Thursday, 18 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 10

اس هفته 51

اس ماه 190

ٹوٹل 21486

 

 

تحریر:عیدعلی عابدی

مقدمہ

انسان کی فطرت میں خدا ، اس کے رسولوں ، انبیاء ، اولیاء  اور صلحاء کی محبت اور معرفت کا سرچشمہ اور ساتھ ہی ان کے دشمنوں سے نفرت اور بیزاری ضرور پائی جاتی ہے ۔ زیادہ تر شیطانی قوتیں طول تاریخ میں غالب آنے کی وجہ سے فطرت کا یہ پاک تقاضا منفی پہلو میں تبدیل ہوگیا اور بہت سارے گمراہ  ، ظالم و جابر ، سفاک  و بے رحم  انسانوں نے خدا کے صالح بندوں کو نہ صرف  دلخراش طریقے سے قتل کیا بلکہ ان کے جنازوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا اور بے حرمتی کی ۔ انسان کی پوری تاریخ اس جیسے واقعات سے رنگین بھری پڑی ہے ۔

 

حجربن عدی وہ پاک فطرت  انسان ہیں جو خدا کے  رسول ﷺ اور اہلبیت ؑ کی محبت اور معرفت کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہیں۔ آپ کا شمار جلیل القدر ، بافضیلت انسانوں میں   ہوتا ہے ۔ اسلام کی  آغوش میں آنے کے بعد  بہت ہی کم مدت میں حق محبت اور معرفت کا فریضہ چھی طرح  ادا کیا اور ولایت کی راہ میں شہادت کے اس بلندترین درجہ پر فائز ہوئے اور ہمیشہ کے لئے ابدی زندگی خرید لی ۔ آپ کی زندگی اور دلخراش شہادت آیندہ کے محب اہلبیت ؑ کے لئے ایک مشعل راہ ہے ؛ کیونکہ آپ نے واقعی شجاعت و ایمان کے بہت سے کارنامے انجام دئیے ، جس کی وجہ سے دشمن کے دل میں بغض و  دشمنی پیدا ہوئی ۔صرف آپ کے قتل کو کافی نہیں سمجھا بلکہ آج چودہ سو سال بعد بھی آپ کی قبر کھود کر جنازے کی بے حرمتی کی ہے اور اپنی دیرینہ دشمنی اور بغض کو ایک بار پھر تازہ کردیا ہے  ۔

 

حجربن عدی کے بارے  میں شیعہ اور اہل سنت علماء کا نظریہ :

حجربن عدی بن ہومان کا تعلق یمنی  کندی قبیلہ سے ہے ۔ کوفہ کی طرف ہجرت کی ہے ۔ نوجوانی  میں  اپنے بھائی ہانی بن عدی کے ساتھ جاکر پیغمبر اکرم ﷺ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ہے۔ سنہ ۳۵ ھ ق کوامام علی ؑکےانصارمیں شامل ہوئے ۔اہل سنت کے علماء ، حجربن عدی کو رسول اللہ ﷺ کا صحابی ہونے کے احترام میں اس کو حجر الخیر سے یاد کرتے ہیں ۔ ابن اثیر کہتا ہے : (( وھوالمعروف بحجر الخیر ۔۔۔ و قد علی النبی ﷺ ھو  و اخوہ ھانی  و شھد القادسیۃ و کان من فضلاء الصحابۃ )) یعنی وہ حجر الخیر کے نام سے مشہور ہے  اور اپنے بھائی ہانی کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کی خدمت میں مشرّف ہوکر اسلام قبول کیا ہے ، اور جنگ قادسیہ میں جو خلیفہ دوم کے زمانے میں اسلام کے پھیلاؤ کے لئے لڑی گئی تھی حاضر تھے  اور با فضیلت اصحاب میں آپ کا شمار ہوتا ہے ۔

 

     اہل سنت کے بہت سے علماء نے آپ کا  جلیل القدر اور با فضیلت صحابی ہونے کا اعتراف کیا  ہے،  اور گواہی بھی دی ہے ۔ جیسا کہ معاویہ کے دور حکومت میں  شریح بن حارث قاضی ، ایک خط میں معاویہ کو حجربن عدی کی تعریف کرتے ہوئے اس طرح لکھتا ہے : (( میں گواہی دیتا ہوں کہ حجر ایک متقی مسلمان ہے ۔ نماز کا پابند ہے ۔ صدقہ و خیرات دیتا ہے ۔ ماہ رمضان کے روزے  رکھتا ہے ۔ حج و عمرہ بجا لاتا ہے ۔ وہ اسلام میں واقعاً بہت بڑا با فضیلت انسان ہے )) ۔

 

اب ہم آپ کی زندگی کی طرف ایک اجمالی نظر ڈالتے ہیں اور مذکورہ بالا سوالوں کے ایک دو گوشوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں  تاکہ واضح ہوجائے  کہ معاویہ کیوں اس طرح کے جرم کا مرتکب ہوا ؟  اور کیا اپنے ماننے  والوں کو اس طرح وصیت بھی کی تھی کہ خواہ  چودہ سو سال کیوں نہگزر جائیں  حجر کی طرح جو بھی معاویہ کے خلاف ہو ، اس کے مذموم مقاصد کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرے ، اس کے راہ میں رکاوٹ بنے ، ان کا سکون خراب کرے اور جینا حرام کردے ، اپنے زمانے کے امام ؑ سے برائت  کرے ، اپنے امام ؑ کی محبت کا اظہار نہ کرے ، اپنے امام ؑ کی معرفت کی تبلیغ نہ کرے ، اپنے معاشرے میں بدعتگذاروں اور لعنت کرنے والوں کے خلاف نہ بولے و۔۔۔  خدا کی قسم یہی وہ صفات ہیں جو حجر بن عدی کے اندر پائی جاتی تھیں ۔ جس کی وجہ سے معاویہ نے اپنے کارندوں کے ذریعے فجیع حالت میں شہید کروادیا ۔

 

جب امام علی ؑ کو کوفہ کی محراب عبادت میں ضربت لگی تو حجر بھی اپنے زخمی امامؑ کے ساتھ گھر گئے ۔ امام ؑ نے آخری لمحات میں  ایک بار پھر یہی دہراتے ہوئے فرمایا : اس سے پہلےکہ میں  آپ سب سے جدا ہوجاؤں جو کچھ پوچھنا ہے پوچھ لو  ! حجر بن عدی نے  کھڑے ہوکر امام ؑ کی شان میں مدح کی تو امام ؑ نے آنکھیں کھولی اور فرمایا : اے حجر ایک وقت ایسا  آئے گا کہ آپ سے مطالبہ کیا جائے گا کہ مجھ سے برائت کریں ، اس وقت کیا کہو گے ؟ حجر نے اپنی بہادری کا عقیدہ ظاہر کرتے ہوئے فرمایا : ((واللہ یا امیرالمؤمنین ؑ لو قطعت بالسیف اربا اربا و اضرم لی النار  والقیت فیھا  لآ ثرت ذلک علی البرائۃ منک )) (یعنی خدا کی قسم اے امیرالمؤمنین ؑ ! اگر مجھے تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے اور آگ میں ڈال دیا جائے  تب بھی آپ ؑ سے برائت نہیں کرونگا بلکہ اس کے اوپر شہادت کو ترجیح دونگا ۔)اس وقت امام ؑ نے فرمایا : اے حجر ! آپ اپنے تمام نیک کاموں میں کامیاب ہوں۔ پیغمبر ﷺ اور    اہلبیت ؑ کی طرف سے خدا  آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے

 

واقعاً بالکل اسی طرح ہوا جس طرح امام علی ؑ نے پیشین گوئی کی تھی ۔ امام علی ؑ کی محبت و معرفت  اور برائت نہ کرنے کے جرم میں معاویہ کے کارندوں نے باپ اور بیٹے کو شہید کردیا ۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ حجر بن عدی اپنے زمانے کے امام ؑ سے کتنی محبت اور معرفت تھی ؟ اپنے امام ؑ سے برائت پر شہادت کو ترجیح دی ۔  یہاں قابل ذکر بات یہ ہے جب دیکھا کہ جلاد قتل کے لئے تیار ہوئے ہیں تو معاویہ کے کارندوں سے کہا کہ اگر آپ میرے بیٹے کو بھی قتل کرنے  کا ارادہ رکھتے ہیں تو پھر میں ، پہلے اس کو ولایت کی راہ میں قربانی کے لئے پیش کرتا ہوں ؛  اس لئے کہ کہیں ایسا نہ  ہومیری شہادت کے  بعد وہ اس راہ سے بھٹک جائے !

 

اس بناء پر حجر بن عدی تاریخ میں ماندگار ہوا  ، اور محبت اہلبیت ؑ کی راہ میں شہید ہونے والوں کے لئے مشعل راہ بن گئے ۔ اس راہ میں ایک سیکنڈ کے لئے بھی اپنی محبت کے اندر حتی ایک انچ تزلزل آنے نہیں دیا ۔ پیغمبر اکرم ﷺ کی اس حدیث کے مصداق بن گئے  جہاں فرماتے ہیں : جبرئیل نے مجھے یہ خبر دی ہے  : (( ان السعید کل السعید حق السعید من احب علیا فی حیاتہ و بعد موتہ ))  یعنی سعید ( خوشبخت) اور تمام خوشبختیوں کا مالک اور حقیقی خوشبخت وہ ہے جو اپنی زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی امام علی ؑ سے محبت کرے ۔

 

بے شک معاویہ  کے کارندوں نے تو حجر بن عدی اور آپ کے بیٹے کو شہید کرنے کے بعد نماز جنازہ پڑھ لی  اور کفن و دفن بھی کردیئے لیکن انشاء اللہ عنقریب اس کا جواب جلد از جلد مل جائے گا اور ان کے مرنے والوں پر نہ نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور نہ ہی کفن و دفن کیا جائے گا ۔ جیسا کہ امام حسین ؑ نے معاویہ کے جواب میں حجر بن عدی کی شہادت پر معاویہ نے جو طعنہ کے طور پر کہا تھا کہ اے اباعبداللہ ! کیا آپ کے باپ کا شیعہ اور حجر بن عدی کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ خبر سنی ہے ؟ تو امام ؑ تبسم کی حالت میں فرماتے ہیں : وہ لوگ  آپ پر غالب آگئے اور کامیاب ہوگئے ہیں ۔ اور سنیں اے معاویہ ! اگر ہم آپ کے شیعوں کو قتل کریں تو ان کو نہ کفن و دفن دیں گے اور نہ ہی نماز جنازہ پڑھیں گے  ۔

امام حسین ؑ کے اس جملہ ( وہ تم پر غالب آگئے ہیں ) پر غور کرے کہ کس طرح غالب آگئے ؟  آپ کو اندازہ  ہوا ہوگا کہ  حجر بن عدی نے یقینا بنی امیہ کی حکومت کے مذموم مقاصد کو خاک میں ملایا ہے  ، ان کی راہ میں رکاوٹ بنے ہیں ، لوگوں کو حقیقت سے آگاہ کردیا ہے ، جنگ صفین ، جمل و نہروان میں شجاعت وبہادری کے کرشمہ دکھائےہیں ، اپنی حقیقی ایمان کا اظہار کیا ہے  ۔۔۔  ایسے کارناموں کے نتیجے میں  معاویہ کے دل میں اتنی سخت بغض و دشمنی پیدا ہوئی کہ آج چودہ سو سال گزرنے کے باوجود  بھی اس کے اثرات پائے جاتے ہیں ( یعنی حجر بن عدی کی قبر کھود کر ان کے جنازے کی بے حرمتی کی جارہی ہے) ۔ یہاں قابل غور  اور اصل بات یہ ہے کہ جو بھی رسول اللہ ﷺ اور  اہلبیت ؑ کی محبت میں مرتا ہے وہ شہید مرتا ہے اور شہید قرآن کی نظر میں زندہ ہے  اُسےمردہ نہ سمجھے  ، خواہ چودہ سوسال کیوں نہ گزرے ۔

 

حجر بن عدی  کی شہادت:

مرج العذراء ( دمشق سے کوئی ۲۰ کلو میٹر دور ایک سرسبز) وہ سر زمین ہے جسے فتح کےبعد، سب سے پہلے تکبیر کا نعرہ بلند کرنے والا حجر بن عدی ہے ۔ لیکن جب اس کو گرفتار کرکے اس جگہ سے گزارا گیا تو حجر بن عدی کہتا ہے:  میں پہلا وہ مسلمان ہوں  جس نے  اس جگہ تکبیر کا نعرہ  بلندکیا ہے جبکہ مجھے قیدی بناکے یہاں سے لے جایا جارہا ہے  ۔

 

بالآخرہ   پیغمبر اسلام ﷺ اور امام علی ؑ نے جوپیشین گوئی کی تھی  وہ یہاں پر صادق آئی ، جلّادوں نےحجر اور ساتھیوں سے کہا کہ اگر آپ اپنے مولا امیرامؤمنین علی ؑ سے بیزاری اور برائت کریں تو ہم آپ کو  آزاد کردیں گے !۔ لیکن آپ نے شہادت کو برائت پر ترجیح دی اور اپنے آپ کو ولایت کی راہ میں قربانی کے لئے پیش کردیا ۔ ان کے لئے قبریں کھودی گئیں اور کفن کو تیا کیاگیا ۔ حجر بن عدی نے جب یہ حال دیکھا تو ایک خوبصورت جملہ ادا کیا  : گویا ہم کافر ہیں اس لئے ہمیں قتل کیا جارہا ہے  اور دوسری طرف گویا مسلمان ہیں اس لئے کفن و دفن کا بندوبست بھی کررہے ہیں  !!!۔

 

حجر بن عدی کے مزار کی بے حرمتی  اورمسلمانوں کا رد عمل:

وہابی دہشت گرد  گروہ  جبھۃ النصرۃ نے شیعوں کے ساتھ اپنی دیرینہ دشمنی کی بناء پر حجر بن عدی کے  مزار کو منہدم کردیا  ۔اس دلسوز واقعہ کے انجام دینے والے تکفیری گروہ کے خلاف جو ۲مئی ۲۰۱۳ ء کو سوریہ کے قصبہ  مرج العذراء  میں انجام دیا تھا  ، مسلمانوں خصوصا شیعوں نے  مظاہرے کئے اور اس وحشیانہ ، غیر اخلاقی اور غیر انسانی  عمل پر  پُر زور مذمت کیں ۔

 

اس کے علاوہ اسلامی ممالک جیسے ایران ، عراق ، سوریہ ، لبنان ، و۔۔۔  کے اسلامی و سیاسی لیڈروں کے ساتھ مجتہدین  و علماءکرام نے اپنے الگ الگ  مذمتی بیانات  دیئے۔ جلسے جلوسوںمیں اس غیر اسلامی اور غیر انسانی عمل کی مذمت کی گئی اور  علمی مراکز ، دینی مدارس میں نبی مکرم اسلامﷺکےبزرگوارصحابی کے احترام میں تعطیل کیا گیا۔

……………………………………………………………………………

منابع: