Saturday, 20 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 12

اس هفته 75

اس ماه 214

ٹوٹل 21510

 کسی بھی تحریک اور جدوجہد کے لئے عمومی طور پر تین عناصر درکار ہوتے ہیں۔ اول یہ کہ تحریک کے آغاز کے وقت حالات کا منظر نامہ کیسا ہے اور کس نوعیت کے مسائل درپیش ہیں؟ دوسرا یہ کہ تحریک کے مقاصد اور اہداف کیا ہیں؟ اور تیسرا یہ کہ جدوجہد کا انداز اور طریقہ کار کیا ہے؟ انہی تین عناصر کو سامنے رکھ کر اگر ہم نواسہ رسول اکرم ؐ امام عالی مقام حسین ابن علی ؑ کی جدوجہد کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے جن حالات اور مسائل کی نشاندہی کی وہ بھی درست تھے‘ جن مقاصد اور اہداف کا تعین کیا وہ بھی اعلی و ارفع تھے‘ جس انداز اور طریقہ کار کو اپنایا وہ بھی انتہائی مناسب اور صحیح تھا اور جدوجہد کے آغاز کے لئے جس وقت کا انتخاب کیا وہ بھی موزوں تھا۔

تحریر:عین الحیات

  سنہ۶۱ ھ میں امام حسین ؑ نے ظلم و جور ، تشدد و بربریت کے خلافت قیام کر کے زندگی کی آخری سانسیں لیتی ہوئی انسانیت کو ، یزیدیت کے ظلم و ستم سے نجات دے کر ، دنیا کے تمام انسانوں پر وہ احسان کیا ہے ؛ جسے رہتی دنیا تک کوئی بھی انصاف پسند انسان فراموش نہیں کرسکتا۔امام حسین ؑ نے اپنا او ر اپنے اہل و عیال اور باوفاء ساتھیوں کا خون دے کر انسانیت کے مرجھائے ہوئے چہرے کو تا قیامت تر و تازہ کردیا۔یہ صحیح ہے کہ روز عاشور یزیدی درندوں نے امام عالیمقامؑ کا ہرا بھرا گھر، کربلا کے میدان میں لوٹ لیا اور تہسں نہسں کردیا۔مگر امام حسین ؑ نے اس لالہ زار کی قربانی دے کر گلستان اسلام اور انسانیت کی ایسی آبیاری کی کہ اب وہ ہمیشہ سر سبز و شاداب اور لہلہاتا رہے گا۔امام ؑ نے اسلامی تعلیمات اور انسانی اقدار کو بچانےکے لئے حتی مخدرات عصمت کی اسیری بھی گوارا کرلی!امام حسین ؑ اور اہلبیت رسول ﷺ پر ان کے دشمنوں  کی طرف سے ڈھائےجانے والے مظالم پر غم و اندوہ کا اظہار گریہ و زاری ، سینہ زنی ، مجالس و جلوس عزاء کا انعقاد اور امام حسین ؑ کے مقاصد کو زندہ رکھنے کو ائمہ ؑ کی احادیث اور علماء کے اقوال کی روشنی میں عزاداری کہلاتا ہے۔یہاں پر فلسفہ عزاداری کو بیان کرنے سے پہلے عزاداری کی اہمیت کو چند جملوں میں بیان کیا جاتا ہے۔

  تحریر : محمد اعجاز نگری

قال رسول الله  :( حسین منی وانا من حسین ، احب الله من احب حسینا سبط من الاسباط)(1) ۔ ترجمہ : نبی مکرم  نے فرمایا : حسینؑ مجھ سے ہے اور میں حسینؑ سے ہوں ، خدایا جو حسینؑ سے محبت کرے ؛ تو اس سے محبت کر ، حسین بیٹوں میں سے ایک بیٹا ہے ۔ امام حسین ؑ تین شعبان المعظم چوتھی ہجری قمری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے(2)  اور روز عاشوراء ( دس محرم  ۶۱ھ ق ) کو کربلا معلّی میں شہید ہوگئے  ۔ (3)

تحریر:اجمل حسین قاسمی

 

دین مبین اسلام میں تمام اعمال کی احکام کے ساتھ ساتھ کچھ آداب بھی ذکر ہوئے ہیں جو ان اعمال کی فضیلت و اجر و ثواب اور تأثیر میں اضافے کا باعث بنتے ہیں ۔ جیسے نماز کے آداب میں سے ایک یہ ہے کہ صاف ستھرے کپڑے اور ٹوپی پہن کر نماز پڑھی جائے جس سے نماز کی فضیلت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ اسی طرح عزاداری امام حسین ؑ کے لئے بھی بہت کچھ آداب ذکر ہوئے ہیں جو عزاداری کی فضیلت ، اجر و ثواب اور تاثیر پہ بہت اثر اندازہوتے  ہیں ۔ اس مختصر سے مقالے میں ہم اپنے قارئین اور عزاداروں کی خدمت میں چند ایک آداب عزاداری امام حسین ؑ کو ذکر کرتے ہیں۔ امید ہے تمام مؤمنین عزاداری کی مجالس میں ان آداب کا خیال رکھیں گے انشاء اللہ ۔

تحریر: محمد عارف حیدر قزلباش

تمہید :


خداوند متعال نے اہل بیت اطہار ؑ کی محبت ہم پر واجب کی ہے جیسے کہ قرآن مجید میں خالق باری کا ارشاد ہوتا ہے :
((قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى) (1)
ترجمہ : (اے رسول )کہہ دو کہ میں تم سے (تبلیغ رسالت کا )کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے قرابتداروں (اہل بیتؑ )کی محبت کے ۔


اس آیہ شریفہ کے مطابق محبت کا تقاضا ہے کہ اہل بیت کی خوشیوں پہ خوش اور ان کے غم و اندوہ میں  غمگینہوں ۔
تاریخ بشریت ظلم کے واقعات سے بھری پڑی ہے لیکن۶۱ ہجری کو سرزمین کربلا پہ سید الشہداء امام حسین ؑ اور آپ کے اصحاب پہ جو ظلم کیا گیا ، حیات بشریت میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔
ظالم کے ظلم کے مقابلے میں آواز اٹھانا ، اس کے ظلم کا  پرچار کرنا اور مظلوم کی  آواز دنیا والوںتک پہنچانا قرآن کریم کے مطابق جائز ہے ۔ جیسے کہ خداوند کا ارشاد ہوتا ہے :
 ((لاَّ يُحِبُّ اللّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوَءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلاَّ مَن ظُلِمَ ))(2)
ترجمہ : اللہ برملا بدگوئی کو پسند نہیں کرتا سوائے اس کے کہ جس پر ظلم ہوا ہو۔
 اس آیہ شریفہ کے مطابق ، اللہ تعالی نے انسانوں کو ظلم کے مقابلے میں آواز اٹھانے اور مظلوموں کی یاد منانے اور ان کے غم میں عزاداری کرنے اور صف ماتم بچھانے کی اجازت دی ہے ۔
ائمہ طاہرین ؑ زندگی کے دیگر امور کی طرح ، عزاداری سید الشہداء حضرت امام حسین ؑمنانے میں ہمارے لئے نمونہ ہیں ۔ ذیل میں عزاداری امام حسین ؑکا سیرت  ائمہؑ میں مختصر جائزہ لیا جارہا ہے۔