Thursday, 18 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 10

اس هفته 51

اس ماه 190

ٹوٹل 21486

 

عراق میں 30 اپریل کوہونے والے پارلیمانی انتخابات پر نگرانی کرنے کیلئے 1200عالمی مبصرین عراق جائیں گے اور انتخابات کی نگرانی کریں گے۔ ان انتخابات کیلئے انتخابی مھم جاری ہے اور سیاسی جماعتوں کے رہنماوں خاص طور سے مجلس اعلای اسلامی عراق کے سربراہ سید عمار حکیم نے عراقی قوم سے عام انتخابات میں بھرپور شرکت کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مراجع کرام نے تاکید کی ہے کہ عوام انتخابات میں بھرپور شرکت کرکے شعور و آگہی کے ساتھ اہل امید واروں کو ووٹ دیں۔ سید عمار حکیم نے بعث پارٹی کی واپسی اور نئے روپ میں اس کالعدم پارٹی کے سامنے آنے کی بابت خبردار کرتے ہوئے کہا کہ عراق ہرگز ماضی کی طرف لوٹ کرنہیں جائے گا۔

 

سعودی عرب میں اس ملک کے عوام اپنے حقوق اور آل سعود کی حکومت کی جانب سے بدستور انسانی حقوق کی پامالی اور 2نوجوانوں کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں قتل کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ آل سعود کے اہلکاروں نے جہاں 2روز قبل اس ملک کے 2باشندوں کو فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا وہیں۔ اس ملک کی عدالت کی جانب سے اس ملک کے عوام کو قید کی سزا سنانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ریاض کی عدالت نے سات شہریوں کو شہر قطیف میں پرامن مظاہروں میں شرکت کرنے اور حکومت کے خلاف نعرے لگانے کے جرم میں چھے سے بیس برسوں تک قید کی سزائيں سنائي ہیں۔ اس سے قبل سعودی عدالت نے ایک بل کی منظوری دی تھی جس کی رو سے حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے والوں، تصویریں شایع کرنے والوں اور انٹرنیٹ پر حکومت مخالف سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کو دس سال قید کی سزا دی جائے گي۔ سعودی عرب میں ان قوانین کی منظوری کے بعد سے پرامن مظاہرہ کرنے والوں اور سیاسی قیدیوں کے خلاف بڑی تیزی سے مقدمے دائر کئے جارہے ہیں اور انہیں سزائيں دی جارہی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اس ملک میں عوامی مظاہرے جاری ہیں۔

 

 

تحریر : ایم ۔اے۔حیدر

 

اکیسویں صدی کا ایک اہم ترین  انسانی المیہ دہشت گردی و بربریت ہے ، دہشت گردی یا Terroism کا شکار زیادہ تر تیسری دُنیا کے ممالک اور عالم اسلام ہیں۔ لیکن مغربی اور استعماری طاقتیں اپنے خاص مقاصد کے تحت ، دہشت گردی اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی کے آڑ میں دُنیا بھر میں غریب اقوام اور خاص کر مسلمانوں کے استحصال کیلئے ایک خطرناک اور نہ ختم ہونے والی لڑائی کا آغاز کر چکی ہیں۔ مغربی استعماری طاقتوں نےاس جلا کر راکھ کر دینے والی لڑائی کیلئے اس انداز میں پلاننگ کی ہے کہ اس نہ ختم ہونے والی لڑائی کا سارا  کا سارا نقصان اسلام اور مسلمانوں کے دوش پےہے؛ یعنی اسلام دشمن عناصر اسلام کے خلاف لڑنے والی اس جنگ میں خود مسلمانوں کے لشکر اور طاقت اور سرمایے کو خود مسلمانوں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں؛ جبکہ اس خطرناک جنگ کا سو فیصد نقصان مسلمانوں کو پہنچ رہا ہے ؛ اور ہر جھت سے دشمن اس لڑائی سے فائدہ اُٹھا رہاہے۔

 

 

تحریر:عیدعلی عابدی

مقدمہ

انسان کی فطرت میں خدا ، اس کے رسولوں ، انبیاء ، اولیاء  اور صلحاء کی محبت اور معرفت کا سرچشمہ اور ساتھ ہی ان کے دشمنوں سے نفرت اور بیزاری ضرور پائی جاتی ہے ۔ زیادہ تر شیطانی قوتیں طول تاریخ میں غالب آنے کی وجہ سے فطرت کا یہ پاک تقاضا منفی پہلو میں تبدیل ہوگیا اور بہت سارے گمراہ  ، ظالم و جابر ، سفاک  و بے رحم  انسانوں نے خدا کے صالح بندوں کو نہ صرف  دلخراش طریقے سے قتل کیا بلکہ ان کے جنازوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا اور بے حرمتی کی ۔ انسان کی پوری تاریخ اس جیسے واقعات سے رنگین بھری پڑی ہے ۔

 

حجربن عدی وہ پاک فطرت  انسان ہیں جو خدا کے  رسول ﷺ اور اہلبیت ؑ کی محبت اور معرفت کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہیں۔ آپ کا شمار جلیل القدر ، بافضیلت انسانوں میں   ہوتا ہے ۔ اسلام کی  آغوش میں آنے کے بعد  بہت ہی کم مدت میں حق محبت اور معرفت کا فریضہ چھی طرح  ادا کیا اور ولایت کی راہ میں شہادت کے اس بلندترین درجہ پر فائز ہوئے اور ہمیشہ کے لئے ابدی زندگی خرید لی ۔ آپ کی زندگی اور دلخراش شہادت آیندہ کے محب اہلبیت ؑ کے لئے ایک مشعل راہ ہے ؛ کیونکہ آپ نے واقعی شجاعت و ایمان کے بہت سے کارنامے انجام دئیے ، جس کی وجہ سے دشمن کے دل میں بغض و  دشمنی پیدا ہوئی ۔صرف آپ کے قتل کو کافی نہیں سمجھا بلکہ آج چودہ سو سال بعد بھی آپ کی قبر کھود کر جنازے کی بے حرمتی کی ہے اور اپنی دیرینہ دشمنی اور بغض کو ایک بار پھر تازہ کردیا ہے  ۔

  

تحریر:ایس شعیب حیدر عابدی

  

مقدمہ

 حق اور باطل کی جنگ ابتداء خلقت سے ہے۔ فرعون نے بنی اسرائیل کے اوپر ظلم کے پہاڑ توٰڑے۔ ان کے جوانوں کو ذبح کیا ۔ نبیوں کو قتل کیا گیا۔ جلا وطن کیا گیا۔ آگ میں ڈالا گیا۔ آئمہ اطہارؑ کے ساتھ ظلم و ستم کی ، انسانیت کی ، شرافت کی تمام حدوں کو کراس کرلیا گیا۔ نواسہ رسول ؑ کو پیاسا ذبح کیا گیا۔ اس کی آلؑ کو اسیر بنایا گیا۔ یہ سب معصوم ہستیاں تھیں۔ انہوں نے   دین کی حفاظت کیلئے ، اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا۔

 

  اہل حق کے  یہاں اہداف بلند، دل پاک، سوچ میں گھرائی، معرفت اور شعور کی بلندی ، منطق، اخلاق ، وحدت ، صلح، امن اور دوستی کا پیغام پایا جاتا ہے۔ جبکہ  اہل باطل اس کے برعکس صفات کے حامل ہوتے ہیں۔ اہل حق کو شروع سے دشمنیوں کا سامنا رہا ہے خصوصا جہاں دنیا پرست لوگوں کے مفادات میں اہل حق رکاوٹ بن رہے ہوں۔