Saturday, 20 October 2018

اس ہفتےکی حدیث

پيغمبراکرم(ص) فرماتے تھے كہ :

 

فاطمہ (س) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے خوشنود كرے گا اس نے مجھے خوشنود كيا، اور جو شخص اسے اذيت دے گا اس نے مجھے اذيت دى سب سے عزيزترين ميرے نزديك فاطمہ (س) ہيں

 

 (مناقب ابن شہر آشوب، ج 3 ص 332)

قارئین کی تعداد

آج 5

کل 12

اس هفته 75

اس ماه 214

ٹوٹل 21510

   تهیه و تنظیم:اجمل  حسین قاسمی

 

 1 ۔ میں اپنی امت کے سلسلہ میں نہ کسی مومن سے خوف کھاتاہوں نہ کسی مشرک سے ۔ اس لئے کہ مومن کاایمان امت کوگزندپہونچانے سے روکے گا اورمشرک کاکفرخوداس کی ذلت ورسوائی کاسبب ہوگا۔ ہاںاس منافق کے گزندپہونچانے سے ڈرتاہوں جوچرب زبان ہواورزبان درازہو(کیونکہ وہ) جن چیزوں کی خوبی کوتم جانتے ہواس کوزبان سے کہے گااورجن سے تم کونفرت ہے عملااسی کوانجام دے گا۔ (بحار،ج ۲ ،ص ۱۱۰)

 

    2 ۔ قیامت کے دن خداکی طرف سے ایک منادی ندی کرے گا: ستم گارکہاں ہیں ؟ ستمگاروں کے مددگارکہاں ہیں؟ جولوگ ستمگاروں کی دوات میں کپڑا ڈالتے تھے وہ کہاںہیں؟جوان کی تھیلی کوباندھ تے تھے وہ کہاں ہیں؟ جوان کاقلم بناتے تھے وہ کہاں ہیں؟ ان تمام ستگاروں کوایک جگہ محشورکرو! (بحارالانوارج ۷۵ ص ۳۷۲) ۔

 

 

 

3 ۔ ہرنیکی کے اوپرایک نیکی ہے یہاں تک کہ کوئی راہ خدامیں شہیدہوجائے جب وہ راہ خدامیں قتل کردیاجائے تو(یہ ایسی نیکی ہے کہ) اس کے اوپرکوئی نیکی نہیں ہے۔ (بحارالانوارج ۱۰۰ ص ۱۰) ۔

 

4 ۔ سب سے بدترشخص وہ ہے جواپنی آخرت اپنی دنیاکے لئے بیچ دے اوراس سے بھی بدتروہ شخص ہے جواپنی آخرت دوسرے کی دنیاکے بدلے میں بیچ دے۔ (بحارالانوارج ۷۷ ص ۴۶) ۔

 

   5 ۔ جوشخص کسی چیزمیں اپنے خداکوناراض کرکے بادشاہ کوراضی کرے وہ دین خداسے خارج ہے۔ (تحف العقول ص ۷۵)

 

6 ۔ اے خداکے بندو! تم سب بیمارکی طرح ہواورخداوندعالم طبیب کی طرح ہے پس مریضوں کوصلاح (یعنی) تمہاری صلاح اسی میں ہے کہ جس کوطبیب جانتاہے اوراس کے لئے دستوردیتاہے (اس کی صلاح) اس میں نہیں ہے جومریض چاہتاہے اورکرتاہے (لہذا) خداکے احکام کی پابندی کروتاکہ کامیاب رہو۔ (مجموعہ ورام،ج ۲ ،ص ۱۱۷)

 

7 ۔ جواس عالم میں صبح کرے کہ مسلمانوں کے امورکی (فکراوراس کا) اہتمام نہ کرے وہ مسلمان نہیں ہے (اسی طرح) جومسلمانوں کی مددکوپکاررہاہوتوجوبھی اس کی آوازپرلبیک نہ کہے وہ(بھی) مسلمان نہیں ہے۔ (بحار،ج ۷۴ ،ص ۳۳۹)

 

   8 ۔ رسول خدانے ایک چھوٹے سے لشکرکو(دشمنوں سے جنگ کے لئے) بھیجاجب وہ لوگ واپس آئے تورسول نے فرمایا :ان لوگوں کے لئے مرحباہے جو چھوٹے جہادسے آگئے اوراب ان کے اوپربڑاجہادباقی ہے، پوچھاگیا: اے خداکے رسول جہاداکبرکیاہے؟ فرمایا: نفس سے جہادکرنا۔ (وسائل الشیعہ ،ج ۱۱ ،ص ۱۲۲)

 

   9 ۔ جب میری امت میں بدعتیں پھوٹ پڑیں توعالم کی ذمہ داری ہے اپنے علم کوظاہرکرے اورجوایسانہ کرے اس پرخداکی لعنت ہو۔ (اصول کافی ج ۱ ص ۵۴) ۔

 

   10 ۔ فقہاء،رسولوں اورپیغمبروں کے اس وقت تک امین ہیں۔ یعنی پیغمبروں کے امین نمائندے اورمورداطمینان ہیں۔ جب تک اموردنیامیں داخل نہ ہوں۔ پوچھاگیااے خداکے رسول اموردنیامیں داخل ہونے کاکیامطلب ہے؟ رسول خدانے جواب دیا: دنیا میں داخل ہونے کامطلب بادشاہ (حاکم طاغوت) کی پیروی کرنے لگیں ۔ جب یہ علماء سلطان کی پیروی کرنے لگیں تواپنے دین (کی حفاظت) میں ان سے پرہیزکرے.(کنزالعمال حدیث ۲۸۹۵۲ ،،(اصول کافی ج ۱ ص ۸۶)