Wednesday, 19 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 12

کل 35

اس هفته 61

اس ماه 234

ٹوٹل 22075

 سعودی عرب کے فرمانروا ملک سلمان بن عبدالعزیز نے آج پیر 19 نومبر کے دن ملک کی مشاورتی کونسل سے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں ملک کی داخلہ اور خارجہ پالیسیوں پر روشنی ڈالی۔ ملک سلمان بن عبدالعزیز نے اپنی تقریر میں یمن، فلسطین، شام، عراق اور ایران کے بارے میں اظہار خیال کیا اور اقوام متحدہ کی جانب سے یمن جنگ کے خاتمے کیلئے انجام پانے والی کوششوں کا خیرمقدم کیا۔ سعودی عرب گذشتہ چند ہفتوں سے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی وجہ سے عالمی میڈیا اور رائے عامہ کے شدید دباو کا شکار ہے۔ اسی وجہ سے سعودی حکومت اس دباو سے باہر آنے اور عالمی سطح پر گوشہ گیری سے بچنے کیلئے بہت سرگرم نظر آتی ہے۔ سعودی فرمانروا ملک سلمان بن عبدالعزیز نے اس بارے میں کہا: "سعودی عرب شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھے گا اور سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے خطے میں اپنی لیڈرشپ کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا۔ اسی طرح سعودی عرب خطے میں موجود بحرانوں کے حل کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ مسئلہ فلسطین ہماری پہلی ترجیح ہے اور جب تک فلسطینی قوم اپنے تمام قانونی حقوق حاصل نہیں کر لیتی، پہلی ترجیح رہے گا۔"

 حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے بیروت کے علاقے الضاحیہ میں سید الشہداء امام بارگاہ میں دس محرم شہادت امام حسین علیہ السلام کی مناسبت سے منعقدہ مجلس عزاداری میں شرکت کی اور عزداران حسینی سے خطاب کیا۔ سید حسن نصراللہ نے اپنے خطاب کے آغاز میں ایسے تمام شہداء کے اہلخانہ کو تسلیت عرض کی، جنہوں نے دینی اقدار اور مقدسات کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کر دی ہیں۔ انہوں نے کابل اور بغداد میں تکفیری دہشت گرد عناصر کے ہاتھوں شہید ہونے والے عزاداران حسینی کیلئے بھی اپنے دکھ اور غم کا اظہار کیا۔ سید حسن نصراللہ نے کہا: "اس سال مجالس عزاداری امام حسین علیہ السلام کے خلاف دہشت گردانہ حملوں میں کافی حد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے، جو ہر میدان میں مجاہدین کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور ان کامیابیوں نے تکفیری دہشت گردوں کو کمزور اور عاجز کر ڈالا ہے۔"

 تالیف و ترجمہ: شعیب عابدی


مقدمہ
وحدت کے بہت فوائد ہیں۔ سب مسلمان مل جائیں۔ ایک امت بنیں۔  بڑی قوت بن جائیں۔ ہمارے مشترکہ دشمن کفار اور مشرکین ہیں۔ ان کے مقابلے کیلئے سیسہ پگائی ہوئی دیوار بن جائیں۔  اتحاد کا مطلب  یہ ہے کہ وہ لوگ جو اپنی خاص اجتہادی آراء رکھتے ہیں، اپنے منافع ، اہداف و عقائد کو  ایک دوسرے سے نزدیک  کریں۔ یہ اپنے درمیان  بہت سارے مشترکات  رکھتے ہیں؛جیسے توحید، ایک نبی، ایک قرآن وغیرہ۔ ان دونوں کا ایک ہی ہدف ہے۔ دونوں دنیا اور آخرت میں حقیقی کامیابی کے خواہاں ہیں۔(نوری: امامانِؑ شیعہ و وحدت اسلامی، ص۱۸)  


مسلمانوں کے مابین برادری کا رشتہ ہوتا ہے۔ بھائی چارگی کے اس رشتے کو سورہ حجرات کی یہ آیت بڑی خوبصورتی سے بیان کرتی ہے:
((إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ))  ترجمہ : اور مومنین تو آپس میں بھائی بھائی ہیں؛ لہذا اپنے بھائیوں کے درمیان[جھگڑے کے وقت ] اصلاح کرادو۔ اللہ[کے عذاب سے] سے خود کو بچاو؛ تاکہ اللہ کی رحمت تمہارے شامل حال ہوسکے۔ وحد ت  کا  مطلب  اپنے دین کی تبلیغ  سے دستبردار ہونا نہیں ہے۔ ہمیں ہمیشہ حق بات کی ترویج کرنی ہے۔ اعلی اخلاق، ٹھوس دلیل، احترام اور صبر کے ساتھ ہمیں اپنے دین کی تبلیغ کرنے کا حق حاصل ہے۔

 علمائے مقاومت عالمی کونسل کے سربراہ شیخ ماهر حمود نے اس ھفتے نماز جمعہ کے خطبے میں کہ جو صدائے لبنان کی مسجد قدس میں سیکڑوں نمازگزاروں کی شرکت میں منعقد ہوا اسلامی تحریکوں کو استقامت کی تاکید کی ۔ انہوں نے کہا: مسلمانوں کے آپسی اختلافات کی بنیاد شیطانی وسوسے ہیں ، ھر ایک اسلامی گروہ اس بات کا مدعی ہے کہ اسلام پر اس کا قبضہ ہے اور دیگر گروہ اسلام کے دائرے سے باہر ہیں ۔

 اخبار جنگ نے اپنے ایک ادارئیے میں لکھا ہے کہ اس وقت صرف یمن ہی نہیں تمام مشرق ِ وسطیٰ بحران کی زد میں ہے۔ خطے کا ایک بڑا اور امیر ملک ہونے کے ناطے سعودی عرب اس بحران میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے، لیکن اُنھوں نے یکا یک، بیٹھے بٹھائے آئینی حکومت کی مدد کا جواز بناتے ہوئے حوثی قبائل کو باغی قرار دے کر اُن پر چڑھائی کردی۔ اخبار سوال اٹھاتا ہے کہ جب برطانوی اور فرانسیسی جہاز، معمر قذافی پر بمباری کررہے تھے اور بعض عرب ریاستیں قذافی مخالف گروہوں کو رقوم اور ہتھیار فراہم کررہی تھیں تو ان کے پاس ایسا کرنے کا کیا آئینی جواز موجود تھا؟ قذافی نے لیبیا کو ایک حد تک مستحکم ریاست بناکررکھا ہوا تھا اور یہاں نہ القاعدہ تھی اور نہ دیگر انتہا پسند گروہ، لیکن آج یہ ایک شورش زدہ علاقہ ہے۔ شام میں بھی خلیج فارس کے ملکوں نے بشارا لاسد کے خلاف لڑنے والے باغیوں کی مدد کرنے میں اپنا پورا زور لگادیا۔ جب امریکہ نے بشار اسد کی فورسز پر بمبار ی کرنے سے انکار کیا تو ان ملکوں نے امریکہ پر تنقید کی۔ اخبار اب مصر کے تناظر میں لکھتاہے کہ محمد مرسی عوام کے ووٹوں سے منتخب ایک آئینی حکمران تھے لیکن چونکہ خلیج فارس کی بعض ریاستوں کو اخوان کا حکومت سنبھالنا گوارا نہ تھا، اس لیے انہوں نے محمدمرسی کا تختہ الٹنے پر جنرل سیسی کی حمایت کی اور نئی حکومت کو سنبھالا دینے کے لیے بھاری رقوم فراہم کیں۔