Wednesday, 19 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 12

کل 35

اس هفته 61

اس ماه 234

ٹوٹل 22075

  

تحریر:ایس شعیب حیدر عابدی

  

مقدمہ

 حق اور باطل کی جنگ ابتداء خلقت سے ہے۔ فرعون نے بنی اسرائیل کے اوپر ظلم کے پہاڑ توٰڑے۔ ان کے جوانوں کو ذبح کیا ۔ نبیوں کو قتل کیا گیا۔ جلا وطن کیا گیا۔ آگ میں ڈالا گیا۔ آئمہ اطہارؑ کے ساتھ ظلم و ستم کی ، انسانیت کی ، شرافت کی تمام حدوں کو کراس کرلیا گیا۔ نواسہ رسول ؑ کو پیاسا ذبح کیا گیا۔ اس کی آلؑ کو اسیر بنایا گیا۔ یہ سب معصوم ہستیاں تھیں۔ انہوں نے   دین کی حفاظت کیلئے ، اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا۔

 

  اہل حق کے  یہاں اہداف بلند، دل پاک، سوچ میں گھرائی، معرفت اور شعور کی بلندی ، منطق، اخلاق ، وحدت ، صلح، امن اور دوستی کا پیغام پایا جاتا ہے۔ جبکہ  اہل باطل اس کے برعکس صفات کے حامل ہوتے ہیں۔ اہل حق کو شروع سے دشمنیوں کا سامنا رہا ہے خصوصا جہاں دنیا پرست لوگوں کے مفادات میں اہل حق رکاوٹ بن رہے ہوں۔

تحریر: سیدمحمدعلی شاه حسینی

مقدمہ:

انسان کو خداوند عالم نے کمال کے لئے خلق کیا ہے اور یہ بھی بتلایا ہے کہ اس وصف سے کس طرح متصف ہوسکتا ہے۔

کمال تک پہنچنے کے لئے مختلف چیزیں اور اوصاف "علت مُعِدَّہ ''کی حیثیت رکھتی ہیں ؛ان میں معرفت الٰہی ،تقویٰ کو اپنا پیشہ بنانا ،اپنی زندگی کومنظم کرنا،علمی میدا ن میں ارتقاء کے مراحل کو طے کرنا بالخصوص دینی علم کے حصول اور اس پر عمل کے ذریعے وارث انبیاء کا عنوان پانا "اَلْعُلَمَاءُ وَرَثَتُ الاَنْبِیَاءُ،عرفان کے ذریعے کشف و شہود کے مرحلہ تک رسائی پیدا کرنااورکائنات کی ہر چیز کو قدرت الٰہی کے مناظر سمجھنا،اپنی شناخت کے ذریعے رب کی شناخت حاصل کرنا "مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ"۔اپنی زندگی میں ہر کام  کوخداکی  خوشنودی کے لئے بجا لانا "مَنْ کَاْنَ لِله کَانَ الله لَهُ"،اپنی جان ،مال اور اولاد  کو خدا کی راہ میں قربان  کردینا،شامل ہیں ۔

  تحریر: ایم-اے-حیدر

 

    وادی کوئٹہ تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے ایک اہم شہر ہے۔ انیسوی صدی کے اواخر میں برطانیہ نے  افغانستان پر لشکر کشی کرنا چاہی تو بلوچستان سے اپنے فوجیوں کو افغانستان منتقل کرنے کیلئے وادئ کوئٹہ کو فوجی چھاونی بنایا۔اس وقت سے یہ وادی اپنی بہترین آب وہوا اور خوبصورتی کی بنا پر وقت کے استعمار انگریز کی توجہ کا مرکز بنی۔ اور اس شہر کو  (Little) لندن کہا جانے لگا ۔