Thursday, 18 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 10

اس هفته 51

اس ماه 190

ٹوٹل 21486

تحریر : اجمل حسین قاسمی

بدلہ نہ تیرے بعد بھی موضوع گفتگو

تو جاچکا ہے پھر بھی میری محفلوں میں ہے

زندہ قوموں کا ہمیشہ سے یہ شعار رہا ہے کہ وہ اپنے محسنین کو کبھی فراموش نہیں کرتے جس کی قربانی کی بدولت وہ دنیا کے نقشے پر ، پر وقار زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں ۔ زندہ قوموں کا کوئی فرد ایسا کارنامہ سر انجام دے تو اس کی یادیں کبھی دلوں سے محو نہیں ہوتیں بلکہ ان کی شخصیت ہر لمحہ تابندہ و جاودان رہتی ہے ۔


شہید سید ضیاءالدین رضوی بھی ان محسنین میں سے ایک ہیں جن کو ملت تشیع پاکستان بالعموم اور ملت تشیع گلگت و بلتستان بالخصوص ہمیشہ یاد رکھے گی ،سید ضیاءالدین رضوی اک فرد کا نام نہیں بلکہ اک فکر ،اک جذبے ، اک حوصلے اور شعور کا نام ہے ۔ بقول قائد ملت جعفریہ :شہید ضیاءالدین رضوی اک فرد کا نام نہیں  بلکہ اک پاکیزہ  تحریک اور مشن کا نام ہے شہید ضیاءالدین رضوی اک انسان کامل کا نمونہ اور ہمہ جہت شخصیت تھے جن کے زندگی کا ہر پہلو ہمارے لئے نمونہ عمل ہے ۔ چاہے وہ شہید کی زندگی کا سیاسی پہلو ہو،علمی یا اخلاقی پہلو ہو ، اجتماعی یا فردی پہلو ہو ۔


  شہید سید ضیاءالدین رضوی نے ۱۹۹۰ میں گلگت کی سرزمین پر اپنے قدم مبارک رکھے ۔ شہید والا مقام نے اپنی بصیرت اور قابلیت سے تھوڑی مدت میں گلگت کے مومنین کو منسجم اور متحد کیا جامع مسجد گلگت میں اپنے شعلہ بیان خطبوں کے ذریعے گلگت کے مومنین کو روحانی طاقت بخشی اور مومنین کے دلوں کو جذبہ شہادت اور ایثار سے سرشار کیا ۔


شہید کی مدبرانہ اور با بصیرت قیادت اور پالیسی کا نتیجہ ۱۹۹۴ کے انتخابات میں دیکھا جا سکتا ہے سیاسی میدان میں تحریک جعفریہ پاکستان کے پلیٹ فارم پر پوری شیعہ قوم کو متحد کیا اور گلگت بلتستان کونسل کے پہلے انتخابات میں ۲۴ نشستوں سے ۸ نشستیں جیت کر بھر پور کامیابی حاصل کی ۔ اسی طرح ۱۹۹۹ کے قومی اسمبلی گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھی شہید کی صدارت میں  ٹی ۔جے ۔ پی  نے بھر پور کامیابی حاصل کر کے ملت جعفریہ گلگت بلتستان کو سرخرو کیا ۔

 

۱۹۹۹ کے بعد ملت تشیع کے خلاف ہر میدان میں ناکامی کے بعد حکومت میں بیٹھے ہوئے اسلام اور پاکستان کے دشمن وہابی افکار نے سوچی سمجھی سازش کے تحت حکومتی نصاب تعلیم میں شیعہ عقائد کے خلاف ایسا مواد شامل کیا گیا جسکو پڑھنے پر شیعہ طالب علموں کو مجبور کیا گیا ۔ جیسے ہی شیہد کو اس کے بارے میں علم ہوا شہید نے احساس ذمہ داری کرتے ہوئے ابتدائی نصابی کتابوں سے لے کر عالی درجے کی نصابی کتابوں تک کا دقیق مطالعہ و تحقیق کرنے کے بعد ابتدائی مراحل میں گفت و شنید کے ذریعے پوری شیعہ قوم اور حکومتی ذمہ داروں کو آگاہ کیا کہ موجودہ نصاب تعلیم متنازعہ ہے جس میں ایک فرقے کی نمائندگی ہوتی ہے اور اس میں شیعہ عقائد کے خلاف مواد شامل ہے


شہید متنازعہ نصاب تعلیم کے خلاف آواز بلند کرنا اور اس کی اصلاح کو اپنی شرعی ذمہ داری اور متنازعہ نصاب تعلیم کو زندگی اور موت کا مسلہ سمجھتے تھے ۔ شہید اپنی اکثر تقاریر اور خطبات میں فرمایا کرتے تھے کہ : موجودہ نصاب تعلیم کلاشنکوف کی گولی سے بھی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ کلاشنکوف کی گولی صرف خاکی بدن کو نقصان پہنچا سکتی ہے لیکن متنازعہ نصاب تعلیم شیعہ فکر اور عقیدے کو نقصان پہنچاتا ہے جو جان سے بھی زیادہ عزیز ہے ۔


ہمارا سلام ہو شہید سید ضیاءالدین کی بصیرت اور دور اندیشی کو ، شہید نے شیعیان حیدر کرار کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کر کے سیاسی کامیابیاں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اقتصادی اور تعلیمی حوالے سے بھی بہت ساری خدمات انجام دیں ۔ اقتصادی حوالے سے تعمیر ملت پروگرام کے تحت شھداء کے گھروں کی کفالت ان کے بچوں کی تعلیم و تربیت اور غریب طالب علموں کی مدد اور بے روزگار مومنین کی مدد کی ۔


علمی میدان میں تحریک جعفریہ پاکستان کے پلیٹ فارم اور قائدملت جعفریہ کی مدد سے المصطفی پبلک سکول کے نام سے گلگت ،نگر ،بارگو ، جلال آباد ، جگوٹ کالونی و۔۔۔ میں سکولز قائم کئے جن میں اب بھی ہزاروں شیعہ بچے علم کے نور سے منور ہو رہے ہیں ۔


مرجائے انسان تو بڑھ جاتی ہے عزت
زندہ ہے تو جینے کی سزا دیتی ہے دنیا