Wednesday, 19 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 12

کل 35

اس هفته 61

اس ماه 234

ٹوٹل 22075

 اخبار جنگ نے اپنے ایک ادارئیے میں لکھا ہے کہ اس وقت صرف یمن ہی نہیں تمام مشرق ِ وسطیٰ بحران کی زد میں ہے۔ خطے کا ایک بڑا اور امیر ملک ہونے کے ناطے سعودی عرب اس بحران میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے، لیکن اُنھوں نے یکا یک، بیٹھے بٹھائے آئینی حکومت کی مدد کا جواز بناتے ہوئے حوثی قبائل کو باغی قرار دے کر اُن پر چڑھائی کردی۔ اخبار سوال اٹھاتا ہے کہ جب برطانوی اور فرانسیسی جہاز، معمر قذافی پر بمباری کررہے تھے اور بعض عرب ریاستیں قذافی مخالف گروہوں کو رقوم اور ہتھیار فراہم کررہی تھیں تو ان کے پاس ایسا کرنے کا کیا آئینی جواز موجود تھا؟ قذافی نے لیبیا کو ایک حد تک مستحکم ریاست بناکررکھا ہوا تھا اور یہاں نہ القاعدہ تھی اور نہ دیگر انتہا پسند گروہ، لیکن آج یہ ایک شورش زدہ علاقہ ہے۔ شام میں بھی خلیج فارس کے ملکوں نے بشارا لاسد کے خلاف لڑنے والے باغیوں کی مدد کرنے میں اپنا پورا زور لگادیا۔ جب امریکہ نے بشار اسد کی فورسز پر بمبار ی کرنے سے انکار کیا تو ان ملکوں نے امریکہ پر تنقید کی۔ اخبار اب مصر کے تناظر میں لکھتاہے کہ محمد مرسی عوام کے ووٹوں سے منتخب ایک آئینی حکمران تھے لیکن چونکہ خلیج فارس کی بعض ریاستوں کو اخوان کا حکومت سنبھالنا گوارا نہ تھا، اس لیے انہوں نے محمدمرسی کا تختہ الٹنے پر جنرل سیسی کی حمایت کی اور نئی حکومت کو سنبھالا دینے کے لیے بھاری رقوم فراہم کیں۔

 

اخبار کے مطابق سعودی عرب کو نہ تو اخوان پسند ہیں اور نہ ہی داعش۔ اور پھر ان کے دل میں ایران کا خوف بھی موجود ۔ وہ امریکہ سے بھی ناراض ہے کیونکہ اس نے خطے میں ان کے ایجنڈے کو آگے نہیں بڑھایا،اب وہ اپنے ہمسائے میں موجود، یمن ، کے حالات سے پریشان ہے۔ یہ تمام پریشانیاں اپنی جگہ پر لیکن کیا اس سے یہ تاثر نہیں ملتا کہ اُنہیں اسرائیل سے کوئی تشویش لاحق نہیں۔ اخبار کے مطابق حوثی قبائل کا یمن کی داخلی سیاست میں بڑھتا ہوا اثر فی الحال سعودی عرب کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ وہ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے کمر بستہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے دوست، جن میں جذباتی نعرے لگانے والا پاکستان پیش پیش ہے، اس کی مدد کو آئیں۔ حوثی اور ان کے اتحادی گروہ تو مسئلے کا ایک حصہ ہیں، خلیج فارس کی ریاستوں کے لئے اصل مسئلہ خطے میں پھیلتا ہوا ایرانی اثر و رسوخ ہے۔ ایران کے امریکہ کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے اور اس کے نتیجے میں اسے ملنے والے فوائد (سب سے اہم ایران کی عالمی تنہائی کا خاتمہ ) نے ان ملکوںکی نیند حرام کردی ہے۔ اخبار کے مطابق بہار عرب سے پہلے، کم از کم سعودی نقطہ نظر سے، مشرق ِ وسطیٰ ایک پرامن خطہ تھا، لیکن اب ہر طرف فتنہ پرور ہوائیں چل رہی ہیں۔ تاہم ایک سوال اور بنتا ہے کہ کیا یہ تمام فساد اور انتشار ایران نے اپنی ’’خفیہ پالیسی‘‘ کے ذریعے پھیلایا ہے؟کیا یہ سب کچھ حادثاتی طور پر ہوا ہے یا اس کے پیچھے کسی کا شاطرانہ منصوبہ کارفرما ہے؟ آپ مسلک کے اعتبار سے شیعہ یا ایرانی موقف کے حامی نہ بھی ہوں تو بھی آپ دیکھ سکتے ہیں کہ لیبیا میں انتشار کی ذمہ داری ایران پر عائد نہیں ہوتی اور نہ ہی اس نے مسٹر اسد کے خلاف شام میں فتنہ پرور حالات پیدا کیے ہیں۔ داعش جیسا عفریت تخلیق کرنے میں بھی ایران کا کوئی ہاتھ نہیں۔ اگر خطے کے وہ حالات جن میں داعش نے سر اٹھایا، تو اس کی ذمہ داری اگرکسی کے سرجاتی ہے تو وہ امریکہ بہادر اور بعض برادر ممالک کی کجی فہمی (یا ہٹ دھرمی) کے سوا اور کوئی نہیں۔ یقیناً ایران نے سعودی عرب کے لئے حوثی مسئلے کو پیدا نہیں کیا اور نہ ہی پاکستانی پارلیمنٹ کو ’’غیرجانبدار‘‘ رہنے پر ایران نے اکسایا تھا۔ تاہم یمن میں ہونے والی جنگ کا نتیجہ ان تمام معروضات کو پس منظر میں دھکیل دے گا۔ کیا سعودی عرب اور اس کے کولیشن پارٹنر فوجی طاقت سے یمن کی صورت حال کو تبدیل کرسکتے ہیں؟ کیا حوثی قبائل کو عسکری کارروائیوں سے شکست سے دوچار کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی سے امن معاہدے کی شرائط لکھ سکے گا؟ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے سعودی عرب کے خصوصی مشیر برائے مذہبی امور کا کہنا ہے کہ یمن کے تنازع کو حل کرنے کے لئے پاکستان کی ثالثی کی پیش کش ایک مذاق سے کم نہیں۔ یقینا سعودی عرب پاکستان پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ امارات کی طرف سے تو پہلے ہی بیان آچکا ہے کہ پاکستان کو اس کے ناخوشگوار نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ اب سوال یہ کہ کیا پاکستان اپنے غیرجانبداری کے عزم پر قائم رہے گا یا دباؤ کے سامنے ہتھیارڈال دے گا؟