Wednesday, 19 December 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 12

کل 35

اس هفته 61

اس ماه 234

ٹوٹل 22075

تحریر : اجمل حسین قاسمی

بدلہ نہ تیرے بعد بھی موضوع گفتگو

تو جاچکا ہے پھر بھی میری محفلوں میں ہے

زندہ قوموں کا ہمیشہ سے یہ شعار رہا ہے کہ وہ اپنے محسنین کو کبھی فراموش نہیں کرتے جس کی قربانی کی بدولت وہ دنیا کے نقشے پر ، پر وقار زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں ۔ زندہ قوموں کا کوئی فرد ایسا کارنامہ سر انجام دے تو اس کی یادیں کبھی دلوں سے محو نہیں ہوتیں بلکہ ان کی شخصیت ہر لمحہ تابندہ و جاودان رہتی ہے ۔


شہید سید ضیاءالدین رضوی بھی ان محسنین میں سے ایک ہیں جن کو ملت تشیع پاکستان بالعموم اور ملت تشیع گلگت و بلتستان بالخصوص ہمیشہ یاد رکھے گی ،سید ضیاءالدین رضوی اک فرد کا نام نہیں بلکہ اک فکر ،اک جذبے ، اک حوصلے اور شعور کا نام ہے ۔ بقول قائد ملت جعفریہ :شہید ضیاءالدین رضوی اک فرد کا نام نہیں  بلکہ اک پاکیزہ  تحریک اور مشن کا نام ہے شہید ضیاءالدین رضوی اک انسان کامل کا نمونہ اور ہمہ جہت شخصیت تھے جن کے زندگی کا ہر پہلو ہمارے لئے نمونہ عمل ہے ۔ چاہے وہ شہید کی زندگی کا سیاسی پہلو ہو،علمی یا اخلاقی پہلو ہو ، اجتماعی یا فردی پہلو ہو ۔

 

 

تحریر: یوشع ظفر حیاتی

 

﴿۱۸مارچ ۲۰۱۳ء  ، کراچی پاکستان میں،  پروفیسر سبط جعفر زیدی کی شہادت سے ملّت تشیّع  ایک محب وطن، عاشق اہلبیت (ع)، منتظرِ امام مہدی (عج)، ایک شفیق اور مہربان انسان سے محروم ہوگئی ۔ سبط جعفر کی شہادت ملت جعفریہؑ کیلئے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔اس کا ازالہ کرنا شاید ہی کبھی ممکن ہو۔ شہید نے اپنی تمام حیات مدح سرائی اہل بیت (ع)اور ملت جعفریہ کی سربلندی کیلئے وقف کر رکھی تھی۔ ان کی شہادت ملت جعفریہؑ کوبڑا صدمہ دے گئی۔﴾

آپ سادہ لباس زیب تن کئے رہتے۔ ایک پرانی سی موٹر سائیکل پر سوار ہوتے۔پورے شہر میں، سر وعدہ پہنچنتے ۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔  یہ شخص ایڈووکیٹ تھا۔  مصنف و شاعر اور سوز خوان تھا۔ قومی و سماجی کارکن تھا۔ ایک کالج کا پروفیسر تھا ۔ کئی مذہبی اور تعلیمی اداروں کا بانی تھا۔ پاکستان میں فن سوز خوانی اور مرثیہ خوانی کے مؤثر ترین بلکہ واحد ادارے، ادارہ ترویج سوز خوانی کا سربراه  تھا۔ ان سب باتوں سے بڑھ کر شاعر و مداح اہلبیت (ع)تھا۔ ہزاروں شاگردوں کی مختلف میدانوں میں تربیت کی۔  طبیعت میں سادگی و خلوص تھا۔ اسی نے مزاج کو بہت شفیق کر دیا تھا۔ ہر ملاقات کرنے والا یہ سمجھتا تھا کہ استاد اسی سے اتنے قریب ہیں۔ بچے بڑے کا فرق ان کی نظر میں کیا تھا بس احترام کرنا تھا ہر انسان کا اور وہ بھی عبادت جان کر  . 

 

تحریر:سید محمد علی تقوی 

 

سید سعید حیدر زیدیؒ ایک ایسے وقت میں دست ستم کا نشانہ بنے ہیں جب پاکستان کی سرزمین پر ملت تشیع کو آپ جیسے افراد کی نہایت ضرورت تھی۔ اگرچہ اس ملک میں یہ ملت روز اول سے ہی قحط الرجال کا شکار رہی ہے؛ لیکن مختلف ادوار میں ان انگشت شمار افراد کا وجود غنیمت ہے کہ جنہوں نے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کیا ، حق کے سامنے صرف سر بسجدہ رہنے کے بجائ اس کی راہ میں سر بکف بھی ہوئے اور مجاہدت سے بھرپور زندگی کے کسی حصے میں شہادت کا سرخ پیراہن زیب تن کرکے اپنے پیشوا و رہبر حسین ؑ ابن علی ؑ کی تابندہ راہ کے راہی بنے۔ انہی افراد میں سے ایک ’’سعید ملت‘‘ سعید حیدر زیدی ؒ تھے کہ ۹نومبر۲۰۱۲ء کوملت ان کے وجود سے بھی محروم ہو گئی۔(خدا کی بے نہایت رحمت ہو ان پر(ہم اپنے اس مختصر مضمون میں سعید ملت کے افکار و خدمات کا انتہائی سرسری جائزہ لیں گے۔