Wednesday, 19 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 12

کل 35

اس هفته 61

اس ماه 234

ٹوٹل 22075

 

جنیوا میں موجود عریبک سنٹر فار سوشل اینڈ پولیٹیکل اسٹڈیز کے سربراہ نے کہا ہے کہ مغربی ممالک  شام کے دہشتگردوں کے اصل حامی ہیں۔ریاض الصداوی نے روسیا الیوم سے گفتگو میں کہا ہے کہ مغربی ممالک دہشتگردی کے حوالے سے سچے نہیں ہیں کیونکہ وہ شام میں اپنے اتحادیوں کو مضبوط کرنے کے لئے شام میں باقاعدہ مسلح دہشتگرد بھیج رہے ہیں۔ عریبک سنٹر فار سوشل اینڈ پولیٹیکل اسٹڈیز کے سربراہ ریاض الصداوی نے یہ بات زور دیکر کہی ہے کہ اگر مغرب اور امریکہ حقیقت میں دہشتگردی کے خلاف ہیں تو انہیں  سعودی عرب ،ترکی اور قطر پر دباؤ ڈالنا چاہیے تاکہ وہ دہشتگردوں کو کنٹرول کریں اور انہیں شام نہ بھیجیں۔اس سے پہلے فرانس سمیت بعض  مغربی ملکوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کے شہری شام میں باغیوں کے ساتھ مل کر شامی فوجوں کے خلاف جنگ کررہے ہیں۔شام کے حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت شام میں اسی(80 )مختلف ممالک کے دہشتگرد شام  کی عوام اور فوجوں کے خلاف برسرپیکار ہیں۔

 

شام میں بحران کے آغاز کے وقت سعودی عرب، ترکی اور قطر کی طرف سے سبز جھنڈی اور مغرب کی مکمل حمایت کے بعد دہشتگردوں نے شام میں اپنی کاروائیوں کا آغاز کیاتھا۔ سعودی عرب اور قطر دہشتگردوں کی مالی حمایت کرتے ہیں اور ترکی نے دہشتگردوں کے آمد رفت کے لئے اپنی سرحدرں کو ان پر کھول رکھا ہے۔بعض یورپی ممالک قطر اور سعودی عرب کے دئیے گئے سرمائے سے ان دہشتگردوں کو اسلحہ فراہم کرتے ہیں۔اردن کی سرزمین کو دہشتگردوں کی تربیت کے لئے استعمال کیاجاتا ہے۔امریکی ماہرین دہشتگردوں کو تربیت دے کر انہیں شام روانہ کرتے ہیں اور وہاں موجود اسرائیلی کمانڈوز ان دہشتگردوں کی عملی رہنمائی کرتے ہیں اور انہیں دہشتگردی کے مختلف ٹارگٹوں پر حملے کی معلومات اور سہولیات فراہم کرتے ہیں ۔

 

شام میں جاری مختلف سرگرمیوں سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ عالمی سیاست میں بظاہر ایک دوسرے کے دشمن  شام میں بشار اسد کے خلاف ایک ہی صفحے پر ہیں اور امریکہ کی دوغلی پالیسیاں اس سے مذید واضح ہو جاتی ہیں کہ پوری دنیا میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کا دعوی کرنے والا امریکہ شام میں دہشتگردوں اور دہشتگردی کی دامے درمے اور سخنے امداد اور حمایت کررہا ہے۔

 

ایسا محسوس ہوتا کہ امریکہ اور مغرب شام میں اپنے مطلوبہ اھداف کے حصول اور  اسرائیل کے خلاف استقامت کے بلاک کو کمزور کرنے کےلئے ہر وسیلے سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔شام میں امریکہ جنگجوؤں کو خطرناک ہتھیار فراہم کررہا ہے جس میں "تاو" نامی اینٹی ٹینک میزائل بھی شامل ہیں ۔

 

امریکہ کو شام کے جوالے سے اپنی پالیسیوں میں سخت ناکامیوں کا سامنا ہے ۔مغربی ممالک بھی شام کے حوالے سے تشویش کا شکار ہیں کیونکہ جن دہشتگردوں کو انہوں نے بشار اسد کی حکومت کے خاتمے کے لئے شام بھیجا تھا وہ اپنی ناکامیوں کے بعد اپنے اصلی ممالک کو پلٹنے کے لئے پر تول رہے ہیں جبر وتشدر اور دہشتگردی کے عادی یہ یورپی شہری جب اپنے اپنے ملکوں کو واپس پلٹیں گے تو ان ملکوں میں کیا صورت حال گی اس خیال اور اندیشے نے مغربی ممالک کے حکمرانوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔