Wednesday, 19 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 12

کل 35

اس هفته 61

اس ماه 234

ٹوٹل 22075

 

عراق میں 30 اپریل کوہونے والے پارلیمانی انتخابات پر نگرانی کرنے کیلئے 1200عالمی مبصرین عراق جائیں گے اور انتخابات کی نگرانی کریں گے۔ ان انتخابات کیلئے انتخابی مھم جاری ہے اور سیاسی جماعتوں کے رہنماوں خاص طور سے مجلس اعلای اسلامی عراق کے سربراہ سید عمار حکیم نے عراقی قوم سے عام انتخابات میں بھرپور شرکت کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مراجع کرام نے تاکید کی ہے کہ عوام انتخابات میں بھرپور شرکت کرکے شعور و آگہی کے ساتھ اہل امید واروں کو ووٹ دیں۔ سید عمار حکیم نے بعث پارٹی کی واپسی اور نئے روپ میں اس کالعدم پارٹی کے سامنے آنے کی بابت خبردار کرتے ہوئے کہا کہ عراق ہرگز ماضی کی طرف لوٹ کرنہیں جائے گا۔

 

دوسری جانب عراق کے وزیراعظم نوری مالکی نے کہا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی ملک کی اجارہ داری قبول نہیں کرے گا۔ نوری مالکی نے عراق کے مشرقی شہر کوت میں حکومت قانون الائنس کی انتخابی مہم کے آغاز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عراق ہمیشہ عراقی قوم سے ہی متعلق رہے گا۔ عراق کے وزیر اعظم نوری مالکی نے اسی طرح اس ملک کے صوبے الانبار میں دہشتگردوں کے خلاف فوج کی کارروائیوں کے بارے میں کہا کہ وقت آ پہنچا ہے کہ فلوجہ کا مسئلہ حل ہو اور دہشتگردوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس علاقے سے نکال دیا جائے انہوں نےکہا کہ عراق میں دہشتگردوں کا ہدف و مقصد، ملک میں عدم استحکام اور فتنہ پیدا کرناہے تاکہ عراق میں جاری سیاسی عمل کو روکا جائے۔

 

عراق میں تیس اپریل کو منعقد ہونے والے پارلمانی انتخابات کے لئے انتخابی سرگرمیاں اکتیس مارچ سے شروع ہوئیں جو انتخابات سے ایک دن قبل تک جاری رہیں گی۔ عراق میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے پہلے ہی پورے ملک خاص طور پر بغداد اور اس کے قرب و جوار کے علاقوں میں سکیورٹی کےانتظامات سخت کر دئیے گئے ہیں۔ جبکہ بغداد کے قرب و جوار جیسے شمال میں صوبہ صلاح الدین، مشرق میں صوبہ دیالہ اور واسط اور مرکز میں بابل اور عراق کے مغرب میں واقع  صوبہ الانبار میں عراق کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے مختلف آپریشن میں مشتبہ افراد اور دہشت گردوں کی گرفتاری  میں مزید تیزی آ گئی ہے تاکہ  انتخابات میں عراقی عوام کی وسیع پیمانے پر شرکت کے لئے پرامن ماحول فراہم ہوسکے۔

 

 عراق میں تیس اپریل کو اس ملک سے دو ہزار گیارہ میں قابض امریکی فوجیوں کی پسپائی کے بعد پہلے پارلمانی انتخابات ہو رہے ہیں جس میں پارلمانی نمائندوں کےعلاوہ  مستقبل میں عراق کی حکمراں پارٹی اور وزیر اعظم کا بھی فیصلہ ہوگا۔

 

 عراق میں انتخابی مہم اورگہما گہمی عروج پر ہے، بین الاقوامی شخصیات اور عراقی حکام، پارلمانی انتخابات کی اہمیت اور لوگوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت پر زور دے رہے ہیں ۔

گزشتہ طرح اس بار بھی انتخابات کے موقع پرامریکہ اور سعودی عرب بعثیوں کی حمایت اور انھیں جتوانے کی بھر پور کوشش کریں گے اور اس کی ایک جھلک ہمیں انتخابات سے قبل اس ملک کے حالات کو تکفیری دہشتگردوں خاص طور سے داعش کی جانب سے خراب کرنے میں نظرآئی۔ سعودی عرب، شام میں اپنی شکست و ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لئے عراق کے اندر اور باہر مالی امداد کے ذریعے دہشت گردوں کی حمایت کر رہا ہے اور اس بات کی عراق کے وزیر اعظم نوری مالکی نے بھی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے کے بعض ممالک خاص طور پر سعودی عرب اور قطر، عراق میں بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں۔ نوری مالکی نے اسی طرح عالمی برادری کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بغداد کو توقع ہے کہ عالمی برادری علاقے میں دہشت گردوں کے حامیوں پر دباؤ ڈالے گی ۔ عراق نے عالمی برادری سے ایسے وقت مطالبہ کیا ہے کہ جب حکومت اپنے ملک میں دہشت گردوں کے داخل ہونے کے تمام راستوں کو بند کرنے کے سلسلے میں کمربستہ ہے اور اس بارے میں تمام امکانات و وسائل سے استفادہ کر رہی ہے۔ جبکہ بغداد نے دہشت گردی کے حامی عرب ملکوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق میں ہمیشہ بحران اور بدامنی باقی نہیں رہے گی اور عراق کے داخلی امور میں مداخلت کرنے والوں سے ضرور نمٹا جائےگا۔