Monday, 17 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 7

کل 9

اس هفته 7

اس ماه 180

ٹوٹل 22021

 

تحریر : ایم ۔اے۔حیدر

 

اکیسویں صدی کا ایک اہم ترین  انسانی المیہ دہشت گردی و بربریت ہے ، دہشت گردی یا Terroism کا شکار زیادہ تر تیسری دُنیا کے ممالک اور عالم اسلام ہیں۔ لیکن مغربی اور استعماری طاقتیں اپنے خاص مقاصد کے تحت ، دہشت گردی اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی کے آڑ میں دُنیا بھر میں غریب اقوام اور خاص کر مسلمانوں کے استحصال کیلئے ایک خطرناک اور نہ ختم ہونے والی لڑائی کا آغاز کر چکی ہیں۔ مغربی استعماری طاقتوں نےاس جلا کر راکھ کر دینے والی لڑائی کیلئے اس انداز میں پلاننگ کی ہے کہ اس نہ ختم ہونے والی لڑائی کا سارا  کا سارا نقصان اسلام اور مسلمانوں کے دوش پےہے؛ یعنی اسلام دشمن عناصر اسلام کے خلاف لڑنے والی اس جنگ میں خود مسلمانوں کے لشکر اور طاقت اور سرمایے کو خود مسلمانوں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں؛ جبکہ اس خطرناک جنگ کا سو فیصد نقصان مسلمانوں کو پہنچ رہا ہے ؛ اور ہر جھت سے دشمن اس لڑائی سے فائدہ اُٹھا رہاہے۔

 

اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی کے حقائق بیان کرنے سے پہلے  دہشت گردی کے معنی اور اقسام کے بارے میں سرسری طور پر اشارہ کرتے ہیں۔

 

دہشت گردی کا مترادف انگریزی لفظ Terroismہے،جوفرانسسی زبان کے لفظ"Terror " سے لیا گیاہے جس کے معنی اسلحے سے سیاسی قتل مراد ہے۔ اور فرانسیسی میں اس لفظ کا ڈر اور وحشت بھی معنی کیا گیا ہے۔  اگرچہ کہ ٹیرور کا لفظ فرانسیسی زبان کا لفظ ہے لیکن انگریزی زبان میں اس کا استعمال عام ہے۔

 

ٹیرور یا ٹیروریسم کا اصطلاحی معنی :

 

ٹیروریسم کا اصطلاحی معنی انتہای پیچیدہ اور متنازعہ ہے۔

(Alex-Schmid)ایلاکس اشمڈ ٹیروریسم کا مشہور محقق ٹیروریسم کیلئے ۱۰۹تعریفیں بیان کرتا ہے۔

(Ted Robert Gurr) ٹیڈ رابرڈ گورکے نظریے کے مطابق ، ٹیروریسم کے متعلق کی گئی تحقیقات ، اس کے متعلق پیدا ہونے والے  سارے سوالات کے جوابات دینے سے قاصر ہے ۔ جیسے کہ وہ (ٹیڈ رابرڈ گور) ٹیروریسم کی ایک اصطلاحی معنی میں کہتا ہے: "ٹیروریسم کے متعلق مختلف اصطلاحی معانی بیان کےگئے ہیں ، اور ان مختلف معانی میں قدر مشترک ایسی غیر انسانی قابل مذمت اقدامات ہیں ، جن سے اوروں کی بنیادی حقوق ضایع ہوں۔

 

انسایکلوپیڈیا آف پولٹکل سائنس میں ٹرور یا ٹروریسم کا یوں معنی بیان کیا گیاہے:

" ٹرور"کے معنی سخت وحشت اور ڈر کے ہیں اور اصطلاحی طور پر ایسا شدید وحشت کے معنی مراد لیا جاتا ہے ، جس سے کسی گروپ یا حکومت کی جانب سے سیاسی ہدف یا طاقت حاصل کرنے کیلئے دھشت گردی ،قتل یا خون خرابے سے معاشرے میں شدید خوف و ہراس پیدا ہو۔

جیسے کہ گذشتہ لفظی اور اصطلاحی معانی سے پتہ چلتا ہے، ٹروریسم کی تعریف پٍر  ماہرین متفق نہیں ہیں، اور خود ٹروریسم اور دھشت گردی کے اقدامات کی طرح ٹروریسم کا لفظ بھی مبہم اور مجھول ہے۔

 

دہشت گردی کی اقسام:

 ٹروریسم یا دھشت گردی کی واقعیت اور دھشت گرد طاقتوں کی پہچان کیلئے ناگزیر ہے کہ ٹیروریسم کی اقسام کی طرف اشارہ کیا جائے ، تاکہ معلوم ہو ، کہ دُنیا میں کون اور کس نوعیت کے دھشت گردی میں ملوث ہیں۔

 

ماہرین ٹیروریسم یا دھشت گردی کے مندرجہ ذیل اقسام پرتقریباً متفق ہیں:

 

۱ ۔ حکومتی دہشت گردی (State Terroism)

اس قسم کی دھشت گردی میں حکومتیں یا حکومتی ادارے خاص مقاصد کے حصول کیلئے، شہریوں کے خلاف دھشت گردی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

 

 2۔ بین الاقوامی دہشت گردی (International Terrorism)

اس قسم کی دھشت گردی میں دھشت گرد، بعض ملکوں کی حمایت سے دھشت گردی کے اقدامات انجام دیتے ہیں۔

 

۳ ۔ مقامی دہشت گردی Domestic Terrorism))

اس قسم کی دھشت گردی میں دھشت گرد ، اپنے ملک میں حکومت اور عوام کے خلاف دھشت گردی انجام دیتے ہیں ۔

 

۴۔ بین الاقوامی یکجہتی دہشت گردی (Transnation Terrorism)

اس قسم کی دھشت گردی میں ،مختلف اقوام کے دھشت گرد،دوسرے ممالک میں دھشت گردی انجام دیتے ہیں۔

دھشت گردی کی تعریف اور اقسام کے بیان کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ دھشت گردی کا لفظ ایک خاص شخص یا دھشت گردی کے مرتکب شخص پہ صرف اطلاق نہیں ہوتا ، بلکہ ممکن ہے کہ ایک ملک یا ایک قوم یا مختلف اقوام یا ممالک پر لفظ دھشت گردی یا ٹروریسم کا اطلاق ہو۔

 

ٹیروریسم کی مندرجہ بالا  اقسام کی مثالوں کے سلسلے میں عرض خدمت ہے کہ ٹیروریسم  کی پہلی قسم یعنی حکومتی دہشت گردی میں صدام حکومت کا اپنے عوام کے خلاف قتل و غارت کے سلسلے  یا بھارتی حکومت  کا کشمیری مظلوم عوام کے خلاف ظلم و بربریت کے واقعات یا برما کی حکومت کا  اپنے نہتے مظلوم مسلمانوں کے خلاف بربریت کے حالیہ واقعات   بہترین مثالیں  ہو  سکتی ہیں۔

 

ٹیروریسم کی دوسری قسم یعنی بین الاقوامی دہشت گردی کی مثال ؛شام میں گذشتہ دو سالوں سے دہشت گرد،مغر بی اور بعض عرب ممالک کی مدد سے دہشت گردی میں مصروف ہیں ، اور اسی طرح اسرائیل کا امریکہ کے سربراہی میں مظلوم فلسطینی عوام پے کیے جانے والے مظالم بھی دہشت گردی کی یہی قسم ہے۔ جبکہ تیسری یعنی مقامی  دہشت گردی کی بہترین مثال پاکستان میں شیعوں کے خلاف  دہشت گردوں کی قتل و غارت کے واقعات ہیں۔ اوردہشت گردی کی چوتھی قسم  یعنی بین الاقوامی یکجہتی دہشت گردی میں  جیسے القاعدہ کا عراق اور دیگر اسلامی ممالک میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث  ہونا ہے۔

 

و ضاحت: ممکن ہے ٹیروریسم کی اقسام میں سے دو قسمیں  کسی ایک  مثال  پہ  اطلاق کریں، جیسا کہ شام کے حالیہ واقعات اس جہت سے کہ مختلف ممالک اس دہشت گردی میں  ملوث ہیں ، بین الاقوامی دہشت گردی ( یعنی دوسری قسم) اور اس لحاظ سے کہ القاعدہ مختلف ممالک کے  دہشت گردوں کے ذریعے وہاں  دہشت گردی میں ملوث ہے یہ دہشت گردی کی چوتھی قسم (بین الاقوامی یکجہتی دہشت گردی)ہے۔

ابھی تک دہشت گردی یا ٹیروریسم کے متعلق مقدمے کے طور  پر  جو کچھ بیان کیا گیا ، وہ ہمارے اصل موضوع کو سمجھنے اور حقائق کی تہہ تک پہنچنے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے ، جسکا اندازہ قارئین محترم کو اس تحریر کوپورے طرح پڑھنے کے بعد ہو گا۔

 

اصل موضوع یعنی " شیعوں کے خلاف دہشت گردی کے حقائق " سے متعلق مختلف انداز میں بحث کی جا سکتی ہے، لیکن اس مقالے میں اس عنوان پر دو حصوں میں  بطور ذیل بحث کی جائے گی۔

 

الف: سیاسی حقائق:

اسلام دشمن طاقتوں نے اپنے مفادات کے حصول کیلئے شیعوں کے خلاف دہشت گردی کو جنم دیا ہے۔اسلام مخالف طاقتوں کا ہر عصر  میں سب سے بڑا نقصان مسلمانوں کا اتفاق اور یکجہتی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اسی لیے وہ مسلمانوں کو دست وگریبان کر کے بے پناہ مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ استعماری طاقتیں اپنے ماضی کے تجربات کی بنیاد پر عالم اسلام کے خلاف اپنی گھناؤنی سازشوں کی منصوبہ بندی کرتےہیں۔ صدر اسلام سے اب تک  دشمنوں نے مختلف حربوں سے اسلام کو نقصان پہنچانا چاہا، کبھی اسلام کو تحریف کر کے  اور کبھی اسلام میں اسرائیلیات اور جعلی باتیں داخل کرکے اور کبھی صلیبی جنگوں کی صورت میں مسلمانوں کے خلاف برسر پیکار رہے اور کبھی سلطنت عثمانیہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی صورت میں اسلام کا شیرازہ بکھیرا اور کبھی  اسلام میں اپنے من پسند عقائد والے گروہ جیسے بہائیت  اور قادیانیت اور وہابیت کو داخل کیا، اب اس جدید دور میں جبکہ جدید سائنسی ایجادات کی بدولت پوری دُنیا  ایک شہر یا بستی کی مانندبن  چکی ہے ، اس عصر کا ترقی یافتہ انسان کائنات کے دیگر  سیاروں کو تسخیر کرنے کی فکر میں ہے اور انسان سائنسی اور مادی لحاظ سے اپنی تاریخ کے پُر عروج ترین منازل کی جانب گامزن ہے لیکن یہی ترقی یافتہ انسان مغربی فساد زدہ معاشرے کی صورت میں اخلاقی برائیوں کی دلدل میں روز بروز دھنستا جا رہا ہے ، اور معنویات کے فقدان کی وجہ سے بستر علالت پہ  پڑے اُس جوان کی مانند ہے؛ جس کے سر پر تو قیمتی ہیروں کا تاج سجا ہے لیکن نبض(معنوی لحاظ سے) ڈوبتا  جا رہا ہے، اور ذہن میں جدید اور ترقی یافتہ افکار اورمستقبل کے سپنوں کے باوجود وہ اخلاقی اور معاشرتی فساد کی وجہ سے اپنی زندگی کی آخری سانس لے  رہا ہے۔

 

مندرجہ بالا اوصاف کے مالک مغربی معاشرے کے ارباب اقتدار کو اپنے اخلاقی اور معنوی بدبختی کا مکمل احساس ہے ، اور ساتھ ہی ساتھ وہ اسلام کے اخلاقی اور معنوی لحاظ سے مالامال نظام حیات سے بھی بخوبی آشنا ہیں،اور وہ  آگاہ ہیں ، کہ اُن کے مادی لحاظ سےترقی یافتہ اور معنوی لحاظ سے عاری معاشرے کے معنوی خلاء کو صرف اور صرف معنوی اور اخلاقی جہت سے ،اسلام کا الہی اور وحیانی نظام ہی  پُر کرسکتا ہے۔اسی لیے تو اُنکے دانشوروں نے اکیسویں صدی کو تمدنوں کی ٹکراؤ کی صدی قرار دیا ہے۔اور اُنھوں نے اعتراف کیا ہے ، کہ اسلامی تمدن سے اُن کے مادی اور شیطانی نظام کو شدید خطرہ ہے۔مغربی سامراج حقائق، کو تسلیم کرنے کہ باوجود اسلام کے خلاف صف آراء ہے ؛ کیونکہ اُنکا نظام استبدادی  اور ظالمانہ ہے،وہ اپنے جوانوں کو فساد کے دلدل میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرتے  ہوئے تو دیکھ سکتے ہیں لیکن اسلامی تعلیمات اپناتے اور اسلام کے دامن میں جاتے نہیں دیکھ سکتےہیں۔

 

مندرجہ بالا حالات میں مغربی اور اسلام دشمن طاقتوں کو اپنا اقتدار بچانے کیلئے  اسلام اور مسلمانوں کے خلاف صف آرائی کیلئے درج ذیل موقف اختیار کرنا پڑا:

۱۔ مغربی معاشرے کو اسلامی تعلیمات سے بچانا ، بلکہ مغربی معاشرے کو اسلام ، اسلامی تعلیمات اور مسلمانوں سے متنفر کردینا۔

۲۔مسلمانوں کو آپس میں ایسا اُلجھانا تاکہ اُنہیں مغربی معاشرے خصوصاً جوانوں کو حقیقت کی جانب بلانے  کا موقع بھی نہ ملے ، اور اسلامی ممالک ہر جہت سے مغربی استعمار کا اسیر ہو۔

 

مغربی استعماری طاقتوں نے اپنے ان اہداف کو حاصل کرنے کا واحد حل یہ قرار دیا کہ اسلام اور مسلمانوں  کو مغربی معاشرے  میں انتہائی پست اور غیر انسانی اور غیر مہذب پیش کیا ،تاکہ مغربی معاشرہ  اسلام سے متنفر ہو جائے۔اس لیے استکبار نے فیصلہ کیا کہ اِن اہداف کوحاصل کرنے کیلئے مسلمانوں کو آپس میں دست گریبان کریں تاکہ وہ اپنے اہداف کو  آسانی سے حاصل کر سکیں۔سنی شیعہ اختلافات پیدا کرنا اس لیے ہر جہت سے استعمار کومناسب ترین حربہ لگا کیونکہ دُنیا کے اکثر اسلامی معاشروں میں صدیوں سے شیعہ سنی مفاہمت اور بھائی چارے سے آپس میں ایک ساتھ زندگی گذار رہے تھے ،اور اختلاف کی صورت میں  اسلامی بھائی چارے اور اتحاد  کی فضاء مکدر ہو  گئی اور یہی دشمن کا مقصد تھا لھذا اس ناپاک سازش کو عملی جامہ پہنانے کیلئے دشمن نے ایک جنونی ٹولے کا انتخاب کیا جو ہمیشہ سے دشمنان اسلام کا آلہ کار رہا ہے ۔ اور اس گروہ کو اسلام کی کشتی میں سوراخ کرنے کا پہلے سے تجربہ رہا ہے ۔ لہذا بڑی آسانی سے استعمار نے اس ضمیر فروش گروہ کو مسلمانوں کے سب سےزیادہ  استعمار دشمن فرقے یعنی شیعوں کے خلاف استعمال کیا ،البتہ استکبار نے اپنی اس فتنہ انگیز سازش میں اس حد تک  مہارت سے کام لیا کہ یہ گروہ پوری دُنیا والوں کیلئے ایک مبہم بہروپیا اور خوفناک دہشت ناک گروپ بن  گیا۔ اسی لیے یہ گروپ پوری دُنیا میں استعمار کی مدد سے سرگرم عمل ہے ، کہیں اس کا نام طالبان ،کہیں لشکر فلاں کہیں کوئی اور نام لیکن بہرحال اس ٹولے کی سب شاخوں کامشن استعمار کے اشاروں پر اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانا ، اور شیعوں کو استعمار کے راستے سے ہٹانا ہے۔ یہ گمراہ ٹولہ سامراج کی خشنودی  کیلئے شیعوں کے خلاف ہر طرح کے غیر اسلامی اور انسان سوز  اقدامات انجام دے چکا ہے ، یہاں ان افسوس ناکاقدامات کے بعض منفی اثرات اور درپردہ حقائق اور محرکات   پر روشنی ٖڈالی جائے گی۔

 

شیعوں کے خلاف دہشت گردی کے نقصانات:

سامراج کے اشارے پہ اس خون آشام ٹولے کے شیعوں کے خلاف وحشیانہ اقدامات کے سارے نقصانات بیان کرنا ناممکن ہے ، بلکہ بعض اہم نقصانات کا تذکرہ کیا جائے گا۔

 

 ۱۔دُنیا کو اسلام سے متنفر کرنا:

جیسے کہ پہلے بیان ہو چکا ہے   کہ سامراج کا ایک اہم مقصد اسلام کو دُنیا کے سامنے ایکغیرانسانی اور غیر مہذب مذہبکےطورپرپیش کرنا ہے ، لہذا اس جنونی گروہ کی شیعوں کے خلاف کی جانے والی خون آشام کاروایوں سے دُنیا میں اسلام ایک ٖ ٖغیر انسانی اور خون خرابہ کرنے والا ظالم مذہب کے طور پہچانا جاتا ہے۔جب لوگ یہ دیکھے  یا سنتے ہیں کہ مسلمان خود اپنے بے گناہ مسلمانوں کو آگ اور خون میں نہلا  کر موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں ، تو وہ اسلام کو ایک غیر انسانی دین اور مسلمانوں کو وحشی اور درندہ صفت افراد سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔

 

۲۔اسلام کی ترویج اور پھیلاؤ کا روکنا:

جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ، کہ مغربی تمدن اس وقت فساد کے دلدل میں دھنستا جا رہا ہے اور مغربی معاشرے میں آئے دن لوگ اسلام کی طرف راغب ہو رہے ہیں ، اخلاقی بے راہ رویوں سے تنگ آ کر اسلام کے دامن میں پناہ لینا چاہتے ہیں لیکن جب وہ دیکھتے ہیں یہ مسلمان  اور اسلامی تعلیمات اس حد تک بربریت  کو مسلمانوں کے خلاف جائز سمجھتی ہے ، تو وہ اسلام کے دامن میں پناہ لینے سے ،اُس فساد کے دلدل میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں، اور وہ  ہرگزاسلام قبول نہیں کرتے، مغربی سامراجی نظام بھی اس موقع سے فائدہ اُٹھا کر اِن واقعات کا اپنے عوام میں زیادہ سے زیادہ پرچار کر کے لوگوں کو اسلام سے متنفر کرتا ہے۔

 

 ۳۔مسلمانوں کی نئی نسل کو اسلام سے بد ظن کرنا:

شیعہ دشمن عناصرکا شیعوں کے خلاف اپنی انسانیت سوز کاروائیوں کی آڑ میں اسلام پر سب سے بڑی جفاء ، مسلمانوں کی نئی نسل کو اسلام سے بدظن کرنا ہے۔ جب ایک مسلمان جوان یا نوجوان اپنے شہر یا ملک میں مسجد اور امام بارگاہ میں   بے گناہ نمازیوں کے قتل کا منظر دیکھتا ہے ، تو فوراً  اُس کے ذہن میں دو سوال پیدا ہوتے ہیں ، پہلا سوال : یہ قتل و غارت کیوں؟ دوسرا سوال : یہ قتل و غارت کس نے کی؟ اُس مسلمان جوان یا نوجوان کو شدید نفسیاتی دہچکالگتا ہے اور اُسے مختصراً یہ جواب ملتا ہے : یہ قتل و غارت اسلام کے نام پہ خود مسلمانوں نے کی ہے۔تو  اُس نوجوان کے ناپختہ ذہن میں یہ بات رسوخ کرے گی :"اسلام  مسلمانوں کے خون بہانے کا حکم دیتا ہے، تو فوراً وہ وحشت زدہ جوان یہ نتیجہ اخذ کرے گا: مجھے اسلام سے دور رہنا چاہیے،کیونکہ اس دین کا پیغامسفّاکیت اور خون آشامی و بربریت ہے۔

 

۴۔ حرمت شکنی:

آج عالم اسلام کا سینہ دشمنوں کی گستاخیوں سے چھلنی چھلنی ہے ، کبھی سلمان رُشدی ملعون ،آیات شیطانی لکھ کر  اور کبھی ڈنمارکی صحافی ملعون کارٹون بنا کر ، اور کبھی امریکی پادری قرآن مجید جلاکر مسلمانوں کے مقدسات پر کیچڑ اُچھالتے ہیں ، اور کبھی برما میں اسلام  دُشمن طاقتیں مسلمانوں کا قتل عام اور قرآنوں اور مساجدوں کو نظر آتش کر کے پورے عالم اسلام کی بے حرمتی کرتی ہیں، اور ستم بالائے ستم یہ کہ دوسرے عالمی اداروں کی طرح اقوام متحدہ  اور عالم اسلام ان مظالم پہ خاموش تماشائی ہیں! اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان مظالم  اور بے حرمتیوں  کا آغاز اسلامی ممالک سے ہوا ہے، ذرا غور کریں  ، جب وہ ملک جسے مسلمانوں نے لاکھوں قربانیاں دے کر اسلام کے نام پہ بنایا ہے وہاں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جائے ،وہاں مسلمانوں کے مساجد و مقدسات کی کھل کر بے حرمتی ہو ،تو غیر اسلامی ممالک میں بھی اسلامی مقدسات کی بے حرمتی بعید نہیں، اگر اسلام کے نام پہ بننے والے پاکستان میں مسلمان کا خون شیعہ ہونے کے جرم میں نہ بہایا جاتا ، تو  آج غیر  اسلامی ممالک میں بھی کفار ،اسلامی مقدسات پہ ہاتھ اُٹھانے کی جرّأت نہ کرتے، اور بغیر کسی مبالغے کے غیر اسلامی ممالک میں اسلام کےمقدسات پہ ہونے والے حملے، پاکستان میں شیعوں کے خون سے کھیلی جانے والی ہولی کا تسلسل ہے۔اور یقیناً شیعوں پر ظلم کرنے والے اور اس ظلم پہ خاموش رہنے والے ، پوری دُنیا میں اسلام کے مقدسات کی توہین کے ذمہ دار ہیں۔

 

۵۔ اسلامی ممالک میں سامراجی طاقتوں کا استحکام:

سامراجی طاقتوں کا اسلامی ممالک میں مستحکم اور مضبوط ہونے کا ایک بہترین حربہ مسلمانوں کو آپس میں لڑانا ہے ، اور چونکہ سنی شیعہ فسادات یا شیعوں کے خلاف دہشت گردی مسلمانوں  کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کا بہترین ذریعہ ہے اس لیے ہر عصر میں اس حربے کی بدولت سامراجی طاقتوں نے اسلامی ممالک میں خوب پنجے گاڑے ہیں ماضی قریب میں اس کی بہترین مثال ایران عراق لڑائی کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں ، جب مغربی طاقتوں نے عرب دُنیا کی مدد سے عراق کو ایران سے لڑانے کیلئے آٹھ سالہ جنگ چھیڑی  اس جنگ سے جہاں عالم اسلام کو بے انتہاء نقصان ہوا ، وہاں اس جنگ سے مغربی استعمار کو بے تحاشا فائدہ ہوا ۔ امریکہ اور اس کے دیگر حلیفوں نے ایران  سےعرب ممالک کو ڈرا کر اُنھیں اربوں ڈالر کا اسلحہ بیچا ۔ اور اُن ممالک میں مستقل فوجی اڈے قائم کیے جو آج تک خود انہی اسلامی ممالک  کے خرچوں پے قائم ہیں ؛ بلکل اسی طرح سنی شیعہ اختلاف ڈال کر اور شیعوں کے خلاف دہشت گردی کرواکر سامراج ، اسلامی ممالک میں اپنے خونی پنجے مزید گاڑنا چاہتا ہے۔

 

پاکستان میں شیعوں کے خلاف دہشت گردی کے حقائق:

اس مختصر تحریر کا اصلی محرک سر زمین پاکستان میں شیعوں کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کا جائزہ لینا تھا ، لیکن موضوع کا مختلف  زاویوں کے لحاظ سے ، ذیلی  مطالب کا بیان بھی ناگزیر تھا ؛ لہذا بغیر کسی تمہید کے سرزمین پاک پہ شیعوں کے خلاف دہشت گردی کا جائزہ لیتے ہیں۔

 

پاکستان دُنیا کا وہ اسلامی ملک ہے جہاں سنی شیعہ کا اتحاد ، ماضی اور حال میں مثالی رہا ہے۔ پاکستان کا شیعہ سنی کا امتزاجی اسلامی معاشرہ ، اسلام دشمن طاقتوں کیلئے ناقابل برداشت ہے۔کیونکہ اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں پاکستان تیسری دُنیا کے ممالک اور خاص کر اسلامی دُنیا   کیلئے ایک نمونے کی حیثیت رکھتا ہے۔پاکستانی قوم نے اسلامی نظریے کے  تحت  انگریزی سامراج سے نجات حاصل کی، اس آزادی کی تحریک میں شیعوں نے اپنیآبادی کے تناسب سے دوسروں کی نسبت بہت زیادہ کردار ادا کیا ، اگر ایک جانب سے قائد اعظم محمد علی جناح  اور دیگر شیعہ مدبر سیاست دانوں نے پاکستان کے معرض وجود میں آنے میں اہم کردار ادا کیا ،تو دوسری جانب سے  بر صغیر کی شیعہ ریاستوں کے سربراہوں نے بھی مالی حوالے سے تحریک آزادی  کی مدد کی۔ پاکستان کی بقاء اور سالمیت میں شیعوں کا کردار بھی اہل خرد پر  پوشیدہ نہیں ہے۔

 

دشمنان اسلام اور پاکستان کو اگر  پاکستان سے خطرہ ہے ، تو اس جہت سے ہے ، کہ اس ملت کا ہر فرد سنی شیعہ ہونے سے پہلے مسلمان اور پاکستانی ہے ، اسی بلا افتراق مذہب و فرقے نے پاکستان کو دُنیا کے دوسرے ممالک سے ممتاز کیا ہے۔ پاکستانی مسلمان ہونے کی حیثیت سے دوسرے اسلامی ممالک کے لیے آئیڈیل ہیں ،جبکہ دشمنان اسلام و پاکستان ، مستقبل میں پاکستان کے دوسرے اسلامی ممالک کیلئے نمونہ بننے کے خوف سے پاکستانی شیعہ وسنی کو دست و گریبان دیکھنا اور دکھانا چاہتے ہیں ۔ تاکہ دیگر اسلامی ممالک کے لوگ ان کی پیروی  نہ کرنے کے ساتھ ساتھ ؛ استکباری طاقتیں مستقبل میں بھی ایک متحدہ اور مستحکم پاکستان سے بھی محفوظ ہوں۔ اپنے اسی شیطانی عزائم کے حصول کیلئے استکباری طاقتوں نے پاکستانی شیعوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا ہوا ہے۔

 

شیعوں کےخلاف دہشت گردی اور سامراج کے مفادات:

سامراجی طاقتیں پاکستان میں شیعوں کے خلاف دہشت گردی سے ملت پاکستان کو منتشر کر کے اس کی ترقی کو روکنے کے علاوہ ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بننا چاہتے ہیں ؛ اور یہ سب کچھ تب ہی ممکن ہے ، جب اس ملک کا سنی اور شیعہ اپنے آپ کو غیر محفوظ اور ایک دوسرے کا دشمن  سمجھنے لگے۔

 

استعماری طاقتیں اپنے گذشتہ تجربات کی بنیاد پر ، اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کو طے کرتے ہیں۔جیسے کہ پہلے اشارہ ہو چکا ہے، پاکستان مختلف جہتوں سے استعماری طاقتوں کیلئے انتہائی اہم ملک ہے، اور  ہر  لحاظ سے پاکستانی قوم دیگر اسلامی مملک کیلئے نمونہ عمل ہے ، کیونکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان کی ترقی کسی پہ پوشیدہ نہیں  ،اور نظریاتی لحاظ سے بھی پاکستانی منفرد ہے ،کشمیر کی طرح فلسطین بھی پاکستان کے بچے بچے کو عزیز ہے۔ اور ہر  محب وطن پاکستانی جیسے کشمیر کو پاکستان کا اٹوٹ  انگمانتاہے اسی طرح فلسطین کو  بھی عالم اسلام کا حصہ اور اسرائیل کو عالم اسلام کا دشمن تصور کرتا ہے۔استعمار ی طاقتیں ملت مسلمہ اور خاص کر پاکستان کو اُس وقت اپنا اسیر بنا کر اُسکی قومی ثروتوں پر ہاتھ صاف کر سکتی ہیں ، جب قوم آپس میں دست و گریبان ہو ، سامراج اپنے انہی عزائم کے حصول کیلئے شیعوں کے خلاف دہشت گردی کروا    رہی ہے۔ تاکہ دُنیا کا یہ واحد اسلامی ایٹمی ملک داخلی اختلافات کا شکار  رہ کر کشمیراور فلسطین کے متعلق نہ سوچ سکے، اور ساتھ ہی ساتھ استعمار آسانی سےاپنے اہداف حاصل کر سکے!

 

ب: مذہبی حقائق

شیعوں کےخلاف دہشت گردی اور قتل عام کے سیاسی حقائق کی طرح کچھ مذہبی حقائق بھی ہیں ، جنہیں دشمن غلط طریقے سے توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر  مکار دشمن سادہ لوح لوگوں کوبے وقوف بنانے  کیلئے آیت قرآنی کے غلط ترجمے سے شیعوں کوجہنمی ثابت کرتے ہیں، استکبار کے یہ نوکر کچھ کوڑیوں کے بدلے کلام الھی کے غلط ترجمے سے بھی گریز نہیں کرتے ، جیسے کہ سورہ مریم کے آیۃ : "ثم لننزعنّ من کل شیعۃ ایہم علی الرحمن عتیا" ترجمہ: پھر ہر گروہ سے ایسے افراد کو الگ  کرلیں گے ، جو رحمان (اللہ )کے حق میں زیادہ نافرمان ہو گا۔

 

میں لفظ"شیعہ" سے مراد اصطلاحی معنی (یعنی مذہب شیعہ )لیتے ہیں ! جبکہ اس آیہ شریفہ میں لفظ شیعہ سے مراد لغوی معنی (یعنی گروہ  یا ٹولہ) ہے، یعنی اس آیہ شریفہ میں خداوند متعال کا ارشاد ہے : ہم قیامت کے دن ہر گروہ میں سے نافرمانوں کو جہنم میں  داخل کریں گے۔ 

اندھی دشمنی کی اس سے اور واضح مثال  کیا ہو سکتی ہے ، کہ شیعہ دشمنی میں قرآن کریم کے مفہوم کو بدلنے سے بھی  دریغ نہیں کرتے  حالانکہ سب مفسرین اور مترجمین قرآن کریم اس آیۃ کریمہ  میں کلمہ "شیعہ" سے گروہ مراد  لیتے ہیں۔

 

تکفیر کا مسألہ اسلامی مذاہب کی نگاہ میں:

دُشمنان اسلام کی ایک اور خطر ناک چال جو شیعوں کے خلاف بُری طریقے سے چلتے ہیں، وہ" تکفیر" کی چال اور سازش   ہے؛ وہ انتہائی عیاری سے اپنے مخالفین کو وہ شیعہ ہوں یا سنی ، کافر قرار دے کر واجب القتل قرار دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ توسل ، شفاعت  یا زیارت اہل قبور کے عقیدے کو شرک اور ان کے ماننے والوں کو کافر قرار دیتے ہیں؛ اور ستم بالائے ستم یہ کہ اس  خرافی عقیدے کو مذاہب اسلامی سے بھی منسوب کرتے ہیں ، ذیل میں اس   مسئلے کے بارے میں  قر آن کریم ،احادیث شریف اور مختلف مذاہب کے علماء کے بیانات کی روشنی میں حقائق کا جائزہ لیا جائے گا۔

 

قرآن کریم کی متعدد آیات کریمہ میں مسلمان ہونے کا معیار بیان  ہوا  ہے ، جیسے کہ در ذیل آیۃ شریفہ میں فرمان قدرت ہوتا ہے:

"و اقامو ا الصلوٰۃ و اتوا الزکاۃ فاخوانکم  فی الدین"  ترجمہ: اور نماز پڑھے اور زکاۃ دے تو تمہارے دینی بھائی ہیں۔

اس آیۃ شریفہ کے مطابق مسلمان ہونے کا معیار  نماز ادا کرنا اور زکاۃ دینا ہے۔ اور ہرگز  دوسرے عقاید اور اعمال کو مسلمان ہونے اور اسلام میں داخل ہونے کی شرط قرار نہیں دیا گیا ہے۔

 

رسول رحمت ﷺ مسلمان ہونے کی نشانیوں کو یوں بیان فرماتے ہیں: " من صلی صلاتنا و استقبل قبلتنا و اکل ذبیحتنا فھو المسلم۔"ترجمہ: جو ہماری طرح نماز پڑھے ، اور ہمارے ذبح شدہ جانوروں کا گوشت کھائے وہ مسلمان ہے۔

اس حدیث شریف میں بھی اہل قبلہ اور مسلمانوں کاذبح شدہ جانوروں کاگوشت کھانے والے  کو مسلمان قرار دیا گیا ہے۔

مذاہب اسلامی بھی کسی بہانے کے تحت کسی کو اسلام کے دائرے سے خارج نہیں کرتے ، جیسے کہ اوزاعی سے منقول ہے:

" خدا کی قسم اگر مجھے  ٹکڑے ٹکڑے بھی کیا جائے تو میں کسی شہادتین کہنے والے کی تکفیر کیلئے زبان نہیں کھولوں گا۔

ذہبی اپنی کتاب سیر اعلام النبلاء میں ابو الحسن اشعری کے متعلق نقل کرتا ہے ، کہ اپنے وفات کے وقت کہتا ہے:" گواہ  رہو میں اہل قبلہ میں سے کسی کو کافر نہیں سمجھتا ، کیونکہ اُن سب کا اشارہ معبود واحد کی طرف ہے ، انکا اختلاف عبارتوں میں ہے۔"

 

اسی طرح شافعی کہتا ہے :

" میں تاویل کرنے والوں میں سے کسی کو کافر نہیں سمجھتا ،اگر چہ کہ وہ ظاہر کی مخالفت کرتے ہیں ، اور گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔( )

احمد بن حنبل ( )سے منقول ہے اُس نے تارک نماز کے علاوہ کبھی کسی اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کی تھی۔( )

ابن رجب حنبلی کہتا ہے :" رسول اللہ ﷺ کی سیرت مبارک لوگوں کے اسلام قبول کرنے میں یہ تھی کہ زبان سے شھادتین سنتے تھے ، اور اُن کی جانوں کو محفوظ قرار دیتے تھے ۔

 

ابن حزم آیۃ " و اقاموا الصلاۃ و آتوا الزکاۃ فاخوانکم فی الدین"  کے ذیل میں کہتا ہے:

"وھذا نص جلی علی ان من صلی من اھل شھادۃ الاسلام و زکی فھو اخونا فی الدین" ترجمہ: یہ آیۃ روشن دلیل ہے کہ اہل اسلام میں سے جو نماز پڑھے اور زکاۃ دے وہ دین اسلام میں ہمارا بھائی ہے۔

جیسے کہ مندرجہ بالا علماء کے اقوال سے واضح ہوا ،یہ بزرگان قرآن کریم اور احادیث رسولﷺ کی روشنی میں بات بات پہ مسلمانوں کی تکفیر نہیں کرتے تھے بلکہ شھادتین پڑھنے والے کو مسلمان اور اُس کی جان و مال کو محترم سمجھتے تھے۔

 

ابن تیمیہ اور مسلمانوں کی تکفیر کا مسألہ :

وہابی یا تکفیری گروہوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کو کافر قرار دینے میں اس سفّاک،بے رحم اور خون آشام ٹولے نے ابن تیمیہ کے نظریات کا سہارا لیا ہے۔ ذیل میں حقائق جاننے کیلئے ابن تیمیہ کے نظریات کا جائزہ لیتے ہیں۔

 

ابن تیمیہ رسول گرامی اسلامﷺ کے مسلمانوں کی جان و مال کو محترم قرار دینے والی احادیث کے طرف اشارہ کرنے کے بعد کہتا ہے:یہ ساری احادیث صحاح ستہ کی کتابوں میں موجود ہیں، اور مزید ابن تیمیہ کہتا ہے:

" والاصل ان دماء المسلمین و اموالہم و أعراضھم محرمۃ من بعضھم علی بعض لا تحل اِلا باذن اللہ و رسولہ ﷺ "   ترجمہ: اور اصل یہ ہے کہ مسلمانوں کا خون ، مال اور عزت کی پائمالی[ناحق] ایک دوسرے پہ حرام ہے اور یہ صرف اللہ اور رسولﷺ کے حکم کے مطابق حلال ہوتی ہیں۔ 

 

ابن تیمیہ   حضرت امیر المومنین علی ؑ کی خوارج کے ساتھ لڑائی کا حوالہ دے کر کہتا ہے:

جب ان (خوارج) کی گمراہی دلیل اور اجماع (علماء اور امت کا اتفاق) سے ثابت تھی اور اللہ اور رسولﷺ نے اُن سے لڑنے کا حکم دیا تھا ،اُنھیں کافر نہیں کہا گیا ، تو کیسے اُن گروہوں کو جن پر مختلف مسائل میں حق مشتبہ ہوا ہے اُنھیں کافر کہا جائے ! یعنی ابن تیمیہ کہنا چاہتا ہے کہ عقاید اور دیگر مسائل میں غلطی کی وجہ سے کسی فرقہ یا گروہ کو کافر قرار دینا جائز نہیں ہے ، اور صحابہ کے روش اور سیرت کی مخالفت ہے ، جیسے کہ حضرت علی علیہ السلام اور دیگر بزرگ اصحاب نے خوارج کے مقابلے میں کیا؛ اُن (خوارج )سے خدا اور رسولﷺ کے حکم کے مطابق لڑے ، کیونکہ اُنھوں نے حق کی مخالفت کی تھی ، لیکن اُنھیں کافر قرار نہیں دیا گیا۔اسی طرح ابن تیمیہ "ملت کے تہتر فرقے "والےحدیث( ) کے ذیل میں کہتا ہے ان سب فرقوں میں اہل حدیث و سنت کا فرقہ ، فرقہ ناجیہ ہے ، لیکن باقی بھتر فرقے بھی کافر نہیں ہیں بلکہ مسلمان ہیں

 

ابن تیمیہ صرف خداوند کی وحدانیت کے گواھی اور رسولﷺ کے رسالت کے اقرار کو اسلام لانے کی شرط قرار  دیتا ہے ،وہ معتقد ہے کہ صرف شھادتین اور ضروریات دین کا انکار ، کفر کا باعث  بنتا ہے ۔ ابن تیمیہ کے عقیدے کے مطابق شھادتین کا اقرار کرنے والا کلمہ گو کافر نہیں ہو سکتا ، اور اگر کوئی شھادتین کا انکار کرے تو وہ اسلام سے خارج ہے ۔ اب اہل خرد کیلئے سوال پیدا ہوتا ہے ،کہ دشمنان شیعہ جو فکری اور عقیدتی جھت سے اپنے آپ کو ابن تیمیہ کا پیرو کار سمجہتے ہیں ، کس دلیل کے تحت ، شھادتین کا اقرار کرنے والے شیعوں کو کافر قرار دے کر ، اُن کے خون بہانے کو جائز سمجھتے ہیں!

 

تلخ حقائق :

بارھویں صدی ہجری میں محمد بن عبدالوھاب نامی شخص جزیرۃ العرب میں نمودار ہوتا ہے ۔ وہ عقیدتی لحاظ سے حنبلی فرقے کاتھا لیکن اپنے آپ کو ابن تیمیہ  کے افکار کو زندہ کرنے والا مشہور کرتا ہے۔ یہ شخص انگریزوں کا ایجنٹ ہے ، انگریز چونکہ سلطنت عثمانیہ کو ختم کرنے کے در پے ہوتے ہیں، سرزمین حجاز میں فساد بپاکرنے کیلئے عبدالوہاب کیخدمات آل سعودکو سونپتا ہے ، یہ شخص استعمار کی سازش کے تحت مذہب اور فرقے کے نام پہ اسلام اور مسلمانوں میں اختلافات پیدا کرتاہے، انگریز اور آل سعود کی حمایت اور اپنے تکفیری فتووں سے پورے علاقےمیں   آگ لگاتاہے،انہدام جنت بقیع  و زیارات کے مقدس مقامات وغیرہ  کی بے حرمتی اسی کے فسادی ٹولے کی کارستانیاں ہیں۔یہ ٹولہ خود اپنے آپ کو سلفی کہلواتا ہیں ، جبکہ وہابی کے نام سے مشہور ہے ۔

 

یہ استعماری ٹولہ غلط بیانی اور فریب کاری سے ابن تیمیہ کے اقوال کو توڑ مروڑ کر استکبار کی سازشوں کے تحت مسلمانوں میں پھوٹ ڈالتا ہے۔ اس ٹولے کے فریب میں آ کر بعض سادہ لوح افراد نے بغیر کسی دلیل اور تحقیق کے مسلمانوں کی تکفیر اور قتل عام کو اپنا مشن بنایا ہے ۔ اس ٹولے کی عوام فریبی کا ایک اہم عنصر اپنے  آپ کو ایک دینی تنظیم اور مذہبی فرقہ قرار دینا ہے ؛ اسی لیے  یہ ٹولہ اپنے آپ کو  ابن تیمیہ کا پیروکار قرار  دیتاہے، ذیل میں مختصر طور پر اس سلسلے میں کچھ حقائق کے طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔

 

ابن تیمیہ  ساتویں اور آٹھویں صدی ہجری (۶۶۱۔۷۲۸) کا ایک حنبلی عالم دین تھا ۔اس کے عقائد ، فتووں اور تحریر وں کو بعض شدت پسند مذہبی افراد نے غلط  انداز میں اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کیا ہے ؛ حالانکہ جیسے کہ اس مقالہ میں تفصیل سے بیان ہو چکا ہے کہ ابن تیمیہ شھادتین کے اقرار کرنے والے کو مسلمان سمجھتا تھا اور اُس کی جان و مال کو محترم سمجھتا تھا ۔رشید رضا ،ابن تیمیہ کے بارے میں مجموعہ الرسائل کے حاشیہ میں یوں کہتا ہے:

" اگرچہ ابن تیمیہ عقیدتی مخالفین کے ذکر کے وقت غصے میں آ کر شرک اور کفر کے عناوین کا استعمال کرتا تھا ، لیکن اُس نے کبھی کسی فرقے کے پیروکاروں کے خلاف تو دور کی بات ہے ، کبھی کسی معین شخص کو بھی کافر نہیں کہا تھا۔" یعنی ابن تیمیہ نے کبھی کسی فرقے یا فرد کی تکفیر نہیں کی تھی۔

 

مشعبی اپنی کتاب "منھج ابن تیمیہ فی مسالۃ التکفیر " میں ابن تیمیہ کو یہ نسبت دینے والوں کے متعلق یوں کہتا ہے:

اور بعض لوگوں نے شیخ الاسلام ( ابن تیمیہ) کے اقوال میں سے جو کچھ لیا ہے، اُس کے معنی نہیں سمجھتے یا معنی سمجھتے ہیں ، لیکن اُسکی مراد اور مقصود نہیں سمجھتے یا بعض اجزاء کے حذف کرنے سے الفاظ کی تحریف کی گئی ہے؛ اور اُسے تکفیری مذہب اور جہالت آمیز نظریے کا سہارا بنا لیا گیا ہے ۔"پس ابن تیمیہ کے اقوال کو اپنے من پسند خرافاتی تکفیری نظریے کے اثبات کیلئے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔

 

عبد الوھاب کے غیر اسلامی افکار کی سب سے پہلے اُس کے بھائی سلیمان بن عبدالوھاب  اور باپ نے مخالفت کی ، چنانکہ اُس کا بھائی اُسے مسلمانوں کے تکفیر کے سلسلے میں ابن تیمیہ کی پیروی میں غلطی اور گمراہی کے طرف یوں متوجہ کرتا ہے :

" محمد بن عبدالوھاب کا یہ کہنا کہ وہ شرک آمیز اعمال کے ناجائز قرار دینے میں ابن تیمیہ اور ابن قّیم کا پیرو کار ہے ٹھیک نہیں ہے ، کیونکہ ابن تیمیہ اور ابن قّیم ان اعمال کو ( توسل بہ اولیاء اللہ ، زیارت قبور انبیاء و اولیاء ، اور نذر) "شرک اصغر " سمجھتے تھے ، نہ شرک اکبر ؛ اور جو چیز مسلمان کو اسلام سے خارج کر دیتی ہے ، وہ "شرک اکبر " ہے ۔"

یعنی بہت سے ایسے اعمال ہیں جو شرک اصغر یا شرک خفی ہیں ، وہ گناہ ہیں، لیکن انسان کو مشرک  بنا کر اسلام سے خارج نہیں کرتے ، جیسے ریاء کاری  یا غیبت کرنا ، جو  کسی کو  مشرک نہیں بناتا ہے۔ محمد بن عبدالوہاب بھی اس سلسلے میں ابن تیمیہ  کے مخالف عمل کر رہا ہے؛ یعنی شرک اصغر والے اعمال کے انجام دینے سے شخص کو کافر اور اسلام سے خارج سمجھتا  ہے ، لہذا وہ ابن تیمیہ کا پیرو کار نہیں ہے۔

 

 اسی طرح پھر سلیمان بن عبدالوہاب اپنے گمراہ بھائی  محمد بن عبدالوہاب کے ابن تیمیہ کی پیروی کے غلط دعوے کی یوں نشان دہی کرتا ہے:

" ابن تیمیہ اہل قبور کیلئے نذر کرنے کو  گناہ سمجھتا ہے ، اور کہتا ہے اگر اسی نذر کو مستحقین کو بطور صدقہ دیا جائے تو خدا کے نزدیک زیادہ اچھا ہے۔"سلیمان بن عبدالوہاب مزید کہتا ہے: " اگر نذر ماننے ( یا دینے )والا ابن تیمیہ کے نزدیک کافر ہوتا تو ہرگز  وہ اُسے وہی نذر صدقے کے طور پر دینے کا مشورہ نہ دیتا ، کیونکہ کافر کا صدقہ دینا ٹھیک نہیں ہے ۔ بلکہ ابن تیمیہ اُسے کہتا کہ اسلام کے طرف پلٹ آئے ۔"

 

سلیمان بن عبدالوھاب اپنے اسی مشہور کتاب میں شرک سے متعلق آیات قرآنی بیان کرنے کے بعد ، شہادتین پڑھنے والے مسلمانوں کو کافر قرار دینے والوں سے یوں سوال کرتا ہے:

ترجمہ: تم کیسے اُس مسلمان کو جو خدا کی وحدانیت اور رسولﷺ کی رسالت کی گواہی دیتا ہے ، جب وہ کسی غائب شخص یا میت کو پکارے یا اُس کیلئے نذر دے یا غیر خد ا کیلئے قربانی کرے یا قبر کو مس کرے یا اُس قبر کے مٹی اُٹھالے؛ اُس کے ان کاموں کو شرک اکبر قرار دے کر اُس کے اعمال کو حبط (ضائع )اور اُسکے جان اور مال کو حلال قرار دیتے ہو ؟ سلیمان بن عبدالوھاب ، وہابیوں اور اپنے بھائی کے ان نظریات کو غیر اسلامی اور قرآن و سنت نبویﷺ کے منافی قرار دیتا ہے ۔ عقیدہ وہابیت کے خلاف علماء اہل سنت نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں جن میں سے " رمضان البوطی " کی " السلفیۃ مرحلۃ زمنیہ مبارکۃ لا مذہب اسلامی" اور " ابن عابدین " کی " رد المختار علی الدر المختار"بہت مشہور ہیں۔

 

نتیجہ:

علماء اسلام حکم الہی اور امر نبوی ﷺ کے تحت شہادتین پڑھنے والے اور اہل قبلہ کو مسلمان سمجہتے ہیں ۔ابن تیمیہ  بھی شہادتین پڑھنے والے کو مسلمان سمجھنے کے علاوہ ، نذر  اور زیارت قبور یا توسل کے قائل مسلمانوں کو اسلام سے خارج نہیں سمجہتا ہے۔ لہذا محمد بن عبدالوہاب اور وہابیوں کے عقاید کا کسی اسلامی مسلک و مذہب سے کوئی واسطہ نہیں ہے؛ بلکہ جیسے کہ بیان ہو چکا ، علماء اسلام ، وہابیوں کے  ان عقائد کو رد کر چکے ہیں۔ لہذا مسلمانوں کو کافر اور اُن کے جان اور مال کو حلال قرار دینے والے  سامراجی اور اسلام دشمن عناصر کے ایجنٹ  اور اُن کے اشاروں پہ ناچنے والے ہیں، اور ان کے عقائد کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔

 

ہماری ذمہ داری :

اس وقت جب اسلام اور پاکستان کے دشمن شیعوں کے خلاف سازشوں میں سر گرم ہیں ،ہر یک کو احساس ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہیے ، اور بغیر کسی تفرقے اور  امتیاز  کے، سامراج کی سازشوں کو ناکام بنانا چاہیے، کیونکہ دشمن در واقع اسلام اور ملک کو نابود کرنے کے در پے ہے؛ اور اگر خدانخواستہ  ہم نے اپنی ذمہ  داری نبھانے  میں غفلت کی ، تو تاریخ  ہمیں معاف نہیں کرے گی ، اور ساتھ ہی ساتھ کل ہم خود بھی  اس   آگ  کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔

 ......................................................

منابع

[1]۔ دھخدا ، علی اکبر، لغت نامہ دھخدا، ج۵، ص ۶۶۸۳۔

[2]۔ ھادیان ، حمید پیشگاہ، تروریسم و منازعات مسلحانہ قومی منطقہ ای در آفریقا، نشریہ مطالعات آفریقا، ش۴، ص۵۲۔۵۲۔

[3]۔  آشوری، داریوش ، فرہنگ علوم سیاسی ، ص ۵۸۴۔

[4]۔  ہرسیج ، حسین ، رابطہ عملیات تروریستی و سیاست ھای مداخلہ گرایانہ آمریکا ، نشریہ اطلاعات ،ش ۱۷۱۔۱۷۲،ص۲۲۔

[5]۔ مریم/۶۹۔

6۔ توبہ/۱۱۔

[7]۔ حدثنا عمرو بن عباس ، قال حدثنا ابن المھدی ، قال حدثنا منصور بن سعد عن انس بن مالک قال : قال رسول اللہﷺ: من صلی صلاتنا و استقبل قبلتنا واکل ذبیحتنا فذلک المسلم الذی لہ ذمۃ اللہ و ذمۃ رسولہ ﷺفلا تحقروا اللہ فی ذمتہ۔(صحیح البخاری ، ج۱، باب فضل استقبال   -  القبلۃ ، ص۱۵۳۔)

8۔ الفصول المہمۃ فی تالیف الامۃ، ص ۶۵۔ 

9۔ ذھبی ، سیر اعلام النبلاء، ج۱۵، ص ۸۸۔

[10]۔شعرانی ، عبدالوہاب، الیواقیت و الجواہر فی بیان عقائد، الاکابر، ج۲،ص ۴۰۰۔

[11]۔ وھابی فقہی حوالے سے اپنے آپ کو حنبلی فرقے سے منسوب سمجھتے ہیں۔

12۔ ابن ابی یعلی ، طبقات الحنابلۃ، ص ۳۰۳۔

[13]۔ الوھیبی ، محمد، نواقض الایمان الاعتقادیۃ  و ضوابط التکفیر عند السلف ، ج۱،ص۲۳۶۔

[14]۔ توبہ/۱۱(ترجمہ: اور  جو نماز پڑھے اور زکاۃ دے تو تمہارے دینی بھائی ہیں۔)

15۔ ابن حزم ، الفصل فی الاھواء و الملل و النحل، ج۳، ص ۱۳۵۔

[16]۔ ابن تیمیہ ، مجموع الفتاوی، ج۳، ص۲۸۳۔  

[17]۔ ۔ ابن تیمیہ ، مجموع الفتاوی ،ج۳،ص۲۸۲۔۲۸۳۔"واذا کان ھولاء الذین ثبت ظلالھم بالنص و الاجماع لم یکفروا  مع أمر اللہ و رسولہ ﷺبقتالھم فکیف بالطوائف المختلفین الذین أشتبہ علیھم الحق فی مسائل"

[18]۔ روی الامام احمد ھو الاربعۃ و الحاکم عن ابی ھریرہ : ان رسول اللہﷺ: قال "افترقت الیھود علی احدی و سبعین فرقۃ ،و افترقت النصاری علی اثنتین و سبعین فرقۃ ، و تفرقۃ امتی علی ثلاث و سبعین فرقۃ ، الناجیۃ منہم واحدۃ۔(الصالحی ، محمد ، سبل الہدی و الرشاد فی سیرۃ خیرۃ العباد ، ج۱۰، ص ۱۵۹۔)  

19۔ ابن تیمیہ ، مجموع الفتاوی ،ج ۳،ص ۳۴۶۔                        

[20]۔ الوھیبی، محمد، نواقض الایمان الاعتقادیۃ و ضوابط التکفیر عند السلف، ج ۱، ص ۲۳۶۔ ابن تیمیہ ، مجموع الفتاوی ، ج۷، ص ۳۰۲و۶۰۹،ج ۲۲،صص۱۰۔۳۵۔۴۰۔۱۰۵۔۴۳۴۔

[21]۔ اس سلسلے میں بہت سی کتابیں لکھیں گئی ہیں ،مزید تفصیلات کیلئے رجوع کریں: تاریخ نجد و حجاز ۔ اور ہمفر ےکے اعترافات۔

22۔ ابن تیمیہ ، مجموعۃ الرسائل  و المسائل ، ج۲،ص ۳۸۵

[23]۔  " و صار بعضھم  یأخذ من اقوال شیخ الاسلام التی لایفھم معانیھا ، او یفھم ھا ولکن لا یفھم مقصودہ ، او  یحرف لفظھا بحذف بعض اجزائہ ، فیتخذ ھا تکاہ  لمذہبہ التکفیری و مرتکزاً   لقولہ الجاہلی۔"( المشعبی ، عبدالمجید ، منہج ابن تیمیہ فی مسالۃ التکفیر، ص۶۔۷)

[24]۔  سلیمان بن عبد الوھاب  نے اپنے بھائی اور وھابیت کے خلاف مشہور کتاب  " الصواعق الالھیۃ   فی الرد علی الوھابیہ " لکھا ہے ، جو انتھائی اہم کتاب ہے۔  

[25]۔سلیمان بن عبدالوھاب ، الصواعق الالھیۃ فی الرد علی الوھابیہ ، ص ۲۳۔

[26]۔ قال الشیخ تقی الدین (ابن تیمیہ) النذر للقبور و لاہل  القبور ، نذر معصیۃ لا یجوز الوفاء بہ ، و ان تصدّق بما نذر من ذلک علی من یستحقہ من الفقراء او الصالحین کان خیراً لہ عند اللہ و انفع ۔ فلو کان الناذر کافراً عندہ لم یامرہ بالصدقۃ ، لان الصدقۃ لایقبل لک الکافر ، بل یامرہ بتجدید اسلامہ ۔ ( سلیمان بن عبدالوھاب ، الصواعق الالھیۃ فی الرد علی الوھابیہ ، ص۲۵۔)

[27]۔ "من   أین لکم ان المسلم الذی یشھد ان لا الہ الا اللہ ، و ان محمد اً عبدہ و رسولہ ، اذا دعی غائباً او میتاً او نذر لہ او ذبح لغیر اللہ او تمسّح بقبر او اخذ من ترابہ ان ھذا ہوا شرک الاکبر الذی من فعلہ  حبط عملہ و حل ،مالہ و دمہ؟"( سلیمان بن عبدالوھاب ، الصواعق الالھیۃ فی الرد علی الوھابیہ ، ص۲۲۔۲۳۔)