و بین حرمه و اجلس اهل بیته من وراء الستر لیبکوا علی مصاب جدهم الحسین ثم التفت الیّ و قال یا دعبل ارث الحسین فانت ناصرنا و مادحنا ما دمت حیا ، قال دعبل فاستعبرت وسالت دموعی و انشات : '' افاطم ۔۔۔)(17)


ترجمہ : یہ دن ہم اہل بیتؑ کے غم و اندوہ کے دن ہیں ۔ اور ہمارے دشمنوں اور خاص کر بنوامیہ کی خوشی کے دن ہیں ۔ اس کے بعد امام رضا ؑنے ہمارے اور مستورات کے درمیان پردہ لگایا اور اہل بیتؑ کی مستورات غم امام حسینؑ پہ رونے کے لئے پردے کے پیچھے بیٹھ گئیں ۔ ا س کے بعد حضرت میرے جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے دعبل امام حسین ؑپہ مرثیہ خوانی کرو ، تم جب تک زندہ ہو ہمارے مددگار اور اہل بیت کی مدح کرتے رہوگے ؛ تب میں رویا  اور آنسو میرے چہرے پہ جاری ہوئے اور میں یہ اشعار پڑھنے لگا : افاطم ۔۔۔
اس روایت کے مطابق امام رضا ؑ دیارغربت (مرو)میں بھی عزاداری کا اہتمام فرماتے ہیں  اور حتی کہ آنحضرتؑ خواتین کی عزاداری کا بندوبست بھی فرماتے ہیں ۔ جیسے کہ رسول گرامی اسلام نے بھی مدینے کی خواتین کو اپنے چچا حمزہ کی عزاداری کا حکم دیا تھا ۔
 
امام جواد ؑ ، امام ہادی ؑ ، امام حسن عسکری ؑ اور امام عصر (عج) کی عزاداری:


امام جواد ؑکے عصر امامت میں مؤمنین کے گھروں میں آزادانہ طور پر مجالس عزاداری کا انعقاد ہوتا تھا ، لیکن خلیفہ معتصم عباسی کے بعد اس کے جانشین عزاداری کے سخت مخالف تھے ۔اور انھوں نے زیارت قبور ائمہؑ اور شہداء کربلا کی بھی ممانعت کی ۔
امام ہادی ؑکے عصر امامت میں سخت کٹھن کے ماحول کا زمانہ تھا ۔ اور متوکل عباسی آپ کے عصر کا خلیفہ تھا جسے ائمہ ؑ  اور شیعوں سے خاص دشمنی تھی ۔ متوکل اہل بیتؑ  اور سید الشہداءؑ سے دشمنی میں اتنا ظالم تھا کہ کئی بار قبر مطہر امام حسین ؑکو ویران کرکے قبر مبارک کے آثار تک مٹانا چاہا  تاکہ محبین اہل بیتؑ کربلا معلّی کی زیارت نہ کرسکیں  ۔ (18) 

                                    
ابوالفرج اصفہانی کہتا ہے :
 (متوکل عباسی ، اہل بیتؑ سے دشمنی رکھتا تھا اور ان کے امور اور فعالیتوں پہ سخت مراقبت کرتا تھا ، اور دل میں علویوں سے سخت نفرت اور دشمنی رکھتا تھا اسی لئے علویوں کو بے بنیا د نسبتیں دیتا تھا اور گذشتہ خلفاء کے بہ نسبت اہل بیتؑ اور ان کے ماننے والوں پہ زیادہ ظلم کرتا تھا ۔ اور اہل بیتؑ سے دشمنی میں متوکل اتنا آگے بڑھا کہ اس نے امام حسین ؑکی قبر مبارک کو اس طریقے سے ویران کیا کہ اس کے کوئی آثار باقی نہ رہے  اورمتوکل نے کربلا کے راستے میں چیک پوسٹیں بنائی تاکہ زائرین کربلا کو گرفتار کرکے سزائیں دی جاسکیں  ۔(19)


عزاداری پہ پابندی کا یہ سلسلہ امام حسن عسکریؑ کے عصر تک جاری رہا ، لیکن اہل بیتؑ کے ماننے والے غیّور شیعوں نے دشمنوں کے ہر سازش کا مقابلہ کیا اور دشمنوں سے ہرگز خائف نہ ہوئے اور طول تاریخ میں اہل بیتؑ کی سیرت پہ چلتے ہوئے عزاداری اور غم شہداء کربلا کو زندہ رکھا ۔
یقینا حضرت امام عصر (عج)بھی اپنے آباء کے سیرت عزاداری کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور اپنے جدّ مظلوم پہ آنسو بہاررہے ہیں جیسے کہ زیارت ناحیہ مقدسہ میں حضرت صاحب (عج)اپنے جدّ مظلوم امام حسین ؑکو مخاطب کرکے فرماتے ہیں  :
( لاندبنک صباحا و مساءا و لابکین علیک بدل الدموع دما ))(20)
ترجمہ : ہر صبح و شام آپ ؑ پہ روتا ہوں اور آنسو کے بجائے آپؑ پہ خون کے آنسو بہاتا ہوں ۔
اور حضرت صاحب اروحنا فداء اور آپؑ کے اجداد طاہرینؑ کی سیرت عزاداری امام حسین ؑانشاء اللہ حضرت (عج)کے ظہور تک جاری رہے گا  (انشاء اللہ)۔

..............................................................................................................................

منابع:

(1) سوره شوری /23

(2) سوره نساء/148

(3)مناقب ابن شھر آشوب ، ج۴ ، ص ۱۷۹ ، فصل فی کرعہ و صبرہ و بکائہ۔

(4) ابن شھر آشوب ، محمد بن علی ، مناقب آل ابیطالب ، ج۴ ، ص ۱۸۰۔

(5) ایضا

(6)  ۔ ایضا ، ص ۱۸۱۔

(7)  ۔ سورہ یوسف /86۔

(8) طوسی ، محمد بن حسن ، مصباح المتہجد ، ص ۷۱۳

(9) ایضا ۔

(10)  ۔ ابن قولویہ ، جعفربن محمد ، کامل الزیارات ، باب ۷۱ :من زار الحسین (ع) یوم العاشورا ، ص ۱۷۴۔

(11)  ۔ طوسی ، محمد بن حسن ، مصباح المتہجد ، ص ۷۱۳

(12)  ۔ شھرستانی ، صالح ، تاریخ النیاحۃ علی الحسین ، ص ۱۵۷

(13)  ۔ مجلسی ، محمد باقر ، بحار الانوار ، ج۴۴ ، ص ۲۸۲

(14) قمی ، عباس ، نفس المہموم ، ص ۴۶

(15) صدوق ، امالی صدوق ، مجلس ۲۷

(16)  ۔ صدوق ، امالی صدوق ، مجلس ۲۷ ، ص ۱۲۳

(17)  ۔ مجلسی ، محمد باقر ، بحار الانوار ، ج۴5 ، ص ۲۵۷

(18) ابن اثیر ، علی بن محمد ، الکامل ، ج۵ ، ص ۲۸۷۔

(19) اصفہانی ، ابی الفرج ، مقاتل الطالبین ، ص ۴۷۸۔

(20) مجلسی ، محمد باقر ، بحار الانوار ، ج98، ص 320 ، باب کیفیۃ زیارت حسین ؑ۔