Wednesday, 19 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 12

کل 35

اس هفته 61

اس ماه 234

ٹوٹل 22075

 حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے بیروت کے علاقے الضاحیہ میں سید الشہداء امام بارگاہ میں دس محرم شہادت امام حسین علیہ السلام کی مناسبت سے منعقدہ مجلس عزاداری میں شرکت کی اور عزداران حسینی سے خطاب کیا۔ سید حسن نصراللہ نے اپنے خطاب کے آغاز میں ایسے تمام شہداء کے اہلخانہ کو تسلیت عرض کی، جنہوں نے دینی اقدار اور مقدسات کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کر دی ہیں۔ انہوں نے کابل اور بغداد میں تکفیری دہشت گرد عناصر کے ہاتھوں شہید ہونے والے عزاداران حسینی کیلئے بھی اپنے دکھ اور غم کا اظہار کیا۔ سید حسن نصراللہ نے کہا: "اس سال مجالس عزاداری امام حسین علیہ السلام کے خلاف دہشت گردانہ حملوں میں کافی حد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے، جو ہر میدان میں مجاہدین کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور ان کامیابیوں نے تکفیری دہشت گردوں کو کمزور اور عاجز کر ڈالا ہے۔"



حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے یمن کے خلاف سعودی جارحانہ اقدامات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: "آج ہم یمن کے بارے میں بات کریں گے اور ہم نے تاکید کی ہے کہ ضاحیہ، صور، بعلبک اور الھرمل سے مغربی البقاع تک منعقد ہونے والی مجالس عزاداری میں یمن کے عوام، یمن کی فوج اور رضاکار فورس سے ہمدردی کا اظہار کیا جائے۔ ہر سیاسی ماہر اور تجزیہ کار کیلئے یہ حقیقت انتہائی واضح ہے کہ یمن کے خلاف سعودی جنگ سیاسی اہداف کی خاطر نہیں بلکہ اس دشمنی اور کینہ توزی کا نتیجہ ہے جو سعودی حکومت کے دل میں یمنی عوام کی نسبت پایا جاتا ہے۔ سعودی حکومت جس انداز میں یمن میں عام اور بیگناہ انسانوں کا قتل عام کر رہی ہے، اس کے اہداف ہرگز سیاسی نہیں ہوسکتے بلکہ یہ اقدامات وہابیت کی دشمنی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس جنگ کا مقصد یمنی عوام کی قوت ارادی کو ختم کرنا ہے، کیونکہ وہ خود مختاری اور عزت کے خواہاں ہیں۔"

سید حسن نصراللہ نے کہا: "آج یمن میں بھی کربلا کی طرح بیگناہ انسانوں کا قتل اور ٹکڑے ہوئے لاشیں دکھائی دیتی ہیں۔ صنعا اور یمن کے دیگر شہروں میں غم انگیز مناظر نظر آتے ہیں جبکہ یمنی عوام انتہائی شجاعت اور استقامت سے امریکی اور سعودی قتل و غارت اور بربریت کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں۔" انہوں نے زور دے کر کہا کہ یمنی عوام ہرگز جارح قوتوں کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کریں گے، ان کے دشمنانہ اقدامات کے خلاف ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں گے اور ہم بہت جلد امام خامنہ ای کی اس پیشین گوئی کو حقیقت کا رنگ اختیار کرتا دیکھیں گے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ آل سعود کی ناک مٹی پر رگڑی جائے گی۔ سید حسن نصراللہ نے یمنی عوام کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا: "میں اپنے یمنی بھائیوں کو اپنے ذاتی تجربے اور ایمان کی روشنی میں کہتا ہوں کہ خداوند متعال پر بھروسہ کریں اور وہ آپ کو وحشی دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی سے ہمکنار کرے گا۔"

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے مسئلہ فلسطین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگ یہ کہنا شروع ہوگئے تھے کہ فلسطینی انتفاضہ شکست کا شکار ہو کر ختم ہوچکی ہے، لیکن حال ہی میں انجام پانے والے شہادت طلبانہ اقدام نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ انتفاضہ فلسطینی جوانوں کے دلوں، عقل اور ضمیر کی گہرائیوں میں موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا: "غاصب اسرائیلی بہت جلد اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ فلسطین کی سرزمین ان کی موت، شکست اور ان کا خون جاری ہونے کی سرزمین ہے۔ اسرائیلیوں کو چاہئے کہ وہ اپنے اہلخانہ کے ہمراہ وہیں لوٹ جائیں، جہاں سے نقل مکانی کرکے یہاں آئے تھے اور فلسطینی مزاحمت کا بھی یہی پیغام ہے۔" سید حسن نصراللہ نے تاکید کرتے ہوئے کہا: "اسرائیلی حکام کے سامنے خشوع و خضوع کا فلسطینیوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اسرائیل وہی ہے جو امریکہ سے بے تحاشہ اسلحہ وصول کرتا ہے اور غیر مشروط امریکی حمایت سے بھی برخوردار ہے۔ اس وقت ٹرمپ اور ہیلری کلنٹن اسرائیل کی نامحدود حمایت کے اظہار میں ایکدوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ان میں سے کسی نے فلسطین کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں بولا۔"

سیکرٹری جنرل حزب اللہ لبنان نے عراق میں جاری داعش کے خلاف آپریشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عراقی عوام کو خبردار کیا اور کہا: "امریکی موصل کے ذریعے شام کے مشرقی حصے میں داخل ہونا چاہتے ہیں اور انہوں نے داعش کے تمام دہشت گرد عناصر کو شام کے مشرقی حصے میں جمع کر دیا ہے، تاکہ اس جگہ ان سے پورا فائدہ اٹھا سکیں۔ ایسی صورت میں داعش اپنی قوت بحال کرنے کے بعد دوبارہ عراق پر حملہ آور ہوسکے گی۔" سید حسن نصراللہ نے کہا: "یہ ایک امریکی سازش ہے، جس کا مقصد موصل میں عراقی عوام کی کامیابی کو ناکامی میں تبدیل کرنا ہے۔ لہذا عراق کی مسلح افواج اور رضاکار فورس کو چاہئے کہ وہ موصل میں موجود داعش سے وابستہ دہشت گرد عناصر کا مکمل خاتمہ کر ڈالیں اور ان کے کمانڈرز کو گرفتار کر لیں اور انہیں شام کی طرف بھاگنے کی اجازت نہ دیں، کیونکہ شام میں ان دہشت گرد عناصر کی موجودگی عراق کیلئے بڑا خطرہ ثابت ہوگی۔"

سید حسن نصراللہ نے بحرین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بحرینی عوام اپنے عظیم مقاصد کی راہ میں ڈٹے ہوئے ہیں اور وہ اس استقامت اور شجاعت پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بحرینی عوام اپنے جائز حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں اور انہیں اپنی جدوجہد جاری رکھنی چاہئے اور پوری دنیا تک اپنی آواز پہنچانی چاہئے۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا: "ہم نے اسرائیل اور اسرائیل سے ملنے والی اپنی سرحدوں پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے۔ ہم نے اسرائیل پر نظر رکھی ہوئی ہے اور اسلامی مزاحمت ہرگز اسرائیل کے خلاف میدان خالی نہیں چھوڑے گی۔ ہماری طاقت کا راز فوج، عوام اور اسلامی مزاحمت کی مضبوطی میں پوشیدہ ہے۔ اسی طرح ہم نے لبنان کی شمالی سرحدوں پر بھی تکفیری دہشت گرد عناصر سے مقابلے کیلئے نظریں جما رکھی ہیں۔ ہم ملک کے دفاع کیلئے وہاں موجود رہیں گے۔" حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا کہ بعض افراد یہ کہتے ہیں کہ مجاہدوں کی شہادت نے حزب اللہ کو کمزور کر دیا ہے، جبکہ بعض ہمارے شہداء کی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ میں انہیں کہوں گا کہ ہمیں اپنے شہداء پر فخر ہے۔ اسی طرح بعض یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ حزب اللہ لبنان مالی اعتبار سے کمزور ہوگئی ہے، لیکن اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ میرا جواب ایک جملہ ہے کہ ہم نے نہ تو شکست کھائی ہے اور نہ ہی ہم تھکے ہیں۔