Saturday, 20 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 12

اس هفته 75

اس ماه 214

ٹوٹل 21510

 حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے بیروت کے علاقے الضاحیہ میں سید الشہداء امام بارگاہ میں دس محرم شہادت امام حسین علیہ السلام کی مناسبت سے منعقدہ مجلس عزاداری میں شرکت کی اور عزداران حسینی سے خطاب کیا۔ سید حسن نصراللہ نے اپنے خطاب کے آغاز میں ایسے تمام شہداء کے اہلخانہ کو تسلیت عرض کی، جنہوں نے دینی اقدار اور مقدسات کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کر دی ہیں۔ انہوں نے کابل اور بغداد میں تکفیری دہشت گرد عناصر کے ہاتھوں شہید ہونے والے عزاداران حسینی کیلئے بھی اپنے دکھ اور غم کا اظہار کیا۔ سید حسن نصراللہ نے کہا: "اس سال مجالس عزاداری امام حسین علیہ السلام کے خلاف دہشت گردانہ حملوں میں کافی حد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے، جو ہر میدان میں مجاہدین کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور ان کامیابیوں نے تکفیری دہشت گردوں کو کمزور اور عاجز کر ڈالا ہے۔"

 علمائے مقاومت عالمی کونسل کے سربراہ شیخ ماهر حمود نے اس ھفتے نماز جمعہ کے خطبے میں کہ جو صدائے لبنان کی مسجد قدس میں سیکڑوں نمازگزاروں کی شرکت میں منعقد ہوا اسلامی تحریکوں کو استقامت کی تاکید کی ۔ انہوں نے کہا: مسلمانوں کے آپسی اختلافات کی بنیاد شیطانی وسوسے ہیں ، ھر ایک اسلامی گروہ اس بات کا مدعی ہے کہ اسلام پر اس کا قبضہ ہے اور دیگر گروہ اسلام کے دائرے سے باہر ہیں ۔

 اخبار جنگ نے اپنے ایک ادارئیے میں لکھا ہے کہ اس وقت صرف یمن ہی نہیں تمام مشرق ِ وسطیٰ بحران کی زد میں ہے۔ خطے کا ایک بڑا اور امیر ملک ہونے کے ناطے سعودی عرب اس بحران میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے، لیکن اُنھوں نے یکا یک، بیٹھے بٹھائے آئینی حکومت کی مدد کا جواز بناتے ہوئے حوثی قبائل کو باغی قرار دے کر اُن پر چڑھائی کردی۔ اخبار سوال اٹھاتا ہے کہ جب برطانوی اور فرانسیسی جہاز، معمر قذافی پر بمباری کررہے تھے اور بعض عرب ریاستیں قذافی مخالف گروہوں کو رقوم اور ہتھیار فراہم کررہی تھیں تو ان کے پاس ایسا کرنے کا کیا آئینی جواز موجود تھا؟ قذافی نے لیبیا کو ایک حد تک مستحکم ریاست بناکررکھا ہوا تھا اور یہاں نہ القاعدہ تھی اور نہ دیگر انتہا پسند گروہ، لیکن آج یہ ایک شورش زدہ علاقہ ہے۔ شام میں بھی خلیج فارس کے ملکوں نے بشارا لاسد کے خلاف لڑنے والے باغیوں کی مدد کرنے میں اپنا پورا زور لگادیا۔ جب امریکہ نے بشار اسد کی فورسز پر بمبار ی کرنے سے انکار کیا تو ان ملکوں نے امریکہ پر تنقید کی۔ اخبار اب مصر کے تناظر میں لکھتاہے کہ محمد مرسی عوام کے ووٹوں سے منتخب ایک آئینی حکمران تھے لیکن چونکہ خلیج فارس کی بعض ریاستوں کو اخوان کا حکومت سنبھالنا گوارا نہ تھا، اس لیے انہوں نے محمدمرسی کا تختہ الٹنے پر جنرل سیسی کی حمایت کی اور نئی حکومت کو سنبھالا دینے کے لیے بھاری رقوم فراہم کیں۔

 تالیف و ترجمہ: شعیب عابدی


مقدمہ
وحدت کے بہت فوائد ہیں۔ سب مسلمان مل جائیں۔ ایک امت بنیں۔  بڑی قوت بن جائیں۔ ہمارے مشترکہ دشمن کفار اور مشرکین ہیں۔ ان کے مقابلے کیلئے سیسہ پگائی ہوئی دیوار بن جائیں۔  اتحاد کا مطلب  یہ ہے کہ وہ لوگ جو اپنی خاص اجتہادی آراء رکھتے ہیں، اپنے منافع ، اہداف و عقائد کو  ایک دوسرے سے نزدیک  کریں۔ یہ اپنے درمیان  بہت سارے مشترکات  رکھتے ہیں؛جیسے توحید، ایک نبی، ایک قرآن وغیرہ۔ ان دونوں کا ایک ہی ہدف ہے۔ دونوں دنیا اور آخرت میں حقیقی کامیابی کے خواہاں ہیں۔(نوری: امامانِؑ شیعہ و وحدت اسلامی، ص۱۸)  


مسلمانوں کے مابین برادری کا رشتہ ہوتا ہے۔ بھائی چارگی کے اس رشتے کو سورہ حجرات کی یہ آیت بڑی خوبصورتی سے بیان کرتی ہے:
((إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ))  ترجمہ : اور مومنین تو آپس میں بھائی بھائی ہیں؛ لہذا اپنے بھائیوں کے درمیان[جھگڑے کے وقت ] اصلاح کرادو۔ اللہ[کے عذاب سے] سے خود کو بچاو؛ تاکہ اللہ کی رحمت تمہارے شامل حال ہوسکے۔ وحد ت  کا  مطلب  اپنے دین کی تبلیغ  سے دستبردار ہونا نہیں ہے۔ ہمیں ہمیشہ حق بات کی ترویج کرنی ہے۔ اعلی اخلاق، ٹھوس دلیل، احترام اور صبر کے ساتھ ہمیں اپنے دین کی تبلیغ کرنے کا حق حاصل ہے۔

 

جنیوا میں موجود عریبک سنٹر فار سوشل اینڈ پولیٹیکل اسٹڈیز کے سربراہ نے کہا ہے کہ مغربی ممالک  شام کے دہشتگردوں کے اصل حامی ہیں۔ریاض الصداوی نے روسیا الیوم سے گفتگو میں کہا ہے کہ مغربی ممالک دہشتگردی کے حوالے سے سچے نہیں ہیں کیونکہ وہ شام میں اپنے اتحادیوں کو مضبوط کرنے کے لئے شام میں باقاعدہ مسلح دہشتگرد بھیج رہے ہیں۔ عریبک سنٹر فار سوشل اینڈ پولیٹیکل اسٹڈیز کے سربراہ ریاض الصداوی نے یہ بات زور دیکر کہی ہے کہ اگر مغرب اور امریکہ حقیقت میں دہشتگردی کے خلاف ہیں تو انہیں  سعودی عرب ،ترکی اور قطر پر دباؤ ڈالنا چاہیے تاکہ وہ دہشتگردوں کو کنٹرول کریں اور انہیں شام نہ بھیجیں۔اس سے پہلے فرانس سمیت بعض  مغربی ملکوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کے شہری شام میں باغیوں کے ساتھ مل کر شامی فوجوں کے خلاف جنگ کررہے ہیں۔شام کے حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت شام میں اسی(80 )مختلف ممالک کے دہشتگرد شام  کی عوام اور فوجوں کے خلاف برسرپیکار ہیں۔