Monday, 17 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 7

کل 9

اس هفته 7

اس ماه 180

ٹوٹل 22021

 

تحریر:سید محمد علی تقوی 

 

سید سعید حیدر زیدیؒ ایک ایسے وقت میں دست ستم کا نشانہ بنے ہیں جب پاکستان کی سرزمین پر ملت تشیع کو آپ جیسے افراد کی نہایت ضرورت تھی۔ اگرچہ اس ملک میں یہ ملت روز اول سے ہی قحط الرجال کا شکار رہی ہے؛ لیکن مختلف ادوار میں ان انگشت شمار افراد کا وجود غنیمت ہے کہ جنہوں نے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کیا ، حق کے سامنے صرف سر بسجدہ رہنے کے بجائ اس کی راہ میں سر بکف بھی ہوئے اور مجاہدت سے بھرپور زندگی کے کسی حصے میں شہادت کا سرخ پیراہن زیب تن کرکے اپنے پیشوا و رہبر حسین ؑ ابن علی ؑ کی تابندہ راہ کے راہی بنے۔ انہی افراد میں سے ایک ’’سعید ملت‘‘ سعید حیدر زیدی ؒ تھے کہ ۹نومبر۲۰۱۲ء کوملت ان کے وجود سے بھی محروم ہو گئی۔(خدا کی بے نہایت رحمت ہو ان پر(ہم اپنے اس مختصر مضمون میں سعید ملت کے افکار و خدمات کا انتہائی سرسری جائزہ لیں گے۔

 

        شہید زیدی اخلاص  کے پیکر تھے۔  ۱۹۸۲ء میں انہوں نے ایک بڑے معروف سرکاری ادارے کی ملازمت کو دین کی نشر و اشاعت کے کام کی خاطر خیرباد کہہ دیا۔ سبحان اللہ! دین کی خدمت میں اخلاص اور ایثار کی یہ بہترین مثال ہے۔ وہ دینی پیغام کو پہچانے میں کسی قسم کی تنگ نظری اور محدودیت کے قائل نہ تھے۔ملی تنظیموں کے بارے میں ان کا  اصولی موقف  تھا۔ اس کے باوجود وہ ان تنظیموں ، مختلف اداروں اور افراد سے بھرپورتعاون کیا کرتے تھے۔ جیسے آئی ایس او، آئی او، اے ایس او، تحریک جعفریہ، دانش گاہ علوم اسلامی(ملیر)،دانش گاہ اسلامی(ناظم آباد)، دارالہدایۃ الاسلامیہ پاکستان، شہید مطہری فورم،انما پبلشرز ، مرکز علم وعمل کراچی، بزم آمنہ کراچی اور دسیوں دوسرے ادارے۔وہ اپنے لیے کسی تشخص ومقام کے قائل نہ تھے۔ جب ان سے کہا جاتا کہ رسالت کے اداریئے جن میں آپ انتہائی اہم موضوعات و مسائل پر نہایت گہری، منصفانہ اور مفید نظر دیتے ہیں انہیں مستقل کتاب کی شکل میں شائع کیجئے۔ توجواب میں وہ کہتے کہ انشاء اللہ لیکن پہلے دوسری کتب آجائیں۔ اسی طرح  تربیتی ورکشاپس اور سیمینارز کے اصلی اور ذیلی عناوین وہی بنایا کرتے۔ کہیں بھی اپنا نام نہ دیتے۔

 

وطن عزیز کی فکر :

 

        وہ ایک پاکستانی کی حیثیت سے وطن عزیز کی بہتری کیلئے مثبت کردار ادا کرنے کا عزم رکھتے تھے اور اس کیلئے دین کی بنیاد پر تبدیلی ہی کو حتمی حل سمجھتے تھے۔ معتقد تھے کہ دین کے صحیح تصور کی تفہیم ہی راہِ حل کا پہلا قدم ہے۔  اس کام میں علماء پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ دوماہی ’’رسالت‘‘ میں ان کے ادارئیے، مختلف لکچرز اور گفتگوئیں اس بات کی بہترین گواہ ہیں۔     

 

وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ میری خواہش ہے کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے کام کرنے والے ہمارے علما ومفکرین جیسے شہید استاد مطہریؒ،شہید باقرالصدرؒ،شہید بہشتیؒ،مرحوم آیت اللہ فضل اللہؒ، آیت اللہ خامنہ ای ، علامہ جواد مغنیہ کی کتب اور امام موسیٰ صدرؒاور ڈاکٹر شریعتی کی بعض تقاریر سامنے لاؤں، ان کی یہ آرزو بھی تھی کہ امام خمینی کی کتاب حکومت اسلامی کاعام فہم اور سلیس ترجمہ کریں؛  تاکہ اسلام کے بارے میں ایک جامع الشرائط فقیہ کی نظر اور ان کے درد سے اپنے معاشرے کو روشناس کرایا جائے۔

 

شہیدزیدی خود بھی شہید مطہری،شہید ۔صدر،آیت اللہ فضل اللہ،آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ ساتھ سید مودودی، سید قطب، ابوالحسن علی ندوی اور ڈاکٹریوسف قرضاوی وغیرہ کے بعض آثار بلکہ مغربی فلاسفہ ومفکرین کابھی مطالعہ کرتے تھے۔

 

اتحاد امت کے داعی:

 

شہید اسلامی معاشرے کے قیام کیلئے، مسلمانوں کے اتحاد کو ناگزیر سمجھتے تھے۔ اس اتحاد میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی تاکید کیا کرتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ مختلف فرقوں میں موجود رجعت پسند، متحجراور شدت پسند عناصر اتحاد امت میں بنیادی رکاوٹ ہیں۔ وہ اصولی مسائل سے دستبردار ہوئے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ تحمل اور رواداری کی  تاکید کرتے۔ کہا کرتے کہ جب ہم اتحاد کی بات کرتے ہیں تو ہمیں اس کے لوازمات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیئے۔ وہ تکفیری عناصر کو عالم اسلام کے لئے ایک ناسور سمجھتے تھے۔ انہیں خوارج سے تعبیر کیا کرتے تھے۔ساتھ ساتھ صحابہ اور امہات المومنین کی توہین کو نہ صرف اُمت میں تفرقہ  کا سبب بلکہ مکتب اہل بیت ؑکی پیشرفت کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے۔  ان احمقانہ افعال کے سدباب کیلئے، مرجع دینی مرحوم  آیت اللہ سید محمد حسین فضل اللہ ؒ ، فقیہ عصر آیت اللہ شیخ آصف محسنی (مدظلہ) اوررہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای (مدظلہ) کے فتاوی کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے تھے۔

 

ان کی آرزو یہ بھی تھی کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے معماروں جیسے سید جمال الدین افغانی، محمد عبدہ ، حسن البنائ، سید قطب، سید مودودی، امام خمینی ؒ، شہید باقر الصدرؒ، شہید مطہریؒ اور آیت اللہ سید محمد حسین فضل اللہؒ کے افکار اور خدمات پر علیحدہ علیحدہ سیمینارز منعقد کئے جائیں۔ان میں شیعہ اور سنی مکاتب فکر کے علماء اور دانشور شریک ہوں اور نہ صرف اظہار خیال کریں بلکہ تبدیلی کیلئے مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر غور وفکر اور لائحہ عمل اختیار کرے۔

 

جوانان ملت کے استاد ومربی:

 

   شہید نوجوانوں کے لیے درس کا اہتمام کرتے۔مختلف پروگراموں کے انعقاد،ان کے موضوعات اور اس کے لیے ضروری لٹریچر کے حوالے سے پوری پوری رہنمائی کیا کرتے ۔ کبھی اس کام سے تھکتے نہیں تھے۔جوانوں کے لئے سعید ملت کی آرزو یہی تھی کہ  ہر نعرے پر آنکھ بند کرکے نہ چل پڑیں۔جوان  اپنے مکتب ومذہب کا خود مطالعہ کریں۔خود غوروفکر کریں۔اپنے گرد وپیش کاجائزہ لیں۔ شورشرابے اور نعرہ بازی سے اجتناب کریں۔  اپنی اور اپنے معاشرے کی تعمیر میں مثبت کردار ادا کریں۔