Thursday, 18 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 10

اس هفته 51

اس ماه 190

ٹوٹل 21486

 تالیف و ترجمہ: شعیب عابدی


مقدمہ
وحدت کے بہت فوائد ہیں۔ سب مسلمان مل جائیں۔ ایک امت بنیں۔  بڑی قوت بن جائیں۔ ہمارے مشترکہ دشمن کفار اور مشرکین ہیں۔ ان کے مقابلے کیلئے سیسہ پگائی ہوئی دیوار بن جائیں۔  اتحاد کا مطلب  یہ ہے کہ وہ لوگ جو اپنی خاص اجتہادی آراء رکھتے ہیں، اپنے منافع ، اہداف و عقائد کو  ایک دوسرے سے نزدیک  کریں۔ یہ اپنے درمیان  بہت سارے مشترکات  رکھتے ہیں؛جیسے توحید، ایک نبی، ایک قرآن وغیرہ۔ ان دونوں کا ایک ہی ہدف ہے۔ دونوں دنیا اور آخرت میں حقیقی کامیابی کے خواہاں ہیں۔(نوری: امامانِؑ شیعہ و وحدت اسلامی، ص۱۸)  


مسلمانوں کے مابین برادری کا رشتہ ہوتا ہے۔ بھائی چارگی کے اس رشتے کو سورہ حجرات کی یہ آیت بڑی خوبصورتی سے بیان کرتی ہے:
((إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ))  ترجمہ : اور مومنین تو آپس میں بھائی بھائی ہیں؛ لہذا اپنے بھائیوں کے درمیان[جھگڑے کے وقت ] اصلاح کرادو۔ اللہ[کے عذاب سے] سے خود کو بچاو؛ تاکہ اللہ کی رحمت تمہارے شامل حال ہوسکے۔ وحد ت  کا  مطلب  اپنے دین کی تبلیغ  سے دستبردار ہونا نہیں ہے۔ ہمیں ہمیشہ حق بات کی ترویج کرنی ہے۔ اعلی اخلاق، ٹھوس دلیل، احترام اور صبر کے ساتھ ہمیں اپنے دین کی تبلیغ کرنے کا حق حاصل ہے۔


سیرت معصومینؑ کی روشنی میں اتحاد بین المسلمین کے عملی طریقے درج ذیل ہیں:


۱- اہلسنت کے ساتھ  نماز  جمعہ و جماعت میں شرکت کرنا:


حضرت علی علیہ السلام  کی زندگی اس سلسلے میں ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے۔ آپ  نےہمیشہ حق کا اظہار کیا۔ اسلام کی حقیقت کو واضح کیا۔ بارہا  مہاجرین اور انصار کو غدیر اور رسول اکرم کے فرامین کی یاددہانی کروائی۔ آپ  کے ساتھ ناانصافی ہوئی تھی۔ اس سلسلے میں ،آپ کے یادگار خطبے تا قیامت روشنی کے مینار ہیں۔آپ نے ہر حال میں، امت کے اتحاد کا خیال رکھا۔ مخالفین کا ستم اپنی جگہ تھا۔ آپ کبھی مسلمان  معاشرےکٹ کر نہ رہے۔ آپ نماز جمعہ و جماعات میں  عام مسلمانوں کے ہمراہ شرکت کرتے۔

ھشام کندی کہتا ہےٖ، حضر ت امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا:  ((۔۔۔صلوا فی عشایر ھم و۔۔۔۔۔۔()۔۔:  ان لوگوں کے قبائل میں نماز پڑھو(ان کے ساتھ نماز جماعت ادا کرو)۔۔))
علی بن جعفر اپنی کتاب میں، اپنے برادر حضرت امام موسی کاظم سے نقل کرتے ہیں۔ امام  نے فرمایا:
((امام حسن  و امام حسین نے مروان کے پیچھے نماز اداکی۔ ہم بھی ان لوگوں(اہلسنت) کے ہمراہ نماز پڑھتے ہیں۔))


۲-حکومتی مشکلات میں مدد کرنا:


حضرت علیؑ ضرورت پڑنے پر، خلفا کو اپنے مفید مشورے دینے سے کبھی دریغ نہیں کرتے تھے۔ مسلمانوں کی فلاح کی خاطر جو بھی کام پڑتا آپ اسے انجام دیتے۔ بطور مثال، مسلمانوں کی ایرانیوں کے ساتھ جنگ پیش آئی۔ حضرت عمر کی خواہش تھی کہ وہ خود ذاتی طور پر جنگ میں شرکت کریں۔حضرت علیؑ نے ان کو مشورہ دیا ؛ آپ مدینہ میں ہی رہیں بہتر ہے۔اس طرح دشمن سوچے گا کہ شاید دوبارہ مدینے سے امداد پہنچے گی۔ اگر آپ جنگ میں شرکت کریں گے تو دشمن اپنی پوری قوت کو جمع کرلے گا۔ آپ کو ختم کرڈالنے کے کوشش کرے گا۔ زیادہ جوش وجذبے سے مسلمانوں کے ساتھ لڑے گا

نوٹ : حضرت علی ؑنے ضرورت پر مشاورت دی۔ جماعت میں شرکت فرمائی۔ اس کے باوجود، حکومت کی کسی پوسٹ کو قبول نہ کیا۔ کسی حکومتی عہدہ کو قبول کرنا اپنے مسلّم حق سے چشم پوشی کے مترادف ہوتا۔ موجودہ حالات سے آپ کی رضایت کی عکاسی ہوتی۔ اس سیرت کا مطلب ہے اپنے اصولوں کی پاسداری کے ساتھ ، اتحاد کی بھی حفاظت کی جائے۔


۳۔ اہلسنت کے ساتھ سچائی اور امانتداری کا سلوک کرنا:


حضرت علی  کی سیرت میں تقوی اور صداقت کا عنصر وحدت کا اہم ترین عنصر ہے۔
حضرت امام جعفر صادق ؑنے(زید شحّام سے) فرمایا: جو لوگ خود کو ہمارا پیروکار سمجھتے ہیں؛ ان کو جاکر بتا دو کہ میں ان کو نصیحت کرتا ہوں۔ پرھیزگار بنیں۔ [شبہ ناک اشیاء و معاملات سے] بچیں۔ محنت کریں۔ سچ بولیں۔ امانت دار بنیں۔ لمبے سجدے کریں۔ پڑوسیوں کا احترام کریں۔ یہی آئینِ محمدی ہے۔ تمہیں اپنی چیز امانت کے طور  پر دینے والا چاہے نیک آدمی ہو یا برا، اس کی امانت ہر حال میں اسے لوٹا دو۔ جان لو۔ رسول اکرم ﷺ نے حتی سوئی دھاگہ تک واپس کردینے کو کہا ہے۔ اپنا رشتہ اپنی قوم[غیر شیعہ افراد] اور قبیلہ سے اپنا تعلق مضبوط کرو۔ ان کی عزاداری کی مراسم میں شرکت کرو۔ ان کو بیماروں کی عیادت کرو۔ ان کے حقوق ادا کرو۔  تم میں جو بھی سچا دیندار بنے ، امانتداری کے ساتھ رہے۔ اچھے اخلاق کے ساتھ رہے۔ اس کے بارے میں یہ لوگ کہیں گے کہ یہ(جعفری) ہے . اگر میرے سکھائے ہوئے نیک آداب کی رعایت نہیں کی۔ یہ میرے لئے عیب کی بات ہے۔ لوگ کہیں گے۔ یہ ہےادب جعفرؑ۔


۴۔ انس و الفت کی مضبوط ترین بنیاد یعنی توحید کی تلقین کرنا:


حضور پاک ﷺنے توحید کی جانب دعوت دی۔ توحید اور محبت پروردگار نے جادو کردکھایا۔ اوس اور خزرج سو سالہ دشمن تھے۔ اس مکتب نے ان کو محبت اور الفت کی ڈوری میں پرو دیا۔
قران کریم فرماتا ہے:
((وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ وَاذْكُرُواْ نِعْمَةَ اللّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاء فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىَ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ))()
ترجمہ : تم سب مل جاو۔ اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو۔ تفرقہ میں نہ پڑو۔ اللہ تعالی نے تم پر احسان کیا ہے۔ اس کو یاد رکھو۔ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ اس نے تمہارے دل جوڑ دیئے۔ یہ اس کا فضل و کرم تھا۔ تم ایک دوسرے بھائی بھائی بن گئے۔ آگ کا گڑھا تھا۔ تم لوگ اس کے کنارے پہنچ چکے تھے۔ اللہ نے تم کو  اس سے بچالیا۔۔۔


5- اہلسنت کے پروگراموں میں شرکت کرنا:


عموما ،آئمہ معصومین ؑ کا دور میں بھی اہلسنت حضرات کی اکثریت تھی۔ حکومت ان ہی کی تھی۔  چنانچہ، آپس میں رفت وآمد، لین دین، ایک دوسرے کے ساتھ تجارت ، تعاون و امداد، تعلیم و تعلم وغیرہ  معمول کی بات تھی۔ آئمہ لوگوں کو  اہلسنت کے عمومی پروگراموں میں شریک ہونے کا کہتے تھے۔ ان لوگوں کے ساتھ میل جول بڑھانے کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔
ھشام کندی کہتا ہےٖ، حضر ت امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا:
((۔۔۔ و لا یسبقونکم الی شیء من الخیر فانتم اولی بہ منھم۔۔۔()
ترجمہ :  ۔۔۔ ایسا نہ ہو کو وہ لوگ کسی خیر کے کام میں تم لوگوں سے سبقت لے جائیں۔ تم  لوگوں کو ان سے آگے آگے رہنا چاہیے نیک کاموں کی انجام دہی میں۔۔))


۶۔ اہلسنت کے بیماروں کی عیادت کرنا:


ھشام کندی کہتا ہےٖ، حضر ت امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا:
((۔۔۔۔و عودا مرضاھم۔۔۔: ۔۔۔ان کے بیماروں کی عیادت کرو۔۔)


۷۔ اہلسنت کی تشیع جنازے میں جانا:


ھشام کندی کہتا ہےٖ، حضر ت امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا:
((۔۔۔واشھدوا جنائزھم۔۔۔؛ان لوگوں کی تشیع جنازہ میں جاو۔))


۸۔ اپنی تعلیمی و ثقافتی نشستوں میں اہلسنت کو  ساتھ رکھنا:


آئمہ مختلف فرقوں کے لوگوں کے ساتھ بخوبی پیش آتے تھے۔ آئمہ کے بہت سے اصحاب ایسے بھی تھے جو دیگر فرقوں سے تعلق رکھتے تھے۔()
رجال ِ احادیث کی دنیا کی ایک جانی پہچانی شخصیت نجاشی ہیں۔ اس موضوع پر ان کی معتبر کتاب بھی موجود ہے۔ آپ ایک موثق راوی حسن بن علی وشا کوفی  سے نقل کرتے ہیں:
((میں نے اس مسجد(مسجد کوفہ) میں، نو سو افراد کا مشاہدہ کیا۔ ہر فرد کہتا تھا کہ جعفر  بن محمد نے میرے  لِئے حدیث بیان کی۔()
 اسی طرح سے  امام جعفر صادق  کے بہت سے اصحاب اہلسنت کی بڑی علمی شخصیات تھیں۔ بطور مثال سکونی، عبدالملک بن ہارون شیبانی کوفی،فضیل بن عیاض بصری، ابوالبختری،سلیمان بن خالد،علی بن حسن فضال،۔۔۔کے نام قابل ذکر ہیں۔
درس:  آئمہ ؑکی سیرت سے ہمیں  محبت،شفقت اور وحدت کا  سبق ملتا ہے۔ہمیں بھی چاہیے کہ اپنی علمی، ثقافتی محفلوں میں تمام فرقوں کے لوگوں کا احترام کریں۔ ان کے عقائد اور ان کی مقدس شخصیات کی توہین نہ کریں ؛ تاکہ ہمارے دور میں بھی اہلسنت حضرات ہمارے علماء  و اماموںؑ کے گرویدہ ہوں ۔ ہماری محفلوں میں شوق سے آئیں۔


۹۔اہلسنت کی فقہ اور دوسرے نظریات کو جاننا اور بیان کرنا۔


آئمہؑ اپنے قابل شاگردوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ وہ اہلسنت کی مسائل بھی جانیں۔ اہلسنت سے مخاطب ہوں تو انہیں ان کو انہی کی فقہی اقوال سے آگاہ کریں۔ مختلف اقوال کے درمیان اہلبیت کی نظر بھی بیان کردیں۔
نکتہ؛ دوسرے کے نظریات کو پڑھنا اور اس کو بتانا دراصل اس کو احترام دینا ہے۔ اس سے اس کی بھی حوصلہ افزائی ہوگی کہ وہ بھی دوسروں کے نظریات کا مطالعہ کرے۔ جب ایک فقیہ تمام نظریات کا ساتھ اہلبیت کی نظر بھی بیان کررہا ہے تو اس طرح اہلبیت کا قول بھی سامنے آجائے گا ۔ جب سب ایک دوسرے کی کتابوں کا مطالعہ کرنے لگیں گے؛ تو آپس کی غلط فہمیاں دور ہوں گی۔ دل قریب ہوں گے۔ وحدت کیلئے، زمین ہموار ہوجائے گی۔


۱۰۔ اہلسنت سے بات کرتے وقت اچھی اور باادب زبان بولنا۔


قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
" وَ لا تَسُبُّوا الَّذينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ ۔۔۔
ترجمہ : گالی مت دو ان کو جن کو یہ اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں؛ مبادا وہ  عداوت اور نادانی میں اللہ کو برا کہنے لگیں۔۔۔"
حضرت علیؑ نے جب اپنے لشکر میں اپنے بعض اصحاب  کو دیکھا کہ وہ معاویہ والوں کو(صفین میں) گالیاں دے  ہے؛ تو آپ نے اس کو اس کام سے روکا ۔ اس  کو سختی سے منع کیا۔ آپ نے فرمایا؛ اگرچہ تم لوگ حق پر ہو، لیکن مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ تم گالیاں دو۔ان لوگوں کو لعن طعن کرو۔ یہ کام کرنے سے بہتر ہے کہ ان کے برے اعمال کو بر ملا کرو۔اللہ سے اس طرح دعا کرو:خدایا ہمارے اور ان کے خون کو گرنے سے بچا۔ ہمارے اور ان کے درمیان اصلاح فرما۔ ان کو اس گمراہی میں ہدایت دے۔ تاکہ وہ جو حق کو نہیں سمجھتے ہیں؛ سمجھنے لگیں۔ اس دشمنی سے باز آجائیں۔" یہ کہنا تمہارے لئے بہتر ہے اور مجھے بھِی پسند ہے۔


آخری بات:
اہلسنت اور شیعہ آپس میں برادر ہیں۔ خداوند متعال اور آئمہ ؑ ان کو متحد دیکھنا چاہتے ہیں۔ جس طرح ہم پہلے ساتھ مل کر رہتے تھے؛ اب بھی رہ سکتے ہیں ۔ رہ رہیے ہیں۔ جو بھی آج اختلاف کی بات کرتا ہے وہ دشمن کی خدمت کررہا ہے۔ چاہے وہ اس بات کو سمجھے یا ناں۔   وہابی ، تکفیری یا سلفی حضرات کو خود اہلسنت بھی قبول نہیں کرتے۔ ان کے خلاف بیانات دیتے رہتے ہیں۔  یہ لوگ دشمن کا آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ یہ ہمارے اصلی دشمن نہیں ہیں۔ یہ شیعہ اور سنی دونوں کے دشمن ہیں۔ اصلی دشمن چھپا ہوا ہے۔ ان سے کھیل رہا ہے۔ اگر یہ ہمیں قتل کررہے ہیں ؛ ہم ان کو       قتل نہیں کریں گے۔ یہ ہمارے برادر ہیں۔ البتہ ، اپنا دفاع کرنا واجب ہے ۔ ہر انسان کا حق ہے۔ عقل کا تقاضہ ہے۔﴿﴾ اس طرف سے شیعوں میں بھی بعض افراطی گروہ ہیں ۔ یہ بعض سنیوں کو کھلم کھلا لعن طعن کرتے ہیں ۔ ان کے مقدسات کی توہین کرتے ہیں۔ یہ قرآن اور آئمہ اطہار کی تعلیمات کی خلاف ورزی ہے۔ ممکن ہے ان کا دل ٹھنڈا ہوجاتا ہو ؛لیکن دشمن ان سے بہت زیادہ خوش ہوجاتا ہے۔